فلسطین پر اسرائیلی حملے، امریکی حمایت اور مسلمان حکمرانوں کی زبانی کلامی مذمت
امریکہ اور اس کے یورپی اتحادی غزہ پر وحشیانہ اسرائیلی حملوں کی حمایت کر رہے ہیں جبکہ امریکہ کے ٹاؤٹ مسلمان حکمران سعودی عرب قطر ترکی اور پاکستان زبانی کلامی مذمتی بیانات سے کام چلا رہے ہیں۔ او آئی سی اور عرب لیگ بھی مذمت کی ڈی بجا رہی ہیں اصل کمل تو ایران نے کر دکھایا ہے ایرانی انقلابی ملاؤں نے ذمے ی بیان کے ساتھ ٹویٹ کا حملہ بھی کیا ہے ایرانی وزیر خارجہ نے اپنے قطری ہم منصب سے مکالمہ بھی کیا
غزہ کی محصور پٹی پر تازہ اسرائیلی حملے بند ہو چکے ہیں مصر کی ثالثی میں جنگ بندی ہو چکی ہے
جمعہ کی شام 5 اگست کو اسلامی جہاد کے عسکری شاخ ”سرایا القدس“ کے بڑے کمانڈر تیسیر الجعبری کی شہادت سے غزہ کی پٹی میں محصور نہتے اور مظلوم فلسطینی شہریوں پر یک طرفہ فضائی حملوں کا سلسلہ شروع ہوا تھا
فلسطینی وزارت صحت کے مطابق تین روز تک جاری رہنے والے ان حملوں میں 15 بچوں سمیت 45 فلسطینی شہید اور کم از کم 350 زخمی ہوئے
فلسطین کی اسلامی جہاد تحریک کی عسکری شاخ نے غزہ کے خلاف اسرائیل کے تین روزہ آپریشن کے جواب میں اسرائیل کی تمام قصبوں اور شہروں کو نشانہ بنایا۔ جس کے بعد مصر کی ثالثی سے دونوں فریقوں کے درمیان جنگ بندی ہوئی۔
ایران، پاکستان، سعودی عرب، ترکی، الجزائر، تیونس، اردن، یمن، قطر اور کویت نے غزہ کے مظلوم عوام پر اسرائیلی غاصبانہ حملوں کی مذمت میں صرف خالی خولی بیانات جاری کیے اور کوئی عملی اقدام نہیں کیا
ترکی سمیت اسرائیل سے سفارتی تعلقات رکھنے والے کسی ملک نے اسرائیلی سفیر کو طلب کر کے احتجاج کرنے کی رحمت تک گوارا نہیں
اسلامی تعاون تنظیم نے اپنے روایتی منافقانہ مذمتی بیان میں غاصبانہ صیہونی حکومت کے حکام کو جنین کے گھناؤنے جرائم کا مکمل ذمہ دار قرار دیا۔
اسلامی تعاون تنظیم نے اس بات پر زور دیا کہ یہ جرم صیہونی حکومت کی فلسطینی عوام کے خلاف ظلم، جارحیت اور جاری دہشتگردانہ پالیسی کی مثال ہے
لیکن امریکی اشاروں پر نچانے والے (او آئی سی ) کے رکن مسلم ممالک کے ساتھ اب ایران کی اسلامی انقلابی حکومت بھئی اسرائیل کے خلاف کوئی عملی اقدام کرنے کی بجائے مذمتی بیان داغتی رہتی ہے
عرب لیگ نے غزہ کی پٹی پر اسرائیل کے حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ نہتے شہریوں کو نشانہ بنایا گیا عرب لیگ کے بیشتر رکن اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات رکھتے ہیں اور باقی ماندہ اسے تسلیم کرنے کے لئے مرے جا رہے ہیں
البتہ افغانستان کے طالبان حکومت نے غزہ پر اسرائیل حملوں کی مذمت کرتے ہوئے انہیں ”وحشیانہ“ قرار دیا اس سے زیادہ وہ کر بھی کیا سکتے تھے
رہے نام نہاد ایٹمی صلاحیت رکھنے والے پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف کے دفتر سے بھی مذمتی بیان میں کہا کہ پاکستانی وزیر اعظم نے غزہ کی پٹی میں اسرائیل کی دہشتگردانہ کارروائیوں اور وحشیانہ حملوں کی شدید مذمت کی
ایران کی وزارت خارجہ نے غزہ پر صیہونی نسل پرست حکومت کے وحشیانہ حملے اور مقاومتی کمانڈروں اور نہتے فلسطینیوں کے قتل کی شدید مذمت کی ہے۔
ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان نے مذمتی بیان کے ساتھ ساتھ ٹویٹ کرتے ہوئے صیہونی حکومت کے حملوں کے نتیجے میں فلسطینی بچوں کی شہادت پر ردعمل کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے لکھا: مشرقی غزہ میں شجاعیہ محلے میں رہنے والی پانچ سالہ بچی علاء قدوم غزہ کے خلاف اسرائیلی نسل پرست حکومت کے جاری حملوں میں صرف شہید بچوں میں سے ایک ہے۔
بدقسمتی کی بات ہے کہ انسانی حقوق کے جھوٹے دعویدار اپنے دفاع کے عنوان سے مقبوضہ ملک کے عوام کے خلاف قابض حکومت کے روزمرہ کے جرائم کی حمایت نہ کریں۔
اسلامی جمہوریہ ایران کے وزیر خارجہ نے اسلامی ممالک کے وزرائے خارجہ، اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل، اسلامی تعاون تنظیم کے سیکرٹری جنرل، غیر وابستہ تحریک کے سربراہ اور افریقی یونین کے سیکرٹری جنرل کو خط ارسال کیا اور انہیں غزہ پٹی کے حالیہ واقعات کے بارے میں اسلامی جمہوریہ ایران کی گہری تشویش سے آگاہ کیا۔
اپنے قطری ہم منصب کے ساتھ ٹیلی فون پر بات چیت میں ایران کے وزیر خارجہ نے ان حملوں کی مذمت کرتے ہوئے غزہ کی تازہ ترین صورتحال پر تبادلہ خیال کیا۔
تہران میں شہریوں کے گروپ نے فلسطین اسکوائر میں جمع ہو کر غزہ کے مظلوم عوام کے خلاف غاصب صیہونی حکومت کی حالیہ جارحیت اور جرائم کی مذمت کی جا سکے۔
امریکہ نے ایک بار پھر اسرائیل کی حمایت پر زور دیا مقبوضہ علاقوں میں امریکی سفیر نے کہا: ہم غزہ میں جو کچھ ہو رہا ہے اس سے آگاہ ہیں امریکہ غزہ کے خلاف جنگ میں صیہونی حکومت کی مکمل حمایت کرتا ہے
اسرائیلی وزیر دفاع بینی گانٹز، جو ہمیشہ بڑھکیں مارتا رہتا ہے، اس بار مزاحمتی گروہوں کی راکٹ طاقت کے مقابلے میں عبرتناک شکست اور غزہ میں تین روزہ جنگ میں شکست کو چھپانے کے لیے، دعویٰ کیا: ہم تہران سے خان یونس تک حفاظتی حملے کرنے کے لیے تیار ہیں
یورپی یونین نے مذمتی بیان میں کہا ہے کہ وہ غزہ اور اس کے آس پاس کی تازہ ترین صورتحال کا گہری تشویش کے ساتھ جائزہ لے رہا ہے، جہاں کشیدگی میں اضافے کے نتیجے میں پہلے ہی بہت سے جانی نقصان ہو چکا ہے۔ اس واقعے میں عام شہریوں اور ایک پانچ سالہ فلسطینی بچی سمیت متعدد افراد جاں بحق اور متعدد زخمی ہو گئے۔
لبنان کے مسلمان علماء نے اپنے بیان میں فلسطینی مزاحمتی تنظیم کی جانب سے صیہونی حکومت کی حالیہ جارحیت کے خلاف فیصلہ کن ردعمل کو سراہا ہے۔
لبنان کے مسلم علماء کے بیان میں اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ جب صرف ایک گروہ نے ایسا کیا، اگر صیہونی حکومت کے خلاف جنگ میں مزاحمت کا پورا محور حصہ لے تو صہیونی دشمن کے خلاف ایک عظیم فتح حاصل کی جائے گی اور اس حکومت کا زوال یقینی ہو گا۔
مغرب اور انسانی حقوق کا دعویٰ کرنے والے ممالک کی منافقت کے ساتھ ساتھ غزہ میں رونما ہونے والے سانحات پر بعض عرب حکومتوں کی خاموشی ہر آزاد انسان کا دل دکھتا ہے۔
غزہ پر صیہونی حکومت کے حالیہ حملے ابراہیم امن معاہدے کی ناکامی کی نشاندہی کرتے ہیں۔ اس معاہدے کا دعویٰ یہ تھا کہ اس سے اسرائیل اور فلسطین میں امن قائم ہو گا۔ لیکن حقیقت میں اس معاہدے کا امن سے کوئی تعلق نہیں ہے اور اس پر دستخط کے بعد سے صیہونی حکومت کے حملے اور جارحیت میں اضافہ ہوا ہے اور صیہونی حکومت ڈھٹائی سے فوجی ہتھیاروں کا استعمال کرتی رہتی ہے اور عالمی برادری کی حیران کن خاموشی کی روشنی میں مظلوم فلسطینیوں اور مقبوضہ زمینوں میں آباد کاری کا سلسلہ جاری ہے۔
صیہونی حکومت کی اس وحشیانہ جارحیت اور بربریت نے ظاہر کیا کہ صیہونیوں کو وہ زخم جو سیف القدس کی جنگ میں لگا تھا وہ ابھی بھرا نہیں ہوا ہے۔ غزہ سے یروشلم، مغربی کنارے اور 1948 کے مقبوضہ علاقوں تک فلسطینی گروہوں اور فلسطینی قوم کے درمیان مشترکہ محاذ کا قیام سیف القدس کی جنگ کی اہم ترین کامیابیوں میں سے ایک سمجھا جاتا ہے۔
اس نازک لمحے میں کہ جب دشمنان اسلام، دنیا کی مسلمان اقوام پر حملہ کر کے دوہرا ظلم ڈھا رہے ہیں اور اسلامی مقدسات کی توہین کے لیے متحد ہیں، امت اسلامیہ کو کلمہ طیبہ لا الہ الا اللہ کے جھنڈے تلے اکٹھے ہو کر وقت کے ظالموں کے ظلم کا مقابلہ کرنا چاہیے۔
غزہ کی پٹی اور فلسطین کے مظلوم عوام پر غاصب صیہونی حکومت کے حالیہ حملے اسرائیل کے ساتھ تعلقات کو معمول پر لانے کے لیے صیہونی حکومت کے حامیوں کی کوششوں کے خلاف مسلم ممالک کی بیداری اور چوکنا رہنے کی ضرورت کو ظاہر کرتے ہیں۔ جبکہ عالمی برادری میں بچوں کے قاتل حکومت کو تنہا کرنے کے لیے اس قابض حکومت کی زیادہ سے زیادہ مذمت اور پابندیاں لگانے کی ضرورت ہے۔
اس بات کی ضرورت ہے کہ اسلامی تعاون تنظیم جو دنیا میں مسلمانوں کے حقوق کی حمایت کرنے والی سب سے بڑی بین الاقوامی تنظیم ہے، خطے کی اقوام کے خلاف صیہونی حکومت کے جرائم کے حوالے سے زیادہ فعال کردار ادا کرے۔ چونکہ فلسطینی قوم کے حقوق کی حمایت اس تنظیم کا بنیادی فلسفہ رہا ہے، اس لیے توقع ہے کہ یہ مسئلہ او آئی سی کا مرکزی ایجنڈا بن جائے گا۔
امریکہ اور دیگر یورپی طاقتوں کی جانب سے اسرائیل کی نسل پرست حکومت کی حمایت نے اس غاصب حکومت کے لیے اپنے جرائم کو جاری رکھنے کا راستہ ہموار کر دیا ہے، کیونکہ اسے ان جرائم کی سزا کا سامنا نہیں کرنا پڑتا۔ اگر اسرائیل کو بیرون ملک سے ایسی حمایت (فوجی، سفارتی، اقتصادی وغیرہ) نہ ملتی تو اسے فلسطینیوں اور مقبوضہ علاقوں کے بارے میں اپنا رویہ اور نقطہ نظر بہت پہلے تبدیل کرنا پڑتا۔


