اختر استاد بنا ملے ہی چلے گئے۔


آج صبح فیس بک آن کی تو سب سے پہلے ڈاکٹر ناظر محمود کی ٹائم لائن پر یہ افسوس ناک خبر ملی کہ سینیئر صحافی، محقق اور انسانی حقوق کے علمبردار جناب اختر بلوچ کے انتقال کی خبر سن کر دل ایک دم اداس ہو گیا۔

میں اختر بلوچ صاحب کو اختر استاد کہا کرتا تھا۔ اختر بلوچ سے میری ظاہری ملاقاتیں نہایت مختصر رہیں شاید چند ماہ یا ایک سال مگر یہ تعلق زندگی کا اہم موڑ ثابت ہوا۔ اختر بلوچ سے مجھے وہ راستہ ملا جس کی مجھے تلاش تھی۔

میری لکھی ایک بے وزنی غزل جو فکر معاش، حالات، مسائل اور خوشیوں کی گرد تلے کہیں دب چکی تھی اور باوجود کوشش کے کبھی یاد نہیں آئی اس غزل کے اشعار آج بیس بائیس سال بعد اچانک دماغ کے در و دیوار سے ٹکرانے لگے۔

نہ صرف غزل کے اشعار بل کہ تصور میں وہ وقت، وہ مقام اور وہ سب باتیں یاد آنے لگیں جو اختر بلوچ سے ملاقاتوں میں ہوا کرتی تھیں۔

میری عمر اس وقت 23 چوبیس سال رہی ہوگی اور میری روح بے چین تھی اور مسلسل اپنے حصے کی جگہ اور اپنے جیسے لوگوں کی تلاش کر رہی تھی۔ جب کہ میں اس وقت یہ بھی نہیں جانتا تھا کہ میں خود کیا کرنا چاہتا ہوں۔

یہ ایک فطری بات ہے یا اسے ارتقائی مراحل سے گزرنا بھی کہا جاسکتا ہے ہر شخص جس کام اور جن لوگوں کے لیے پیدا کیا جاتا ہے وہ ایک نہ ایک دن چاہتے ہوئے یا چاہتے ہوئے بھی ان لوگوں میں پہنچ جاتا ہے۔

اختر بلوچ میری زندگی میں آنے والے دوسرے انسان تھے جن کے شفیق اور بے تکلف انداز گفتگو سے مجھے محبت ہوئی۔ بل ترتیب میری زندگی کے پہلے قیمتی شخص اسرار احمد صاحب تھے جو میرپور خاص میں میرے پڑوسی بھی تھے اور شاہ ولی اللہ ہائی اسکول میں میرے چوتھی جماعت کے استاد بھی تھے۔ انہوں نے مجھے حقیقی چیزوں پر سوچنا ان پر غور کرنا سکھایا۔ انہوں نے ہی مجھے کہانیوں میں جھوٹ اور سچ امتیاز کرنا سکھایا۔ ان کے پڑھانے کا انداز مختلف تھا۔

وہ اکثر کہتے کہ تمام بچے اپنی آنکھیں بند کر لیں اور جو میں کہتا جاؤں اسے اپنے تصور میں دیکھیں۔ ہم آنکھیں بند کرلیتے تو وہ ایک فرضی کہانی سنانا شروع کر دیتے مثلاً وہ کہتے ایک شخص جنگل سے گزر رہا تھا اس نے دیکھا کئی مچھلیاں تربوز کے درخت پر بیٹھی ہیں۔ اتنا سننا ہوتا کہ ایک بچہ فوراً بول پڑتا سر مچھلیاں تو پانی میں رہتی ہیں، تو دوسرا بچہ کہتا سر تربوز کا درخت نہیں بلکہ بیل ہوتی ہے ”اس عمل سے میری زندگی پر یہ اثر ہوا کہ میں آج ان کہانی اور قصوں سے بے زار ہوں جو عقلی تقاضوں پر پورا نہیں اترتے۔

میری زندگی میں آنے والے تیسرے قیمتی شخص نامور شاعر کالم نویس محترم حارث خلیق ہیں جو اس وقت ہیومین رائٹس کمیشن پاکستان کے سیکرٹری ہیں ان کے بعد چوتھی شخصیت مشہور کالم نگار، تجزیہ کار اور کئی کتابوں کے مصنف ڈاکٹر ناظر محمود ہیں۔ ان شخصیات سے محبت کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ یہ لوگ انسان دوست ہیں، یہ ایسے عالم ہیں جن میں علم کی وجہ سے تکبر نہیں ہے۔ یہ لوگ برسات کی طرح ہیں جو بنا نسلی اور طبقاتی فرق کے اپنے علمی، عملی اور تحقیقی تجربات لوگوں تک پہنچا رہے ہیں۔

کتابیں، کالم لکھ رہے ہیں، لیکچرز دے رہے ہیں، یعنی ان لوگوں نے انسانی خدمت، علم کے پھیلاؤ اور جہالت کے خاتمے کو اپنی زندگی کا اولین مقصد بنا لیا ہے۔

ان جیسے اور بھی لوگ ہیں مگر آپ ان لوگوں کا ذکر کرتے ہیں جن سے آپ متاثر ہوتے ہیں اور جو حیران کردینے والے انسان ہوتے ہیں۔

ایسا بھی نہیں کہ یہ لوگ خوامخواہ لوگوں پر اپنے علم کا رعب جھاڑنے لگتے ہیں بلکہ اگر کوئی علم حاصل کرنے کی طرف مائل ہو۔

کوئی قابل ہو تو ہم شان کئی دیتے ہیں
ڈھونڈنے والوں دنیا بھی نئی دیتے ہیں

اختر بلوچ بھی ایسے ہی انسان تھے وہ اس وقت حیدر چوک حیدرآباد پر واقع رابعہ اسکوائر کی دوسری منزل کے فلیٹ میں رہتے تھے۔ میں بھی اسی پلازے میں ایڈیٹنگ کا کام کرتا تھا اور مالک جو آج بھی بڑے بھائی کے جیسی محبت کرتے ہیں سعید اعظمی صاحب نے مجھے اسی فلیٹ میں رہائش بھی دے رکھی تھی۔ جوانی کے دن تھے، کبھی افسانے لکھنے کی کوشش کرتا تو کبھی شاعری کرنے کی ناکام کوششیں کرتا یا پھر اسٹیج ڈراموں میں اداکاری کرتا تھا، آپ یوں سمجھیں جیسی آج مستقل مزاجی ہے ویسی ہی اس وقت بھی نہیں تھی مگر ادب اور ادبی و علمی شخصیات میری اس وقت بھی کمزوری تھی۔

میری اور اختر بلوچ کی ملاقاتوں کا سلسلہ چل پڑا میں اپنی الٹی سیدھی شاعری اختر بلوچ کے پاس لے جاتا وہ بڑے دل گردے کے ساتھ اسے سننے کے بعد کبھی ٹھیک کروا دیتے تو کبھی بات دوسری جانب موڑ دیتے۔ کبھی اپنی تحقیق کے حوالے سے نئی باتیں بتاتے، مجھے کہتے کہ ہم حیدر آباد میں برپا ہونے والے تمام ماتمی جلوسوں کی ڈاکومنٹری بنائیں گے ”جو انہوں نے بعد میں بنائی بھی“

اختر بلوچ میرپور خاص میں پیدا ہوئے اور اپنی صحافت کا آغاز بھی پریس کلب میرپور خاص سے کیا۔

اس وقت جیو نیوز نیا نیا آیا تھا اور میری دلچسپی اور کام دیکھتے ہوئے اختر بلوچ نے مجھے رئیس کمال مرحوم سے ملوایا جو حیدرآباد میں جنگ اخبار سے ہیڈ تھے۔ رئیس کمال صاحب صحافی ہونے کے ساتھ حیدر آباد کی جانی مانی علمی، سماجی اور ادبی شخصیت بھی تھے اور اتفاق سے ان کی رہائش بھی رابعہ اسکوائر میں ہی تھی۔ رئیس کمال صاحب نے ایک دن مجھ سے کہا آج رات دیال داس کلب میں مشاعرہ ہے چلنا چاہو تو چل سکتے ہو۔

اس رات میں نے زندگی میں پہلی بار مشاعرہ سنا اور زندگی میں پہلی اور آخری بار نامور شاعر جون ایلیا صاحب کو سامنے بیٹھ کر سنا اور مشاعرے کے بعد ان سے بالمشافہ ملاقات بھی کی۔ اس مشاعرے میں اس وقت کے تمام ہی بڑے شاعر موجود تھے مگر جون ایلیا ہی مجھے یاد رہ گئے۔

میرا یہ ادبی اور علمی سفر اختر بلوچ کی بدولت شروع ہوا جو آج تک جا رہی ہے۔

ایک دن میں اختر بلوچ کے پاس ایک غزل لے کر پہنچ گیا جس کے ایک شعر پر پہلے تو اختر بلوچ نے اپنے مخصوص انداز میں ایک زور دار قہقہہ لگایا اور پھر ہنستے ہوئے بولے ایک تو یہ شاعر حضرات محبوبہ کے لیے لفظ چاند کو کتنا رگڑا لگائیں گے جب کہ دنیا چاند پر پہنچ چکی ہے۔

وہ شعر تھا۔
”جو تم گئے ہو جائے گا آنگن میں اندھیرا
اے چاند نہ جاؤ کہ ابھی دور سحر ہے ”

کچھ دن بعد میں حیدرآباد سے میرپور خاص چلا گیا پھر کراچی اور اس کے بعد اسلام آباد آ گیا اور اختر بلوچ سے ملاقات کا سلسلہ رک گیا۔ ایک دن انہیں تلاش کرتا رابعہ اسکوائر پہنچا تو پتا چلا وہ وہاں نہیں ہیں۔ حیدرآباد میں انسانی حقوق کے دفتر سے معلوم ہوا کہ وہ لاہور چلے گئے ہیں۔

موبائل فون کا نیا نیا دور تھا۔ ادبی اور انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والوں سے شناسائی نہیں تھی لہذا اختر بلوچ کو میں نے کھو دیا تھا۔ آخر 2010 میں یاد نہیں حارث خلیق سے یا احمد جان سے مجھے ان کا موبائل نمبر مل ہی گیا ان سے فون پر بات ہوئی اپنی پہچان کروائی تو فوراً بولے ارے بے چین انسان کہاں ہو آج کل۔

میں نے کہا لاہور آیا تو ملاقات کروں گا۔ لیکن پھر ملاقات نہ ہو سکی۔ جب میرا لاہور جانا ہوا تو وہ کراچی شفٹ ہو گئے تھے۔ فیس بک پر ہم ایڈ ہو گئے اور الیکٹرانک رابطہ بحال ہو گیا۔ کبھی کبھار فون پر بھی بات ہوتی رہتی تھی۔ گزشتہ سال اکتوبر میں بھائی رشید شورو سے ملاقات ہوئی باتوں باتوں میں اختر بلوچ کا ذکر آیا تو رشید شورو نے کہا کل تک تو میرے پاس تھے اب کراچی چلے گئے۔ میں نے انہیں فون ملانے کا کہا وہ اختر بلوچ سے میری آخری بات ہوئی اس میں پھر جلد ملنے کا پروگرام طے ہوا مگر ملاقات نہ ہو سکی۔

یہ وہ مناظر ہیں تو دوست اختر بلوچ کے جانے سے اچانک سامنے آ گئے۔

اختر بلوچ تین دہائیوں سے انسانی حقوق کے لیے کام کر رہے تھے۔ ویسے تو ان کا بے شمار کام موجود ہے مگر تین جلدوں پر مشتمل کتاب ”کرانچی والا“ کافی مشہور ہوئی۔ اختر بلوچ کے کالم ”ہم سب“ اور ”ڈان“ میں آج بھی مل جائیں گے۔

میرا مختصر عرصے کا ساتھ تھا۔ میں اختر بلوچ کو جاننے کا دعوی تو نہیں کر سکتا پر اس عرصے میں ان سے بہت کچھ سیکھا۔ وہ میری زندگی کی پہلی سیڑھی تھے۔ ان کے بے شمار دوست ہیں۔ جو ان کے ساتھ سالوں زندگی جیئے ہیں۔ میں ان سب دوستوں اور اختر بلوچ کے خاندان تعزیت کرتا ہوں اور ان کے غم میں خود کو برابر کا شریک سمجھتا ہوں۔

دنیا اور خصوصاً پاکستان کو اختر بلوچ جیسے لوگوں کی ہمیشہ ضرورت رہی ہے ان کے جانے سے ادب، سماج اور انسانیت کا بہت بڑا نقصان ہوتا ہے۔ کاش ہم انہیں روک سکتے۔

جو تم گئے ہو جائے گا دنیا میں اندھیرا
پیارے اختر نہ جاؤ کہ ابھی دور سحر ہے

Facebook Comments HS