ماسٹر سٹیفن پر اچٹتی نظر


میں نے جب اسے پہلی بار دیکھا تو وہ اب سے کچھ کم جوان تھا اور کسی روسی ناول کے کردار کی امریکی پیش کش لگتا تھا۔ جو اک ہجوم اپنے ساتھ لیے ہوئے تھا اور اردو کسی نئے انداز میں بولنے کی کوشش کر رہا تھا۔ وہ ہلکے رنگ کی جینز کے ساتھ گہرے رنگ کی شرٹ اور چوڑے فریم کی عینک پہنتا تھا۔ اس کے کان بالوں سے ڈھنکے تھے اور اب کی نسبت توند کچھ نکلی تھی۔ یہ اس زمانے کی بات ہے جب وہ بزرگی سے جوانی اور میں جوانی سے نو عمری کی سرحد عبور کر رہا تھا۔ مجھ میں اور اس میں یہی ایک قدر مشترک ہے، ہم زندگی کے زمانوں کو الٹے قدموں چل رہے ہیں حالانکہ ہم پر پڑی چڑیلوں کے سائے بالکل جداگانہ ہیں۔

اس نے کچھ رسمی سوال پوچھے اور اسی بزرگی میں میرے ادبی مشاغل کو سراہا۔ پھر میں نے ”اس کا نام جپسم تھا“ کا نام سنا اور یکایک ساحر ایک مجسم شفیق کردار بن گیا۔

اردو اکادمی کی نشستوں میں وہ ایک باقاعدہ متحرک رکن کے طور پر نظر آنے لگا اور اک روز نیر مصطفی اسے ملتان آرٹس فورم کھینچ لایا جب خالد سعید نے اس مجسم کردار کو کرکٹ کا چوتھا فاسٹ باولر قرار دے ڈالا۔ اسی تیزی میں اس نے کرداروں کو کلین بولڈ کیا اور افسانوں پر افسانے پھینکتا چلا گیا۔ ان افسانوں کے بعد وہ ایک تلخ، کھردرا اور بے حس جادوگر بن کے ابھرا جو اساطیر اور حقیقت کو ساتھ ملا کر اک نئی جادوئی دنیا کا سٹیفن بننا چاہتا تھا۔

اور پھر وہی ہوا وہ اپنی اجتماعی زندگی کے ہجوم میں تخلیقی تنہائی کا خود ساختہ پنجرہ توڑ کر اکیلے لوگوں کے ہجوم کا ماسٹر شفیق بن گیا۔ وہ بظاہر ٹولیوں میں رہتا نظر آتا، مگر ان ٹولیوں میں بھی وہ خود کو کبھی منفرد اور کبھی اکیلے رکھنے کی سعی میں اجنبی لفظوں کا ریوڑ ہانکتا چلا جا رہا ہے۔ یہ اس کی زندگی کے تخلیقی موڑ کے ساتھ اک سماجی اور ذاتی بدلاؤ کا وقت تھا۔ وہ جس قدر ہجوم میں اکیلا ہے اتنا ہی خود میں کرداروں سے بھرا پڑا ہے۔ یہی وجہ ہے کب کون سا کردار اس پر حاوی ہے یہ اندازہ لگانا بے حد دشوار ہے۔

ساحر عمومی زندگی میں عام، سادہ اور معصومانہ بحثوں میں الجھا نظر آتا ہے۔ اس کے الجھنے، بگڑنے اور دوست ہو جانے کی وجوہات بھی بہت معمولی ہوتی ہیں جیسے اس کے غصہ ہونے اور ناراض ہو جانے کی۔ مگر ان عمومی اور سادہ بحثوں میں وہ اپنے اندر اک مسلسل پیچیدہ اور بے حد بکھری ہوئی منطقی سوچوں سے گھرا ہوا ہے جو اس کی گفتگو کی کروٹوں کو گاہے بہ گاہے بدلتی رہتی ہیں۔ یہی وصف اسے نئے تجربات اور نئی تعمیرات کی طرف دھکیلتا ہے، یہاں تک کہ وہ مخالف جنس کے ملبوسات کی آرائش سے اپنی خودنمائی کی انوکھی جمالیات کریدنے سے بھی گریز نہیں کرتا۔ یوں وہ انتہائی معمولی معاملات کو اپنی زندگی سے دلچسپ زاویوں میں جوڑ کر کچھ بے ضابطہ جیومیٹریکل شکلیں بنانے میں کامیاب ہو جاتا ہے، ایسی شکلیں جو کسی بھی زاویے سے بند نہیں ہوتیں۔

کبھی وہ صرف مقامی فلموں کے ساتھ ترجمہ شدہ ناول پڑھنے لگتا ہے اور کبھی مختلف زبانوں کی فلموں کو میوٹ موڈ میں سرائیکی گیتوں کے ساتھ دیکھنے میں لگا رہتا ہے۔ اس نے لفظوں کی شکلوں کو کھانا بنانے کے مصالحوں سے مماثل کر رکھا ہے۔ اسی لیے اس کے لفظوں کی ٹون ہمیشہ نمکین اور تیکھی رہتی ہے اور اس کے کھانے اضافت سے پاک۔

اس نے شاعری کا آغاز پابند شاعری سے کیا اور پھر افسانے سے ہوتا ہوا نثری نظم کی بانہوں میں جا سمٹا۔ اس لپٹنے نے اسے اپنی گرفت میں لیا اور تب نثری نظم کی حمایت میں پابند شاعری کے خلاف اس کا جہاد شروع ہوا۔ اس جہاد میں وہ اپنے خطے کا سپاہ سالار تھا۔ اس کا ثبوت یہی ہے کہ وہ اس جہاد میں شہید ہونے کا ہرگز خواہش مند نہیں تھا۔ اسی لیے اک مکمل دفاعی لشکر ترتیب دیا گیا مگر بد قسمتی، کوئی وزیر تو دور پیادہ بھی جام شہادت نوش نہ فرما سکا۔

بہت سے دوستوں نے ساحر کے اس وقت کے جنون کو پاگل پن کا نام دیا اور کچھ نقاد اس فعل کو ساحر کی خودکشی قرار دے رہے تھے۔ عین اسی لمحے اس نے اس الزام نما حقیقت کا تسلیم کیا اور ”خود کشی کا دعوت نامہ“ تقسیم کر ڈالا۔ ساحر کی فوج تو شہادت سے محروم رہی مگر مخالف فوج کے کچھ کمزور دل سپاہیوں کی بغاوت نے اک نئے لشکر کو جنم دیا جو ان دونوں فوجوں سے زیادہ طاقت ور ثابت ہوئی۔

اس سب میں ساحر کا اپنا تنقیدی فہم بھی جگہ اور وقت کے لحاظ سے بدلتا رہا۔ ایک ہی تخلیق پر اس کی گفتگو ملتان آرٹس فورم میں کچھ اور ہوتی تو ذکرین لٹریری فورم میں کچھ اور۔ اس کا ہرگز مطلب محض سامعین کو دیکھ کر کوئی مفاہمت نہیں کیونکہ ساحر تو ویسے بھی جذباتی آدمی ہے جو مفاہمت یا منافقت دونوں پر عمل پیرا ہونے کا اہل نہیں ہوتا۔ مگر وہ اپنی ذات میں مسلسل انگڑائیاں لیتی بے چین سوچوں اور بدلتے معیارات کو چھپانے سے قاصر ہے۔

اس کی ان تبدیلیوں کے دورانیے اس قدر تیز اور مضبوط ہیں کہ یہ ان کی رو میں بہتا چلا جاتا ہے۔ جہاں یہ سب پہلو ساحر کی رائے کو غیر مستقل مزاج بناتی ہیں وہیں اسے اک مسلسل ارتقا کے سفر میں غوطہ زن رکھتی ہیں۔ یہی حال کچھ اس کے مزاج کا ہے۔ جہاں وہ لکھنے اور گفتگو میں جرات مند اور بے باک پایا جاتا ہے وہیں وہ کچھ رویوں میں شرماہٹ کی لالی سے لال و لال دکھائی دیتا ہے۔ یہی وجہ ہے وہ روز مرہ کی زندگی کے بہت سے کاموں سے نہ صرف اجتناب کرتا ہے بلکہ ان سے نفرت کرتا ہے۔ وہ کسی بھی چیز سے محبت یا نفرت کی خود ساختہ وجوہات پر عمل پیرا ہے جن کی جگہ وہ آپس میں بدلنے کا عادی ہے۔ اسی لئے کبھی وہ اپنی ہی محبت کا شکار ہو جاتا ہے اور کبھی خود پر کئی سوالیہ نشان لگا کر منور آکاش کو دیکھنے لگتا ہے۔

ساحر کا کچھ رشتوں کی محبت سے زیادہ کچھ تعلقات کی نفرت زیادہ طاقت دیتی ہے۔ جہاں وہ فن سے منسلک روایتی سرمستی کا انکار کرتا ہے وہیں وہ اک پردوں سے پاک خالص انسانی فطرتی سرمستی کے دائرے میں داخل ہو جاتا ہے۔ جن دنوں اس نے کولاج 2 کے لئے نظم لکھ کر مجھ سے کچھ اعتراف کرائے وہ اسی کیفیت سے لبالب تھا اور اک ناراض غصیلے بچے کی طرح ہر چیز کا انکار کرتا تھا۔ جو ہر چیز کو اپنا جی بہلانے کے لئے استعمال کرنا چاہتا ہے۔

مئی جون کے دن تھے۔ ملتان آرٹس فورم کا اجلاس پروفیسر اکیڈمی کے صحن میں منعقد ہوا کرتا تھا۔ ساحر میرے ساتھ صدارت کی کرسی پر جلوہ افروز تھا اور میں گزشتہ اجلاس کی کارروائی پڑھنے میں مگن تھا۔ جب صاحب مضمون نے مضمون پڑھنا شروع کیا تو میں نے رجسٹر سے نظر اٹھائی، ساحر کی نظر پہلے ہی رہ رہ کر وہاں پڑ رہی تھی اور جناب صدر اثبات میں سر ہلا کر حاضرین کی گفتگو سے مکمل اکتفا کر رہے تھے۔ میں بھی کارروائی کے نوٹس میں سامنے کھلی کھڑکیوں سے آتے لفظوں کی جگہ خوب صورت نین نقش، چال ڈھال اور ترچھے عمودی زاویے کھینچنے میں لگا تھا۔ صاحب صدر بھی خوب صورت اسلوب، کھینچی ہوئی بنت، مکمل جزئیات اور سلیقے سے برتی نوک پلک سے مکمل اتفاق کر رہے تھے۔ اگلے جمعہ ساحر کی نظریں پھر سے کرسی صدارت کی متقاضی تھیں کہ سامنے کی بلڈنگ کے گرلز ہاسٹل کی کھڑکی آج بھی کھلی تھی۔

ساحر اب بھی اپنے اندر ڈرامائی عشق کی حسرت لئے پھر رہا ہے جسے وہ کئی قسطوں میں تجرباتی طور پر پورا کرنے کی کوشش کو رہا ہے۔ اس کے افسانوں بالخصوص نظموں سے اس عشق کے کئی روپ عیاں ہیں۔ وہ اپنی تخلیقات اور بظاہر رویوں میں بھلے بہت سے مابعد جدید رویوں کا حامل ہے مگر در حقیقت وہ فطرتی طور پر بہت سادہ اور معصوم سی خواہشات سے بھرا ایک ایسا انسان ہے جو سگریٹ پیتے ہوئے دھوئیں کے ساتھ اپنے خراٹے اڑا دیتا ہے۔

کچھ سال قبل جب وہ بیمار پڑا ور ہم ڈاکٹر کی تلاش میں خراماں خراماں چلتے ہسپتال تک پہنچے تھے تو یہ معمولی سی باتوں اور، روزمرہ کے مسائل میں بے بس ہو جانے والا سٹیفن مجھے جپسم کی بجائے موم کا مجسم لگا تھا جو پگھل تو رہا تھا مگر بنا کسی شور کے اپنے دکھ اور تکلیف کے ساتھ بہتے بہتے۔

یہ ایک شعلے کے جیسا ہے جو کبھی بھڑکا ہوا ہو تو اپنے اردگرد کو بھی متحرک کر دیتا ہے اور کبھی یہ اپنی برف کی قید میں اسولیٹ ہو کر خود کو حدت دینے میں مگن رہتا ہے۔

ساحر نے جہاں اپنا اک خاص لہجہ بنایا جو اس کی لکھتوں اور قرات دونوں میں ایک ہی جیسا ہے کیوں کہ اس کو پڑھتے ہوئے ایسے معلوم ہوتا ہے جیسے آپ اسے سن رہے ہوں۔ وہیں یہ کچھ خاص آوازوں کا متلاشی بھی ہے۔ معلوم نہیں یہ اپنے شاگردوں سے کیسا پیش آتا ہو گا کیوں کہ استادوں کے متعلق تو اس کی رائے ہمیشہ رائے برائے رائے والی ہی پائی گئی ہے۔ ممکن ہے یہ اپنے شاگردوں کے پرچے مارک کرتے ہوئے ان کی خوش خطی یا جواب کی طوالت جو اکثر استاد ماپتے ہیں کی بجائے ان کے لفظوں اور جملوں سے بننے والی آوازوں کی مناسبت سے انہیں نمبر نوازتا ہو۔

یہ چار دوستوں میں چلتا ہوا ڈان لگتا ہے (احمد ندیم تونسوی والا ’ڈان یو آن‘ ہرگز نہیں ) جس کی وجہ اس کی دیو ہیکل جسامت اور لمبے قد کے سوا کچھ نہیں، ساحر خود ڈان ہو نہ ہو مگر اس کو بھاتے ڈان لوگ ہی ہیں۔ بھلے وہ جس بھی صنف کے ہوں، یعنی صنف نازک بھی ڈان ہی ہونی چاہیے اور اگر وہ فن کار بھی ہو تو اس کی دہشت کو دو چودہویں کے چاند تو لگ ہی جاتے ہیں۔ جنہیں چھونے کی ازلی ضد میں ماسٹر شفیق الرحمان پھر سے بیچارا سٹیفن بن کر نثری نظم کی جگہ اک نیا علم سربلند کیے ”نعرہ ہائیکو“ لگانے کو تیار ملے گا۔

 

Facebook Comments HS