دکھ کی تصویر


ٹھنڈے برف پانی میں گلاب کا تیرتا ہوا پھول دیکھا ہے اپنے؟ حنوط شدہ تتلی دیکھی ہے آپ نے؟ اچھا زرد چہرے پر منجمند سسکی دیکھی ہے اپنے؟ اچھا دکھ کی تصویر دیکھی ہے آ گئی آپ نے؟ میں نے دیکھی ہے۔ دکھ کی یہ تصویر میری روح میں اتر گئی ہے۔ یہ تصویر میرے اندر خاموشی اور تاریکی کو بڑھا رہی ہے۔ اس منجمند برف چہرے نے میرے دل و دماغ کو سلگا دیا ہے۔ یہ بلوچستان کے سیلابی پانی میں ملنے والی ایما کا بے جان جسم ہے جس کے چہرے پر کبھی جگنو چمکتے تھے مگر اب اس چہرے پر خاموشی ہے۔

آنسو بے رنگ ہوتے ہیں اسی لئے اس بچی کے آنسوں نظر نہیں آرہے مگر پانی میں ڈوبے انسان کے آنسوں بھلا کیوں کر نظر آسکتے ہیں۔ دنیا میں سارے بچے ایک جسے ہوتے ہیں۔ نرم اور خوشبودار۔ سب بچوں کے ہونٹوں پر ایک سی مسکراہٹ ہوتی ہے۔ سب بچوں کے چہروں پر گلاب کھلتے ہیں جن کا لمس زندگی بن کر خون میں دوڑنے لگتا ہے۔ جن کی بند مٹھیوں میں دنیا سمٹی ہوتی ہے۔ ساری مائیں اپنے بچوں کے لئے ایک جیسے خوبصورت خواب بنتی ہیں۔ انھیں لوریاں سنانے کا خواب۔

ان کے بڑے ہونے کا خواب۔ ننھے ننھے قدم اٹھا کر آگے بڑھنے کا خواب۔ تتلیوں کے پیچھے بھاگنے کا خواب۔ مسکراتے چہرے کے ساتھ معصوم سوالات کا خواب۔ چڑیوں کی طرح چہکنے کا خواب۔ رنگوں کو سمجھنے اور روشنیوں کو پرکھنے کا خواب۔ مگر خواب مر چکا ہے۔ روشنی کی کرن بوجھ چکی ہے۔ ادھر دیکھیں یہ میری اور آپ کی بچی ہے۔ یہ پاکستان کی بچی کی لاش ہے۔ دیکھیں، یہ صرف ایک لاش نہیں ہے۔ اس کے ساتھ کتنی ساری اور بہت سی لاشیں نظر آ رہی ہیں۔

یہ ہماری اجتماعی انسانیت، محبت، غیرت اور حمیت کی لاشیں ہیں۔ یہ ہمارے ضمیر کی لاشیں ہیں۔ یہ ہمارے اخلاق اور حقوق العباد کی لاشیں ہیں۔ میدڈیٹرینین سی کے کنارے ایلن کرد کی لاش دیکھ کر پوری دنیا درد و الم کی کیفیت میں مبتلا ہو گئی تھی جن میں میرے پاکستانی بہن بھائی بھی شامل تھے۔ مگر مرے ملک کے لوگوں کو یہ بچی اور اس کی لاش نظر ہی نہیں آتی۔ میرے ملک کے برساتی سیلاب میں فوت ہو جانے والے قریباً ساڑھے پانچ سو انسان نظر نہیں آتے۔ اپنے ملک کے بے گھر، بیمار، لاچار اور بے یارومددگار انسان نظر نہیں آتے۔ ان کے ٹوٹے اور بکھرے ہوئے گھر اور مال مویشی نظر نہیں آتے۔ ان کے اجڑے کھیت اور کھلیان نظر نہیں آتے۔ نہیں آتے نا۔ کیوں کے امیر شہر کو اونچا سنائی دیتا ہے اور ہم وطن کم نظری کا شکار ہیں۔

کہاں ہیں اس وقت وہ پیپلز پارٹی، مسلم لیگ نون اور تحریک انصاف کے کارکن، وہ ٹائیگر فورس، وہ جلسے جلوسوں اور دھرنوں کے شرکاء وہ موسیقی سے مزین بدزبانی بدکلامی سے لبریز تقاریر پر سر دھننے اور ناچنے والے کہاں ہیں؟ کوئی نہیں ہے۔ جب میرا ملک سیلابی پانیوں میں ڈوب رہا ہے تو ایسے میں سازش کرپشن عدم اعتماد عدلیہ نیوٹرلز چور ڈاکو توشہ خانہ اور الیکشن کی کیا زیادہ اہمیت ہے؟ کیا یہی ہمارے مسائل ہیں؟ کاش جلسے جلوسوں میں نظر آنے والے شرکاء کا دسواں حصہ بھی سیلاب زدگان کی مدد کے لئے نکل پڑے۔ مگر یہ سب بہت مشکل ہے۔ کیا بصارت اور سماعت سے محروم انسانوں کے لئے یہ ممکن ہے؟ بس یہی ایک خیال ہے پریشان مجھ میں کے کیا ہم ایک مردہ قوم ہیں۔

Facebook Comments HS

One thought on “دکھ کی تصویر

  • 16/08/2022 at 12:14 شام
    Permalink

    ہم کس کس المیہ پر ماتم کریں ، لگتا ہیے کہ شاید اب ہم عادی ہو چکے ہیں ، ہر کسی روز رونما ہونے والے ایسے المیے کے ، بیے حس ہو چکے ہیں ۔ مگر افسوس ۔۔۔۔ کہ
    ڈاکٹر صاحبہ کا یہ مظمون نہ ارباب اختیار پر کوئ اثر کریگا اور نہ معاشرے پر ۔۔۔۔۔۔ کیونکہ جب صاحب اقدار چور ، ڈاکو ہوں تو معاشرہ بھی ایک ریوڑ بن جاتا ہیے ، ایک قوم نہیں ۔
    مضمون میں بیان کیا گیا دلخراش منظر کسی بھی فرد / قوم کے ضمیر کو جھجھونڈنے کے لئے بہت ہیے ۔

Comments are closed.