یورپ: جنت کی ٹکٹوں سے صنعتی انقلاب تک


عظیم الشان رومن سلطنت صدیوں پہلے ٹوٹ چکی ہے اور قسطنطنیہ میں موجود بازنطینی سلطنت بھی سیاسی اور انتظامی طور پر کمزور ہے۔ ادھر جرمنی کے کچھ علاقوں میں ہولی رومن ایمپائر قائم ہو چکی ہے۔ لیکن یورپ میں ابھی بھی ایک ایسی طاقت موجود ہے جس کا یورپ کے سیاسی اور بالخصوص مذہبی معاملات پر کافی گہرا اثر و رسوخ ہے۔ اور وہ طاقت موجود اٹلی کے شہر روم میں موجود مرکزی کیتھولک چرچ ہے، جو کے پورے یورپ میں موجود چرچوں اور پادریوں کے ذریعے مذہبی اور سیاسی معاملات پر گہرا کنٹرول رکھتا ہے۔ یہ قرون وسطیٰ کا یورپ ہے۔

گیارہویں اور بارہویں صدی عیسوی کے دوران کلیسا کے ابھارنے پر یورپ کے مختلف حکمرانوں نے مسلمانوں سے مقدس شہر بیت المقدس کا قبضہ لینے کے لئے دو سو سال تک مختلف اوقات میں جنگیں لڑیں۔ ان مقدس جنگوں میں کئی شکستوں کے باعث یورپ میں معاشی، سیاسی اور مذہبی افراتفری اور غیر یقینی کی صورتحال پیدا ہو گئی۔ ان حالات کی وجہ سے چرچ کا اثر و رسوخ کچھ ڈگمگا رہا تھا۔ پوپ نے اس صورتحال میں عیسائی عقیدے میں موجود ایک شق کا غلط مگر بھرپور فائدہ اٹھایا۔ جس کی وجہ سے چرچ نے مزید تین سے چار صدیوں تک اپنا کنٹرول جاری رکھا۔

عیسائی عقیدے کے مطابق مرنے سے پہلے توبہ کرنے والے لوگوں کی روح ایک عارضی جگہ چلی جاتے ہیں جسے پرگیٹوری کہا جاتا ہے۔ وہاں پر گناہوں کی نسبت سے تھوڑی بہت سزا کے بعد روحیں جنت میں داخل ہو جاتی ہیں۔ پوپ نے اس بات کو پھیلاوا دیا کہ اس کے پاس لوگوں کے گناہ معاف کرنے اور روحوں کو پرگیٹوری سے جنت میں داخل کرنے کا اختیار ہے۔ چرچ نے خدا کے نام پر لوگوں سے پیسے لینا شروع کر دیے۔ لوگوں کو کہا گیا کہ جتنے زیادہ پیسے دیں گے اتنی جلدی پرگیٹوری سے جنت میں داخل ہو جائیں گے۔ یہ آفر زندہ اور مردہ دونوں کے لیے تھی۔

امیر لوگوں نے اپنے اور اپنے فوت شدہ رشتہ داروں اور دوستوں کے گناہ معاف کروانے کے لیے دھڑا دھڑ چرچ کو پیسے دینے شروع کر دیے۔ پیسوں کے بدلے پادری انہیں ایک پرچی دیتے جس کو انڈلجنس کہا جاتا تھا۔ یہ پرچی انہیں اس بات کی گارنٹی تھی کہ ان کی روح پرگیٹوری سے جنت میں داخل ہو سکتی ہیں۔ ان پرچیوں کو جنت کی پرچی یا جنت کی ٹکٹ کہا جانے لگا۔ حالانکہ یہ بات اس عیسائی عقیدے کے، کہ ایک اونٹ تو سوئی کے سوراخ سے گزر سکتا ہے لیکن ایک امیر آدمی کا جنت میں داخل ہونا اس سے زیادہ مشکل ہے، کے بالکل برعکس تھی۔ چونکہ پڑھنے، لکھنے اور بولنے پر پابندی تھی تو کوئی اس کے خلاف آواز نہیں اٹھا سکا۔ انجیل مقدس ابھی بھی لاطینی زبان میں تھی اور پادریوں کے علاوہ عام آدمی کا اسے پڑھنا اور سمجھنا بہت مشکل تھا۔ تو صدیوں تک یہ گورکھ دھندا ایسے ہی چلتا رہا۔

آخر کار ایک آواز اٹھی۔ یہ آواز کہیں باہر سے نہیں بلکہ چرچ کے اندر سے اٹھی اور یہ آواز تھی مارٹن لوتھر کنگ کی۔ مارٹن لوتھر کنگ جرمنی کے ایک دور افتادہ علاقے میں پیدا ہوئے، بچپن سے ہی مذہبی تعلیم حاصل کرنے کا شوق تھا۔ والد کی مخالفت کے باعث انہوں نے مذہب کی تعلیم کو ترجیح دیں۔ ایک مرتبہ انہیں کسی مذہبی کام سے روم جانے کا اتفاق ہوا، روم میں انہوں نے جب عظیم الشان کلیسا، چرچ اور ساتھ میں چرچ کے نام پر لیے گئے پیسوں سے بنی پادریوں کی عظیم الشان رہائش گاہیں دیکھیں تو وہ دنگ رہ گئے۔ مذہب کے نام پر چلتے صدیوں سے اس فراڈ کا پردہ فاش ہو چکا تھا۔

جب وہ واپس جرمنی اپنے علاقے میں گئے تو وہاں انہوں نے 95 نکات کی ایک دستاویز تیار کی۔ اس دستاویز کو انہوں نے اپنے علاقے کے چرچ کے مرکزی دروازے پر لٹکا دیا۔ اس دستاویز میں رومن کیتھولک چرچ کے اس گورکھ دھندے کا پردہ فاش کیا گیا تھا۔ انہوں نے لوگوں کو اس بات سے باور کروایا کہ آپ سے مذہب کے نام پر لے جانے والے پیسے اصل میں روم میں موجود پادریوں کی جیبوں میں جا رہے ہیں۔ مذہب کے نام پر جاری گورکھ دھندے کا پردہ فاش کرتے ہی بہت سارے لوگوں نے ان کا ساتھ دینا شروع کر دیا۔

بڑی تعداد میں لوگوں کو ان کے پیچھے کھڑا دیکھ کر کچھ سیاسی قوتوں نے بھی ان کی پشت پناہی شروع کر دیا۔ اب کلیسا کو خطرے کا ادراک ہو چکا تھا۔ پادریوں نے پہلے انہیں لالچ دے کر اور پھر مذہب کی گستاخی اور مقدموں سے ڈرا کر اس کام سے روکنے کی کوشش کی، مگر وہ ناکام رہے۔ اسی دوران ان کے خلاف مقدمہ درج ہوا اور کچھ سیاسی حکمرانوں نے پوپ کے کہنے پر ان کو گرفتاری کے لیے اعلان کر دیا۔ وہ کچھ سال کے لیے روپوش ہو گئے، اسی دوران انہوں نے بائبل کا لاطینی زبان سے جرمن زبان میں ترجمہ کیا۔ انہوں نے لوگوں کو اس بات کی تلقین کی کہ مذہب کو سمجھنے اور خدا سے تعلق بنانے کے لیے پوپ اور کلیسا کے بجائے خدا کے احکامات اور اس کی کتاب کو خود پڑھیں اور ان پر عمل کریں۔

یورپ میں تبدیلی کا آغاز ہو چکا تھا لوگوں نے پڑھنا، لکھنا، سوچنا اور سمجھنا شروع کر دیا تھا تھا۔ افلاطون، سقراط اور ارسطو کا فلسفہ اب لائبریریوں کی زینت بن چکا تھا۔ ابن رشد، بو علی سینا اور الفرابی جیسے عظیم مسلمان فلسفیوں اور سائنسدانوں کی کتابوں کا عربی اور فارسی سے جرمن، فرانسیسی اور انگریزی زبانوں میں ترجمہ شروع ہو چکا تھا۔

اٹلی میں نشاط ثانیہ کے دور کا آغاز ہو چکا تھا۔ ادھر جرمنی میں گوٹن برگ نے پرنٹنگ پریس ایجاد کر لیا تھا۔ اب فلسفے، سائنس اور ادب کی کتابوں کے ساتھ ساتھ مارٹن لوتھر کی جرمن زبان میں ترجمہ کردہ انجیل بھی بڑی تعداد میں چھپ رہیں تھی۔ 1618 اور 1648 کے دوران ہونے والی تیس سالہ جنگ کے بعد تباہ حال یورپ میں معاہدے ویسٹ فیلیا کی صورت میں قومی وطن یا نیشن اسٹیٹ کا تصور ابھرا۔

ادھر اٹلی میں گلیلیو نے اپنا فلکیات کا ایک نظریہ پیش کیا جس کے مطابق سورج زمین کے گرد نہیں بلکہ زمین سورج کے گرد حرکت کرتی ہے، یہ بات کیوں کہ مقدس کتاب کے تصور کے خلاف تھی اس لئے ان کے خلاف کافی شدید ردعمل آیا، چرچ نے ان کے خلاف مقدمہ دائر کر دیا۔

اندرونی سیاسی اور مذہبی خلفشار سے نکلنے کے بعد یورپ جب معاشی طور پر مستحکم ہوا تو مختلف یورپی ملکوں نے افریقہ اور ایشیا میں کالونیاں بنانا شروع کر دیا اور اس طرح استعماری دور کا آغاز ہوا۔ بہت ساری اقوام یورپی طاقتوں کی محکوم ہو گئیں۔ پھر ان کے وسائل کو بے دردی سے لوٹا گیا اور اور انہیں یورپ لایا گیا جہاں برطانیہ، فرانس اور جرمنی وغیرہ میں صنعتی انقلاب کا آغاز ہو چکا تھا۔ پہلے یورپ اور پھر ریاست ہائے متحدہ امریکہ میں اسٹیم انجن، ریل گاڑی، ٹیلی گرام اور گراموفون جیسی عظیم ایجادات ہوئیں۔ کارل مارکس، آدم سمیتھ اورجان لاک جیسے عظیم فلاسفر پیدا ہوئے۔ انقلاب فرانس کی صورت میں آزادی اور جمہوریت کا ایک عظیم تصور دیا گیا۔

یہ سب کچھ ممکن نہ ہو پاتا اگر لوگوں میں سوچنے سمجھنے کی آزادی جرات پیدا نہ ہوتی۔ طاعون اور چیچک جیسی بیماریوں کو خدا کا عذاب سمجھ کر لوگ بیٹھے رہتے تو شاید آج انسانیت سے اس مقام پر نہ پہنچ پاتی۔ یورپ ترقی کر کے جہاں کھڑا ہے، اس کی کئی وجوہات ہو سکتی ہیں۔ لیکن ایک وجہ ہے جس پر تمام سوچنے، سمجھنے اور تاریخ پڑھنے والے لوگ متفق ہیں وہ یہ کہ یہ مارٹن لوتھر کنگ اور اس کا انقلاب ہی تھا جو نے یورپ کو مذہبی انتہا پسندی، چرچ اور پوپ کی اجارہ داری سے نکال کر جدت کی طرف لے آیا۔

Facebook Comments HS