جمہوریت

جمہوریت کی تعریف کو اگر دیکھا جائے یہ تو ایک ایسا سیاسی نظام حکومت ہے جس میں عوام طاقت کا سر چشمہ ہوتے ہیں۔ جیسا کہ عموماً جمہوریت کے بارے میں کہا جاتا ہے۔
گورنمنٹ آف دی پیپل۔
گورنمنٹ بائے دی پیپل۔
اینڈ گورنمنٹ فار دی پیپل۔
یعنی کہ عوام ہی حکومت کا انتخاب کرتے ہیں، عوام ہی حکومت چلاتے ہیں اور اس چلنے والی حکومت کے ثمرات بھی عوام کو ہی ملتے ہیں۔ اب یہ تو ہو گئی کتابی بات۔
اگر تجرباتی نظروں سے دیکھا جائے تو دنیا کے زیادہ تر ممالک میں جمہوری نظام دیکھنے کو ملتا ہے بالائے نظر اس کے کہ وہ کس شکل میں موجود ہے لیکن برائے نام دنیا نے تقریباً مجموعی طور پر جمہوریت کو ایک بہترین سیاسی نظام کے طور پر تسلیم کر لیا ہے اور اسے ایکسرسائز بھی کرتے ہیں۔
جمہوریت کی دو اقسام دیکھنے کو ملتی ہیں ؛
ڈائریکٹ جمہوریت
ان ڈائریکٹ یا ریپریزنٹیٹو جمہوریت
ڈائرکٹ جمہوریت میں عوام پارلیمان کے نمائندوں کا بھی انتخاب کرتے ہیں اور ان نمائندوں کے بنائے گئے بلز کو ووٹ کر کے قوانین کی شکل بھی دیتے ہیں اور جب بھی عوام کی ایک سٹینڈرڈ تعداد چاہے وہ موجودہ حکومت کو ووٹ آف نو کانفیڈنس سے حکومتی عہدے سے برطرف بھی کر سکتے ہیں اس قسم کی جمہوریت *سوئٹزرلینڈ* میں واضح طور پر دیکھنے کو ملتی ہے۔
جبکہ ریپریزنٹیٹو جمہوریت میں عوام نمائندوں کو ووٹ دے کر پارلیمان کے لیے منتخب کرتے ہیں اور وہ عوامی منتخب نمائندے، ملک کے لیے قانون سازی کرتے ہیں۔
ان ڈائریکٹ یا ریپریزنٹیٹو جمہوریت دنیا کے بیشتر ممالک میں پائی جاتی ہے۔ امریکن ریاستیں، یورپین ممالک، انڈیا، پاکستان، چائنہ، روس، ایران، وینزویلا، ویتنام
وغیرہ جیسے ممالک میں ریپریزنٹیٹو جمہوریت دیکھنے کو ملتی ہے، درج بالا سرمایہ دارانہ ریاستوں جیسے امریکا، یورپی یونین، انڈیا وغیرہ کی جمہوریت اور سوشلسٹ ریاستوں ؛ روس، چین، ایران کیوبا وغیرہ کی جمہوریت میں ایک بنیادی فرق یہ ہے کہ سرمایہ دارانہ ریاستیں لبرل جمہوریت کا پرچار کرتی ہیں جبکہ سوشلسٹ ریاستیں عوامی جمہوریت کی علمبردار ہیں۔
اگر اس جمہوریت کو مزید گہرائی میں جا کر دیکھا جائے تو یہ سامنے آتا ہے کہ اس نظام حکومت میں ملک کے عوام کو ووٹ کا حق دیا جاتا ہے کہ وہ اپنی رائے کے مطابق جس بھی کسی سیاسی نمائندے کو چاہیں منتخب کر سکتے ہیں۔ لیکن یہاں یہ سوال بھی اہم ہے کہ کسی بھی ملک کے عوام کی رائے کون بناتا ہے؟ کیا اس ملک میں عوام کی رائے آزاد بھی ہوتی ہے یا نہیں؟
آزادی رائے کا سیدھا سیدھا تعلق معاشی آزادی کے ساتھ ہے جب تک کوئی معاشی طور پر آزاد نہیں ہوتا وہ چائے ذاتی۔ گھریلو زندگی کے معاملات ہوں یا اجتماعی۔ قومی معاملات، ان میں آزادی رائے کا حق کھو دیتا ہے۔ کیونکہ جب معیشت ہی آزاد نہیں تو رائے کیسے آزاد ہو سکتی ہے۔ کھانے کو روٹی موجود نہ ہو تو سیاسی شعور کہاں سے نازل ہو سکتا ہے۔ معاشی غلامی کے چنگل میں پھنسا کوئی ایک انسان ہو یا عوام، کو بڑی آسانی سے چند ٹکوں کے عوض خریدا جا سکتا ہے رائے تو ایک طرف ان کی زندگی تک کی قیمت لگائی جا سکتی ہے۔
سرمایہ دارانہ نظام میں اسی فیکٹر کو بطور ٹول استعمال کر کے عوام کی بڑی تعداد کو چند نوالوں کے عوض خرید لیا جاتا ہے کیونکہ سرمایہ دارانہ نظام کے ناسور کے باعث عوام پہلے سے ہی غربت، افلاس، تنگدستی اور معاشی بدحالی کا شکار ہوتے ہیں تو انھیں بڑی آسانی سے اپنے ہی پھیلائے جال میں مزید جکڑتے ہوئے ان کی رائے کو خرید لیا جاتا ہے اور ان پر سرمایہ دارانہ نظام کے حامی حکمرانوں کو مسلط کر دیا جاتا ہے جو کینسر کی طرح ان کو مزید بوسیدہ کرتے چلے جاتے ہیں۔
جمہوریت کے چیمپیئنز امریکا، یورپ، انڈیا وغیرہ کے سیاسی نظام کو اگر بغور، کھلی آنکھوں سے دیکھا جائے تو وہاں یہ چیز ہمیں واضح نظر آتی ہے۔ ان ممالک میں سرمایہ دارانہ نظام کی بدولت وہاں کے اشرافیہ عوام کی رائے کو مختلف ٹولز کے ذریعے اپنے مفاد میں مونوپولائز کرتے ہیں، مغربی ممالک میں میڈیا اور ملٹی نیشنل کمپنیز عوام کی رائے کو اپنے حساب سے تشکیل دیتے ہیں اور انڈیا وغیرہ جیسے ممالک میں وہاں کے کرپٹ سیاست دان سرمایہ داروں کی مدد سے وہاں کے غریب عوام کی رائے کو روٹی کے چند نوالوں کے عوض خرید لیتے ہیں باقاعدہ غریب طبقے کو نوٹوں کے ذریعے خریدا جاتا ہے اور سیاسی پراپیگیشن میں استعمال کیا جاتا ہے۔
جبکہ سوشلسٹ ممالک ؛روس چین ایران، ویتنام، کیوبا وغیرہ میں حالات یکسر مختلف ہیں یہاں سوشلسٹ نظام معیشت ہے یہاں لوگوں کی معیشت بالکل آزاد ہے انھیں اپنے لیے روٹی، کپڑے اور مکان کے بارے میں سوچنا نہیں پڑتا اور نا ہی ان چیزوں کی خاطر اپنے ضمیر بیچنے پڑتے ہیں اب چائنہ کو ہی لے لیں۔ چائنہ ایک پاورٹی فری ملک ڈیکلیئر کیا جا چکا ہے جہاں غربت ہی نا ہو وہاں آپ کیسے کسی کو خرید سکتے ہیں وہاں تو *آزادی رائے کا حق* عوام کا ہتھیار ہوتا ہے۔
اور پھر ان ممالک میں کسی پارٹی یا گروہ کو یہ اجازت بھی نہیں دی جاتی کہ وہ میڈیا یا پھر دوسرے ٹولز کے ذریعے لوگوں کی رائے کو مونوپولائز کریں۔ بالکل شفاف جمہوری نظام ان ممالک میں دیکھنے کو ملتا ہے چیزیں سو فیصد درست تو نہیں ہو سکتیں لیکن یہ ممالک شفافیت کے معیار کو آخری حد تک برقرار رکھنے کی بھرپور کوشش کرتے ہیں۔
اپنے وطن عزیز میں تو حالات سب کے سامنے ہیں گماشتہ سرمایہ داری نظام کے اندر ملک، اداروں، سرمایہ داروں اور امریکی سامراج کے ایجنٹوں کے ہاتھوں کھلونا بنا ہوا ہے۔ یہاں کے عوام کو انھوں نے مل کر یرغمال بنایا ہوا ہے۔ ایسے تمام حربے اپنائے جاتے ہیں اور ایسی تمام پالیسیاں بنائی جاتی ہیں جو اس ملک کے اشرافیہ کے حق میں سود مند ہوں اور عوام کے جسموں سے خون کے آخری قطرے تک کو نچوڑ لینے میں کارآمد ثابت ہوں۔ چند سیاسی مہرے اداروں کی پناہ میں پھلتے پھولتے ہیں اور سامراجی ایجنٹی کا کار خوب انجام دیتے ہیں۔
ملک عزیز کی تقریباً موجودہ تمام سیاسی جماعتیں جمہوریت کے ساتھ ساتھ سرمایہ دارانہ نظام کی بھی علمبردار ہیں۔ تمام کی تمام جماعتوں کا مقصد نہتے عوام کو لوٹ کر اپنے اور سرمایہ داروں کے تھیلے بھرنا ہے۔ مذہب، حب الوطنی، عقیدت پرستی، جذباتی کھوکھلے نعرے وغیرہ، سب ان جماعتوں کے سیاسی ہتھکنڈے ہیں جن کے بل بوتے پر یہ عوام کو بھٹکاتے اور ان کا استحصال کرتے ہیں۔
حقیقی جمہوریت کے لیے آزاد معیشت کا ہونا بنیادی فیکٹر ہے اور سرمایہ دارانہ نظام میں کبھی بھی معیشت آزاد نہیں ہو سکتی اوپر کے طبقے کے چند ہاتھوں میں معیشت ایک طوائف کی طرح ناچتی ہے اس لیے اب ناگزیر ہے کہ سرمایہ دارانہ نظام کو ملک سے دیس نکالا دیا جائے اور سوشلسٹ نظام حکومت قائم کر کے ملک میں حقیقی جمہوریت کو بنیادیں فراہم کی جائیں۔ اور سب سے اہم چیز۔
سوشلسٹ نظام کو لانے اور سرمایہ دارانہ نظام کو جڑوں سے اکھاڑ پھینکنے کے لیے واحد راستہ ”انقلاب“ ہے۔

