ہیڈماسٹر: ہوشنگ مرادی کرمانی کی کہانی (1)
بچوں نے کلاس کو سر پہ اٹھا رکھا تھا کہ ہیڈ ماسٹر آغا نے غصے سے بھرا اپنا سر اندر کر کے پوچھا:
”کیا مسئلہ ہے گوسالوں؟“
وہ ہمیشہ کی طرح ایک چھڑی اپنے ہاتھ میں پکڑے ہوئے تھے اور بالکل شمر کی طرح ناراحت اور غصے میں تھے۔ جیسے ہی ان کی آواز کلاس میں ابھری، بچے جو بلیک بورڈ اور کلاس کے اندر ادھر ادھر کھڑے تھے، چوہوں کی طرح پھدک کر اپنی اپنی جگہ پر جا بیٹھے۔ ایک ہی لمحے میں شور شرابا اور غل غپاڑہ تھم گیا۔
ہیڈ ماسٹر اندر آئے۔ کلاس کے دروازے کے قریب کھڑے ہوئے۔ ایک تلخ و تند نگاہ، چوہوں کی طرح سہمے بچوں کی شکل و صورت پر ڈالی اور کہا:
”یہ کس مضمون کا پیریڈ ہے؟“
”انشا کا ہے آغا!“
”تمھارا معلم کون ہے؟“
”آغا حسینی ہیں۔ ان کا تبادلہ ہو گیا ہے۔ وہ اب یہاں نہیں آتے ہیں۔“
”اچھا! چپ رہو۔ اپنا اپنا کام کرو۔ اگر کسی کی آواز آئی، تو اس چھڑی سے اس کی چمڑی ادھیڑ دوں گا۔“
”گراؤنڈ میں چلے جائیں آغا؟“
”نہیں! چپ کر کے بیٹھے رہو۔ میں ابھی واپس آتا ہوں۔“
وہ گراؤنڈ میں چلے گئے۔ کلاسوں کے باہر چکر لگایا اور خبر گیری کر کے واپس آ گئے۔
انھوں نے جیسے ہی اپنا قدم کلاس سے باہر رکھا، کلاس دوبارہ سے مچھلی بازار بن گئی۔ بچوں کی کائیں کائیں نے فضا کو بھر دیا۔ میزوں کے پیچھے سے باہر نکلے اور ایک دوسرے کو دھکے دینے لگے۔ چاک کے ٹکڑے، ڈسٹر، خربوزوں کے بیچ، کھجور کی گٹھلیاں، قلم اور کاپیاں ہوا میں پرواز کرنے لگے اور گردن کے پیچھے، پیشانی پر، آنکھوں اور کانوں پر لگنے لگے۔ نامناسب گالیاں ہر جانب سے بلند ہونے لگیں۔
دھب دھب دوڑنے کی آواز، میز اور بینچوں پر چھلانگیں لگانے کی آواز، خچروں کے کھروں کی آواز کی مانند کلاس میں بلند ہونے لگے اور چاک کے گرد و غبار نے فضا کو بھر دیا۔
کچھ بچوں نے افواہ چھوڑی کہ ہیڈ ماسٹر آغا آ گئے ہیں۔ لیکن آغا نہیں آئے کہ نہیں آئے۔ وہ تب آئے جب پیریڈ ختم ہو گیا تھا۔ دو بچے، کلاس کے ایک کونے میں، کشتی لڑنے میں مصروف تھے۔
”دوبارہ شور مچانے لگ پڑے گوسالوں؟“
کشتی لڑنے والے، بالکل کیکڑے کی ٹانگوں کی طرح ایک دوسرے سے چمٹے ہوئے تھے۔ اور چقندر کی طرح سرخ ہو رہے تھے۔ ان کے کانوں کو آغا کی آواز سنائی نہ دی۔
آغا، جیسے کہ وہ مشغول تھے، ان کے سر پر پہنچے اور ان کے ہاتھ نے اپنا کام کرنا شروع ہو گئے۔ آٹھ عدد، چھڑی کی زور دار ضربیں ان کے اوپر نیچے اور پشت پر پڑیں۔ یہاں تک کے ان کے ہاتھ پاؤں ڈھیلے پڑ گئے اور دونوں نے ایک دوسرے کو چھوڑا۔ خجالت زدہ ہو کر فوراً اپنی اپنی جگہ پر بیٹھ گئے۔
ہیڈ ماسٹر آغا نے اپنی چھڑی میز پر رکھی۔ ایک گہرا سانس، اپنے ناک کے ذریعے باہر نکالا اور بلیک بورڈ کے پاس پہنچے۔
چاک کا ایک ٹکڑا اٹھایا اور اس پر لکھا، ’کون لوگوں کی زیادہ خدمت کرتا ہے؟‘
”یہ تمھارے لیے، اگلے مضمون کا عنوان ہے۔ اس موضوع پر لکھ کر لاؤ۔ جو لکھ کر نہ لایا تو اسی کی ہونی والی حالت پر افسوس!“
”آغا اس کی تھوڑی وضاحت نہیں کریں گے؟“
”وضاحت کی ضرورت نہیں ہے۔ بالکل سادہ سا ہے۔ اپنے سلیقے کے مطابق لکھو کہ کون لوگوں کی زیادہ خدمت کرتا ہے۔ معلم، ڈاکٹر، فوجی، دکاندار، مزدور اور تاجر وغیرہ۔ مختصر یہ کہ جو تمھاری نظر میں لوگوں کی اور معاشرے کی زیادہ خدمت کرتا ہے، تمھیں اس کے بارے میں لکھ کر لانا ہے۔“
”آپ ہماری کلاس میں خود آیا کریں گے؟“
”ہاں میں خود آؤں گا۔ ابھی آرام سے گراؤنڈ میں چلو۔“
اب پنجرے کا دروازہ کھل چکا تھا۔ بچے گراؤنڈ میں پہنچے۔
*****
میں کلاس میں سب کے سامنے کھڑا تھا۔ اپنی انشا کی کاپی سے پڑھ رہا تھا۔ کلاس خاموش تھی اور کوئی بھی سانس لینے کی جرات نہیں کر رہا تھا۔ کبھی کبھار کھانسے اور دبی دبی ہنسنے کی آوازیں کلاس کے کونوں سے سنائی دیتیں۔ ہیڈ ماسٹر آغا کرسی پر بیٹھے ہوئے تھے۔ اپنی چھڑی کو میز پر اپنے سامنے رکھا ہوا تھا۔ آب نبات کو چوس اور ملچ ملوچ کر رہے تھے۔ آب نبات چبانے کی آواز ان کی گھنی مونچھوں کے نیچے سے سنائی دے رہی تھی۔ سگریٹ سلگا رکھا تھا۔ سگریٹ پینا چھوڑ کر آب نبات خوری میں مصروف ہو جاتے کہ سگریٹ کا کش لگانے کا خیال ان کے ذہن میں پیدا ہوتا۔ سگریٹ کی خواہش سے آب نبات نگل لیتے۔
میں ذوق و شوق سے اپنا مضمون پڑھ رہا تھا:
”جی ہاں۔ اس بڑی دنیا میں تمام لوگ اس بات کی کوشش کرتے ہیں کہ ان کا کام معاشرے کے لئے مفید ثابت ہو۔ ڈاکٹر مریضوں کا علاج کرتے ہیں۔ انجنیئر عمارتوں کے نقشے بناتے ہیں اور معلم لوگوں کے بچوں کو پڑھاتے لکھاتے ہیں۔ فوجی جنگوں میں شرکت کر کے اس بات کو یقینی بناتے ہیں کہ بے مروت اور خدا سے بے خبر دشمن، ہمارے مال و ناموس اور ہمارے وطن عزیز پر دست درازی نہ کرے۔ پولیس والے راتوں کو جاگتے ہیں اور چوروں کو پکڑ کر انھیں جیلوں میں بند کرتے ہیں۔ اسی طرح دکاندار، موچی، ترکھان، لوہار لوگوں کی خدمت کرتے ہیں۔
ہم میں سے بیشتر طالب علم، جو یہاں کلاس میں موجود ہیں۔ ان کے والدین یہ انتظار کرتے ہیں کہ ہم ڈاکٹر یا انجنیئر بنیں اور سماج میں با عزت رتبہ حاصل کریں۔ اگر زیادہ نہ پڑھ پائیں تو معلم بن جائیں۔ اگر پڑھائی بیچ میں ہی چھوڑ دیں یا ہمارے والدین کے پاس اتنے وسائل نہ ہوں کہ ہم اگلی کلاسوں میں جا سکیں یا ہم کام چور ہوں تو دکاندار بن جائیں۔ دکانداری بھی خوب کام ہے۔ معاشرے کو دکانداروں کی ضرورت بھی ہے۔ مستری خاص طور پر بہت زحمت کرتے ہیں۔ ہم میں سے اکثر کے والد دکاندار یا مزدور ہیں اور اس پر بڑا مان محسوس کرتے ہیں۔ پس ہم یہ نہیں کہ سکتے کہ کون لوگوں کی زیادہ خدمت کرتا ہے۔
لیکن، اگر ہم غور کریں اور دیکھیں کہ اس معاشرے میں کون لوگوں کی زیادہ خدمت کرتا ہے اور زیادہ زحمتیں اٹھاتا ہے اور اگر وہ چھٹی کر لے یا موجود نہ ہو تو کوئی بھی نہیں ہو گا جو اس کے حصے کا کام کرے گا اور ہم سب بے بس ہو جائیں گے۔ ان تمام باتوں کے باوجود ہم دراصل اسے پسند نہیں کرتے ہیں اور وہ بھی اپنے کام پر فخر نہیں کرتا۔ ہم سب اس سے دور بھاگے کی کوشش کرتے ہیں اور اگر خدا نہ کرے کہ کسی دن صبح صبح گلی یا سڑک پر ہماری نظر اس پر پڑ جائے تو ہم فوراً اپنی آنکھیں پھیر لیتے ہیں اور مڑ کر پچھلی گلیوں میں سے ہوتے ہوئے اپنے گھر یا کام پر پہنچتے ہیں۔ حالانکہ کوئی ایسا نہیں ہے جسے اس کی ضرورت نہ پڑتی ہو اور اس کے کام سے واسطہ نہ پڑتا ہو۔ جی ہاں۔ وہ شہر کا مردہ شور، مردوں کو نہلانے والا ہے جو میری نظر میں لوگوں کی سب سے زیادہ خدمت کرتا ہے۔ ”
میں یہاں تک پہنچا تھا کہ بچوں میں سے کچھ ہنسنے لگے اور کلاس میں ہی ہی ہی کی آواز آنے لگی۔ ہیڈ ماسٹر آغا نے اپنی چھڑی میز پر زور سے ماری۔
”خاموش!“
پھر میری طرف رکھ کر کے کہا، ”پڑھو۔ خدا تمھیں غارت کرے۔“
میں نے پڑھا:
”جی ہاں۔ وہ شہر کا مردہ شور ہے جو میری نظر میں لوگوں کی زیادہ خدمت کرتا ہے۔ کیونکہ کوئی بھی اس کی تعریف نہیں کرتا ہے اور یہ کہ وہ کتنا بھی ماہر ہو جائے اور مردے کو اچھی طرح سے نہلاتا اور کفن پہناتا ہو، اسے انعام نہیں دیا جاتا اور نہ ہی اس کے لیے تالیاں بجائی جاتی ہیں۔ کسی نے کبھی یہ مشاہدہ نہیں کیا کہ اخبار میں لکھا گیا ہو کہ ہم فلاں مردہ شور کے تہہ دل سے مشکور ہیں جس نے ہمارے والد کی میت کو اچھی طرح نہلایا۔ یا آپ نے یہ دیکھا ہے کہ ایک مردہ شور بہت زحمتیں اٹھا کر اپنے کام میں مہارت حاصل کرے تاکہ اسے زیادہ معاوضہ ملے۔ اس کا کام پھلے پھولے اور اس کے گاہک زیادہ ہوں۔
ہم سب جو یہاں اس کلاس میں موجود ہیں اور علم و دانش حاصل کرنے میں مصروف ہیں۔ ہم کچھ بھی کام کرنے کے لئے تیار ہیں لیکن مردہ شور بننے کے لئے تیار نہیں ہیں۔ دراصل ہم مردہ شور سے ڈرتے ہیں۔ اب کہ ہم ابھی بچے ہیں، اور اس میں کوئی اعتراض کی بات بھی نہیں ہے، لیکن میری دادی، جس کی عمر کافی زیادہ ہو چکی ہے اور رات کو مر چکے لوگوں کو خواب میں دیکھتی ہے۔ حتی کہ اس کے پاس کفن ہے جو کربلا سے اس کے لیے سوغات کے طور پر لایا گیا ہے اور صندوق میں رکھا ہے۔
کبھی کبھی وہ نکالتی ہے اور پہن کر سوتی ہے۔ وہ بھی مردہ شور سے ڈرتی ہے۔ چند بار بازار میں اس کی نظر، لیلا مردہ شور پر پڑی تو فوراً مڑی اور میرا ہاتھ کھینچ کر بولی، ”جلدی چلو مجید۔“ لیکن لیلا بھاگ کر اس کے سامنے آئی اور کہا، ”کیا حال ہے بی بی؟“ دادی نے اس کے سلام کا جلدی سے جواب دیا، ”حالت بری نہیں ہے۔“ اور گلیوں میں سے تیزی سے چلنے لگی۔ مجھے بھی اپنے ساتھ لے گئی۔ حالانکہ لیلا مردہ شور تو یہ چاہتی تھی کہ اس کے ساتھ گرم جوشی کے ساتھ پیش آئے اور محبت میں یہ کہنا چاہتی تھی کہ انشاءاللہ ایک سو بیس سال کی ہو کر اس دنیا سے جائے۔
لیلا اسے اچھی طرح نہلائے۔ اس کے برعکس بی بی نے خیال کیا کہ جب لیلا مردہ شور نے اس کا حال پوچھا تو وہ اپنے گاہک کے تعاقب میں تھی اور گاہک تلاش کر رہی تھی۔ اندازہ لگانا چاہ رہی تھی کہ کب بی بی کو نہلانے کا وقت آئے اور اسے کچھ رقم حاصل ہو۔ تاکہ ابھی سے اس بارے میں سوچے کہ انھیں کہاں خرچ کرنا ہے یا اپنے قرض خواہوں سے کوئی موافق دن کا وعدہ کر سکے۔ بی بی دراصل اس خیال میں نہیں تھی کہ سبھی احوال پرسی کرتے ہیں۔
لیلا بیچاری نے بھی سب کی طرح ہی پوچھا تھا کہ کیا حال ہے بی بی۔ ہاں۔ اس دن تا وقت غروب بی بی زیر لب دعائیں پڑھتی رہی اور اپنے دائیں بائیں پھونکتی رہی۔ اسی بی بی کی نظر جب ڈاکٹر پر پڑتی ہے تو کس سادگی سے باتیں کرنے لگتی ہے۔ اسے اپنے تمام درد اور امراض یاد آ جاتے ہیں اور ڈاکٹر کے ساتھ اس قدر زیادہ گفتگو کرتی ہے کہ ڈاکٹر اس سے دور بھاگتے ہیں۔ پس ہم دیکھتے ہیں کہ سب مردہ شور سے بھاگتے ہیں۔ ”
میں نے کنکھیوں سے ہیڈ ماسٹر آغا کی طرف دیکھا۔ انھوں نے آنکھیں بند کی ہوئی تھیں اور اپنی مونچھوں کے ایک بال پر زور لگا رہے تھے اور اسے اکھاڑنے لگے تھے۔ بجائے اس کے کہ آب نبات کو دانہ دانہ کر کے چوسیں، تیزی کے ساتھ چبا رہے تھے اور ان کے منہ سے کرچ کروچ کی آواز آ رہی تھی۔ ٹھک ٹھک کر کے چھڑی کو میز پر مار رہے تھے۔ خدا ہی جانتا ہے کہ وہ کس قدر طیش میں آ چکے تھے۔ بچوں کے دانت نکل رہے تھے۔ بے آواز ہنسی کے ساتھ ہنس رہے تھے۔ جب کبھی کسی کے ہنسنے کی آواز بلند ہوتی تو آغا چھڑی کو میز پر زور سے مارتے۔
”خاموش! دیکھنے دو کہ اس گوسالے نے اپنے مضمون میں کیا گند لکھا ہے۔“
میں ڈر گیا۔ پوچھا، ”آغا! کیا آپ چاہتے ہیں کہ مزید نہ پڑھوں؟“
”نہیں۔ پڑھو اس مزخرفات کو۔ تاکہ سب کو پتا چلے کہ تم کتنے کند ذہن اور بے عقل ہو۔ پڑھو۔“
”اچھا۔“
میں نے پڑھا:
”یہ مضمون لکھنے کے لئے میں نے ’اصغر مردہ شور‘ اور اس کی بیوی ’لیلی مردہ شور‘ کی زندگی کا قریب سے جا کر جائزہ لیا ہے۔ ادھر ادھر کے لوگوں سے ان کی زندگی کے بارے میں پوچھا ہے۔ میں نے یہ دیکھا کہ دکاندار یہ پسند نہیں کرتے ہیں انھیں چیزیں فروخت کریں۔ جب ان کے ہاتھوں کی طرف دیکھتے ہیں تو ڈر جاتے ہیں۔ کیونکہ انھیں معلوم ہے کہ ایک روز انھی ہاتھوں میں ان کا بے جان جسم ہو گا اور ان کے خاندان والوں کو غسل دے گا۔
جب بھی اصغر مردہ شور اپنی سائیکل پر سوار ہو کر شہر میں چکر لگاتا ہے تو پولیس والے اپنے سر موڑ لیتے ہیں تاکہ اسے نہ دیکھیں۔ اگر وہ کوئی غلطی بھی کر بیٹھے تو اسے جرمانہ نہیں کرتے۔ اس کی دو بہنیں ہیں جو کہ چاند کی طرح ہیں۔ لیکن ان کے لئے کوئی بھی نہیں آیا ہے۔ نا ہی کسی نے انھیں کبھی کسی شادی کی تقریب میں شرکت کی کبھی دعوت دی ہے۔ اگر آپ کسی شادی میں شریک ہیں اور آپ کے ساتھ ہی مردہ شور بیٹھا ہے تو آپ کی کیا حالت ہو گی؟ کیا سکون اور اطمینان کے ساتھ، پھل، مٹھائیاں اور کھانے کھا سکیں گے؟
البتہ، میں اصغر مردہ شور کے پاس جا کر بہت سے سوال کرنا چاہتا تھا اور ان کے جوابات اس مضمون میں لکھنا چاہتا تھا۔ لیکن مجھے اس سے ڈر لگا۔ حالانکہ یہ شہر زیادہ بڑا نہیں ہے اور اس کے مردہ شور کو سب پہچانتے ہیں، لیکن اس کے باوجود، لوگ ان کی زندگی سے زیادہ باخبر نہیں ہیں۔ ہر کوئی ان سے دور بھاگتا ہے۔ وہ بھی اس بات سے اچھی طرح واقف ہیں۔ لیکن کسی پر ظاہر نہیں کرتے اور اپنا کام اسی طریقے سے کرتے رہتے ہیں اور مردوں کو اچھے طریقے سے نہلاتے ہیں۔
پس وہ لوگوں کی زیادہ خدمت کرتے ہیں اور لوگوں سے کوئی توقع بھی نہیں رکھتے ہیں۔ اس صورت میں کہ جو بھی اس شہر میں مرے، اس نامہربانی کے بدلے میں، چند زور دار ٹھوکریں، اس کے پیٹ اور پہلو میں ماریں۔ کم از کم نظر بچا کر چٹکی ہی کاٹ کر خوب انتقام لیں۔ مردہ بھی جس کے بارے میں معلوم ہے، وہ داد و فریاد نہیں کر سکتا۔ گالیاں نہیں دے سکتا ہے اور نہ ہی کم از کم یہ کہہ سکتا ہے کہ ’آہ‘ ۔
اب اس کا تقابل حمام میں غسل دینے والے کے ساتھ کریں۔ کیونکہ ہم زندہ ہیں اور اس کے ساتھ محبت سے پیش آتے ہیں۔ گلیوں اور سڑکوں پر اس سے گرمجوشی کے ساتھ سلام علیک کرتے ہیں۔ جہاں تک ہو سکے اس کو انعام دینے کی بھی کوشش کرتے ہیں۔ حالانکہ جب وہ ہمیں صابن ملتا ہے تو ایسا محسوس ہوتا ہے کہ اپنے باپ دادا کا بدلہ ہم سے لے رہا ہو۔ صابن ملتے ہوئے اس قدر زور لگاتا ہے اور ہماری نازک جلد پر صابن یوں ملتا ہے کہ جیسے ہماری کھال اکھاڑ دینا چاہتا ہو۔
اگلے چند روز تک اس جگہ، جہاں زور سے صابن ملتا ہے، جلن ہوتی رہتی ہے۔ ہمارے ہاتھوں کو ملتے ہوئے ہمارے ہاتھوں کو اس طرح کھینچ کر مروڑتا ہے کہ انسان خیال کرتا ہے کہ وہ قصاب ہے اور ہماری ہڈیوں کو توڑنا چاہتا ہے۔ اور جب ہمارے سر پر صابن لگاتا ہے اور ملتا ہے، ہمارے بالوں کو اس قدر زور سے اپنے پنچوں میں جکڑتا ہے کہ ہائے کی آواز حمام میں بلند ہوتی ہے۔ ایسے ہی جب وہ اپنے مضبوط پنچوں کے دباؤ کے ساتھ ہماری گردن کو دائیں بائیں، زور زور سے پھیرتا ہے تو ہم واقعی ڈر جاتے ہیں کہ ہماری گردن تھوڑی تھوڑی ڈھیلی ہو گئی ہے۔ یک بیک کندھوں کے بیچ سے باہر نکل آئی ہے اور ہمارا سر اس کے باتھ میں رہ جائے گا اور ہمارا تن حمام کے فرش پر گر جائے گا۔
جیسا کہ ہمیں معلوم ہے یہ کام مردہ شور، مردوں کے ساتھ نہیں کرتا۔ یہاں ہم پر آشکارا ہو جاتا ہے کہ مردہ شور رحم دل اور مہربان ہوتے ہیں اور اس سب کے باوجود ہم اپنی زبانوں سے مردہ شور کو آزار پہنچاتے ہیں۔ ان کو برا بھلا کہتے ہیں۔ مزید یہ کہ جب بھی ہم کسی ایسے شخص کو دیکھتے ہیں کہ اس کی شکل و صورت نامناسب اور لباس گندا اور نا مرتب ہے۔ بال بکھرے ہوئے ہیں۔ رنگ زرد ہے۔ آنکھوں کی پلکوں کے کنارے چپڑی جمی ہوئی ہے اور اس کے منہ سے رال بہہ رہی ہے اور مزاج بگڑا ہوا ہے۔ تو ہم کہتے ہیں کہ اس کا حلیہ بالکل مردہ شور کی طرح ہے۔ یہ کاملا نا انصافی ہے۔ کیونکہ تمام مردہ شور ٹوپی اور مرتب واسکٹ پہنے ہوتے ہیں جو کہ ان کے مرتب ہونے کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ اور اس شہر کے بہت سے لوگوں کے برعکس ان کا مزاج بگڑا ہوا نہیں ہوتا بلکہ ہمیشہ ان کے ہونٹوں پر دلاویز مسکراہٹ رہتی ہے۔
خلاصہ یہ کہ ہمیں مردہ شور سے برے سلوک سے نہیں پیش آنا چاہیے۔ کیونکہ وہ کمال صبر و حوصلے، فداکاری اور متبسم چہرے کے ساتھ، شہر کے لوگوں کو ایک ایک کر کے، ڈاکٹر سے لے کر معلم، دکاندار، سرکاری ملازموں اور پولیس والوں تک سب کو اچھے طریقے سے نہلاتا اور کفن پہناتا ہے۔ اپنے دل میں کسی سے بھی کینہ نہیں رکھتا۔ وہ چیونٹیوں تک کو آزار نہیں پہنچاتا اور نہ ہی کسی سے احترام اور صلے کی توقع رکھتا ہے۔ پس یہ نتیجہ حاصل ہوتا ہے۔ ”
اچانک، میری گردن کی پشت پر جلن ہوئی۔ میری زبان گنگ ہو گئی اور میرے ہاتھ سے کاپی گر گئی۔ میں نے مڑ کر دیکھا کہ آغا، جب میں مضمون پڑھنے میں بری طرح مشغول تھا، وہ دبے پاؤں، میرے سر پر پہنچ گئے تھے اور اب میری پٹائی کر رہے تھے۔
بچوں نے ڈر کو ایک طرف رکھتے ہوئے ہنسنا شروع کر دیا تھا۔ ہیڈ ماسٹر آغا نے ایک اور ضرب، چھڑی کی مدد سے میری گردن کے پیچھے لگائی۔ ان کا رنگ سیاہ ہو چکا تھا بالکل کوئلے کی طرح۔ میں حیران و پریشان ان کی طرف دیکھ رہا تھا۔ آغا کا جسم غصے کی حالت میں کانپ رہا تھا۔ ان کی مونچھیں اور نتھنے لرز رہے تھے۔ ان کا چہرہ جو بھرا ہوا پر گوشت تھا، ان کا مزاج تلخ ہو چکا تھا، ان کے چہرے کا گوشت پھڑک رہا تھا۔ ان کی آنکھیں دو پیالوں جتنی ہو چکی تھیں اور پر خون۔ بچوں کی طرف رخ کر کے کہا:
”خاموش۔ خاموش گوسالوں۔“
بچوں نے اپنی ہنسی پی لی۔ کلاس خاموش ہو گئی۔ میں نے جھک کر اپنی کاپی اٹھائی جو کلاس کے ایک طرف گری ہوئی تھی اور کہا:
”آپ کی اجازت سے بیٹھ جاؤں؟“
”نہیں۔ کھڑے رہو۔ تم سے کام ہے۔“
میں نے اپنا ہاتھ گردن کی پشت پر رکھا جہاں بری طرح جلن ہو رہی تھی۔
”آغا۔ بیٹھ جانا بہتر ہے۔ کیونکہ میرا مضمون ختم ہو گیا ہے۔ آپ نے بھی پٹائی کر لی ہے۔ اب کوئی دوسرا کام نہیں بچا ہے۔ اب کوئی دوسرا آ کر اپنا مضمون پڑے۔“
آغا گھور گھور کر مجھے دیکھ رہے تھے اور اپنی مونچھوں کی نوک کو موڑ رہے تھے۔ ”
”مضحکہ اڑا رہے تھے، ہیں؟“
”میں نے؟ میں نے کیا غلط کیا؟“
”ہاں تم نے، میری کلاس میں مسخرگی کی ہے۔ میں ایک مسخرگی تمھیں سکھاؤں گا کہ تمام عمر بھولے گی نہیں۔“
میں بید کی طرح لرز رہا تھا۔ میری چھٹی حس نے خبردار کیا کہ میں اپنے لئے مصیبت کھڑی کر بیٹھا ہوں۔
بولے، ”یہ کیا مزخرفات تھا جو پڑھا ہے؟“
”مضمون تھا۔ میں نے لکھا تھا اور پڑھا ہے۔“
چھڑی کو اس بار اوپر نیچے کیا۔ اس بار ضرب گردن کی پشت پر نہیں لگی۔ چھڑی میرے چہرے پر لگی۔ خدا کا شکر کہ آنکھ میں نہ لگی۔ میرے ہونٹ پر لگی۔ چھڑی پتلی اور لچک دار تھی۔ میرے سر کے گرد گھومی اور میرے کان پر آ کر لگی۔ جلن ہونے لگی۔
بولے، ”کہ۔ مردہ شور سب سے زیادہ لوگوں کی خدمت کرتا ہے؟ مضمون اس طرح لکھتے ہیں؟ مردہ شور نے تمھارا کیا بگاڑا تھا۔ کس نے تمھارے لیے یہ مزخرفات لکھا ہے؟“
”خود لکھا ہے۔ میں ادبیات میں اچھا ہوں۔“
”تمھارے سر پر خاک اور تمھاری اس ادبیات پر۔“
میرے ہاتھ کانپ رہے تھے۔ ہونٹ خشک تھے۔ کان میں جلن ہو رہی تھی۔
میں نے کہا، ”آپ نے کہا تھا، مکمل آزادی ہے جس کے بارے میں لکھنا چاہتے ہو لکھو۔“
”یعنی تم گوسالے کی نظر میں مردہ شور سے زیادہ لوگوں کی خدمت کوئی دوسرا نہیں کرتا؟ یعنی ڈاکٹر اور معلم اور موچی کوئی بھی کام نہیں کرتا ہے؟“
”میں نے یہ نہیں کہا کہ کوئی بھی کام نہیں کرتا۔ میں نے کہا تھا کہ سب خوب ہیں۔ سب خدمت کرتے ہیں۔“
”لیکن تم نے لکھا، مردہ شور زیادہ خدمت کرتا ہے۔“
”میں مانتا ہوں کہ میں نے ایسا ہی لکھا ہے۔ کیونکہ لوگ اسے پسند نہیں کرتے ہیں۔ حتی کہ اسے اذیت دیتے ہیں۔ لیکن وہ اسے دل پر نہیں لیتا اور پھر دوبارہ لوگوں کی خدمت کرتا ہے۔“
آغا کرسی پر بیٹھ گئے۔ یہ مناسب موقع تھا کہ سگریٹ پیئیں۔ لیکن بجائے سگریٹ پینے کے آب نبات کو جیب سے نکالا اور منہ میں ڈال لیا۔ چوسنے کے بجائے تیزی تیزی سے چبایا۔ کرچ کروچ۔ یقیناً آخر منہ میٹھا ہو گیا البتہ مزاج ویسا ہی تلخ رہا۔
”تمھارا باپ مردہ شور ہے؟“
”نہیں آغا۔“
”دادا کیا کرتا ہے؟“
”وہ بھی نہیں۔ اصلا ہمارے آبا و اجداد میں خاندان میں کوئی بھی مردہ شور نہیں رہا۔“
”خود جب بڑے ہو گے تو مردہ شور بنو گے؟“
”نہیں آغا! مجھے خود مردہ شور سے ڈر لگتا ہے۔“
”کیا کام کرو گے اس ناقص عقل کے ساتھ؟“
”جو بھی خدا چاہے۔ لیکن میرا دل لکھاری بننے کو چاہتا ہے۔“
تلخ مزاجی اور غصے کو دوران، اچانک ہنسنے لگے۔ گندے اور پیلے دانت، جو سگریٹ پینے کا نتیجہ تھے، ان کی مونچھوں کے نیچے سے نظر آنے لگے۔ ان کی ہنسی تلخ تھی جس میں آواز نہیں تھی۔ ہاتھ کو جیب میں ڈال کر دو بڑے آب نبات، جو کہ آپس میں جڑے ہوئے تھے، نکالے اور منہ میں ڈال کر کرچ کروچ کر کے چبائے۔
میں نے کہا، ”میں بیٹھ جاؤں آغا؟“
”نہیں۔ میں آج تمھیں بندہ بنانا چاہتا ہوں۔ تم نے کہا تھا لکھاری بننا چاہتا ہوں۔“
”جی آغا۔ اگر خدا نے چاہا۔“
”تمھارا لکھا ہوا پڑھنے والوں پر افسوس۔ لکھاری میں لطیف روح ہوتی ہے۔ پھول، سبزے، پروانوں، عشق و محبت، رحم دلی اور فداکاری کے بارے میں لکھتے ہیں۔ نہ کہ مردہ شور، گورکن اور ان جیسی چیزوں کے بارے میں۔“
”میں بھی محبت اور رحم دلی کے بارے میں لکھتا ہوں۔“
”مردہ شور کی محبت میں؟ کتابیں بھی پڑھتے ہو؟“
”اگر کوئی مل جائے تو ضرور پڑھتا ہوں۔“
”صادق ہدایت کی کتابیں پڑھی ہیں؟“
”ایک کتاب تقریباً آدھی پڑھی ہے۔ اس کی کچھ سمجھ نہ آئی تو ایک طرف رکھ دی۔“
”وہ ہمیشہ مردہ شور، دفنانے والوں اور مردوں اور اس طرح کی دوسری چیزوں کے بارے میں لکھتا ہے۔ تم نے ان کو پڑھا ہے؟“
بچوں میں سے ایک نے، کلاس کے کونے سے مزہ لینے کے لیے جلتی پر تیل ڈالتے ہوئے کہا، ”ہر طرح کی کتابیں پڑھتا ہے آغا۔“
آغا نے ڈانٹ کر اسے کہا، ”خاموش! تم سے کسی نے کچھ نہیں پوچھا۔“
میرے کان میں جلن ہو رہی تھی۔ میں نے اس کی طرف ہاتھ بڑھایا۔ انگلی کے سرے پر خون لگا تھا۔ خون کو انگلیوں سے صاف کیا۔
”آغا بیٹھ جاؤں؟“
”نہیں۔ تم نے بتایا نہیں کہ اس مزخرفات کو لکھنے کا تمھارا مقصد کیا تھا؟“
”سچ بات تو یہ ہے کہ میں ایسی چیز لکھنا چاہتا تھا جو بالکل نئی ہو۔ جس کے لکھنے کا خیال کسی کو بھی نہ آیا ہو۔ مجھے معلوم تھا کہ سب معلم اور ڈاکٹر اور فوجی اور اس طرح کے آدمیوں کے بارے میں لکھیں گے۔ میں نہیں چاہتا تھا کہ میرا مضمون بھی ان کے مضمونوں جیسا ہو۔“
”کیوں نہیں گئے۔ مثلاً باغبان اور کسانوں کے پاس کیوں نہیں گئے۔ کیا وہ زحمتیں نہیں اٹھاتے۔ سردیوں میں، گرمیوں میں، گندم اگاتے ہیں۔ گندم سے روٹی بنتی ہے اور روٹی کو تم گوسالے اپنے اس پیٹ میں ڈالتے ہو۔“
”آپ کی بات درست ہے۔ لیکن کوئی کسان کو ناپسند نہیں کرتا ہے۔ اس سے کہتے ہیں ’سلامت رہو۔ خدا تمھارے کام میں برکت دے۔ انشاءاللہ تمھاری آمدنی زیادہ ہو۔‘ لیکن کوئی بھی مردہ شور سے نہیں کہتا، ’انشاءاللہ تمھارے کام میں رونق ہو۔ تمھارے گاہک زیادہ ہوں۔ ‘ حالانکہ وہی کسان آخر میں مردہ شور کے ہاتھوں میں ہی آتا ہے۔“
بچے ’کھی کھی کھی‘ ہنس رہے تھے۔ آغا سرخ ہو گئے تھے۔ ہاتھ اپنی جیب میں ڈال کر آب نبات باہر نکالا اور منہ میں ڈال کر چبانے لگے۔
”حاضر جواب بھی ہو۔“
”اجازت دیں۔ بیٹھ جاؤں؟“
”نہیں۔ کھڑے رہو، تم نے جان بوجھ کر اس مزخرفات کو لکھا تاکہ بچے ہنسیں اور کلاس درہم برہم ہو۔ یا میرے ساتھ مسخرگی کرنا چاہتے تھے۔ تمھارا مقصد یہی تھا۔ میں بھی تمھاری طرح ہی اس طرح کے سکولوں میں اور کلاسوں میں پڑھ کر بڑا ہوا ہوں۔ تم مجھے بدھو نہیں بنا سکتے۔ تمھارا مقصد مجھ پر دست اندازی کرنا تھا، نہیں؟“
”نہیں۔ خدا کی قسم میرا مقصد یہ نہیں تھا۔ غلطی ہو گئی۔ بیٹھ جاؤں؟“
”تم ہمیشہ مضمون لکھنے کے بجائے اسی طرح کی مزخرفات کو لکھتے ہو؟“
”مضمون یا معلم کی مناسبت سے۔“
”اگر معلم سادہ اور بے زبان ہو تو تم گوسالے کلاس میں اس پر دست اندازی کرتے ہو؟“
”نہیں آغا۔“
”تو پھر کیا؟“
”اگر معلم کلاس میں یہ کہے کہ تمھیں آزادی ہے جو لکھنا چاہتے ہو لکھو۔ تو میں تازہ چیز ڈھونڈ کر لکھتا ہوں۔ باقی سب کی طرح کتابوں سے دیکھ کر نہیں لکھتا۔“
”اگر نامناسب گالیاں اور بے ترتیبی کی باتیں لکھو تو وہ زیادہ تازہ چیز ہوئی۔“
خون کا قطرہ میرے کان کی لو سے ٹپک کر میری گردن پر گرا اور پھر بہتا ہوا میرے کالر میں چلا گیا۔ میں نے ہتھیلی سے صاف کیا۔
”گالیاں نہیں لکھتا۔“
”کیوں نہیں لکھتے؟“
ایک قطرہ اور گرا۔
”آ۔ آ۔ غا۔ بیٹھ۔ جاؤں؟“
”نہیں۔ کھڑے رہو۔ ابھی تم سے کام ہے۔“
(جاری ہے )


