مژگاں تو کھول شہر کو سیلاب لے گیا


کن نیندوں اب تو سوتی ہے اے چشم گریہ ناک
مژگاں تو کھول شہر کو سیلاب لے گیا۔

میر تقی میر نے دل پر جو بیتی اس سے بے حال ہو کر آنسو بہانے کو ایک سیلاب سے تشبیہ دی کہ میری چشم گریہ ناک تو آنسو بہاتے بہاتے سو گئی اور تیرے آنسوؤں نے جو سیلاب بپا کیا ہے اس میں پورا شہر ڈوب گیا ہے۔

میر کا یہ شعر ان کی حساسیت اور دردمندی کو ظاہر کر رہا ہے کہ انہوں نے آنسوؤں کے علامتی سیلاب میں شہر کے ڈوب جانے کی بات کر دی اور اس بات پر شرمندہ ہو رہے تھے کہ ان آنسوؤں نے شہر ڈبو دیا۔ ادھر ہمارے مقتدرین اور سیاستدان ہیں سیلاب میں انسانی المیوں کی داستانیں رقم ہو رہی ہیں۔ ہزاروں لوگ بے گھر ہو گئے، مویشی اور گھر کا ساز و سامان پانی میں بہہ گیا، فصلیں تباہ ہو گئیں، سینکڑوں جانیں چلی گئیں مگر مژگاں (پلکیں ) کھولنے کے لیے کوئی تیار نہیں۔ بلند و بالا

ایوانوں اور گھروں کے سنہری دروازوں والے شاید قوت سماعت سے محروم ہیں اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ ہزار خندقوں اور فصیلوں کے پیچھے محفوظ ہیں۔ بستیاں تو غریبوں کی غرقاب ہو رہی ہیں اور تند و تیز دھارے غریبوں کے ہی لاشے اچھال رہے ہیں۔ ڈیموں کے بند ٹوٹ رہے ہیں، شہر کے شہر، دیہات کے دیہات، پانی کی دبیز تہوں میں کئی مقامات پر یوں چھپ گئے جیسے وہاں ہنستی بستی بستیاں کبھی وجود میں ہی نہیں آئی تھیں۔

جنوبی پنجاب بالخصوص ڈیرہ غازی خان اور راجن پور میں لوگ بے گھر ہو گئے ہیں۔ خیبر پختون خواہ کے لوگ بھی سیلاب سے متاثر امداد کے منتظر ہیں۔ بلوچستان میں سیلابی ریلوں نے تباہی مچا دی ہے۔ کراچی کی بارشوں نے شہریوں کی زندگی اجیرن کر دی ہے۔ بلوچستان کو سندھ سے ملانے والی آر سی ڈی شاہراہ سیلاب سے متاثر ہوئی ہے لسبیلہ میں برساتی نالوں پر قائم تین برج بہہ جانے سے وسیع علاقہ زیر آب آ گیا ہے۔ اسی طرح کیچ، گوادر، خضدار اور جھل مگسی سمیت کئی اضلاع میں صورتحال تشویشناک ہے۔

سوشل میڈیا پر جو وڈیوز گردش کر رہی ہیں انہیں دیکھ کر دل دہل جاتا ہے۔ بد قسمتی سے مین سٹریم میڈیا کا سارا فوکس سیاسی کشمکش اور سیاسی معاملات پر ہے جس کے باعث سیلابی علاقوں کی اصل صورتحال نہ عوام کے سامنے آ سکی ہے اور نہ ہی اداروں کے سامنے جس کی وجہ سے سیلاب متاثرین کے بارے میں فیصلے بر وقت نہ ہوئے اور نقصان کا حجم بڑھتا چلا گیا۔

قدرتی آفات سے نمٹنے کے لئے پاکستان میں ایک ادارہ ”این ڈی ایم اے“ بھی ہے مگر وہ کہیں دکھائی نہ دیا۔ البتہ سیلاب کی تباہ کاری سے ہونے والے نقصانات کے اعداد و شمار اس نے جاری کر دیے ہیں۔ این ڈی ایم اے کے مطابق 30 جولائی تک ملک بھر میں بارشوں سے ہونے والے حادثات سے اموات کی تعداد 419 تک پہنچ چکی ہے۔ اس میں 74 خواتین، 168 بچے اور 177 مرد شامل ہیں۔ سب سے زیادہ اموات بلوچستان میں ہوئیں جہاں کم سے کم 120 لوگ ہلاک ہوئے جن میں 42 بچے، 32 خواتین اور 46 مرد ہیں۔

پنجاب میں ایک شخص کی ہلاکت کی تصدیق ہوئی۔ پلوں، روڈوں اور دیگر انفراسٹرکچر کو بھی خاصا نقصان ہوا ہے جس میں مجموعی طور پر 997 کلومیٹر روڈ، 61 پل، 34، 094 گھر اور 24، 420 مال مویشیوں کو نقصان پہنچا ہے۔ بلوچستان کے 34 اضلاع متاثر ہوئے ہیں، بعض مقامات پر سیلاب کے پانی سے بچنے کے لیے لوگ درختوں پر چڑھے ہوئے امداد کے منتظر ہیں۔ کوئیک رسپانس کے وعدے کیے گئے مگر عملاً ایسا نہیں ہوا۔ کراچی شہر میں گلیاں اور سڑکیں سمندر بن گئیں اور لوگ گھر کے تاریک جزیروں میں مقید ہیں جہاں بجلی تھا نہ پانی۔

اور موبائل فون بند۔ یوں ”گڈ گورننس“ کے مظاہرے دیکھ کر مکین حیران ہوتے رہے۔ ایک صاحب نے اپنی ٹویٹ میں اس کا خلاصہ یوں بیان کیا۔ ”آسمان دیکھو تو دل جھوم جائے، روڈ دیکھو تو دماغ گھوم جائے“ اس بے بسی کے عالم میں حکومت اور سیاسی جماعتیں منظر پر دکھائی نہیں دے رہیں۔ تحریک انصاف کے پاس لیہ کی دونوں، راجن پور کی تینوں اور ڈیرہ غازی خان سے قومی اسمبلی کی چاروں نشستیں ہیں مگر منتخب ”

عوامی ”نمایندے کہیں دکھائی نہیں دے رہے نہ سابق وزیر اعلیٰ بزدار نظر آ رہے ہیں۔ ڈیرہ غازی خان سے صدر پاکستان، نگران وزیراعظم، گورنرز، وزرائے اعلیٰ پنجاب اور دیگر وزراء بھی رہے اور اب بھی ہیں مگر وہاں کے مکین بے یار و مددگار کسی کی مدد کے انتظار میں ہیں۔ یہی عالم بلوچستان کا ہے۔ خیبر پختون خواہ میں حکومتی ادارے حرکت میں اب تک نظر نہیں آئے بلوچستان کے بعض علاقوں کا وزیر اعظم نے فضائی جائزہ لیا ہے مگر زمینی حالات اس سے کہاں درست طور پر معلوم ہوتے ہیں۔

سوال یہ ہے کہ جو کروڑوں روپے ہیلی کاپٹر کی پروازوں پر اڑا دیے جاتے ہیں وہ اگر ان مصیبت زدہ لوگوں کی امداد کے لیے خرچ ہوں تو مصیبت زدگان کی حالت زار کا کچھ مداوا ہو سکتا ہے۔ ادارے صرف“ الرٹ ”جاری کر کے ذمہ داریوں سے فارغ ہو جاتے ہیں۔ یہی عالم این ڈی ایم اے کا ہے کہ صرف اعداد و شمار دے دیے جاتے ہیں اللہ اللہ خیر سلا۔ بڑی سے بڑی قیامت بھی ہمارے حکمرانوں اور اداروں کو مژگاں کھولنے پر مجبور نہیں کر سکتی۔


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments