لیفٹیننٹ جنرل سرفراز علی: کور کمانڈر کوئٹہ کے لاپتہ ہیلی کاپٹر کی تلاش جاری، عوام سے بھی مدد کی اپیل


پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے ضلع لسبیلہ میں پیر کی شام لاپتہ ہونے والے آرمی ایوی ایشن کے ہیلی کاپٹر کی تلاش کا عمل جاری ہے اور عوام سے بھی اس کارروائی میں شامل ہونے کی اپیل کی گئی ہے۔

یہ فوجی ہیلی کاپٹر جس پر کور کمانڈر کوئٹہ لیفٹیننٹ جنرل سرفراز علی اور ڈائریکٹر جنرل پاکستان کوسٹ گارڈز میجر جنرل امجد حنیف ستی سمیت چھ افراد سوار تھے اوتھل سے کراچی جاتے ہوئے لاپتہ ہوا ہے۔

آرمی ایوی ایشن کا ہیلی کاپٹر پانچ بج کر 10 منٹ پر اوتھل کے علاقے سے اڑا اور اس نے چھ بج کر پانچ منٹ پر کراچی پہنچنا تھا تاہم راستے میں اس کا رابطہ ایئر ٹریفک کنٹرول سے منقطع ہو گیا۔

لسبیلہ کے ایس ایس پی دوستین دشتی نے کہا ہے کہ اس ہیلی کاپٹر کی تلاش منگل کو بھی جاری ہے اور زمینی تلاش کے علاوہ ہیلی کاپٹر بھی اس سرچ آپریشن میں حصہ لے رہے ہیں۔

اپنے ایک ٹویٹ میں بلوچستان حکومت کی ترجمان فرح عظیم نے کہا کہ وہ اس ہیلی کاپٹر کی بحفاظت بازیابی سے متعلق اچھی خبر کے لیے دعاگو ہیں۔

پاکستانی فوج کے شعبۂ تعلقاتِ عامہ نے پیر کی شب ہیلی کاپٹر کے لاپتہ ہونے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا تھا کہ یہ ہیلی کاپٹر بلوچستان میں سیلاب سے متاثرہ افراد کی امداد کے آپریشن میں شامل تھا۔

خیال رہے کہ بلوچستان کا ضلع لسبیلہ حالیہ طوفانی بارشوں اور سیلابی ریلوں سے بُری طرح سے متائثر ہوا ہے۔ ضلعے کے مخلتف علاقوں میں سیلابی پانی کھڑا ہونے کی وجہ سے ہزاروں افراد پھنسے ہوئے ہیں جہاں انتظامیہ، پاکستان فوج، ایف سی اور نیوی کے اہلکار ریلیف کی سرگرمیوں میں حصہ لے رہے ہیں۔

لسبیلہ میں انتظامیہ کے سینیئر اہلکار نے بتایا کہ پیر کولیفٹیننٹ جنرل سرفراز علی خود وہاں ریلیف کی سرگرمیوں کا جائزہ لینے پہنچے تھے تاکہ ان سرگرمیوں میں تیزی لائی جاسکے۔

اہلکار کا کہنا تھا کہ کورکمانڈر اوردیگر فوجی اہلکار شام پانچ بجے کے قریب اوتھل سے ہیلی کاپٹر میں روانہ ہوئے تھے۔

انتظامیہ کے اہلکار نے بتایا کہ ہیلی کاپٹر کی گمشدگی کی اطلاع ملنے کے ساتھ ہی جہاں دیگر سیکورٹی فورسز کے اہلکاروں نے تلاش کا سلسلہ شروع کی وہیں پولیس کو بھی موبلائز کیا گیا لیکن اب تک ہیلی کاپٹر کا سراغ نہیں لگایا جاسکا۔

ان کا کہنا تھا کہ دیگر مشکلات کے علاوہ موبائل فون نیٹ ورک کے مسائل کی وجہ سے بھی مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

لسبیلہ کہاں واقع ہے؟

لسبیلہ بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ سے جنوب میں اندازاً سات سو کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔ جنوب میں لسبیلہ کی سرحد حب سے لگتی ہے جو کہ بلوچستان کا سب سے بڑا صنعتی شہر ہے جبکہ حب پاکستان کے سب سے بڑے صنعتی شہر کراچی سے متصل ہے۔

کراچی کے علاوہ اس ضلع کی سرحدیں خضداراور آواران سے بھی لگتی ہیں اور خضدار اور آواران کے ساتھ اس کے سرحدی علاقوں میں سنگلاخ پہاڑی سلسلے بھی موجود ہیں۔

آواران کا شمار ان اضلاع میں ہوتا ہے جو کہ شورش سے زیادہ متائثر ہیں۔ خضدار کے پہاڑی علاقوں سے بارش کا پانی لسبیلہ میں داخل ہوتا ہے اور بعض اوقات وہاں سیلابی صورتحال پیدا ہوتی ہے۔

کراچی اور بلوچستان کے زیادہ تر علاقوں کے درمیان آمدورفت اسی ضلع سے ہو تی ہے۔ قیام پاکستان سے قبل اس ضلع کو ریاست کی حیثیت حاصل تھی اور سابق وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال خان کے آباﺅ اجداد اس کے سربراہ رہے۔

لیفٹیننٹ جنرل سرفراز علی کون ہیں؟

بی بی سی اردو کی نامہ نگار فرحت جاوید کے مطابق لیفٹیننٹ جنرل سرفراز علی کا تعلق 79ویں لانگ کورس سے ہے اور وہ پاکستان آرمی کی سکس آزاد کشمیر رجمنٹ کا حصہ ہیں۔  جب موجودہ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ 10 کور کمانڈ کر رہے تھے، اس وقت لیفٹیننٹ جنرل سرفراز علی کے پاس بطور بریگیڈیئر ٹرپل ون بریگیڈ کی کمان تھی۔

اس کے بعد وہ امریکہ میں پاکستان کے سفارت خانے میں بطور ڈیفینس اتاشی خدمات سرانجام دیتے رہے۔

امریکہ سے واپسی کے بعد لیفٹننٹ جنرل سرفراز علی سٹاف کالج کوئٹہ کے کمانڈنٹ تعینات ہوئے جس کے بعد وہ ملٹری انٹیلی جنس یعنی ایم آئی کے ڈائریکٹر جنرل کے طور پر بھی ذمہ داریاں ادا کرتے رہے۔

ایم آئی میں خدمات سرانجام دینے کے بعد وہ ایف سی بلوچستان ساؤتھ کے آئی جی تعینات ہوئے۔ یہ وہی علاقہ ہے جہاں ان کے ہیلی کاپٹر کو حادثہ پیش آیا۔

لیفٹیننٹ جنرل کے عہدے پر ترقی ہونے کے بعد انھیں کور کمانڈر 12کور، جسے کوئٹہ کور بھی کہا جاتا ہے، تعینات کیا گیا تھا۔

ان کے ساتھ ہیلی کاپٹر میں سوار دیگر افراد میں ڈی جی کوسٹ گارڈز میجر جنرل امجد حنیف ستی بھی ہیں جن کی گذشتہ ہفتے آرمی کے پروموشن بورڈ کے دوران میجر جنرل کے رینک میں ترقی ہوئی تھی۔

ہیلی کاپٹر میں موجود بریگیڈیر خالد کا تعلق کور آف انجینیئرز سے ہے۔

ہیلی کاپٹر کے بارے میں ہم کیا جانتے ہیں؟

حادثے کا شکار ہونے والا ہیلی کاپٹر ایکریل ہے جو جدید مگر سائز میں چھوٹا ہوتا ہے۔

اس میں ایک وقت میں صرف چھے افراد ہی بیٹھ سکتے ہیں۔ تاہم اس سے قبل یہ جہاز سنہ 2021 میں سیاچن میں بھی گرا تھا۔

یہ حادثہ ٹین این ایل آئی بٹالین ہیڈکوارٹر کے قریب پیش آیا تھا اور جہاز میں سوار دو افسران اور ایک جوان ہلاک ہوئے تھے۔

Facebook Comments HS

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 33851 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp