خاموشی یا گفتگو: ایچ آئی وی پر آخری کہانی
23 جولائی، 2022 کو، اسلام آباد، پاکستان میں پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز میں ایچ آئی وی سینٹر کی انچارج ڈاکٹر نائلہ بشیر نے ٹویٹ کیا کہ ”جون 2022 میں 74 نئے ایچ آئی وی مریض (مرد، خواتین، بچے، مخنث) رجسٹر کیے گئے ہیں۔ 2005 سے اب تک کل 4301 مریض رجسٹرڈ ہیں“ ۔
جون 2021 میں الجزیرہ، سی ڈی سی، اور نیو یارک ٹائمز نے رپورٹ کیا کہ صوبائی وزارت صحت کے مطابق، 1500 سے زائد افراد، جن میں زیادہ تر بچے تھے، ایچ آئی وی کے مریض نکلے۔ ان میں سے زیادہ تر مریضوں نے پہلے ایچ آئی وی کے بارے میں سنا بھی نہیں تھا۔
اپریل 2020 میں، سی ڈی سی نے رپورٹ کیا کہ 1353 افراد، جن میں سے تقریباً 75 فیصد 15 سال سے کم عمر کے ہیں، سندھ میں لاڑکانہ کے ذیلی ضلع رتو ڈیرو میں ایچ آئی وی کے مریض نکلے۔
جولائی 2019 میں، رتو ڈیرو، سندھ کے آس پاس کے چھوٹے دیہاتوں میں بچوں میں ایچ آئی وی کے بڑے پیمانے پر پھیلاوٴ کی اطلاع ملی۔ نیشنل لائبریری آف میڈیسن اور این پی آر نے اطلاع دی ہے کہ 31239 افراد میں سے 930 افراد ایچ آئی وی کے لیے مثبت تھے۔ ان میں سے کچھ 763 مریض 16 سال سے کم عمر کے تھے۔
اگست 2017 میں، متعدد پاکستانی اخبارات نے رپورٹ کیا کہ پنجاب کے ضلع چنیوٹ کے قریب ایک چھوٹے سے گاؤں، بھٹی والا، میں 4500 تصادفی طور پر منتخب کیے گئے نمونوں میں سے 45 افراد ایچ آئی وی کے لیے مثبت تھے۔ مقامی سرکاری ہسپتال کے انچارج نے بھٹی والا میں ایچ آئی وی کے پھیلاؤ کی یکسر تردید کی۔
1990 اور 2010 کے درمیان، ہم ایک گاوٴں میں رہتے تھے۔ ہمارے پاس پاکستان میں بچوں کے سب سے مشہور میگزین پھول کی ماہانہ رکنیت تھی۔ میگزین کے سرورق کے ایک کونے میں ہمیشہ لکھا ہوتا ہے : ”8 سے 18 سال کی عمر کے بچوں کے لیے۔“ پھول کی آخری کہانی اس وقت کے ایڈیٹر اختر عباس لکھا کرتے تھے۔
2010 کی دہائی میں، جب پھول کا ماہانہ شمارہ آیا اس میں آخری کہانی ایچ آئی وی کے بارے میں تھی۔ مجھے اب صرف اس کی مبہم تفصیلات یاد ہیں جہاں ایک نوعمر لڑکا اپنے والدین سے پیسے چراتا ہے اور ایک خاتون کے پاس جاتا ہے، جہاں سے اسے ایچ آئی وی انفیکشن ہوجاتا ہے۔ یہ کہانی بچوں کے میگزین کے لیے ایک شاہکار تھی۔ اس میں کہیں بھی واضح طور پر جنس کا ذکر نہیں تھا۔ اور اسے صرف اک مخصوص عمر کے بچے ہی سمجھ سکتے تھے۔
ایچ آئی وی کے بارے میں وہ احتیاطی کہانی اختر عباس کی پھول میں آخری کہانی نکلی۔ انہیں میگزین کی تدوین سے ہٹا دیا گیا۔ اس سے قبل بھی انہیں بچوں کے لیے نامناسب مواد شائع کرنے کے فضول الزامات پر تنقید کا سامنا کرنا پڑا تھا حالانکہ یہ بات درست نہیں تھی۔ بچوں کے طور پر، ہمیں وہ مواد پسند تھا کیونکہ اس نے ہمیں ان مشکل معاملات کے بارے میں خبردار کیا۔ ہمارے خاندان اور ہماری کمیونٹی کے ارکان ان میں سے بہت سے مسائل کے بارے میں ناخواندہ تھے اور ہمارے گاؤں یا قریبی شہروں سے باہر کی دنیا سے ان کا بہت کم رابطہ تھا۔ پھول نے ہمیں سکھایا کہ ہم بچوں کے طور پر اپنی زندگیوں کو کس طرح چلا سکتے ہیں۔ جب پھول کا اگلا شمارہ آیا تو پچھلے شماروں کے بالکل برعکس تھا۔ ہم نے محسوس کیا کہ یہ 4 سے 8 سال کے درمیان کی عمر کے بچوں کے لیے ہے۔ ہم نے رسالہ پڑھنا چھوڑ دیا۔
پاکستان میں بچوں میں ایچ آئی وی کے پھیلاؤ کے بارے میں پڑھنا ہمیشہ مجھے پھول میں ایچ آئی وی کے بارے میں اس کہانی کی یاد دلاتا ہے۔ جب ہم چھوٹے تھے، پاکستان نے یہ حساس مسائل پر، خاص طور پر جنسی معاملات میں، ہمیشہ خاموشی کو بات چیت پر ترجیح دی۔ میں اب اپنی 30 سال کی ہوں، لیکن اس رویے کے بارے میں کچھ بھی نہیں بدلا ہے۔
چنیوٹ میں ایچ آئی وی پازیٹیو مریضوں میں سے بہت سے لوگوں نے رپورٹ کیا کہ ان کے دوستوں اور خاندان والوں نے ان کے مثبت ٹیسٹ کے بعد ان کے کردار پر سوال اٹھانا شروع کر دیے ہیں، اس حقیقت کے باوجود کہ ان میں سے زیادہ تر کیسز مبینہ طور پر انجیکشن اور شیونگ بلیڈ کے دوبارہ استعمال کے ذریعے منتقل ہوئے تھے۔ ان میں سے کچھ انفیکشن رضامندانہ اور غیر رضامندانہ جنسی ملاپ کے ذریعے پھیلے، خاص طور پر چھوٹے بچوں اور خواتین میں۔ چنیوٹ کے مقامی ہسپتال کے انچارج کا انکار پاکستانی سوچ میں اس تضاد کو نمایاں کرتا ہے : زیادہ تر لوگ جنس کے حوالے سے کسی بھی گفتگو میں شامل ہونے سے انکاری رہتے ہیں، لیکن اگر کسی بھی گفتگو جنس کا ذکر آ جائے تو وہ اس سے ہٹ کر سوچنے سے بھی قاصر رہتے ہیں۔
امکان ہے کہ اوپر دیے گئے ایچ آئی وی کے نمبر کم رپورٹ کیے گئے ہیں کیونکہ پاکستان کے لوگ ایچ آئی وی کے بارے میں بہت کم جانتے ہیں یا ان کے پاس ٹیسٹ کروانے کے لیے مالی یا طبی وسائل تک رسائی نہیں ہے۔ جب ٹیسٹ مثبت نکلیں، تو بہت سے لوگوں میں ایچ آئی وی کی بدنامی کی وجہ سے اسے چھپانے کا امکان ہوتا ہے۔
جب تک پاکستان جنسی اور جنسی صحت کے بارے میں بات کرنے پر آمادہ نہیں ہوتا تب تک لوگوں کو حساس بنانا یا ایچ آئی وی کے بارے میں آگاہی پیدا کرنا ناممکن ہے۔ یہ ہر کسی کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس بات چیت کے لیے ایک جذباتی طور پہ غیر متشدد اور محفوظ جگہ بنائیں تاکہ دور دراز دیہاتوں میں رہنے والے بھی یہ جان سکیں کہ ایچ آئی وی کے بارے میں بات کرنا یہ ثابت کرنے سے زیادہ اہم ہے کہ وہ جنسی تعلقات یا ناجائز جنسی تعلقات میں ملوث نہیں تھے۔
ایچ آئی وی کے بارے میں لکھنے کی وجہ سے اختر عباس کو بچوں کے میگزین کی تدوین سے ہٹانے سے صرف بچوں کو تکلیف پہنچی ہے۔ خاص طور ان لوگوں کو جو غیر شہری اور غیر انگریزی بولنے والی کمیونٹیز سے ہیں۔ وہ لوگ جو پھول کو بچوں کے طور پر پڑھتے تھے، جو اب بالغ ہو چکے ہیں، اور جن کے پاس پھول جیسا ایسا کوئی رسالہ نہیں ہے جو ان کے بچوں کو ایک ایسے معاشرے میں محفوظ رہنے کے بارے میں سکھائے جہاں ایچ آئی وی اور بچوں کے خلاف جنسی تشدد کے واقعات روز بروز بڑھ رہے ہیں۔
نوٹ: اس مضمون کا تھوڑا سا مختلف انگریزی ورژن پہلے دا فرائیڈے ٹائمز میں شائع ہو چکا ہے۔


