فنڈنگ جائز ہو، غیر قانونی نہیں!


غلامی سے آزادی کا نعرہ لگانے والے خود ممنوعہ فارن فنڈنگ کے محتاج نکلنے۔ عمران خان نے ان کی حکومت گرانے کی سازش کا ذمہ دار امریکہ کو ٹھہرایا۔ جبکہ امریکہ سے ایل ایل سی غیر ملکی شہریوں اور غیر ملکی کمپنیوں کی طرف سے ہزاروں ڈالرز پاکستان میں پی ٹی آئی کو منتقل ہوئے۔ ، کینیڈا، برطانیہ، اسرائیل، دوبئی، عرب ممالک اور سب سے بڑھ کر ہندوستان سے بھی تحریک انصاف کو فنڈنگ کے ثبوت اور غیر ملکی چندے میں بے ضابطگیاں ملی ہیں۔

اور عمران خان توشہ خانہ سے جہاں کم قیمت ادا کر کے تحائف لے گئے وہاں ڈی ایم اے نے عمران خان پر دعوی دائر کیا کہ وہ کچھ تحائف مفت لے گئے تھے۔ واضح رہے کہ ممنوعہ فارن فنڈنگ کا کیس جسے اکبر ایس بابر نے 2014 میں الیکشن کمیشن میں درج کروایا تھا۔ آٹھ سال بعد الیکشن کمیشن نے اس کیس کا فیصلہ سنا دیا۔ تحریک انصاف نے اس فیصلے قبول نہیں کیا اور اس کو عدالت میں چیلنج کر دیا ہے۔ اور الیکشن کمشنر کا مستعفی ہونے مطالبہ بھی کر دیا۔

سیاست ایک بار پھر سیاسی بحران و احتجاج کی طرف چل نکلی ہے۔ خلاف ممنوعہ فارن فنڈنگ کے فیصلہ کے بعد یہ کیس مزید تحقیقات کے لئے ایف آئی اے کے سپرد کر دیا گیا۔ ایف آئی اے نے تحقیقات کے سلسلے میں پی ٹی آئی کے سابق سپیکر اسد قیصر اور دیگر لوگوں کو شامل تفتیش کرتے ہوئے انہیں نوٹس جاری کر دیے ہیں۔ جس پر اسد قیصر اور دیگر نے سخت ردعمل ظاہر کیا ہے۔ اسکروٹنی کمیٹی آف اسٹیٹ بینک کی رپورٹ کے مطابق پاکستان تحریک انصاف نے پارٹی کے بینک اکاؤنٹس چھپائے اور الیکشن کمیشن میں عطیات سے متعلق غلط معلومات فراہم کیں۔ اسٹیٹ بینک کی رپورٹ کو خفیہ رکھا گیا ہے۔

اس وقت مختلف قیاس آرائیاں سامنے آ رہی ہیں کہ عمران خان تاحیات نا اہل قرار دیے جا سکتے ہیں مگر ابھی کچھ کہنا قبل از وقت ہو گا۔ فیصلہ کچھ بھی ہو سکتا ہے۔ کچھ ماہر قانون کہہ ر ہے ہیں کہ جب نواز شریف نا اہل ہو سکتے ہیں تو عمران خان کیوں نہیں ہو سکتا۔ بہر حال جو بھی فیصلہ آئے ملکی مفاد میں آئے تو بہتر ہو گا۔ اسی لئے کہتے ہیں کہ سیاست خالی جذبات سے نہیں، عقل و فہم اور دانشمندی سے کی جاتی ہے۔

جب الیکشن کمیشن کی طرف سے ممنوعہ فارن فنڈنگ کا فیصلہ آیا۔ تو پی ٹی آئی کی سیاست میں جیسے بھونچال آ گیا اور جارحانہ پریس کانفرنسیں شروع ہو گئیں۔ پی ٹی آئی نے باقاعدہ آرمی کے خلاف مہم آغاز کر دیا۔ ایک نجی ٹی وی چینل پر شہباز گل کے فون پر چیف آف آرمی سٹاف کو موجودہ حکومت کے خلاف اکسانے اور متنازع گفتگو کرنے پر گرفتار کر لیا گیا ہے ۔ جس پر عمران خان اور پی ٹی آئی کا شدید ردعمل سامنا آیا ہے اور پی ٹی آئی نے 13 اگست کو لاہور میں احتجاج کی کال دے دی ہے۔ پرویز الہی اور ان کے صاحب زادے مونس الہی وفاقی حکومت کے معاملات میں مداخلت کرتے اور پی ٹی آئی کا ساتھ دیتے دکھائی دے رہے ہیں جو کسی بھی صورت میں مسلم لیگ ق کے حق میں نہیں جائے گا۔

ممنوعہ فارن فنڈنگ کے فیصلے کے بعد عمران خان نے قوم سے خطاب کیا جس میں خاص پوائنٹ مسیحیوں کی سیاسی پارٹیوں کے لئے لمحہ ء فکریہ بھی تھا کہ کسی بھی سیاسی پارٹی کو چلانے کے لئے سیاسی پارٹی کا فنڈ ہونا بہت ضروری ہے۔ ورنہ سیاست ہو نہیں سکتی۔ جب میں نے عمران خان کے یہ الفاظ سنے تو مجھے ایک مسیحی سیاسی پارٹی کے مرکزی جنرل سیکرٹری سے ایک پرانی گفتگو یاد آ گئی۔ میں نے جب اس سے سوال کیا کہ مسیحی سیاسی پارٹیاں فعال کیوں نہیں رہیں تو اس کا جواب تھا کہ پارٹی کے پاس کوئی فنڈ نہیں۔

جب کوئی احتجاج کرنا ہوتا ہے تو کارکنوں کی ڈیمانڈ ہوتی ہے کہ انہیں موٹرسائیکل یا گاڑی کے لئے پیٹرول دیا جائے۔ اور کھانے کے لئے بریانی چاہیے۔ دوردراز لوگوں سے رابطہ کے لئے پیسے چاہئیں تو پارٹی کیا کرے اس کے پاس فنڈ نہیں۔ کب تک لوگ اپنی جیب سے خرچ کریں گے۔ فنڈز نہ ہونا ایک مصمم حقیقت ہے مگر مسیحی سیاسی پارٹیوں کے فعال نہ ہونے کی اور بہت سی وجوہات ہیں۔ سلیکشن کی وجہ سے قومی سیاست اور حکومتی امور میں ان کا کوئی کردار نہیں رہا۔

انہیں اپنے نمائندے اپنے ووٹ سے منتخب کرنے کا حق نہیں دیا جا رہا تو پاکستان کے آئین کی سخت خلاف ورزی ہے۔ ووٹ کا حق اپنی جگہ، سیاسی پارٹیوں کا فعال نہ ہونا ایک بڑی وجہ ہے مگر پارٹی فنڈ نہ ہونا بہت بڑا المیہ ہے۔ مسیحی سیاسی پارٹیوں کے پاس فنڈز کہاں سے آئیں۔ فنڈ بڑھانے کے طریقے جو خاص عمران خان صاحب نے اپنی تقریر میں بیان کیے ۔ اس پر عمل درآمد ممکن ہے۔ مگر افسوس کے ساتھ کہنا پڑے گا کہ ہماری کمیونٹی ایک آزاد شہری کی زندگی گزارنا ہی نہیں چاہتی۔ چھوٹی کمیونٹیز کا سیاسی دھڑوں میں تقسیم ہونا اور ایک دوسرے کے ساتھ اتفاق نہ کرنا۔ ایک دوسرے کو تسلیم نہ کرنا کسی بھی طرح کمیونٹی کے مفاد میں نہیں ہوتا۔ تو بات ہو رہی تھی فنڈنگ کی، جو کسی بھی سیاسی پارٹی کے لئے ضروری ہے مگر فنڈنگ جائز ہونی چاہیے غیر قانونی نہیں۔

Facebook Comments HS