چوڑیوں کا ڈبہ


آج صبح شمیم کے ساتھ چوڑیوں کا ڈبہ بھی ان کی قبر میں ان کے ساتھ ہی قبر میں دفن کر دیا گیا، دونوں میرے ساتھ پینتالیس سال رہے۔

ہر دکھ اور زخم وقت کے ساتھ رفو ہو جاتا ہے ، شاید میرا اور شمیم کا بھی دکھ کچھ کم ہوا تھا، ہم نے ساتھ بہت سی خوشیاں اور بہاریں دیکھیں لیکن کبھی ہم نہ ہی کھل کر ہنسے نہ ہی روئے بس جیسے کوئی اداکاری تھی۔

صبح جب شمیم نے آخری ہچکی لی تو مجھے ایسا لگا وہ آزاد ہو گیا اور میں ابھی بھی قید میں ہی ہوں۔

سن انیس سو اکہتر کے جنوری میں میری اور شمیم کی بات پکی ہوئی، سارے خاندان میں شور کے شمیم نے لڑکی خود پسند کی ہے، میں اور شمیم کافی عرصے سے ایک دوسرے کے پڑوسی تھے دونوں خاندانوں میں ایسی دوستی کے سارا وقت ساتھ ہی گزرتا۔

شادی کی تیاریاں بے انتہا زور و شور سے جاری تھیں۔

ہم دونوں بہت زیادہ خوش تھے، یہ ہماری زندگی کی سب سے بڑی خوشی تھی۔ وہ خواہش جو سالوں سے دل میں تھی وہ پوری ہونے جا رہی تھی۔

ہم موجود بنگلہ دیش سابقہ مشرقی پاکستان کے ایک چھوٹے سے قصبے میں رہتے تھے۔ آس پاس کے علاقے میں بنگال کی مقامی آبادی تھی اردو بولنے والے ہم دو تین خاندان ہی تھے۔

ہم سب بنگلہ میڈیم اسکول میں پڑھتے تھے، میٹرک کے بعد شمیم کا ڈھاکہ کے کالج میں داخلہ ہوا پھر وہاں ہی کالج میں وہ لیکچرر مقرر ہو گئے۔

نوکری کے ہوتے ہی شادی کی تیاریاں شروع ہو گئیں۔ اب دن گنے جا رہے تھے مئی کی 20 تاریخ کو نکاح طے پایا۔

جیسے جیسے شادی کے دن نزدیک آ رہے تھے، ملک کے حالات بگڑتے چلے جا رہے تھے، ہمارا گھر ہر طرف سے بنگالی آبادی کے درمیان تھا، میرے ابا اماں سارا وقت ریڈیو سنتے لیکن حالات کی سنگینی کا اندازہ نہیں ہوتا تھا۔ ہم سب کا خون خوف سے سوکھتا رہتا، اماں ابا ساری رات جاگتے گھر میں سب ہی کم عمر تھے سب سے بڑی میں، میرے بعد چھ بہن بھائی، سب سے چھوٹی ابھی ایک ہی سال کی تھی۔

شمیم کی پانچ بہنیں اور دو بھائی تھے، بڑی بہن شادی کر کے ہندوستان چلی گئی تھیں باقی چار جوان تھیں دوسرے نمبر والی کی شادی ہمارے ساتھ ہی ہونی تھی۔

دو کم سن بھائی تھے، شمیم کے ماں باپ بھی میرے امی ابا کی طرح بے چین رہتے کچھ سمجھ نہ آتا کیا ہو گا، عجیب سا خوف، سب بچوں کو اسکول سے ہٹا کے گھر پہ بند کر دیا گیا اور سب لڑکیوں کو سب سے پیچھے کی کوٹھڑی میں رات میں بند کر کے باہر سے تالا لگا دیا جاتا۔

دونوں گھرانوں نے شمیم اور اس کی بہن کے سسرال سے رابطہ کیا کے فوراً شادی کی جائے۔

اپریل کی پانچ تاریخ گھنا اندھیرا شمیم کے ابا نے ہمارے ابا سے کہا آج شام سے ہم لالٹین روشن نہیں کریں گے، تاکہ گھر باہر سے دکھائی ہی نہ دے۔

لیکن یہ کون جانتا تھا کے روشنی ہونے نہ ہونے سے کوئی فرق نہیں پڑتا، سب کی گنتی ہو چکی تھی سر گنے جا چکے تھے۔

شمیم نے دو روز قبل ایک خط بھیجا تھا جس میں لکھا تھا کے تم سب خوفزدہ نہ ہو تم سب کو ڈھاکہ لے آؤں گا یہاں سب صحیح ہے، میں کل نکل رہا ہوں دو، تین روز میں آ جاؤ گا سب کو لے جانے۔

دو دن سے ہم سورج ڈوبتے ہی گھپ اندھیرے کا حصہ بن جاتے چھوٹے بچے اندھیرے سے گھبراتے لیکن ہم سب مجبور تھے ہمارا خون سوکھتا جا رہا تھا، میرے اور شمیم کے ابا صبح سویرے کھانے کے لیے سامان لے آتے، اور پھر گھر بند رہتا خاموشی اور تاریکی کھڑکیاں بند دروازے بند۔

لیکن جو آج رات ہونے والا تھا وہ توہم میں سے کسی نے خواب میں بھی نہ دیکھا تھا۔

رات میں ہم سب تاریکی میں کوٹھڑی میں قید تھے ابا نے ہم سب کو باہر سے بند کر کے برآمدے میں پلنگ لگائی اور تسبیح پڑھنے لگے۔ اماں منی کے ساتھ اپنے کمرے میں تھیں آج منی بہت بے چین تھی روئے جا رہی تھی۔ اس کی وجہ سے اماں آج کوٹھڑی میں نہیں تھیں۔

شمیم کے ابا کی حالت میرے ابا سے بھی زیادہ خراب تھی وہاں سب جوان تھے، ان کا بس چلتا تو وہ سب کو خود ہی زہر دے دیتے اور خود بھی خودکشی کر لیتے۔

لیکن جو نصیب میں ہوتا ہے وہ ہو کے ہی رہتا ہے۔ رات کے شاید دو بجے ہوں گے۔ ہمارے اوپر قیامت کی گھڑی آ گئی۔

گھر کی دیواریں پھلانگ کر نہ جانے کتنے لوگ ایک دم سے گھر میں دندنانے لگے، ابا کے چیخنے اور اماں کے رونے کی آوازیں ہم سب سانس روک کے سن رہے تھے ابا نے ہم سب سے کہا تھا کے کچھ بھی ہو جائے تم لوگوں آہ بھی نہیں بھرنی۔ اچانک اماں کی آواز ہلکی ہو گئی جیسے دروازہ بند ہو گیا منی کے زور زور سے رونے کی آوازیں۔ ابا دروازہ پیٹتے رہے، ہم سب کو کچھ بھی سمجھ نہیں آ رہا تھا کے آخر باہر کیا ہو رہا ہے۔ پھر گولیاں چلنے کی آوازیں اور اماں منی اور ابا ایک ساتھ چپ۔

بندوق کے دستے سے کسی نے کوٹھڑی کے دروازے کو توڑا تو میری چھوٹی بہن کے گلے سے دبی ہوئی چیخ نکلی، اس آدمی نے زور سے بنگلہ میں اپنے ساتھیوں کو آواز لگائی ہم سب بوریوں میں چھپے ہوئے تھے، ان سب نے اندر آتے ہی ہمیں تلاش کر لیا، مجھے دو لوگ گھسٹتے ہوئے دوسرے کمرے میں لے گئے، پہلے تو میں اپنی پوری طاقت سے چیخی اور پھر میری آواز جیسے ختم ہو گئی، وہ سات مرد تھے یا اس سے بھی زیادہ میں نہیں جانتی، میں نیم بے ہوش تھی، میرے کانوں میں اپنے بہن بھائیوں کے رونے کی آوازیں آنا بند ہو گئیں۔ جاتے وقت وہ لوگ ہمارے گھر سب لوگوں کو مار کے گئے اور میری گردن پہ بھی چھری پھیرتے ہوئے گئے۔

جس وقت ہم سب ذبح کیے جا رہے تھے شمیم کے گھر بھی قیامت کا سماں تھا، اس کی ماں سمیت سب بہنوں کو وہ لوگ اپنے ساتھ لے گئے ابا اور بھائیوں کو گھر کے صحن میں ہی گلے کاٹ کر پھینک دیا تھا، جس وقت شمیم گھر آیا تو گھر میں مکھیوں کی بھنبھناہٹ وہ جیسے جیسے گھر کی طرف قدم بڑھاتا خون کے سڑنے کی تیز بدبو گھر کا دروازہ کھلا ہوا تھا اس نے سب کمروں میں اپنی بہنوں کو تلاش کیا، بھائی اور ابا کی لاش کے نیچے دبے ہوئے اس کے چھوٹے بھائی کی سانسیں ابھی چل رہی تھیں۔ پھر وہ ہمارے گھر آیا یہاں سب کی لاشیں تھیں، صرف میں تھی جو ابھی زندہ تھی شمیم نے مجھے اور اپنے چھوٹے بھائی کو ہسپتال پہنچا کر سب کی تدفین کی۔

ہم دونوں کو ڈھاکہ لائے ہولی فیملی ہسپتال میں ایک مہینے تک ہم دونوں ہی رہے ہوش آنے کے بعد بھی صدمہ سے مجھے دورے پڑتے، ہمیں ہسپتال میں شمیم کی باجی سنبھالتی تھیں وہ کچھ عرصہ پہلے بہار سے ڈھاکہ کسی عزیز کی شادی پہ آئی تھیں، جس دن سے ہم سب پہ یہ قیامت ٹوٹی اب وہ ہی ہم تینوں کی وارث تھیں۔

شمیم گئے تو دو ماہ کے لیے غالب ہو گئے باجی کو لگا وہ بھی اب کبھی نہیں آئیں گے ان کے آنسو ہر وقت بہتے۔

ایک روز اچانک شمیم آ گئے، ان کے ہاتھوں میں ان کی بہنوں کی ٹوٹی ہوئی چوڑیوں کا ڈبہ تھا، وہ جہاں تک ڈھونڈ سکتے تھے ڈھونڈتے رہے، وہ کلکتہ تک چلے گئے کے شاید کوئی ایک بھی مل جائے۔ لیکن ہر جگہ مایوسی۔

جب وہ آئے تو ہم سب نے مل کر ماتم کیا اپنے پیاروں کے مرنے کا شمیم اپنے ساتھ ٹکٹ بھی لائے ہم سب اگلے روز ہی کراچی کے لیے ائرپورٹ پہ تھے۔

کراچی آنے کے بعد شمیم سے میری شادی ہو گئی، شمیم نے اس چوڑیوں کے ڈبے کو کبھی بھی اپنے آپ سے الگ نہیں کیا، جہاں جاتے اپنے ساتھ رکھتے۔

وہ کہتے یہ چوڑیاں ان کی اماں اور بہنوں کی واحد نشانی ہیں، جب شمیم کے دنیا سے رخصت ہونے کا وقت آیا تو میرا ہاتھ پکڑ کر کہنے لگے اس چوڑیوں کے ڈبے کو میرے ساتھ ہی دفن کر دینا۔

وہ جب بھی اداس ہوتے چوڑیوں کے ڈبے کو کھول کر گھنٹوں اپنی بہنوں کو یاد کرتے، ہمارا دکھ ساجھا تھا لیکن پھر بھی شمیم زیادہ تنہا تھے میں نے سب کو مرتے دیکھا تھا شمیم کو انتظار تھا کے شاید کبھی کوئی ڈھونڈ تا ہوا آ جائے۔

وہ حالت انتظار میں ہی چلے گئے۔
·مشرقی پاکستان سے آنے والے ہر دوسرے گھر کی ایک سی کہانی ہے، کسی بھی طرح کی مماثلت اتفاقی ہو گی۔