میرے جسم پہ یہ لکیریں


مجھے وہ وقت اچھی طرح یاد ہے جب میں ایک مجسم تھی ان لکیروں سے پاک تھی۔ یہ بہت پرانی بات، کروڑوں سال پرانی بات جب میرے بسنے والے غاروں میں رہتے، صحراؤں میں پھرتے، پہاڑوں کی چٹانوں اور وادیوں کی گہرائیوں میں رزق ڈھونڈتے لیکن انہوں نے میرے جسم پہ کبھی لکیریں نہیں کھینچی، مجھے کبھی نہیں بانٹا۔ کروڑوں سالوں میں میرے ان باسیوں کے کچھ طور طریقے بدل گئے لیکن انہوں نے مجھے ایک اکائی جانا۔

جب کسی نے یہ سوچا کہ وہ میرے ایک چھوٹے سے ٹکڑے پہ قابض ہو جائے تو اس نے اس کے چاروں اطراف اپنی ملکیت کے نشان لگا دیے۔ پھر ہر طاقتور نے میرے کسی نہ کسی حصے کو ذاتی ملکیت بنا لیا۔ وہ دن اور آج کا دن، میں ان گنت ٹکڑوں میں بٹ گئی۔ صنعتی انقلاب آیا تو میری ہر شے کو، میری ہر مخلوق کو زہریلے مادوں سے نوازا گیا، میرا جسم میرا خون سب ان کے لئے بیچنے والی چیزیں بن گئیں۔

آج کل کے لوگ پچھلے زمانے کے باسیوں کو وحشی کہتے ہیں جنہوں نے مجھ سے محبت کی، مجھے ماں سمجھا۔ نہیں، انہوں نے مجھے کبھی نقصان نہیں پہنچایا، کبھی مجھے تقسیم نہیں کیا۔ تم خود وحشی بن گئے ہو۔ مجھے تم سے ڈر لگتا ہے تم نے بے انتہا طاقت حاصل کر لی ہے اور تم اس طاقت کے نشے میں سب کچھ کر جاتے ہو۔

تم نے میرے جسم پہ جا بجا لکیریں کھینچ دی ہیں، کبھی اونچے ایوانوں میں بیٹھ کر اور کبھی جنگ و جدل کے ذریعے۔ تم نے میرے جسم کو تقسیم کر دیا ہے جیسے وہ ایک نہیں بلکہ کئی اجسام ہیں۔

تم میرے جسم کے ایک ٹکڑے پہ مرنے کرنے کے لئے تیار رہتے ہو، اس کی محبت میں نغمے لکھتے اور گاتے ہو، بے پناہ لگاؤ کا اظہار کرنا اپنا فرض اولین سمجھتے ہو، اس حصے کو چھونے والی چاندی، سورج کی روشنی، ہوا کی سرسراہٹ، بہتے پانیوں کا شور، پہاڑوں کی اٹھان، وادیوں کی ڈھلان یہ سب کچھ تمہیں مدہوش کیے دیتا ہے۔ تم مجھ پہ فخر کرتے ہو، ناز کرتے ہو۔ میرے اس حصے کی حفاظت کے لئے تم کیا کچھ نہیں کرتے، باڑیں لگاتے ہو، دیواریں کھڑی کرتے ہو، فوجیں تیار کرتے ہو۔

لیکن لیکن!

میرے ہی جسم کے کسی اور خطے کے تم دشمن بن جاتے ہو، اس پہ آگ برساتے ہو، اس کی ناکہ بندی کرتے ہو، اس پہ ملامت بھیجتے ہو، ہر وقت اس کی بربادی کے لئے منصوبے بناتے ہو، اس کے دریاؤں اور جنگلات کو تباہ کر دیتے ہو، اس پہ کسی ناگہانی آفت کی آمد پہ خوش ہوتے ہو۔

یہ کون سی محبت ہے؟
عاشق تو اپنے محبوب کے ہر رنگ، ہر انگ، ہر ادا، ہر انداز کا عاشق ہوتا ہے۔
یہ کون سی محبت ہے؟

تم میرے ایک حصے سے محبت کرتے ہو، کسی دوسرے سے نفرت کرتے ہو، اور باقیوں سے بے نیاز ہو۔ تمہیں پرواہ نہیں کہ وہاں میرے ساتھ کیا ہو ریا ہے، میرا کس کس طرح استحصال کیا جاتا ہے، مجھے کس طرح روندا جاتا ہے، گھائل کیا جاتا ہے، کبھی ترقی کے نام پر اور کبھی معیشت کے دیوتا کے لئے قربان کیا جاتا ہے، میرے سینے کو کیسے کیسے چاک کیا جاتا ہے! اور پھر تم بھی اپنے فائدے کی خاطر اس گھناؤنی کارروائی میں شامل ہو جاتے ہو۔

یہ کون سی محبت ہے؟

میں اس محبت کو قبول کرنے سے انکار کرتی ہوں، میں تمہارے سروں اور ترانوں سے بیزار ہوں۔ مجھے اکیلا چھوڑ دو دوسری مخلوقات کے ساتھ، اور جاؤ کسی اور سیارے میں جاؤ دور مجھ سے!

Facebook Comments HS