بے نشاں قبروں کا بلاوا


” عیسائیوں کی طرف سے مقامی باشندوں کے خلاف سرزد ہونے والی ’برائی‘ کے لئے میں عاجزی کے ساتھ معافی مانگتا ہوں۔“

کیتھولک عیسائیوں کے مذہبی رہنما پاپائے روم نے اپنے چھ روزہ ’تعزیتی اور معذرتی‘ دورے کے دوران گزشتہ روز جب ایک اجتماع میں یہ الفاظ کہے تو بہت سے چہرے نم دیدہ اور غم زدہ تھے ان تمام تر مظالم اور زیادتیوں کو یاد کر کے جو عیسائی مبلغین نے اس دور کی حکومتوں کے ساتھ مل کر مقامی قدیمی باشندوں کے ساتھ روا رکھیں اور جن کا شاخسانہ وہ سینکڑوں بے نام و نشاں قبریں بھی ہیں جن میں مبینہ طور پر رہائشی سکولوں میں جبری طور پر لے جائے جانے والے بچے دفن کیے گئے۔

سن 1831 سے 1997 تک کے درمیانی عرصے میں تقریباً ً ڈیڑھ لاکھ مقامی قدیمی بچوں کو ان کے خاندانوں سے دور جبری طور پر ان رہائشی سکولوں میں لایا گیا جہاں مخصوص مذہبی عقائد، یورپی طرز زندگی کے معمولات اور غیرملکی زبانوں کی تعلیم کے ذریعے انہیں ”مہذب“ اور ”متمدن“ بنانے کی کوششیں کی گئیں۔ جس کے نتیجے میں یہ بچے اپنے ثقافتی ورثہ سے محروم ہو گئے۔ بہت سے بچے ذہنی اور جسمانی عوارض میں مبتلا ہو کر یا تو معذور و مفلوج ہو گئے یا پھر ہمیشہ کی نیند سو گئے۔ اور یہ ایک مثال ہے اس طرز عمل کی جس کا مقصد قدیمی باشندوں کی جداگانہ اور منفرد پہچان کو کلی طور پر ختم کر کے انہیں قابض سفید فام یورپی قوموں کی طرز بود و باش سے ہم آہنگ کرنا تھا تاکہ قومی وسائل کے ضمن میں ان کے جائز دعووں کے امکانات کو بھی سرے سے ختم کر دیا جائے۔

مدتوں جاری رہنے والی امتیازی پالیسیوں کے نتیجے میں قدیمی باشندے شدید اذیت ناک صورت حال سے دوچار ہوئے۔ ایک طرف ان کی سرزمین، عقائد اور ثقافت کو ان سے چھینا جا رہا تھا اور دوسری طرف تعلیم و تہذیب کے نام پران کی نئی نسل یعنی ان کے مستقبل کو ان سے ناآشنا کردینے کی سازش کی جا رہی تھی۔ پھر کچھ مصالحتی کوششیں ہوئیں، نام نہاد اقدامات ہوئے، تحفظ کے جھانسے میں ان کی نقل و حرکت اور قومی وسائل تک رسائی کو علاقائی حدود میں قید کر دیا گیا اور مراعات کی آڑ میں شراب اور تمباکو نوشی کو فروغ دیا گیا اور رفتہ رفتہ یہ آبادیاں ذہنی اور جسمانی بیماریوں اور سماجی مسائل کے گڑھ بن کر رہ گئیں۔ ان کا تاثر قطعی منفی بنا کر اور ان کی آبادیوں کو خرابی، بد تہذیبی، سماجی مسائل اور جرائم کے مراکز بنا کر عوام کے سامنے پیش کیا گیا جیسے وہ کینیڈا کے خوش نما دامن تمدن پر ناگوار دھبے ہوں۔

افسوس کہ ہمارے ارد گرد کتنے ہی افراد ہیں جو آج بھی ان مظالم کے اثرات سے چشم پوشی کرتے ہیں۔ وہ مقامی باشندوں کے لہجے کی تلخی کے پس منظر میں برسوں سے جذب کی گئی تاریخ کی کڑواہٹ پر نظر کرنے کے روادار نہیں۔ اور قدیمی باشندوں کی حالت زار کا ذمہ دار انہی کو قرار دیتے ہیں جو دراصل حالات کے مارے ہوئے ہیں۔

ایک حقیقت کا اعتراف کرتا چلوں کہ کینیڈا آ کر بھی خود مجھے اس وقت تک ’ایبوریجنل‘ طبقے کی حقیقی صورت حال کا اندازہ نہ ہو سکا جب تک مجھے ان سے سابقہ نہ پڑا اور پہلے موہاک کالج اور پھر ولفرڈ یونیورسٹی میں سوشل ورک کی تعلیم کے دوران ان باشندوں کی یعنی کینیڈا کی تاریخ نہیں پڑھ لی۔ طالب علمی کے دوران میں اس موضوع پر جس دل چسپی نے جنم لیا اس نے مجھے قدیمی باشندوں کے ادب، آرٹ اور تصور حیات کو جاننے پر اکسایا۔ چناں چہ میں نے جانا کہ ان لوگوں کا زندگی کا تصور محض مادی نہیں بلکہ فطرت کے ساتھ ہم آہنگ ایک ہمہ گیر تصور حیات ہے۔

ان کی آبادیوں کے باہر خیرمقدم کرتی بلندوبالا چوبی شبیہوں سے لے کر برے خوابوں کو چھان چھان کر روکنے والے ’ڈریم کیچرز‘ تک اور جانوروں اور پیڑ پودوں سے لگاؤ سے لے کر آسمان سے جھولتے ستاروں کے سائے میں بڑے بزرگوں سے گیت اور کہانیاں سننے تک کتنی ہی دل چسپ روایات ان کی ثقافت کو دل کشی اور حسن سے آراستہ کیے ہوئے ہیں۔

کینیڈا کی بعد کی حکومتوں نے بالآخر اس ثقافت کی خوب صورتی کا اعتراف کرتے ہوئے اسے اس کا جائز مقام دینے کی کچھ کوششیں ضرور کیں جو اب تک جاری ہیں۔

پچاسی سالہ پوپ فرانسس کے حالیہ دورے سے بھی، امکان ہے، کہ دنیا ان پچھڑی ہوئی کمیونیٹیز اور ان کی خالص ثقافت کو قدر کی نظر سے دیکھنے کا آغاز کرسکے گی۔ کیتھولک مذہبی رہنما نے اپنے اس دورہ کینیڈا کے دوران میں جہاں کئی بڑے اور اہم اجتماعات میں شرکت کی وہاں مقامی باشندوں کی ایک سابق رہنما کو نرم جوتوں کا وہ جوڑا بھی لوٹایا جو اس رہنما نے ویٹیکن میں یہ کہہ کر پوپ کے حوالے کیا تھا کہ یہ جوتے ان تمام معصوم بچوں کی نمائندگی کرتے ہیں جو جبری رہائشی سکول گئے اور پھر کبھی گھر نہ لوٹے اور یہ کہ پوپ کو انہیں لوٹانے خود کینیڈا آنا ہو گا۔ سو، بے نشاں قبروں میں سوئے ان معصوم بچوں کی علامتی پکار کو جواب دینے پوپ کا آنا ضروری تھا۔

ہم نے دیکھا کہ کس طرح سال بھر کی تیاریوں کے متقاضی اس دورے کی تیاری محض چار ماہ میں مکمل کی گئی کہ معاملہ کی سنگینی نظر انداز نہ ہو کیونکہ کلیسا انتظامیہ کی جانب سے معذرت کے اظہار میں پہلے ہی بہت غافلانہ تاخیر ہو چکی تھی اور اس احساس کا اظہار رہائشی سکولوں کے کئی سابق طلبا نے ذرائع ابلاغ کے سامنے کیا۔ ایک معذرت جس کے بہت سے حق دار اب دنیا ہی میں نہیں رہے اور جو بچے ہیں وہ عجیب کیفیات سے دوچار ہیں۔ کوئی قدرے مطمئن ہے اور کوئی تاحال غم زدہ اور کوئی خاموش، بالکل سن، کسی بھی احساس سے عاری۔ ان دنوں کو یاد کر کے جب انہیں ”کافر“ قرار دے کر مختلف ہتھکنڈوں سے ”صاحب ایمان“ بنایا جا رہا تھا۔ اور کوئی زبان حال سے کہہ رہا ہے

دیر لگی آنے میں تم کو لیکن شکر ہے آئے تو ۔

ایک قدیمی باشندہ یہ کہتے ہوئے بھی سنا گیا کہ معافی مانگنے سے ان لاپتہ بچوں کے درد میں کمی نہیں آتی جو کبھی گھر واپس نہیں آئے۔ کسی نے یہ بھی کہا کہ پوپ نے وضاحت کے ساتھ ان مظالم کا ذکر نہیں کیا جو چرچ نے کینیڈا کے مقامی بچوں پر ڈھائے تھے۔ 1997 تک جاری رہنے والے رہائشی سکولوں کی تعداد 130 سے زیادہ بتائی جاتی ہے جہاں بچوں کی ضروریات کو نظر انداز کیا گیا اور انہیں جسمانی اور جنسی تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔

ان میں سے 60 فیصد سے زیادہ اسکول کیتھولک چرچ چلا رہے تھے۔ جن کے احاطوں یا نواح میں حال ہی میں متعدد بے نشان قبروں میں سینکڑوں مقامی بچوں کی باقیات کی بازیافت ہوئی جس نے مقامی باشندوں کے صدیوں کے زخموں کو پھر سے تازہ کر دیا۔ کینیڈا کے سچائی اور مفاہمت کے قومی کمیشن نے اسے ”ثقافتی نسل کشی“ سے تعبیر کیا تھا اور ایک قدیمی باشندے نے ماضی کے ان ہول ناک اقدامات کو جرمن نازیوں جیسی نسل کشی کی سازش قرار دیا تھا۔

ان بے نشان قبروں کے نشاں اول اول صوبہ برٹش کولمبیا کے علاقہ ’کیم لوپس‘ میں ملے جو ہمارے عہد کے اہل دل کے لیے رنج اور ملال کی علامت بن گیا ہے۔ اسی حوالہ سے اپنی ایک تازہ نظم بھی آپ کی خدمت میں کر رہا ہوں جس کا عنوان بھی بھی ’کیم لوپس‘ رکھا ہے۔

کیم لوپس
۔ ۔
ننھی ننھی سی قبروں کی تہہ داریاں
گرد میں کون ترتیب ڈھونڈے بھلا
نظم کی رمز آثار سطریں
وہ معصوم، ناخواندہ آنکھیں
تمدن کی ٹاپوں سے کچلی گئیں
شمعیں بجھتی گئیں

خواب کی چھاننی میں پروئے پرندوں کے پر اڑ گئے تھے
رنگ روتی وہ چوبی شبیہیں وہیں بستیوں کے کنارے سجی رہ گئیں
مائیں، شام الم،
دید کس رخ پہ رکھتیں
کہ کچے گھروں میں نہ کھڑکی کوئی تھی
نہ دہلیز تھی
کچھ اگر تھا تو بس راکھ تھی
دور۔ انجان وحشت کی دیوار
بے نام چیخوں سے اونچی تھی
اور ضبط تعلیم ہوتا گیا
زخم آموختہ آہ میں ڈھل کے بجھتے گئے
بھیگی پلکوں پہ ٹھہرا ہوا اشک،
اشکوں میں تقسیم ہوتا گیا

پھر ثقافت کشی سے بھڑکتی ہوئی روشنی تیز تر ہو گئی
ڈر کے اوراق ازبر ہوئے
اور یوں
دھول کی گرہیں کھلنے میں مدت لگی
وقت جاگا۔ مگر دیر سے
مدرسہ اتنا پختہ تھا
پہنچی سماعت تلک وہ خبر دیر سے
کچھ دعاؤں میں گھلتا ہے شاید۔ اثر دیر سے

Facebook Comments HS