وزیراعظم کی حجامت
”جسٹن ٹروڈو کے حجام نے ان سے کوئی انتقام لیا ہے۔“
”پرائم منسٹر کے بالوں کا نیا سٹائل مزاحیہ اداکار جم کیری کے اس ہیئر سٹائل کی نقل ہے جو اس نے فلم“ ڈم اور ڈمر ”کے لیے اپنایا تھا۔“
”ٹروڈو کے بالوں کا نیا انداز ایک اداکارہ کی یاد دلاتا ہے“
”ٹروڈو ایسا کیوں کرتے ہیں : کیا شہرت کے لیے؟ میڈیا پر چھائے رہنے کے لیے؟“
ادھر ٹویٹ پہ ٹویٹ ہو رہا ہے اور ادھر ہمارے بھلے مانس وزیر اعظم ہیں کہ اپنے ہی ملک کے ”غیر معمولی“ دورے پر نکلے ہوئے ہیں۔ کیوں نکلے ہوئے ہیں؟ اس بات کا بھی کسی کو علم نہیں۔ لازماً کوئی ضروری بات ہوگی۔ واللہ اعلم۔
معترضین کو تو بس بہانا چاہیے اس سیدھے سادے وزیر اعظم پر انگلی اٹھانے کا۔ غالباً انہی کی شہ پر صحافی اس دورے کا سبب جاننے کے لیے سرتوڑ کوشش کر رہے ہیں مگر ہمارے وزیر اعظم کی پھرتیاں دیکھیے کہ ان کے ہتھے چڑھ ہی نہیں رہے۔ ان شریر صحافیوں کی سرشت سے وہ خوب واقف ہیں۔ بھئی، کون سی مخرب اخلاق حرکتیں کر رہے ہیں وہ! بچوں کے ڈے کیئر مراکز پر جاکر ان کے ساتھ پیارے پیارے کھیل کھیل رہے ہیں۔ باغات اور جنگلات کی سیر کر رہے ہیں۔ باغوں میں بہار ہوتو جیا تھوڑا بہت بے قرار ہوہی جاتا ہے۔ ان کی خوب صورت تصاویر مسلسل گردش میں ہیں سوشل میڈیا پر۔

مخالفین کو اس پر بھی اعتراض ہے کہ صاحب، آپ کو تصویریں اتروانے کا بہت شوق ہے۔ یورپ کے دورے پر گئے تو کام سے زیادہ زور با تصویر کوریج پر رہا۔
اب سیر کو نہ جاتے تو بھلا کرتے بھی کیا؟ دارالحکومت میں یہ ہماری حزب اختلاف انہیں چین کا سانس نہیں لینے دیتی۔ پارلیمان کے اجلاس میں جاتے ہیں تو ان سے خواہ مخواہ پاسپورٹ دفاتر کے باہر عوام کی لمبی قطاروں کی وجہ پوچھتے ہیں۔ عوام سے کوئی نہیں پوچھتا کہ بھئی، اتنے سارے لوگوں کو ایک ساتھ پاسپورٹ بنا کر کون سی مہم سر کرنا ہے۔ سیر و تفریح ہی کرنے جانا ہے تو اپنے وزیر اعظم کے نقش قدم پر چلتے ہوئے اپنی ملکی چوٹیاں ہی کیوں سر نہیں کرلیتے۔ رقبہ کے لحاظ سے دنیا کا دوسرا سب سے بڑا ملک ہے کینیڈا۔ اس کی حدود کے اندر اندر ہی گھوم پھر لو۔ اس برف زار کو بحر ظلمات سمجھ کر گھوڑے یا رینڈیئر وغیرہ دوڑا لو۔ اللہ اللہ خیر صلے ٰ۔ پاسپورٹ کی ضرورت ہی نہ ہوگی۔ مسئلہ حل۔
مگر مخالفین کو کسی کل چین نہیں۔ یہ مسئلہ حل ہوتا نظر آئے گا تو پوچھیں گے ’گیس یعنی پیٹرول کیوں مہنگا ہے؟ ”،“ عام آدمی اپنے رہنے کے لیے گھر کیوں خرید نہیں پا رہا؟ ”، قدیمی باشندوں کے ساتھ مفاہمت کے اقدامات کی رفتار سست کیوں ہے؟“ ۔ کوئی عام آدمی ہو تو جھنجھلا کر خود ہی اپنے بال نوچ لے مگر وہ بڑے حوصلہ مند ثابت ہوئے ہیں۔ حجامت ہمیشہ نائی سے میرا مطلب ہے باربر سے، اچھا چلیے ہیئر ڈرریسر سے بنواتے ہیں۔ ورنہ ان کی محاوراتی حجامت تو احتساب کرنے والے چھوٹے بڑے سبھی ادارے کرتے رہتے ہیں :
’یہ دھوپ کا چشمہ کہاں سے آیا؟ اس کی خریداری کی رسید کہاں ہے؟ تحفتاً ملا تھا تو اپنے اثاثوں میں درج کیوں نہیں کیا؟ کسی ایسے فرد یا ادارے نے تو نہیں دیا جو چشمے کی آڑ میں قانون کی آنکھوں میں دھول جھونک کر آپ کے عہدے کا فائدہ اٹھانا چاہتا ہو؟ ”یہ بھلے مانس وضاحت کرتے ہیں، معافی طلب کرتے ہیں اور آئندہ ایسا نہ کرنے کی یقین دہانی کرواتے ہیں۔
پھر پوچھا جاتا ہے کہ آپ پرنس آغا خان کے جزیرے پر کیا کرنے گئے تھے اپنے اہل خانہ کے ساتھ؟ پرنس صاحب نے آپ کو کیوں دعوت دی تھی؟ آپ کے دوست ہیں وہ؟ ان کا کوئی کاروباری مفاد ہو سکتا ہے اس میں۔ اس دورے کے اخراجات کیا حکومتی خزانے سے ادا کیے گئے؟ کیا تحائف وغیرہ بھی ملے تھے؟ ملے تھے تو ان کی مالیت کے بارے میں فوری مطلع کیوں نہیں کیا؟
بے چارے وزیر اعظم اپنی سی وضاحت پیش کرتے ہیں اور پھر بغلیں وغیرہ جھانکنے کی کوشش کرتے ہیں مگر تھری پیس سوٹ پہن رکھا ہے۔ بغلوں تک نگاہ کی رسائی بھی عملی طور پر ممکن نہیں اس لیے محض معذرت سے کام چلاتے ہیں۔
یہیں پر بس نہیں پھر سے طلبی ہوتی ہے کہ جناب! طلبا کو امدادی رقوم فراہم کرنے کا کام فلاں غیرسرکاری تنظیم کو کیوں دیا؟ اس سے تو آپ کی اہلیہ کی کسی طرح کی وابستگی رہی ہے۔
تنبیہ سن کر معذرت سے پہلے بے چاروں نے پھر سے بغلیں جھانکی ہوں گی۔ ٹی شرٹ پہنی ہوگی تو اس بار ضرور کامیاب ہو گئے ہوں گے۔ شاید۔
آپ ہی بتائیے ایسا سلوک کر سکتا ہے کوئی نام نہاد تیسری دنیا کے کسی مقروض ترین ملک کے سربراہ کے ساتھ بھی؟ اور وہ بھی کوئی ”مقتدر“ ادارہ نہیں، بس اخراجات پر نظر رکھنے پر مامور ادارے کا عملہ۔ یہ ٹھہرے ایک پہلی دنیا کے ترقی یافتہ ملک کے منتخب وزیر اعظم۔ مگر ذرا بے بسی دیکھیے قانون اور ضوابط کے سامنے۔ یہ کوئی بات ہوئی بھلا؟ کچھ رعب شعب ہی نہیں۔ میں نے کہا نا بھلے مانس ہیں۔ آپ حزب اختلاف کی باتوں پر کان نہ دھریں اور آگے پڑھیں۔
تو کہنے کو حجامت توان کی ہوتی ہی رہتی ہے مگر اب کے تو لوگوں نے طوفان ہی کھڑا کر دیا، جیسے چائے کی پیالی میں انقلاب بپا کیا جاتا تھا اب سوشل میڈیا پر ابال سا اٹھا کرتا ہے۔
بات اتنی سی تھی کہ ہمارے وزیر اعظم صاحب نے اپنے بال کٹوائے تھے یعنی حجامت بنوائی تھی اور اس بار نائی ہی سے بنوائی تھی، کسی احتسابی ادارے سے ہرگز نہیں۔ بس بال ذرا چھوٹے کٹ گئے یا کٹوا لیے۔ یار لوگوں نے اسی بات کو لے لیا کہ صاحب اپنا ہیئر سٹائل کیوں بدل لیا؟ اور یہ کیسے بال بنوا لیے؟
خبر ایسے سامنے آئی کہ بال کٹوانے کے بعد وہ شریف آدمی اپنی دن کی مصروفیات کے پہلے پڑاؤ میں ایک ڈے کیئر سنٹر پہنچے جہاں انہوں نے ماحولیات کی اہمیت پر ننھے ننھے بچوں سے باتیں کرنا تھیں اور کیں بھی مگر صحافی حضرات کی توجہ ماحولیات کے عالمی مسئلہ سے زیادہ ٹروڈو صاحب کے نو تراشیدہ بالوں پر مرکوز تھی۔ تصویر اتری اور سوشل میڈیا پر چڑھ گئی اور ان کے نئے ہیئر سٹائل نے جیسے ہل چل سی مچا دی۔ کوئی ٹویٹر کی وساطت سے اس ہیر سٹائل کو تمسخر کا نشانہ بنا رہا ہے اور کوئی فیس بک کے وسیلہ سے وزیر اعظم کی گت (اس لفظ میں حرف ’گ‘ کو زبر سے پڑھا جائے۔
ویسے پنجابی والے پیش سے بھی پڑھ لیں تو کچھ نہ کچھ مفہوم ضرور دے گا) بنا رہا ہے۔ کوئی کاغذ پر کارٹون بنا کر جی خوش کر رہا ہے اور کوئی ’میم‘ میں ڈھال کر متحرک شرارت۔ ایک خاتون نے مختلف شخصیات کے ہیئر سٹائلز کے ساتھ تقابلی جائزہ تک لکھ مارا۔ بہرحال جتنے سوشل میڈیا اکاؤنٹس، اتنی ہی باتیں۔ ایک اخبار نے تو کووڈ 19 کے آغاز سے موجودہ ہیئر کٹ تک وزیر اعظم کے بالوں کی باتصویر کھال اتاری کہ، وبا کے ابتدائی دنوں میں بال درمیانے سائز کے تھے اور چہرہ شیو کیا ہوا تھا۔
چھ ماہ بعد بال لمبے اور چہرے پر ’گوٹی‘ داڑھی اور پھر ایک سال ہونے پر بال اور بھی لانبے ( ’لانبے‘ چونکہ ہجوں کی تعداد اور تلفظ دونوں میں ’لمبے‘ سے لمبا ہے اس لیے ’لانبے‘ ) اور چہرے پر داڑھی نمایاں۔ اس پر بعض مبصروں نے مسلمانوں کی جانب جھکاؤ یا ان کی ہمدردیاں جیتنے کی سعی کی بات بھی کی۔ اور پھر جیسے جیسے وائرس کمزور پڑتا گیا ہمارے وزیراعظم کے بال بھی سنورتے گئے۔ اور اب بقول شخصے جم کیری کا ’ڈم‘ سٹائل۔
۔
”مجھے سمجھ نہیں آتی کہ آخر آپ کا مسئلہ کیا ہے؟ ووٹ بھی آپ انہی کو دیتے ہیں اور کالم بھی انہی کے خلاف!“ بیگم نے میرا کالم یہاں تک پڑھتے ہی احتسابی ادارے کی ذمہ داریاں رضاکارانہ طور پر سنبھال لی تھیں۔
”میرے چاہنے کو چھوڑیں۔ آپ مجھے یہ بتائیں کہ آخر ٹروڈو صاحب کیا چاہتے ہیں؟ آئے دن کوئی نیا ہیئر سٹائل، نیا انداز۔ مانا ہینڈ سم وغیرہ ہیں۔ ٹھیک ہے۔ ہوا کریں۔ اور مجھے قدامت پسندوں کے مقابلے میں ان کی سیاسی حکمت عملی بھی بری نہیں لگتی کہ بائیں اور دائیں بازو کے انتہائی سیاسی کناروں کے بیچ بیچ چلتے ہیں۔“
”یہ آپ تعریف کر رہے ہیں یا تنقید؟“ بیگم تنک کر بولی تھیں۔
”یہ تو میں نہیں جانتا۔ مگر ہاں رویے میں لچک اچھی بات ہی ہے۔ ثبات ایک تغیر کو ہے زمانے میں۔ اسی سوچ کے تحت بال وال بھی ترشواتے رہتے ہیں۔ نہیں کیا؟“
”مجھے نہیں لگتا انہوں نے اس ضمن میں اتنا سوچا ہو گا جتنا آپ کے تخیل نے اس کا مطلب نکال لیا۔ مجھے تو لگتا یہ ہے کہ آپ کی یہ بحث ماند پڑنے تک ان کے بال کوئی اور رخ اختیار کرچکے ہوں گے۔ آپ کو اپنے بھائی جان کا ہیئر سٹائل شاید یاد نہیں۔ پرانی تصویروں میں دیکھ لیجیے۔ وحید مراد لگتے ہیں۔“ اب بیگم مسکرا رہی تھیں۔
”بھئی، ہمارے بچپن سے لڑکپن تک اداکار وحید مراد کا ہیر سٹائل ہی ’ہاٹ‘ سمجھا جاتا رہا۔ لڑکپن کی سرحد پار کرتے کرتے سرحد پار کی فلمیں بھی پاکستان میں دستیاب ہونے لگی تھیں۔ سو، جہاں خواتین اور لڑکیاں بالی وڈ کی اداکاراؤں کی زلف ہائے گرہ گیر کی اسیر ہوئیں وہاں کالج کے لڑکے امیتابھ بچن اور راجیش کھنہ سٹائل پر جان دینے لگے جن کے رنگین پوسٹر ’ہیئر سیلون‘ کی دیواروں پر آویزاں ہوتے تھے۔
”میں تو یہ پوچھ رہی تھی کہ ہمارے ٹروڈو صاحب کے نئے ہیئر سٹائل سے مسئلہ کیا ہے آپ کو؟“ بیگم ہمیں راہ راست پر لانے پر تلی ہوئی تھیں۔
”محترمہ، اگر ان کے دیکھا دیکھی دیگر لوگوں نے بھی اسی انداز میں بال کٹوانا شروع کر دیے تو کیا ہو گا؟“ میں نے وضاحت کی۔
”یہاں اس طرح کی شخصیت پرستی نہیں ہوتی۔ جیسی پاکستان میں ہوتی ہے کہ بس اندھا دھند تقلید کرتے جاؤ اپنے سیاسی لیڈر کی۔“ بیگم بولیں
”پاکستان میں بھی کچھ ایسی اندھی تقلید نہیں ہوتی کم از کم آرائش گیسو کے حوالے سے تو بالکل بھی نہیں۔ اب نون لیگ کے حامی لاکھ نعرہ بازی کریں اپنے لیڈر کو شیر ثابت کرنے کی مگر اس کا سا ہیئر سٹائل کون اپنانا چاہے گا؟ میرا مطلب ہے شریف سٹائل۔ گنج گراں مایہ“
”دیکھئے، آپ ٹروڈو نوازی میں حد سے بڑھ رہے ہیں۔ ہم پاکستانی اپنے لیڈروں کے حوالے سے بہت حساس واقع ہوئے ہیں۔ ان کی ہتک کو اپنی ذاتی ہتک سمجھتے ہیں۔ یہ خیال رہے۔“
”آپ کو بھی خیال رہے کہ آپ اب صرف پاکستانی نہیں ر ہیں۔ دوہری شہریت جو رکھتی ہیں۔ وہاں لوگ زر مبادلہ بھیجنے والے تارکین وطن کو بھگوڑے اور غیرملکی تصور کرتے ہیں اور انہیں کسی بات میں بولنے کا اور حق رائے دہی کا حق دار بھی نہیں سمجھتے۔ ویسے کتنی بار ووٹ دیا ہے آپ نے پاکستانی انتخابات میں جب سے کینیڈا آئی ہیں؟“
”وہاں سبھی لوگ ایسا نہیں سوچتے۔ جو سوچتے ہیں سوچتے رہیں۔“ بیگم کچھ سننے کو تیا ر نہیں تھیں۔
اچھا، یہ بتائیں کہ کہ وہاں سیاسی کارکنان اپنے محبوب رہنما کا ہیئر سٹائل اپنانے میں متامل کیوں ہیں؟ میں نے شرارت سے بات بدل دی۔
”مجھے نہیں پتہ“ ۔ وہ خفا سی ہو رہی تھیں۔
”آپ کو نہیں لگتا کہ وطن عزیز میں فضائی آلودگی کی صورت حال، غیرمعیاری خوراک اور نقلی ادویہ کے سبب ویسے بھی مصطفے ٰ ٹنڈ سٹائل ہی مشہور ہونے والا ہے وہاں۔ یاد ہے آپ کو پاکستانی فلموں کا وہ ولن؟“
”مجھے سمجھ نہیں آتی اس سب سے آپ آخر ثابت کیا کرنا چاہتے ہیں؟ آپ کی پرابلم کیا ہے؟ آپ کیجئے ریسرچ دنیا کے مشہور ہیئر سٹائلز پر۔ اس کی تاریخ اور اہمیت اور اثرات پر بلکہ میں تو کہتی ہوں بے شک ٹروڈو صاحب کے نئے ہیئر سٹائل پر تو ایک آدھ نظم بھی لکھ ماریے اور سوشل میڈیا پر ڈال کر مشہور ہو جائیے۔ آخر آپ کی بھی کوئی خواہش تو پوری ہونی چاہیے۔“ بیگم کا حملہ اس بار خاصا زوردار تھا
”بحث مباحثے سے قطع نظر، ویسے بیگم، میں سوچتا ہوں کہ ایک عمدہ اور لائق توجہ ہیئر سٹائل اپنانا کوئی ایسا مشکل کام بھی نہیں۔ بس ایک اچھا سا، مہنگا سا، ہنر مند سا ہیئر سٹائلسٹ یا عرف عام میں حجام ہی تو درکار ہو گا اور کیا۔“
”آپ اپنی جذباتیت میں شاید بھول رہے ہیں کہ بالوں کی لائق توجہ آرائش کے لیے ایک چیز اور بھی درکار ہوتی ہے۔“
”وہ کیا؟“
”بال“ ۔ بیگم نے کہا۔
اور میں نے جلدی سے ٹوپی پہن لی۔
اب خدارا یہ نہ پوچھیے گا کہ کیوں؟




