حکایات جدید و مابعد جدید (خاک کی مہک: ڈاکٹر ناصر عباس نیئر)
ڈاکٹر ناصر عباس نیر نے باقاعدہ لکھنے کا آغاز تنقید سے کیا۔ ان کے موضوعات میں جدیدیت و مابعد جدیدیت خاص اہمیت کے حامل ہیں۔ یہ موضوعات پیچیدہ اور مشکل ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ہمارے زیادہ تر طلباء ان موضوعات سے ناآشنا ہی رہتے ہیں۔ ناصر عباس نیر صرف نقاد نہیں ہیں بلکہ آپ اورینٹل کالج، جامعہ پنجاب میں ایسوسی ایٹ پروفیسر بھی ہیں اور یہ فن خوب جانتے ہیں کہ مشکل اور پیچیدہ موضوعات کس طرح سادہ اور آسان الفاظ میں طلباء کو سمجھائے جا سکتے ہیں۔ جب ناصر عباس نیر نے تنقید سے تخلیقی میدان میں قدم رکھا تو آپ نے اپنے پہلے ہی افسانوی مجموعے ”خاک کی مہک“ میں ”حکایات جدید و مابعد جدید“ کے عنوان کے تحت مختصر کہانیاں شامل کیں۔
جو بات کہانی کی صورت میں بیان کی جائے وہ سمجھ بھی جلد آتی ہے اور تادیر اثر بھی رکھتی ہے۔
جدیدیت اور مابعد جدیدیت ایسے موضوعات ہیں کہ ان پر لکھنے بیٹھ جائیں تو بہت کچھ لکھا جاسکتا ہے لیکن اس کے لیے گہرا مطالعہ انتہائی ضروری ہے۔ ناصر عباس نیر کی کئی کتب انہی موضوعات کے تحت منظر عام پر آ چکی ہیں۔ کہانیوں پر بات کرنے سے قبل جدیدیت اور مابعد جدیدیت کو مختصراً سمجھنا ضروری ہے۔
جدیدیت کی وضاحت کرتے ہوئے ڈاکٹر منیر الزماں نیر کہتے ہیں کہ:
”جدیدیت ایک اصطلاح ہے، جس کا چلن 1960 کے بعد ہوا۔ عام طور پر جدیدیت کی تعریف تو یہ ہے کہ اپنے عہد کے مسائل یا اپنے عہد کی حسیت کو پیش کرنے کا نام ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ پس منظر میں وجودیت کی فکری تحریک ہے۔“ ۔
جدیدیت میں کسی نہ کسی نظریے کو اپنایا جاتا ہے۔ اس میں عہد کے لوگوں کے مسائل اور معاشرے کو بیان کیا جاتا ہے، لیکن مابعد جدیدیت اس سے مختلف ہے۔ اس میں کوئی بھی بات نظریہ یا بیان حتمی نہیں ہوتا۔ ہر کوئی اپنے تجربے، شعور اور علم کے تحت کسی بھی بات، نظریے یا متن کو اپنے مطابق بیان کر سکتا ہے۔ اس میں کچھ بھی متعین نہیں ہوتا۔
مابعد جدیدیت کی وضاحت کرتے ہوئے ڈاکٹر ناصر عباس نیر کہتے ہیں کہ:۔
”مابعد جدیدیت کا کوئی واحد مستند متن نہیں ہے۔ مابعد جدیدیت مرکزیت، کلیت، استناد اور اتھارٹی کے خلاف ہے۔ یہ افتراق، لا مرکزیت، اضافیت اور تکثیریت کی علم بردار ہے۔“ ۔
ڈاکٹر گوپی چند نارنگ مابعد جدیدیت کی وضاحت یوں کرتے ہیں کہ:
”مابعد جدیدیت کسی ایک وحدانی نظریے کا نام نہیں بلکہ مابعد جدیدیت کی اصطلاح احاطہ کرتی ہے مختلف بصیرتوں اور ذہنی رویوں کا، جن سب کے تہ میں بنیادی بات تخلیق کی آزادی اور معنی پر بٹھائے ہوئے پہرے یا اندرونی اور بیرونی دی ہوئی لیک یا ہدایت ناموں کو رد کرنا ہے۔ جدیدیت کے بعد کا دور مابعد جدیدیت کہلائے گا۔ لیکن اس میں جدیدیت سے انحراف بھی شامل ہے۔“ ۔
بشن سنگھ مرا نہیں تھا
”حکایات جدید و مابعد جدید“ کے تحت پہلی کہانی ”بشن سنگھ مرا نہیں تھا“ شامل ہے۔ اس میں سعادت حسن منٹو کا مشہور افسانہ ”ٹوبہ ٹیک سنگھ“ کے مرکزی کردار ”بشن سنگھ“ کو ہی مرکزی کردار بنا کر اس افسانے کو نئی سمت دی گئی ہے۔ منٹو کے افسانے میں تقسیم ہند کے وقت بشن سنگھ پاکستان اور ہندوستان کی سرحدوں کے درمیان گر کر مر جاتا ہے لیکن ناصر عباس نے مابعد جدیدیت کی مدد سے بشن سنگھ کو زندہ قرار دیا ہے۔
وہ کہتے ہیں کہ بشن سنگھ مرا نہیں تھا بلکہ بے ہوش ہوا تھا، لیکن لوگ اس کی آواز کو پہچان نا سکے۔
مصنف کہتا ہے کہ بشن سنگھ امر ہو گیا ہے اور ہمیں ہر دور میں بشن سنگھ ملیں گے۔ بشن سنگھ نے سرحد عبور کرنے سے انکار کیا جسے لوگ پاگل کہتے ہیں۔ اتنے بڑے فیصلے کے لئے پاگل بن جانا ضروری تھا۔ ساٹھ سال کے بعد نوجوان آ کر بشن سنگھ کو جگاتے ہیں تو بشن سنگھ دکھی ہوتا ہے۔ نوجوان اسے کہتے ہیں کہ لوگوں نے تجھے تقسیم کرنے کا فیصلہ کیا لیکن منٹو نے تجھے اپنے ”ٹوبہ ٹیک سنگھ“ میں جگہ دی۔
بشن سنگھ کو تقسیم کے نتیجے میں دکھوں، تکلیفوں اور ان لوگوں کی علامت کے طور پر بیان کیا گیا ہے جو آج تک تقسیم کے کرب میں مبتلا ہیں۔
نوجوان بشن سنگھ سے کہتے ہیں کہ:
بشن سنگھ تو اس کے لیے دکھی ہے کہ تو امر تو ہو گیا لیکن اپنی سوجی ٹانگوں اور دھکا لگتے سمے، سینے میں لگنے والے زخموں کے ساتھ۔ بشن سنگھ ابدی زندگی خود سزا ہے۔ لیکن سوجی ٹانگوں اور رستے زخموں کے ساتھ امر ہونا سزائے عظیم ہے، اور یہ دونوں سزائیں ہم تیرے ساتھ چار پشتوں سے بھگت رہے ہیں! ۔ ”
یہ ایک علامتی کہانی ہے۔ اس میں بشن سنگھ تقسیم ہند کے نتیجے میں دکھ درد برداشت کرنے والوں اور آج تک اس میں مبتلا لوگوں کی علامت ہے۔ حکایات ما بعد جدیدیت کے تحت منٹو کے افسانے میں مر جانے والا بشن سنگھ پھر سے زندہ ہو گیا۔ اس کہانی کو پڑھنے کے بعد ہر قاری اسے اپنے طور پر مختلف موضوع دے سکتا ہے۔
بو آئی کہاں سے؟
اس کہانی کا موضوع اور عنوان دلچسپ ہے۔ گاؤں کے بچے بو محسوس کرتے ہیں لیکن کوئی ان کا اعتبار نہیں کرتا۔ وقت کے ساتھ کچھ عرصہ بعد وہ بو نہ صرف سب کو محسوس ہوتی ہے بلکہ شدت بھی اختیار کر جاتی ہے۔ نہ کوئی جانور مر ہوتا ہے اور نہ کوئی انسان لیکن بو پھیلتی جاتی ہے۔ لوگوں کی آپس کے تعلقات ختم ہو جاتے ہیں۔ نہ کوئی اس گاؤں میں آتا ہے اور نہ کوئی انہیں اپنے گاؤں میں آنے دیتا ہے۔ سرکار ڈاکٹروں، طبی عملے اور خوراک کی امداد تک بھیجنے سے انکار کر دیتی ہے۔ کھانا پینا بند ہو جاتا ہے۔ گاؤں میں ایک آدمی فوت ہو جاتا ہے تو کئی دن وہ کھلے آسمان کے نیچے پڑا رہتا ہے لیکن کوئی پاس بھی نہیں جاتا۔ آخر میں چند بچے اسے دفناتے ہیں اور جب ایک بچہ جنازے کی دعا پڑھتا ہے تو بو کچھ کم ہوتی ہے۔
لوگ ایک دوسرے کو قتل کرنا چاہتے ہیں لیکن بھوک سے نڈھال چھری اٹھاتے تو ہاتھ سے گر جاتی۔ کچھ دنوں بعد ایک آدمی خواب میں خود کو دفناتا ہے اور جب بیدار ہوتا ہے تو اس کی بو ختم ہو جاتی ہے۔ پھر وہ اپنا یہ خواب سب کو سناتا ہے۔
اپنے عنوان کی طرح اس کہانی کا موضوع بھی مختلف ہے۔ سارے گاؤں میں بو پھیل گئی، نا کوئی انسان مرا اور نا کوئی حیوان۔ تو یہ بو کہاں سے آئی؟ اسی سوال کا جواب ہی اس کہانی کا موضوع ہے۔
لوگوں میں جب تک ”میں“ باقی ہے اور ان میں اکڑ اور غرور زندہ ہے۔ جب تک لوگ اپنے گناہوں کی سزا دوسروں کو دینے کا سوچتے ہیں اور اس آفت زدہ بو کی وجہ دوسروں کو قرار دے کر ایک دوسرے کو قتل کرنے کے لئے نکلتے ہیں۔ تب تک اس غرور اور ”میں“ کی بو ان کے نتھنوں میں شامل رہتی ہے۔
جیسے جیسے لوگوں میں بے راہ روی اور غرور بڑھتا جاتا ہے بو کی شدت بھی بڑھتی جاتی ہے۔ بچے چونکہ معصوم ہوتے ہیں اس لیے انہوں نے بو کی شدت بھی کم محسوس کی۔
جب ایک آدمی نے خواب میں خود کو دفنایا یعنی اپنی ”میں“ کو ختم کیا تو اس کی بو بھی ختم ہو گئی۔ اس کہانی میں مختلف اور دلچسپ عنوان اور خوبصورت اسلوب کے ذریعے معاشرے کے انتہائی اہم موضوع پر قلم اٹھایا گیا ہے۔ معاشرے کی گراوٹ کی وجہ خود لوگ ہی ہیں اگر لوگ خود ٹھیک ہوجائیں تو سارا معاشرہ ٹھیک ہو جائے گا۔
ستر سال اور غار:
یہ ایک مختصر لیکن پیچیدہ کہانی ہے۔ 70 سالوں سے ایک شخص غار میں رہتا ہے۔ اس کی خبر چند لوگوں کے سوا کسی کو نہیں تھی، جن میں ایک اسحاق بھی شامل تھا۔ اسحاق مسجد کے مصلے پر بیٹھا تھا کہ چار لوگ اپنا مسئلہ لے کر آئے اور اس کا حل دریافت کیا۔ مسئلہ انتہائی پیچیدہ تھا کہ چھ ماہ سے گاؤں میں کہیں سے ایک لاش آتی ہے۔ سب گاؤں والے اسے دیکھنے جاتے ہیں تو وہ انہی میں سے کسی کی ہوتی ہے۔ کچھ دن بعد کسی اور کی لاش۔ یوں گاؤں والے ایک دوسرے کی مدد سے خود کو دفنا رہے ہیں۔
مسئلہ انتہائی پیچیدہ تھا لیکن اسحاق نے بتایا کہ اس کا حل ایک ایسے شخص کے پاس ہے جو گزشتہ ستر سالوں سے غار میں رہ رہا ہے کبھی باہر نہیں آیا، لیکن اسے باہر کی سب خبر ہے۔ اسحاق نے ان لوگوں سے سوال کیا کہ اگر وہ تمہاری لاشیں ہیں تو تم کون ہو؟ اور اگر تم واقعی خود کو دفناتے ہو تو ایک ہی بار میں کیوں نہیں دفناتے؟ دنیا میں ایک ایسا درخت ہے جس کا پتا کھانے سے انسان بندر بن جائے اور دوسرا پتا کھانے سے واپس انسان بن جائے۔ لیکن یہ درخت انسان کے اندر ہی ہے۔
وہ ان سوالوں میں الجھ کر اسحاق کے بتائے ہوئے شخص سے ملنے غار میں گئے تو وہاں اسحاق ہی کی لاش تھی۔ حیرانی کم ہوئی تو انہوں نے اجتماعی طور پر اسحاق کا جنازہ پڑھا اور اس کی لاش کو دفنا دیا۔ اس کے بعد کبھی کوئی لاش نہیں آئی۔
”ستر سال اور غار“ ایک علامتی اور پیچیدہ کہانی ہے۔ مابعد جدیدیت کے تحت اس کا موضوع بہت وسیع ہے۔ اگر اسے پاکستان اور اس کے پس منظر میں دیکھیں تو موضوع کھل کر سامنے آتا ہے۔ پاکستان کو معرض وجود میں آئے ستر سال سے زائد کا عرصہ گزر گیا ہے لیکن اس میں بسنے والوں کے مسائل ختم نہیں ہو رہے، کیونکہ لوگ ستر سالوں سے مسائل کے وقتی حل کی طرف جا رہے ہیں لیکن مسائل تب ختم ہوں گے، جب ان کا مستقل بنیادوں پر اجتماعی حل نکالا جائے گا۔ مسائل کی وجہ بھی لوگ خود ہیں اور اس کا حل بھی لوگوں کے ہی پاس ہے۔
اسحاق دراصل ایک ایسا آئینہ ہے جو اجتماعی طور پر پورے معاشرے کو بیک وقت اپنا آپ دکھاتا ہے۔ جس کی مدد سے پورے معاشرے کا اجتماعی مسئلہ ایک ہی وقت میں ہمیشہ کے لیے حل ہو جاتا ہے۔
پاکستان کے مسائل کی عکاسی کرتی یہ کہانی منفرد، دلچسپ اور پیچیدہ ہے۔
جدا گانہ اسلوب، خوب صورت انداز بیاں اور دلچسپ پلاٹ یہ تمام خصوصیات ڈاکٹر ناصر عباس نیر کو معاصر افسانہ نگاروں سے الگ اور منفرد پہچان پہچان دیتی ہیں۔



نیر عباس کے افسانوں کی طوالت
روایتی افسانوں سے بہت زیادہ ہے۔ افسانوی ادب میں نئی نئی ٹیکنیک کو متعارف کروانا بھی کوئی ان سے سیکھے۔ موضوع کے اعتبار سے بھی جدیدیت اور مابعد جدیدیت کو زیر بحث لائے۔ منٹو کے دو کردار منگو اور بھشن سنگھ آج بھی ہمارے معاشرے میں چلتی پھرتی داستان معلوم ہوتے ہیں۔ منگو کی لاعلمی اور بھشن سنگھ کی پہچان کا مسئلہ ستر سالوں سے حال نہیں ہوپایا۔ نیر صاحب کے افسانوں میں بسی "میں” کی بُو ہمارے اندر آبسی ہے۔