بلاول بھٹو کے نام!


پاکستان کی سیاسی جماعتوں کی کارگردگی اگر اگر جائزہ لیا جائے تو اس میں کوئی شک نہیں کہ پاکستان پیپلز پارٹی نے جو ملکی مفاد میں کام کیے ان کی ایک لمبی لسٹ ہے۔ اپنے ہمسایہ ممالک سے تعلقات ہوں یا اداروں کے ساتھ ساتھ پارلیمنٹ کو مضبوط کرنے کے اقدامات ان سب کا سہرا پاکستان پیپلز پارٹی کے سر جاتا ہے۔ اسی طرح پاکستان میں موجود ایک گروہ جس کو زبردستی پاکستان پر مسلط کر دیا گیا اس گروہ کا تنظیمی ڈھانچہ اتنا مضبوط ہے کہ جب وہ ضمنی الیکشن ہارتی ہے تو وہ فوراً ہی اپنی تنظیم کے عہدے داروں کو فارغ کر کہ نئے سرے سے اپنی تنظیم بناتے ہیں۔

دوسرا ہر سال وہ ممبر سازی کے نام پر نئے لوگوں کا پارٹی میں اندراج کر کہ ان کو کارڈ بنا کر دیتے ہیں جس کی بدولت نیا بننے والا ممبر خود کو اس گروہ کا ممبر بتاتا ہے جو ملکی سیاست پر کافی اثر انداز ہوتے ہیں۔ کچھ عرصہ پہلے کی بات ہے بلاول بھٹو زرداری صاحب نے پارٹی کی بہتری کے لئے ایک مہم شروع کی تو ان میں سب سے پہلے پارٹی کی ممبر شپ کے لئے آن لائن رجسٹریشن شروع کی گئی ساتھ یہ اعلان کیا گیا کہ ممبر شپ کارڈ پارٹی میں اندراج ہونے والے ممبرز کے گھر پر پہنچے گا۔

اس اعلان کے بعد سب سے پہلا کردار فیس بک یا ٹویٹر و سوشل میڈیا پر موجود رضا کار جیالوں نے ادا کیا انہوں نے اس اعلان کے بعد اپنی مدد آپ لوگوں کی ممبر شپ شروع کر دی۔ ان کے بعد بلاول بھٹو زرداری کے اعلان کے بعد ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ ہنگامی طور پر ہر یونین کونسل پر مقامی عہدے دار ایک کیمپ لگاتے اور اعلان کرواتے اور آنے والے ہر فرد کی ممبر سازی کرتے اور اسی دوران وہ اپنی پارٹی پالیسی عوام تک پہنچاتے لیکن بد قسمتی سے ہماری تنظیمی ڈھانچے کو یونین کونسل تک رسائی حاصل ہی نہیں چند ایک شہروں میں کیمپ لگا کر فارمیلٹی پوری کی گئی جس کا رزلٹ کچھ اچھا نہ ملا۔

کیونکہ جن لوگوں نے ممبر شپ کے لئے اپنا اندراج کروایا ان میں سے کسی کا بھی کارڈ ان کے ایڈریس پر نہ بھیجا گیا جو کہ ہمارے عہدے داروں کی کارگردگی پر سوالیہ نشان ہے میرے خیال سے اگر صرف ممبر شپ کارڈ لوگوں کے گھر بھیج دیا جاتا تو ان کے ذہن میں یہ بات بیٹھ جانی تھی وہ پاکستان پیپلز پارٹی کے ممبر ہیں۔ لیکن چیئرمین کے اعلان کے بعد کچھ خاطر خواہ رزلٹ نہ ملا جو کہ ہماری ناکامی ہے جس کا اعتراف ہمیں کر لینا چاہیے لیکن اگر بلاول بھٹو زرداری ذمہ داران کو اب بھی سختی کے ساتھ اس بات پر عمل درآمد کروانے میں کامیاب ہو جاتے ہیں کہ جن لوگوں نے ممبر شپ کے لئے اندراج کروایا تھا ان کے کارڈ ان کو بھیج دیے جائیں تو ہماری کمپین کا پہلا مرحلہ شروع ہو جائے گا جو کہ ایک خاص اہمیت کا حامل ہو گا۔

پاکستان پیپلز پارٹی کے بانی شہید ذوالفقار علی بھٹو صاحب نے بھی اپنے دور میں اس چیز پر زور دیا جن لوگوں کے کارڈ بنے ان کی نسلیں آج بھی وہ کارڈ دکھا کر بتاتی ہیں کہ وہ پاکستان پیپلز پارٹی کے ممبر کی اولادیں ہیں۔ اس لیے اس چیز پر فوکس کرنے کی اشد ضرورت ہے۔ بلاول بھٹو زرداری سے درخواست ہے کہ جلد از جلد 0 ار ٹی کی رکنیت حاصل کرنے کے لئے لوگوں میں آگاہی دیں اور ممبر شپ کا انعقاد شروع کروائیں۔ اگر ہم یہ ممبر شپ کا آغاز کر کہ کامیابی کی طرف بڑھتے ہیں تو آنے والے وقت میں ہمیں یونین کونسل لیول پر بھی نئے چہرے امیدوار کے طور پر سامنے آ جائیں گے۔ جن سے پارٹی یونین کونسل لیول سے مضبوط ہوتی ہو پروان چڑھے گی۔

Facebook Comments HS