میں کیوں لکھتا ہوں؟


جدید دور میں ٹیکنالوجی کی ترقی نے جہاں پہ کئی مواقع پیدا کر دیے ہیں۔ وہاں پہ اس نے نئی نسل کو ایک خطرناک صورتحال سے دوچار کر دیا ہے۔ موجودہ دور میں جو ٹیکنالوجی ہم استعمال کر رہے ہیں۔ مثلاً موبائل فون، انٹرنیٹ، میڈیا خاص طور پہ سوشل میڈیا تو آج سے کئی سالوں پہلے مطلب پرانے زمانے میں یہ ٹیکنالوجی نہیں تھی۔ پرانے زمانے میں کسی دور دراز کے دوستوں، رشتہ داروں سے بات چیت خط و کتابت کے ذریعے ہوتی تھی۔ اس طرح اس زمانے میں لوگ ملکی و غیر ملکی صورتحال سے اپنے آپ کو باخبر رکھنے کے لیے اخبار پڑھتے تھے۔

مختلف میگزین کا مطالعہ کرتے تھے۔ فلم دیکھنے کے لیے سینما ہال جاتے تھے۔ اس زمانے میں لوگ دفتری کاموں کے لیے زیادہ بندے رکھتے تھے۔ پرانے زمانے کے لوگوں کا ادب سے شوق بھی زیادہ تھا۔ اس زمانے میں لوگ شاعروں، ادیبوں، دانشوروں، کے تصانیف پڑھنے کے لیے بے تاب رہتے تھے۔ ان مصنفین کے کتابیں خریدتے تھے۔ علم و ادب سے محبت کرنے والے افراد کتابوں سے پیار کرتے تھے۔ اور خوشی سے مطلب دل سے ان کتابوں کا مطالعہ کرتے تھے۔

اس زمانے میں مصنف لکھتے تھے۔ اور خوشی سے لکھتے تھے۔ وجہ یہ تھی۔ کہ اس زمانے میں مصنف سے کوئی یہ نہ پوچھتا تھا۔ کہ تم کیوں لکھ رہے ہو۔ اور مصنف کے ذہن میں بھی یہ سوال پیدا نہیں ہوتا تھا کہ میں کیوں لکھ رہا ہوں۔ کیونکہ لوگ اس کے کتاب کے آنے کا انتظار کرتے تھے۔ لیکن آہستہ آہستہ ٹیکنالوجی نے ترقی شروع کی۔ ٹیلی فون آ گیا میدان میں پھر کمپیوٹر آ گیا اور یہ ترقی جاری تھی۔ اور جدید ٹیکنالوجی جس کو بعض لوگ نئی ٹیکنالوجی کہتے ہیں۔

میدان میں آ گئی۔ اور اس نے سب کچھ بدل کر رکھ دیا۔ اب آج کے دور میں ہر کسی کے ہاتھ میں موبائل فون ہے۔ اس ایک الیکٹرانک آلے نے سب کچھ چاہے خط و کتابت ہو یا علم و ادب سے محبت یا محنت مزدوری کے طریقے سب کچھ بدل کر دیا۔ اس ایک موبائل فون کے ذریعے لوگ ایک دوسرے کے ساتھ کمیونیکیشن بھی کر سکتے ہیں۔ آن لائن کاروبار بھی کر سکتے ہیں مطلب گھر بیٹھے پیسے بھی کما سکتے ہیں۔ فلم ڈرامہ بھی دیکھ سکتے ہیں۔ آن لائن بینک سسٹم کے ذریعے باری رقم بھی بھیج سکتے ہیں۔

کتابیں، اخبارات، میگزین، ملکی و غیر ملکی خبریں بھی دیکھ سکتے ہیں اس کے علاوہ اس ایک الیکٹرانک آلے کے ذریعے انسان بہت کچھ کر سکتا ہے۔ لیکن ان سب کے باوجود سائنس نے انسان کو بہت زیادہ سہولیات دیں کر ان کو تنہا کر دیا ہے۔ اس حوالے سے بعض دانشور کہتے ہیں۔ کہ یہ کائنات جو ہم دیکھ رہے ہیں جس میں ہزاروں لاکھوں سیارے ستارے گردش کر رہے۔ یہ ہماری بیرونی دنیا ہے۔ لیکن اس بیرونی دنیا سے بڑی کائنات ہمارے اندر ہے۔

ساں ٔنس نے انسان کو بہت سہولیات دیں کر تنہا کر دیا سماج سے اس کا رابطہ منقطع کر دیا آج کا انسان ایک بند کمرے میں بیٹھ کر سب کچھ اس کے ہاتھ میں ہوتا ہے مطلب موبائل فون کے ذریعے وہ سب کچھ کر سکتا ہے۔ کتابیں بھی پڑھ سکتا، مختلف ایپس کے ذریعے ایک دوسرے سے ویڈیو کال پہ بات بھی کر سکتا ہے۔ لیکن وہ مزہ وہ سکون نہیں ہے جو سکون خط و کتابت میں ہوتا تھا۔ یا لائبریری میں بیٹھ کر کتابیں پڑھنے میں تھا۔ ان سب سہولیات کے باوجود آج کے دور کا انسان ذہنی دباؤ کا شکار ہے مطلب نفسیاتی بیماریوں کا شکار ہے آج کے اس جدید دور میں ٹیکنالوجی نے ترقی تو کی ہے لیکن اس کے باوجود بہت سے نفسیاتی بیماریاں بھی پیدا ہوئی ہے اور بہت سے لوگ اس بیماریوں کا شکار ہے۔

اس کی وجہ یہ ہے کہ آج کے انسان کا سماج، معاشرے سے رشتہ بہت کمزور ہے پہلے مطلب پرانے زمانے میں لوگ حجروں میں بیٹھتے تھے۔ ایک دوسرے سے ملتے اپنا دکھ غم خوشی شریک کرتے تھے۔ اس سے انسان کو یہ فائدہ ہوتا تھا کہ انسان کے ذہن میں جو چیزیں جمع ہوتی تھی۔ وہ ایک دوسرے سے گفتگو کرنے سے دور ہوجاتی تھی مطلب نکال کا راستہ موجود تھا اب وہ راستہ بند ہے جس کی وجہ سے لوگ ذہنی دباؤ، بیماریوں کا شکار ہیں۔ پرانے زمانے میں ایک مصنف لکھاری کھل کر رکھتا تھا اس کے ذہن میں یہ سوال پیدا نہیں ہوتا تھا کہ میں کیوں لکھ رہا ہوں۔

آج کے دور میں ہر مصنف لکھاری سے لوگ یہ سوال کرتے ہیں کہ آپ کیوں لکھ رہے ہیں۔ اور موجودہ صورتحال کو دیکھ کر مصنف کے ذہن میں بھی یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ میں کیوں لکھ رہا ہوں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ آج کے دور میں انسان کا ادب کے ساتھ رشتہ بہت کمزور ہے۔ ہر شخص ساں ٔنس کے پیچھے بھاگتا ہے۔ کہ سب کچھ جو ہے مطلب زندگی کا اصل مزا تو ساں ٔنس میں ہے۔ آج کے دور میں بہت کم لوگ لٹریچر کو پڑھتے ہے۔ جدید ٹیکنالوجی کی وجہ سے معاشرے، سماج میں ایک بگاڑ پیدا ہوا ہے۔

ہر شخص اس جدید ٹیکنالوجی میں سکون تلاش کر رہا ہے۔ مگر وہ اسے نہیں مل رہی کیوں سکون کا تعلق دولت اور شہرت سے نہیں ہے میں نے پہلے بھی بتایا کہ دانشور کہتے ہے کہ انسان کے اندر کا کائنات باہر کے کائنات سے کافی بڑا ہے۔ اس لیے انسان کو اپنے اندر کی کائنات کو دیکھنا اور اس کا مطالعہ کرنا ضروری ہے۔ اور اصل میں یہ انسان کو خوش رکھ سکتی ہے۔

 

Facebook Comments HS