حبیب جالب کی یاد میں ایک شام!


وقت کے آمروں کو للکارنے والی ایک توانا آواز اور شاعر عوام حبیب جالب کی انقلابی شاعری آج بھی دلوں میں تازہ و معطر ہے حبیب جالب نے پندرہ سال کی ہی عمر میں مشق سخن کی ابتدا کر دی تھی جالب متوسط طبقے سے تعلق رکھتے تھے اور ایک عام آدمی کی طرح سوچتے تھے محنت کش طبقہ کے ہمنوا تھے یہی وجہ تھی وہ سماج کے ہر پہلو سے لڑے جس میں آمریت کا رنگ جھلکتا تھا۔ انہوں نے جو دیکھا اور محسوس کیا نتائج کی پرواہ کیے بغیر اشعار میں ڈھال دیا۔

حبیب جالب کی یاد میں میرے آبائی شہر حافظ آباد میں چند دن قبل ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن کی جانب سے ایک شام منائی گئی تقریب میں خصوصی طور پر حبیب جالب کی بیٹی طاہرہ حبیب جالب ان کے بیٹے اور ان کی پوتی شریک ہوئیں۔ حافظ آباد سے تعلق رکھنے والے پاکستان بار کونسل کے سینئر ممبر عابد ساقی ایڈوکیٹ ’پاکستان کی پہلی خاتون صدر ڈسٹرکٹ بار کا اعزاز اپنے نام کرنے والی خالدہ شاہد ایڈوکیٹ‘ سیکرٹری بار ہارون ہنجرا ضلع بھر سے وکلاء ’شعراء‘ ادیب ’ڈاکٹرز‘ ماہر تعلیم ’صحافی اور سماجی شخصیات بھی اس تقریب میں شریک تھیں۔

تقریب کی نقابت کی ذمہ داری ترقی پسند ممتاز بزرگ قانون دان پی ایم صفدر کھرل نے تندہی سے نبھائی حبیب جالب کا کلام جہاں اس تقریب کا محور رہا وہیں مقررین نے حبیب جالب کی زندگی کے مختلف پہلوؤں کا احاطہ کرتے ہوئے حکومت سے مطالبہ کیا کہ حبیب جالب کی شاعری کو نصاب کا حصہ بنایا جائے تاکہ آنے والی نسل حبیب جالب کی شاعری سے استفادہ کر سکے۔ یقیناً اس انفرادیت کی حامل تقریب کا اہتمام قابل ستائش اور قابل تقلید عمل ہے اور ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن حافظ آباد کے اس صد قابل تحسین اقدام سے حاضرین نے حبیب جالب کی طرز زندگی اور ان کے کلام کی اصل مقصدیت سے ضرور استفادہ کیا ہو گا۔

پی ایم صفدر کھرل ایڈوکیٹ جیسی متحرک شخصیات کا ہی یہ خاصہ ہے جنہوں نے حبیب جالب کے کلام کو اس تقریب کا اہتمام کر کے جلا بخشی اور میں سمجھتا ہوں مقررین کا حبیب جالب کی شاعری کو نصاب کا حصہ بنانے کا مطالبہ وقت کی ضرورت ہے اور حکومت کو چاہیے ہے کہ وہ سنجیدگی کے ساتھ حبیب جالب کی شاعری کو نصاب کا حصہ بنا کر نسل نو کی درست سمت کا تعین کرے۔ نسل نو کو حبیب جالب جیسے شاعر سے متعارف کروانے اور ان کی شاعری سے استفادہ کرنے کے لئے ایسی تقریبات کے تسلسل کو قائم رکھنے کی اشد ضرورت ہے اور یہ تقریبات صرف یہاں تک محدود رکھنے کی ضرورت نہیں کیونکہ ایسے پروگرامز کی مقصدیت بڑی واضح ہے حکومت کو بھی چاہیے کہ اس عمل کو تقویت دے اور حکومتی سطح پر ایسے پروگرامز ترتیب دے جس سے نسل نو کو ایسی انقلابی شخصیات کی تاریخٰی حیثیت سے آگاہی ہو سکے۔

المیہ ہے کہ ہم ایک ایسی ان دیکھی دوڑ میں شامل ہو چکے ہیں جہاں حبیب جالب جیسی انقلابی شخصیات اور ان کی درس سے جڑی طرز زندگی آنکھوں سے اوجھل ہو چکی ہے۔ حبیب جالب کی شخصیت کا ہر پہلو کا درس یہی ہے کہ اللہ تعالی نے بشر خاکی کو فطرتا ایک آزاد حیثیت میں پیدا فرمایا ہے اور انسان کی فطرت کا بھی خاصہ ہے وہ آزاد رہنے کی شدید تڑپ اپنے اندر رکھتا ہے حبیب جالب کی پوری زندگی کا احاطہ کر لیں ان کی جدوجہد آمرانہ کوکھ سے جنم لینے والی آمریت کے خلاف تھی۔

جب حبیب جالب آزادی کے بعد ملک کے پہلے دارالخلافہ روشنیوں کے شہر کراچی میں مقیم ہوئے اور یہیں انہوں نے ممتاز کسان راہنما حیدر بخش جتوئی کی سندھ ہاری تحریک میں مختصر عرصہ کے لئے کام کیا اور یہی وہ وقت تھا جب حبیب جالب نے طبقاتی شعور کے زینہ پر قدم رکھا اور انہوں نے معاشرہ میں ہونے والی نا انصافیوں کو اپنی نظموں کا حصہ بنایا۔ ایوب خان اور یحییٰ کے دور آمریت میں اسی طبقاتی شعور کو اپنی نظموں کے ذریعے شعور اجاگر کرنے پر متعدد بار پابند سلاسل کی صعوبتوں سے دوچار ہونا پڑا۔

حبیب جالب کو 1960 ء کے عشرے میں جب پابند سلاسل کیا گیا تو انہوں نے‘ سر مقتل ’کے نام سے کچھ اشعار لکھے جو حکومت وقت نے ضبط کر لئے تھے لیکن انہوں نے ان نامساعد حالات میں بھی لکھنا ترک نہیں کیا۔ حبیب جالب کی شاعری نے جبر سے جڑے اقتدار کو سربازار بے نقاب کیا انہوں نے 1960 ء اور 1970 ء کے عشروں میں بہت خوبصورت شاعری کی اور اس وقت کے مارشل لاء کے خلاف بھر پور احتجاج کیا۔ 1958 ء میں جب ملک میں پہلا مارشل لاء لگا تو 1962 ء مین جنرل ایوب کے دور میں نام نہاد ستور پیش کیا گیا جس پر حبیب جالب نے‘ میں نہیں مانتا ’میں نہیں مانتا‘ نظم کہی تو اس نظم نے اس نظام کے خلاف لوگوں کو ایک نیا ولولہ دیا۔ 1970 ء میں جب انتخابات کے بعد جنرل یحییٰ نے اقتدار اکثریتی جماعت کو منتقل نہ کیا اور جواب میں جب گولیاں برسائی گئیں اس وقت برستی آگ میں حبیب جالب ہی تھے جو کہہ رہے تھے۔

محبت گولیوں سے بو رہے ہو
وطن کا چہرہ خون سے دھو رہے ہو
گماں تم کو کہ رستہ کٹ رہا ہے
یقیں مجھ کو کہ منزل کھو رہے ہو

حبیب جالب نے اس طبقاتی کشمکش میں لوگوں کے دلوں میں حریت کے ولولہ کا ایک ایسا بیج بویا دیا تھا جس سے مسند اقتدار پر براجمان حکمرانوں کے لئے ان کی شاعری ایک بڑا خطرہ تصور کی جاتی تھی۔ حبیب جالب جمہوریت کے حق میں ہمیشہ سینہ سپر رہے کسی حکمران کے سامنے اپنا سر خم کیا اور نہ ہی عوام کے مسائل اور ان پر ہونے والے مظالم سے چشم پوشی کی۔ حبیب جالب 1928 ء کو ہندوستان کے شہر ہوشیار پور میں پیدا ہوئے کسان گھرانے سے تعلق رکھنے والے حبیب جالب کو نظیر اکبر آبادی کے بعد دوسرا سب سے بڑا عوامی شاعر تصور کیا جاتا ہے۔

تقسیم ہند کے بعد پاکستان منتقل ہو گئے اور کراچی کو اپنا مسکن بنایا اور 1956 ء میں صوبائی دارالخلافہ لاہور میں مقیم ہو گئے اور لاہور کے سبزہ زار قبرستان میں مدفن ہیں معاشرتی نا انصافیوں سے متاثر ہونے والے حبیب جالب نے پوری زندگی حکمران طبقہ کے خلاف اپنا علم بلند کیے رکھا اور قید و بند کی صعوبتیں بھی ان کے عظیم مقصد کی راہ میں ریت کی دیوار ثابت ہوئی۔ عوام کی محبت اور آمریت سے نفرت کے متعدد واقعات اس بے باک انقلابی شاعر کی زندگی سے جڑے اس کی زندگی کے گوشوں کو نکھار کر اس کو حق کی دلیل پر کھڑا کرتے ہیں۔

قارئین بتایا جاتا ہے کہ ایک بار ایک ڈپٹی کمشنر نے حبیب جالب کو مشورہ دیا کہ تم ایک غریب آدمی ہو حکمرانوں کی مخالفت چھوڑ دو جس پر حبیب جالب نے برجستہ کہا کہ دیکھو ڈپٹی کمشنر تم نے زندگی میں اتنا کمایا نہیں جتنا میں نے ٹھکرایا ہے آج آمرانہ سوچ کے حامل حکمرانوں کی تاریخ درس عبرت ہے جب کہ حبیب جالب کا سچ آج بھی ببانگ دہل نقارہ خلق خدا بن کر گونج رہا ہے اللہ تعالیٰ حبیب جالب کے درجات بلند کرے :آمین


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments