غریب خاندان کے بچے کا اعلیٰ یونیورسٹی میں داخلہ
چین کے صوبہ حونان ایک دور دراز گاؤں میں رہائش پذیر جوڑے کی زندگی عام کسانوں کی طرح گزر رہی تھی۔ ایک جیسے صبح و شام، ایک جیسے معمولات اور شاید ایک جیسے خواب، وہ اپنی زندگی میں مگن تھے اور اپنے حالات سے مطمئن تھے۔ کھیتی باڑی سے ان کا اچھا گزر بسر ہو جاتا تھا۔ ان دنوں چین کے دیہی علاقوں میں غربت کے خلاف جدوجہد عروج پر تھی۔ جس کے ثمرات ان کے گاؤں تک بھی پہنچ رہے تھے۔
چین نے اکیسویں صدی میں غربت کے خلاف کامیابی کی ایسی داستان رقم کی ہے جس کی مثال دنیا کے کسی اور خطے میں نہیں ملتی۔ ترقی پذیر اور غریب ممالک اس کامیابی سے بہت کچھ سیکھ سکتے ہیں۔ ایک وقت تھا جب عوامی جمہوریہ چین میں غربت نے پنجے گاڑ رکھے تھے اور لوگ نسل در نسل اس کا شکار تھے۔ سنہ 2012 میں کمیونسٹ پارٹی آف چائنا کی 18 ویں قومی کانگریس کے بعد سے سنہ 2020 تک چین میں آٹھ برس کے دوران 10 کروڑ سے زائد لوگوں نے غربت سے نجات حاصل کی۔ یہ تعداد ایک درمیانے درجے کے یورپی ملک کی پوری آبادی کے برابر ہے۔ اعداد و شمار کے مطابق ان آٹھ برسوں میں چین میں ہر ایک منٹ میں تیس افراد نے غربت سے نجات حاصل کی یا یوں کہیے کہ ہر دو سیکنڈ میں ایک شخص غربت سے آزاد ہوا اور خوشحال زندگی کی راہ پر گامزن ہوا۔
غربت کے خلاف یہ جدوجہد سن انیس سو اٹھہتر میں اصلاحات اور کھلے پن کی پالیسی کے نفاذ کے بعد حقیقی معنوں میں شروع ہوئی تھی۔ یہ وہ وقت تھا جب چین کے دیہی علاقوں میں سات سو ستر ملین افراد غربت کا شکار تھے۔ ان علاقوں میں غربت کی شرح 97.5 فیصد تھی۔ اس کے بعد دیہی اصلاحات کے سنہرے دور کا آغاز ہوا اور چین نے غربت کے خاتمے کے میدان میں تاریخی کامیابیاں حاصل کرنا شروع کیں۔ ہم یہ کہہ سکتے ہیں چین نے گزشتہ 40 سال میں تقریباً 80 کروڑ افراد کو غربت سے نکالا، چین نے اقوام متحدہ کے پائیدار ترقی کے جو اہداف 2030 ء کے لیے مقرر کیے گئے تھے وہ دس برس قبل یعنی 2020 ء میں حاصل کر لیے۔
اپنے موضوع کی طرف واپس آتے ہیں۔ سنہ 2004 میں اس جوڑے کے ہاں ایک بیٹا پیدا ہوا۔ ان دنوں چین میں ون چائلڈ پالیسی تھی لہذا یہ بچہ اس خاندان کی زندگی کا مرکز و محور بن گیا۔ بچے کا نام لے شوئے مئی رکھا گیا۔ بچہ ماں کی آنکھوں کا تارا تھا۔ وہ چاہتی تھی کہ اس کا بیٹا بڑا ہو کر اعلیٰ تعلیم حاصل کرے اور شہر میں اچھی نوکری کرے۔ اس خواہش کی وجہ یہ تھی کہ ان کے گاؤں اور قریبی لوگوں میں سے جس جس نے بھی اعلیٰ تعلیم حاصل کی تھی اس کی ترقی کی رفتار زیادہ تیز تھی اور دوسرا ان کی زرعی زمین اتنی کم تھی کہ آئند نسل کی ضروریات کے لیے نا کافی تھی۔
بظاہر پرسکون اور مطمئن نظر آنے والے اس خاندان نے اچانک ایک بڑا فیصلہ کیا اور وہ فیصلہ تھا شہر جانے کا تھا، وہ اپنے بیٹے کو شہر میں ہائی سکول کی تعلیم دلوانا چاہتے تھے۔ انہوں نے اپنے آرام و سکون کی قربانی دی اور اپنے بیٹے لی لے شوئے مئی کو لے کر صوبہ حونان کے چانگ چیا چئے شہر آ گئے۔ میاں نے مزدوری شروع کردی اور بیوی چونگ پھنگ چھین کو چانگ چیا چئے کے خوبصورت سیاحتی مقام تھیان زی شان پر صفائی کرنے کی نوکری مل گئی اور ان کا بیٹا قریبی ہائی سکول میں پڑھنے لگا۔
دونوں میاں بیوی سخت محنت کرنے لگے۔ بیٹا اپنے والدین کی خواہش سے واقف تھا۔ وہ ان کو سخت محنت کرتے ہوئے دیکھتا تھا۔ لہذا اس نے دل لگا کر پڑھائی کی اور کبھی اپنے والدین کے لیے مشکلات کھڑی نہیں کیں۔ چھٹی والے یہ بچہ اپنی والدہ کے کام کی جگہ پر آ جاتا تھا اور لاکھ منع کرنے کے باوجود ماں کے ہاتھ سے جھاڑو لیتا اور صفائی کا کام شروع کر دیتا تھا۔ ماں دل ہی دل میں بیٹے کو دعائیں دیتی۔ ہائی اسکول کے بعد اس نوجوان نے رواں برس گاؤ کاؤ میں شرکت کی۔ گاؤ کاؤ چین میں کالج / یونیورسٹی میں داخلے کے امتحان کا نام ہے۔
جولائی کے دوسرے ہفتے میں چونگ پھنگ چھین معمول کے کام میں مصروف تھیں کہ ان کے ساتھی ان کے پاس آئے اور انہیں مبارک باد دینے لگے۔ وہ بہت حیران ہوئی کہ ایسا کیا ہوا ہے۔ اس کے انچارج نے بتایا کہ ہمیں ابھی ابھی پتہ چلا ہے کہ آپ کے بیٹے نے گاؤ کاؤ کے امتحان میں 750 میں سے 652 مارکس حاصل کیے ہیں اور اسے چین کی صف اول کی یونیورسٹی میں داخلہ ملا ہے۔ ماں کی آنکھوں میں خوشی کے آنسو تیرنے لگے۔ شروع سے شرمیلی ہونے کی وجہ سے لوگوں کا ٹھیک سے شکریہ بھی ادا نہ کر پائی۔
اسی دوران اس کا بیٹا بھی وہاں پہنچ گیا۔ اس نے ماں کو پیکنگ یونیورسٹی کی جانب سے ملنے والا داخلہ لیٹر دیا اور ماں کے ہاتھ سے صفائی کا برش لیا اور پارک کی صفائی شروع کردی۔ اس نے کہا میرا پرائمری سکول سے خواب تھا کہ میں پیکنگ یونیورسٹی میں پڑھوں، میرا یہ خواب پورا ہو گیا ہے۔ میرا اگلا خواب ہے میں والدین کو ہر وہ خوشی دوں گا جس کا انہوں نے خواب دیکھا ہے۔


