جینز میں پائے جانے والے کرپشن کے رجحان کا خاتمہ کیسے ہو؟
جولائی 2022 میں مسلسل برسنے والی طوفانی بارشوں نے سندھ، بلوچستان اور سرائیکی وسیب میں جو خوفناک مناظر قائم کیے، انھیں دیکھ کر درد کی ٹیسیں روح کی گہرائیوں تک محسوس ہوئیں۔ سوشل میڈیا پہ لوگوں نے غصے میں تبصرے کیے کہ امدادی کارروائیاں کرنے والے متعلقہ محکمے یا ادارے کہاں ہیں؟ دل جلوں نے کمنٹس بکس میں لکھا، باہر سے ڈالرز آئیں گے تو وہ بھی جاگ جائیں گے۔
لوگوں نے کچھ اداروں پہ بھی سوال اٹھا دیے کہ وہ خود تو جنت کی زندگی اسی دنیا میں جی رہے ہیں لیکن بارشوں سے تباہ حال غریب عوام کے لیے کچھ نہیں کر رہے۔ الغرض جتنے لوگ سوشل میڈیا پہ متحرک ہیں اتنے ہی تبصرے آ رہے ہیں۔
ایک معروف بلاگر کا تبصرہ دل کو لگا۔ انھوں نے اپنا ذاتی تجربہ بیان کرتے ہوئے لکھا کہ وہ کچھ عرصہ سرکاری ٹھیکیدار کے طور پہ بھی کام کرتے رہے۔ لکھا کہ سیلابی پانی کی گزرگاہوں پہ بند بنانے کے لیے ہر دور حکومت میں فنڈز جاری ہوتے لیکن متعلقہ سرکاری محکموں اور ٹھیکیداروں کی ملی بھگت سے وہ بند صرف کاغذوں میں ہی بنتے یا برائے نام پتھر اور مٹی ڈالی جاتی اور آئندہ رپورٹ میں لکھ دیا جاتا کہ سیلابی پانی بہت زیادہ آیا تھا جس سے بند بہہ گئے۔
اپنے بہاول پو ر شہر میں پہلے سے موجود رفیع قمر روڈ پہ دوبارہ سے کروڑوں روپے کی لاگت سے نئی سڑک بنا دی گئی۔ 27 جولائی 2022 کو ہمسایہ نے بتایا کہ رات کی بارش سے وہاں سڑک پہ بہت بڑا گڑھا پڑ گیا ہے۔ راقم نے جا کر دیکھا کہ میونسپلٹی والوں نے ٹینٹ لگا کر ٹریفک کو ڈائیورٹ کیا ہوا ہے۔ روڈ کے عین وسط میں کئی فٹ گہرا گڑھا پڑا ہوا تھا۔
بہاول پور شہر کے قریب ستلج دریا پہ انگریز بہادر نے ریلوے لائن گزارنے کے لیے پل بنایا۔ ایک صدی اور کئی دہائیاں گزر چکی ہیں، ریلوے کا وہ پل ویسے کا ویسے سلامت کھڑا ہے۔ روزانہ اس پہ کراچی اور لاہور کے درمیان ریلوے ٹریفک چلتی ہے۔ بہاول پور ریلوے اسٹیشن پہ ایک پلیٹ فارم سے دوسرے پلیٹ فارم تک جانے کے لیے بھی انگریز بہادر نے پل بنایا تھا۔ سو سال سے زیادہ عرصہ گزار کر بھی وہ صحیح سلامت کھڑا تھا۔ پھر فنڈز آئے اور اس پل کو اکھاڑ کر پھینک دیا گیا۔ نیا پل لگایا گیا۔ دیکھیں، وہ کتنا عرصہ نکالتا ہے؟
ویسے ریکارڈ تو ہمارا یہ ہے کہ سرکاری فنڈز سے ہسپتال یا اسکول کی بلڈنگ بنائی جاتی ہے اور پہلے چھ ماہ کے اندر ہی بارش سے اس کی چھت یا دیوار گر جاتی ہے اور نیچے موجود مریض یا طلباء مر جاتے یا زخمی ہو جاتے ہیں۔
انٹرنیٹ پہ امریکہ، یورپ اور کینیڈا کی عمارتوں، سڑکوں، پلوں، ٹاؤن پلاننگ، وہاں کے لوگوں کے لائف اسٹائل اور رویوں کا مشاہدہ کرتا رہتا ہوں۔ سوچتا رہتا ہوں کہ ہم وہ ہیں جن کا دعوٰی ہے کہ سوویت یونین کو ہم نے توڑا (یہ اور بات کہ وہ ابھی تک سپر پاور کا اسٹیٹس رکھتا ہے ) ۔ جب چاہیں متحدہ ہائے امریکہ کو توڑ دیں اور یہ کہ یورپ اور کینیڈا کے لوگ عنقریب ہمارے ملک میں مزدوری کرنے آئیں گے۔ یہ کہ عالمی طاقتیں ہم سے خوفزدہ ہیں۔ (سمجھ نہیں آتا کہ جب وہ ہم سے خوفزدہ ہیں تو ہم کشکول اٹھا کر ان کے سامنے کیوں کھڑے رہتے ہیں ) ۔
چلیں، آپ کی یہ ساری باتیں مان لیتے ہیں کہ ہم ہی دنیا کے سب سے زیادہ طاقتور ملک کا درجہ رکھتے ہیں اور بڑے بڑے ترقی یافتہ ممالک ہمارے سامنے کشکول اٹھا کر کھڑے رہتے ہیں۔ لیکن ایسا کیوں ہوتا ہے کہ ایک ہی رات کی طوفانی بارش ہمارے تباہ حال سسٹم کا پول کھول کر رکھ دیتی ہے؟
اس سوال کا جواب اکبر شیخ اکبر کے ذہن میں تو یہی آتا ہے کہ ہمارے لوگوں کے جینز میں مالی کرپشن کا رجحان پایا جاتا ہے جو کسی طریقے سے بھی ختم ہونے کو نہیں آ رہا۔ سائنسدان کوئی ایسی ویکسین ایجاد کریں جو ہمارے لوگوں کو انجیکٹ ہو اور ان کے اذہان کرپشن فری ہو جائیں۔ مزے کی بات دیکھیں، ہومیو پیتھی میں سٹیفی سیگریا نامی دوا پائی جاتی ہے جو عادی چوروں کو دی جائے تو ان کے اندر چوری کا رجحان ختم یا کم ہو جاتا ہے۔
یہ عاجز مالی کرپشن کے رجحان کو کنٹرول کرنے کے لیے اپنی چند تجاویز دہراتا ہے۔ وطن عزیز میں فرد کی شہری اور زرعی جائیداد کی ملکیت رکھنے کی حد مقرر کر دی جائے۔ لامحدود ملکیت رکھنے کا حق فرد کے اندر زیادہ سے زیادہ جائیداد بنانے کی ہوس پیدا کرتا ہے جو مالی کرپشن کرنے کا رجحان پیدا کرتی ہے۔
ٹاؤن پلاننگ اور تمام رہائشی مکانوں کی ڈیزائننگ اور آرکیٹیکچر ایک جیسا ہو۔ محلے میں منفرد آرکیٹیکچر والا مہنگا مکان بن رہا ہو تو دیگر رہائشیوں کے اندر احساس کمتری پیدا ہو جا تا ہے جو انھیں ویسا یا اس سے بھی زیادہ مہنگا مکان بنانے کی ترغیب دیتا ہے۔ نتیجہ یہ کہ فرد ویسا مکان بنانے کے لیے وسائل اکٹھا کرنے کے لیے کرپشن کی طرف بھی مائل ہو جاتا ہے۔
ہمارے ملک میں کروڑوں افراد دیہی علاقوں میں رہتے ہیں جہاں اسی فیصد سے نوے فیصد تک زرعی زمینوں پہ چند خاندانوں کا ملکیتی کنٹرول ہوتا ہے جو جاگیردار، بڑے زمیندار، پیر صاحبان، شاہ صاحبان، ملک صاحبان، چودھری صاحبان، خان صاحبان، سردار صاحبان اور وڈیرہ سائیں کہلاتے ہیں۔ کروڑوں غریب لوگ ان دیہی علاقوں میں مکان کی ذاتی ملکیت کا حق تک نہیں رکھتے کہ جاگیردار یا سردار جب چاہے انھیں ان کے گھر سے یہ کہہ کہ بے دخل کر دے کہ تمہارا یہ کچا مکان یا جھونپڑی نما مکان تو میری زمینوں پہ بنا ہوا ہے۔
ذاتی مکان کی خواہش انھیں سیلابی پانی کی گزرگاہوں پہ بھی کچا پکا مکان بنانے کی ترغیب دے ڈالتی ہے یا پھر یہ لوگ شہروں کے کناروں پر سرکاری جگہوں پہ غیر قانونی کچی آبادیاں بنا لیتے ہیں۔ طوفانی بارشیں آتی ہیں تو جہاں ان کچے مکانوں کی دیواریں اور چھتیں گرنے سے معصوم بچوں تک کی اموات ہوجاتی ہیں وہاں سب کچھ پانی میں بہہ کے چلا جاتا ہے۔
کیوں ڈالی جھونپڑی مفلس نے یہاں
سامنے حسیں محل نظر آتا ہے
کیوں بلکتے ہیں بچے بھوک سے
کیوں آنکھ میں پانی بھر آتا ہے
کوئی سات کھانے کھا کے سوتا ہے
کسی پہ بھوک کا ڈر آتا ہے
چلا گیا مجرم قیمتی کار میں
غریب پہ سنتری کا قہر آتا ہے
خدا ظالم نہیں ہے ملا
جھوٹی تقسیم پہ تجھے صبر آتا ہے
کا سہ لیس کو بنا لیا پیشوا
عقیدے میں رخنہ سا در آتا ہے
نہیں منصف سے توقع انصاف کی
نشے نشے میں فیصلہ کر آتا ہے
پیسہ ہائے پیسہ ہائے پیسہ
عمر گزری آخر پہر آتا ہے
آنکھ کھول کر دیکھ اکبر میاں
ہوس کے ماروں کا شہر آتا ہے
ایک تو منظم کمپیوٹرائزڈ سسٹم کے ذریعے بے رحم قسم کی زرعی اصلاحات کی جائیں تاکہ دیہاتوں میں رہائش پذیر کروڑوں بے زمین لوگوں کو بھی ذاتی روزگار کے لیے تھوڑی بہت زمین مل جائے اور شہروں کی طرف ان کی ہجرت رک جائے۔ دوسرا یہ کہ غریب لوگ جن بڑے جاگیرداروں کی زمینوں پہ کچے مکان بنا کر بیٹھے ہیں، وہ مکان جس جگہ پر بنے ہیں ان غریبوں کی ملکیت قرار دے دی جائے۔ ماضی کی ذوالفقار علی بھٹو حکومت کی طرز پہ ملک کے ہر ضلع کی ہر تحصیل اور تعلقہ کے دیہاتی علاقے میں پانچ مرلہ اسکیم لانچ کر کے مقامی بے گھروں کو مفت پلاٹ الاٹ کیے جائیں۔
ایک طرف حکومتیں سرکاری ملازمین میں مالی کرپشن کا رجحان ختم کرنے کے لیے ان کی تنخواہوں میں دس سے پندرہ فیصد اضافہ کر دیتی ہیں اور ساتھ ہی ساتھ اسی وقت پٹرول، ڈیزل، بجلی اور گیس کی قیمتوں میں اضافہ کر کے اور کھانے پینے کی اشیاء پہ بھاری ٹیکس لگا کے مہنگائی میں چالیس فیصد اضافہ کرا دیتی ہیں۔ اب کلرک بابو اور پولیس کانسٹیبل اس مہنگائی کا مقابلہ کیسے کرے؟ اگر ملک میں مالی کرپشن کو روکنا ہے تو کھانے پینے اور غریب کی ضرورت کی چیزوں کی قیمتیں کبھی بھی بڑھنے نہ دی جائیں۔
مجھے یاد ہے بہاول وکٹوریہ ہسپتال بہاول پور میں مریض اور اس کے ساتھ اٹینڈنٹ کو حکومت کی طرف سے مفت کھانا فراہم کیا جاتا تھا۔ کچھ سال گزرے وہ سروس بند کر دی گئی۔ اب مفت کھانا تو چھوڑیں، ایمرجنسی میں دل کے مریض کو یا زخموں سے چور کسی فرد کو لایا جاتا ہے اور ڈاکٹرز صاف صاف کہہ رہے ہوتے ہیں کہ وہ مریض کی جان بچانے کی ہر ممکن کوشش کریں گے لیکن ہسپتال میں دوا نہیں ہے۔ باہر پرائیویٹ میڈیکل سٹور سے خرید کر لاؤ۔
ہمارے پیارے ملک میں کروڑوں لوگ خط غربت سے نیچے زندگی گزار رہے ہیں۔ وہ اپنے پیاروں کے علاج کے اخراجات نہیں اٹھا سکتے۔ آپ ان سے مفت علاج کی سہولت چھین کر ان کے اندر مالی کرپشن کا رجحان پیدا کرتے ہیں۔ آخر اپنے پیاروں کو سسک سسک کر مرتے تو وہ بھی نہیں دیکھ سکتے۔ کسی نہ کسی طرح سے علاج کے لیے پیسے تو جمع کرنا ہیں چاہے کرپشن سے۔
اچھا یورپ خصوصاً سیکنڈے نیویا ممالک میں فرد کو سوشل سروس کے ذریعے تحفظ دے کر عدم تحفظ کے احساس سے نجات دلا دی گئی ہے۔ وہاں بے روزگاروں، بچوں اور بوڑھوں کے اخراجات کے لیے سوشل سیکورٹی کے نام پہ کچھ نہ کچھ ماہانہ امداد دی جاتی ہے۔ ہمارے ہاں تو فرد اس فکر سے نڈھال ہوتا ہے کہ ”اگر میں مر گیا تو میرے بعد میرے بیوی بچوں کا کیا ہو گا؟“ ۔ اگلی سوچ اس کے ذہن میں یہ پیدا ہوتی ہے کہ بیوی بچوں کے لیے کچھ نہ کچھ مالی وسائل چھوڑ جاؤ چاہے کرپشن کے طریقوں سے ہی کیوں نہ اکٹھے کرنا پڑیں۔


