برصغیر، مسلمان اور پاکستان

برصغیر کی تہذیب بھی مصر، عراق اور ایران کی تہذیبوں کے ہم عصر تہذیب ہے۔ ان تہذیبوں کے ساتھ ساتھ دراوڑی تہذیب و تمدن اپنی قدامت اور عظمت کا پھریرا لہراتی ہوئی دکھاتی دیتی ہے۔ کول اور بھیل اقوام کو برصغیر کی سب سے پرانی قوم کا درجہ حاصل ہے جو شمالی ہندوستان میں آباد تھے لیکن دراوڑوں نے ان کو جنوب کی طرف دھکیل دیا۔ آریوں نے دراوڑوں کو شمالی ہندوستان سے نکال دیا۔ اور وہ بھی جنوبی ہندوستان کی طرف چلے گئے۔
موہنجو داڑو اور ہڑپہ کے کھنڈرات بتاتے ہیں کہ ان شہروں کے لوگ سوتی کپڑا بننا جانتے تھے۔ گھروں میں غسل خانے تھے۔ شہروں کے مکانات اونچے اور صاف ہوتے تھے۔ ان کا مذہب مصریوں اور سومیریوں ملتا جلتا تھا۔ پنجاب اور گنگا کی وادی میں آریاؤں کی عظیم الشان مگدھ سلطنت کی بنیاد پڑی اور یہی گوتم بدھ کا ظہور ہوا جس نے دنیا کو ایک نئی راہ دکھائی۔ سکندر اعظم کی واپسی کے بعد چندر گپت موریہ کے وزیر چانکیہ نے دنیا کو سیاسیات پر پہلی کتاب ارتھ شاستر دی۔
جب کہ مہاراجہ اشوک نے سڑکوں کے کناروں پر پتھر نصب کروا کر ان پر رستوں کی تفصیل کی صورت میں دنیا کو پہلے سائن بورڈ کا آئیڈیا دیا۔ لیکن لکھنے کا مقصد آج کچھ اور ہے کہ مسلمان کیسے اس خطے میں آئے اور پاکستان کا کیونکر وجود میں آیا۔ کیا وجوہات تھیں کہ پاکستان ناگزیر ہو گیا اور صدیوں بعد یہ خطہ تقسیم ہو گیا۔ اوپر والی تفصیل بتانے کا مقصد صرف یہی تھا کہ یہ خطہ مسلمانوں سے پہلے بھی صدیوں پرانی لازوال تہذیب اور روایات رکھتا ہے۔
خلیفہ دوم حضرت عمر کے دور میں مسلمانوں نے بحری طاقت حاصل کرلی تھی۔ جہاں عرب جہاز ران ہندوستان کے ساحلوں سے اچھی طرح واقف تھے وہیں سندھ گجرات ملیبار اور کارومنڈل کی بندرگاہوں کی رونق عرب جہاز ران اور سوداگروں کے دم سے تھی۔ ہندوستان کے ساحلی شہروں میں عربوں کی نو آبادیاں قائم ہو گئی تھی۔ چونکہ مقامی لوگوں کو ان سے بہت سا مالی فائدہ پہنچتا تھا اس لیے وہ عربوں کی عزت اور قدر کرتے تھے۔ محمد بن قاسم کے حملے کے بعد اس علاقے میں مسلمانوں کا اثر رسوخ بڑھانا شروع ہوا۔
لیکن ابھی تک مسلمانوں کی کوئی باقاعدہ حکومت برصغیر میں قائم نہیں تھی۔ مسلمان ہندوستان کے ساحلی علاقے مالا بار کی مشہور و معروف بندرگاہ کالی کٹ تجارت کی غرض سے آتے تھے اور یہی آباد ہو جاتے تھے اس وقت کا ہندو راجہ زیمور مسلمانوں کو بہت عزت اور قدر کی نگاہ سے دیکھتا تھا۔ دسویں صدی تک معاشی ابتری اور طبقاتی کشمکش نے عباسیوں کی وسیع و عریض سلطنت کا شیرازہ بکھیر دیا تھا۔ مرکز کے کمزور ہوتے ہی کئی آزاد ریاستیں قائم ہوئیں جن میں سے ایک غزنی کی ریاست بھی تھی۔
سبگتگین کے مرنے کے بعد اس کے بیٹے محمود غزنوی نے شمال کی طرف سے ہندوستان پر کئی حملے کیے۔ محمود غزنوی کی وفات کے ڈیڑھ سو سال بعد اسی خاندان کے غلام قطب الدین ایبک نے بارہویں صدی عیسوی میں برصغیر میں پہلی مسلمان سلطنت کی بنیاد رکھی۔ خاندان تبدیل ہوتے رہے لیکن اٹھارہ سو ستاون تک مسلمان برصغیر پر بلا شرکت غیر حکمران رہے۔ 1857 کی جنگ آزادی کے بعد مسلمانوں کے ساتھ دو واقعات رونما ہوئے ایک تو انگریز اس سارے جنگ آزادی کا موجب مسلمانوں کو گردانتے تھے۔
جس کے بدلے میں مسلمانوں کو غداری کے الزام میں سزائے اموات دی گئیں۔ ان پر سرکاری ملازمتوں کے دروازے بند کر دیے گئے۔ مسلمانوں کی زمینوں کو حکومت نے بحق سرکار ضبط کر لیا۔ دوسرا مسلمانوں نے انگریزی زبان و ادب، کی تعلیم کو قبول کرنے سے انکار کر دیا۔ مسلمان انگریزی تعلیم کے سخت خلاف تھے وہ خیال کرتے تھے عربی اور فارسی تعلیم کی بجائے انگریزی تعلیم ان کو اپنے مذہب سے دور لے جائے گی۔ ان دونوں نکات کو سب سے پہلے سر سید احمد خان نے محسوس کیا۔
ان کی بھرپور کوشش تھی کہ مسلمانوں اور انگریزوں کے درمیان فاصلے کو کم کیا جائے اور مسلمانوں کو انگریزی تعلیم کی طرف راغب کیا جائے تاکہ وہ بھی زندگی کی دوڑ میں شامل ہوں۔ سرسید احمد خان نے انگریزی حکومت کی مسلمانوں کے خلاف غلط فہمیوں کے ازالہ کے لئے کتاب ”اسباب بغاوت ہند“ لکھی۔ شروع میں سرسید احمد خان بھی ہندو مسلم اتحاد کے بہت بڑے داعی تھے وہ کہتے تھے کہ ہندو اور مسلم گائے کی دو آنکھوں کی طرح ہے جن کو ایک دوسرے سے جدا نہیں کیا جا سکتا۔
لیکن 1867 میں اردو ہندی تنازع کے بعد جب ہندوؤں نے اردو رسم الخط کو فارسی کی بجائے دیوناگری رسم الخط کی ترویج پر زور دیا تو سر سید احمد خان کے خیالات تبدیل ہونا شروع ہوئے۔ یوں برصغیر میں سرسید احمد خان وہ پہلے لیڈر ہیں جنہوں نے دو قومی نظریے کا تصور دیا۔ سرسید احمد کے دور میں مسلمانوں کی سیاسی، معاشی، تعلیمی اور سماجی حالت انتہائی دگرگوں تھی۔ سرسید احمد خان کے بعد مسلمانوں کی سیاسی قیادت نواب محسن الملک، نواب وقار الملک، سر میاں محمد شفیع، مولوی عبدالحق، مولانا شوکت علی، مولانا ظفر علی اور مولوی فضل الحق کے پاس آ گئی مگر ان میں نمایاں مقام قائد اعظم محمد علی جناح کو حاصل تھا۔
تقسیم بنگال سے تنسیخ بنگال تک، معاہدہ لکھنو سے تاریخ خلافت تک قائد اعظم محمد علی جناح ہندو مسلم اتحاد کے سفیر کے طور پر جانے جاتے رہے۔ میرے نزدیک اگر برصغیر کی تاریخ میں سے تین واقعات کو نکال دیا جائے تو شاید پاکستان کبھی بھی معرض وجود میں نہ آتا۔ نہرو رپورٹ کی صورت میں تقسیم برصغیر کی پہلی اینٹ رکھی گئی تھی۔ نہرو رپورٹ میں مسلمانوں کے جداگانہ طریقہ انتخاب کو ختم کرنے کی تجویز دی گئی اور مرکز میں وحدانی طرز حکومت کے ساتھ ساتھ بنگال اور پنجاب میں مسلمانوں کی مخصوص نشستوں کو ختم کرنے کی تجویز شامل تھی۔
اگر 1937 کے انتخابات میں کانگریس کو کامیابی حاصل نہ ہوتی تو شاید پھر بھی پاکستان معرض وجود میں نہ آتا۔ کیونکہ اس کامیابی کے بعد شاہد ہندوؤں نے ہزار سالہ غلامی کا بدلہ لینے کی ٹھانی۔ بدترین طرز حکمرانی، اقلیتوں پر ظلم، سکولوں میں بندے ماترم ترانے اور جھنڈے کی ترویج جیسے مسائل کا سامنا مسلمانوں کو کرنا پڑا جس سے مسلمان قائدین کو یہ محسوس ہونا شروع ہوا کہ اگر انگریز کے جانے کے بعد مسلمان ہندوؤں کے رحم و کرم پر آ گئے تو شاید ان کا جینا دو بھر ہو جائے گا۔
تیسرا اگر جنگ عظیم دوم نہ ہوتی تو شاید پھر بھی پاکستان معرض وجود میں نہ آتا۔ کیونکہ اس جنگ کے بعد تاج برطانیہ کو نوآبادیات سنبھالنا مشکل ہوتی جا رہی تھی۔ قرارداد لاہور کی صورت میں پاکستان بنانے کا فیصلہ تو ضرور کیا گیا تھا۔ لیکن یہ فیصلہ نہرو رپورٹ اور 1937 کے انتخابات کے بعد گانگریسی حکومت کی بنیاد پر کیا گیا تھا۔ یہاں میں ایک سوال چھوڑ کے جا رہا ہوں۔ کیا برصغیر ایک عظیم الشان ثقافت، تہذیب اور تمدن نہیں رکھتا؟
کیا پاکستان بننے کے بعد ہمارا اس تہذیب روایات سے رشتہ ٹوٹ گیا ہے؟ کیا کوئی بھی انسان صرف اپنی مذہبی ثقافت کا وارث ہوتا ہے یا وہ اپنے علاقائی ثقافت کا حقیقی وارث ہوتا ہے؟ ہم کیوں اپنی اس تہذیب، ثقافت و تمدن کو اپنانے سے انکاری ہیں؟ ہم کیوں اپنے ہیروز راجہ داہر، راجہ پورس اور اشوک جیسے حکمران کو عزت دینے کے روادار نہیں؟ اگر حملہ آور کی امداد کرنے پر میر جعفر و میر صادق غدار ہو سکتے ہیں تو ہم کس مقام پر کھڑے ہیں۔

