نسوانیت کے تعاقب میں
یہ گائنی وارڈ ہے۔ میں لیبر روم کے ساتھ کمرے میں بیٹھا کانوں میں ہیڈ فونز لگائے بیٹھا ہوں۔ ہر طرف عورتیں ہیں، دبلی، فربہ، پڑھی لکھی، حاملہ، گہری آنکھوں والی اور ہم قریب بیس لڑکے ہر روز یہاں پڑھنے آتے ہیں۔ میں ان کی باتیں سنتا ہوں عورتوں سے متعلق، ان کی گالیاں، ان کی مردہ آنکھوں کے خواب۔ وہ سامنے دروازہ کھلا ہے۔ liquor amni (زچگی میں بچے کی جھلیوں میں پایا جانے والا پانی) کی تیز سرانڈ پھیل رہی ہے۔ آیا کبھی تیزی سے آتی ہے پیلے پیلے دانتوں والی عورت۔ میری گود میں پریم چند کا مجموعہ ہے۔ میں عورت کی زندگی کو کاغذوں میں دیکھتا ہوں، سامنے عورت کے بکھرے روپ دیکھتا ہوں۔ وہ دیکھو سرخ لباس میں ملبوس خوش شکل عورت، گلے میں طبی آلہ لٹکائے آ رہی ہے۔ مزدور عورت جو سارا ہفتہ بشمول اتوار کام کرتی ہے اور بزعم خود ایک ڈاکٹر ہے۔
میں مصنوعی سنجیدگی سے کتاب میں غور کر رہا ہوں مگر اس سرمئی لٹ کو نظرانداز کرنا میرے بس میں ہے ہی نہیں۔ آخر میں کون ہوں ایک دور افتادہ گاؤں سے آیا ہوا نیم مردہ، نیم پاگل لڑکا جو سے جھکائے کچھ لکھنے میں مصروف ہے۔ جب میری ماں مرگی کے باوجود نوکری کرتی تھی تو اسے بھی میرے جیسے مردوں سے واسطہ رہتا ہو گا۔ اچھا وہ باتیں جو آنکھوں ہی آنکھوں میں نظر انداز کر دی جاتی ہیں ان کو لکھ ڈالوں تو کیا میرا ضمیر ملامت کرے گا۔
یہ تو سچ ہے کہ ایسی تحاریر کی بڑی مانگ ہے۔ میرے دوست نے مجھے بتایا کہ وہ عورت کے وجود سے بیزار ہے اور وہ جذباتی سپورٹ کی بھیک مانگنے کبھی عورت کے پاس نہیں جائے گا۔ اور کیسے وہ ہر روز اپنی ایک غیر ملکی سہیلی سے اپنے بدلتے رجحانات پر تفصیلی مقالے ڈسکس کرتا ہے۔ میں الجھ کر رہ گیا ہوں۔ یہ لوگ عورت کو سمجھتے کیا ہیں، کیوں آج بھی عورت گالیوں، تضحیک اور کمزوری کی علامت ہے۔ اور مرد احساس گناہ سے آزاد کیونکر ہو۔
آخر وہ بھی تو نبض ہستی میں روح بن کر دھڑکتا ہے۔ مرد بھی تو گھروں سے دور اپنی پیاریوں کے لیے خواب خریدتا ہے۔ کہیں بیٹا بن کر ماں کے سراپے کو کئی شکلوں میں ڈھونڈتا ہے، کہیں بیٹیوں کے خواب اپنے ہاتھوں سے تراش تراش کر سنبھالتا ہے۔ میری کوئی بہن ہے نہیں مگر میں جانتا ہوں کیسے یہ مرد نام کا جذباتی جرثومہ سینت سینت کر البم سنبھالتا ہے۔
لیکن وہیں میں بتا دوں ایک بد ذات مرد کی نشانی، یہ سانپ نہیں ہے غارت گر اژدہا ہے۔ ڈھیٹ، احساس سے عاری، عورت کو ٹشو پیپر سمجھنے والا۔ اس کی تربیت کسے کرنی ہے، ایک تعلیم یافتہ عورت نے۔ جی ہاں، شا ید کل کو انسانیت کے گندے خمیر سے احساس، عزت اور رواداری نمو پا سکے۔ پھر کسی ڈاکٹر کو یہ نہیں سوچنا پڑے کہ وہ عورت گناہ کا اوتار ہے یا مرد ایک خطرناک شے پھر کم از کم مریضہ کسی لڑکے کو ہسٹری دینے سے نہیں شرمائے گی اور وہ کاغذ ردی کی ٹوکری کی نذر نہ کرے۔ کون جانے اس گورکھ دھندے کو۔


