ارشد ندیم کا گولڈ میڈل اور ہم بحیثیت والدین
سب سے پہلے تو ارشد ندیم کے گولڈ میڈل جیتنے پہ ان سمیت ساری قوم کو دلی مبارکباد قبول ہو۔
ارشد ندیم کے گولڈ میڈل جیتنے پہ میں بہ حیثیت ایک استاد آپ سب سے ایک درخواست کرنا چاہوں گی۔ ہمیں اپنے کسی کھلاڑی کے گولڈ میڈل جیتنے پہ کتنی خوشی ہوتی ہے ناں۔ جب ملک کا جھنڈا سب سے بلند کیا جاتا ہے۔ لیکن کیا وجہ ہے کہ زیادہ تر والدین کو اسکولوں میں اپنے بچوں کے گیمز میں حصہ لینے پہ اعتراض ہوتا ہے۔
میں خود اپنے اسکول میں اسپورٹس میں تھی گھر سے بالکل اجازت نہیں ملی تھی کہ پڑھائی پہ اثر ہو گا۔ والدین سے چھپ کر اسپورٹس میں گئی اور خود سے وعدہ کیا کہ پوزیشن اور گریڈز پہ اثر نہیں آئے گا۔ ایک تو پہلے ہی گندمی رنگت اوپر سے روز دھوپ میں پریکٹس کر کر کے بالکل جھلس گئی روز امی کہتیں تھیں کہ ”دھوپ میں کیوں جاتی ہو کیا گیمز میں حصہ لیا ہے؟“
اور میں روز جھوٹ بول کر انکار کر دیتی تھی۔ تب ایک اور وعدہ خود سے کیا تھا کہ اپنے بچوں کو ایسا رکھوں گی کہ اپنی کسی خوشی کے لئے انھیں مجھ سے جھوٹ نہ بولنا پڑے۔ خیر ابو کے فوج میں ہونے کی وجہ سے ہم ایف جی اسکول میں پڑھتے تھے جس دن گیمز کی افتتاحی تقریب تھی اس میں بھی پریڈ میں حصہ لیا تھا یہ ریجنل گیمز ہوتے ہیں جس میں اندرون سندھ سے بھی ایف جی اسکول حصہ لیتے ہیں۔ خیر جناب پریڈ شروع ہوئی جیسے ہی اسٹیج قریب آیا ہم جو شوئی قسمت اسی جانب دستے کی پہلی صف میں تھے اور جی اسی او ون کرنل محسن کو اور اپنی پرنسپل مسز نور مظیر حسین کو سلیوٹ مارا ایک دم خون خشک ہو گیا کیا دیکھا کہ پہلی ہی صف میں امی ابو بھی بیٹھے تھے۔ دونوں مسکرا رہے تھے اور ہم کاٹو تو بند میں لہو نہیں کے مصداق روبوٹ بن گئے تھے۔ امی کی مسکراہٹ کہہ رہی تھی کہ ”ذرا گھر تو چلو بیٹا۔“
تقریب ختم ہوئی تو امی ابو نے پوچھا ”کون سی گیم میں ہو“ ؟ ہم نے ایک بار پھر جھوٹ بولا۔ ”ارے وہ تو بس میں پریڈ میں تھی۔ گیمز میں نہیں ہوں۔“ انھوں نے کہا ”بیٹا ہم نے تمھاری ٹیچرز سے پوچھ لیا ہے کہ تم کون کون سی گیمز میں ہو۔“ امی نے کہا ”اگر تمھاری پوزیشن نہ آئی تو پھر دیکھنا۔“ البتہ ابو نے پیار سے تھپکی دے کر کہا ”آل دی بیسٹ بیٹا۔“ پھر سب پوچھتے ہیں کہ بیٹیوں کو باپ کیوں پیارے ہوتے ہیں۔ ابو کی سپورٹ ملتے ہی ہم چوڑے ہو گئے اور جم کے گیمز کھیلیں، میڈلز جیت کر اسکول کا نام بھی روشن کیا اور ہاں امی کے لئے بھی اتنا پڑھا کہ میٹرک میں اسکول میں پہلی، سندھ میں دوسری اور پورے پاکستان اور پاکستان سے باہر تمام ایف جی اسکولوں میں سے پہلی 60 پوزیشنوں میں سے 20 ویں پوزیشن حاصل کی۔ (وظیفے سمیت)
آج اپنے دونوں بچوں کو خود کھیلوں اور دیگر غیر نصابی سرگرمیوں میں حصہ دلواتی ہوں۔ میرا بیٹا Cerebral palsy سے متاثر ہے اس کے باوجود وہ اسپیشل کھیلوں میں کئی مرتبہ میڈل حاصل کر چکا ہے۔ لیکن ایک استاد بھی ہوں میرا مشاہدہ ہے کہ جب تک بچے چھوٹے ہوتے ہیں والدین بڑی خوشی سے گیمز میں حصہ دلواتے ہیں لیکن جہاں بچے بڑی کلاسز میں جاتے ہیں والدین کو بس ان کے گریڈز کی پڑ جاتی ہے۔
دیکھئے گریڈز کے لئے فکر کرنا بہ حیثیت والدین بالکل جائز ہے لیکن اگر آپ کا بچہ گیمز کھیلنا چاہتا ہے اور آپ اس کو گریڈز کی وجہ سے نہ کھیلنے دیں تو یہ بہت زیادتی کی بات ہے۔ ساری عمر کوئی گیمز نہیں کھیل سکتا۔ ہمارے ملک میں کرکٹ اور چند مخصوص کھیلوں کے علاوہ ویسے ہی کسی کھیل کو حکومتی سطح پہ فوقیت نہیں دی جاتی۔ بچے اپنے شوق سے اپنی مدد آپ کے تحت آگے بڑھتے ہیں۔ برائے مہربانی صرف دوسروں کے گولڈ میڈل جیتنے پہ خوش ہونے کے بجائے یہ بھی سوچئے کہ اس کی جگہ آپ کا بچہ بھی یہ میڈل جیت سکتا ہے۔ امید ہے آپ لوگ اپنے بچوں کی اس سلسلے میں پذیرائی ضرور کریں گے۔


