آزادی پاکستان کے لیے قربانی کی ایک مثال


قیام پاکستان جہاں ایک خوش نما حقیقت ہے وہیں اپنے دامن میں کرب و الم کی ایک تاریخ سموئے ہوئے ہے۔ مملکت خداداد پاکستان کے قیام کے ایام میں مسلمانوں نے جن حالات کا سامنا کیا ہے وہ یقیناً ہمارے آباء و اجداد کا ہی حوصلہ تھا۔ بالخصوص وہ مسلمان جو تقسیم کے بعد سرزمین ہند میں مقیم تھے ان کے لیے زندگی کٹھن ہو گئی۔ ہجرت مدینہ کی تمثیل پیش کرتی یہ ہجرت اپنے گھر بار اور پیاروں سے جدائی کا دردناک لمحہ تھا۔ اس دورانیے نے ہزاروں دردناک اور سبق آموز تاریخی حقائق مرتب کیے۔ آج کی نوجوان نسل کے لیے ان حقائق میں سوچنے اور غور و فکر کرنے کے بے شمار مواقع ہیں۔ اپنے بڑوں کے نقش قدم پر چل کر اسلام اور اسلامی اقدار کی حفاظت کے لیے تجدید عہد کی دعوت ہے۔

ایک بڑا مشہور واقعہ کی مثال دے کر قارئین کے گوش گزار کرتا ہوں

تقریب نکاح جاری تھی۔ نکاح خواں نے دلہا سے اس کا نام پوچھ کر لکھا اور پھر اس کے والد کا نام پوچھا۔ دلہا اس سوال سے گھبرا گیا اور نکاح خواں سے کہا :

”ہم گھر میں دو افراد ( ماں بیٹا) ہیں میں نے کبھی اپنی والدہ سے اپنے والد کا نام پوچھا ہی نہیں لہٰذا میں اپنی والدہ سے پوچھ کر آتا ہوں۔ “

یہ کہا اور گھر چلا‌ گیا۔ محفل میں موجود لوگوں میں سے کسی کو بھی اس کے والد کا نام معلوم نہ تھا۔ گھر میں داخل ہو کر اس نے والدہ سے اپنے والد کا نام پوچھا۔ والدہ بھی گھبرا گئی اور گم سم خاموش۔ دلہا نے کئی بار اپنی والدہ سے پوچھا اور آخر کار شدید طیش میں آ گیا اور غصے میں اپنی ماں سے نہ جانے کیا کیا اول فول بکتا رہا۔ گھر میں جمع تمام عورتیں بھی خاموشی سے ماں بیٹے کا مکالمہ سنتی رہیں اور حیران تھیں کہ، آج تک یہ سوال کرنے کا خیال ہمیں کیوں نہیں آیا۔ جبکہ ماں بیٹے کی زندگی اسی محلے میں گزری ہے۔ یہ چھوٹا سا تھا جب سے ہم ان دونوں کو اپنی گلی میں اسی مکان میں دیکھ رہے ہیں۔ اس عورت نے شاید اپنے بچے کو اسکول بھی اسی لیے داخل نہیں کروایا کہ اس کے باپ کا نام تو جانتی نہیں۔ اچانک اس نے اپنی ماں سے کہا :

” اگر تو مجھے میرے باپ کا نام نہیں بتا سکتی، تو اس شرمندگی کی زندگی سے بہتر ہے میں خود کشی کر لوں۔ “

جیسے ہی ماں نے بیٹے کے یہ الفاظ سنے، تو تڑپ اٹھی اور بھاگ کر اسے روکا اور کہا :
” میری بات سن لو پھر جو جی میں آئے
کرلینا ”

چند عورتیں آگے بڑھیں اور جوان کو اپنے اقدام سے روک لیا کہ پہلے اس کی بات تو سنو۔ پورے گھر میں خاموشی طاری تھی سبھی اس عورت کے لب ہلنے کے منتظر تھے کہ وہ گویا ہوئی :

” پاکستان بننے کے بعد ہمارے والد، چچا، بھائیوں اور خاندان کے تمام مرد و عورت ہجرت کر کے پاکستان کے لئے عازم سفر ہوئے، راستے میں کسی جگہ ہمارے قافلے پر ہندو بلوائیوں نے حملہ کر دیا۔ ہمارے مرد جان توڑ کر لڑے، لیکن ان کی تعداد اور اسلحہ کی وجہ سے ہماری حفاظت نہ کر سکے اور سب شہید ہو گئے۔ لڑائی کے دوران میرے والد نے رات کے اندھیرے کا فائدہ اٹھا کر ہم عورتوں کو نکالنا چاہا، لیکن میرے علا‌وہ کسی کو بھی بچانے میں کامیاب نہ ہو سکے۔

میرے خاندان کی باقی عورتوں کا کیا حال ہوا میں نہیں جانتی۔ مردوں اور عورتوں میں سے کوئی زندہ بچا بھی، یا نہیں۔ مجھے کچھ پتہ نہیں۔ وہاں سے بھاگنے کے بعد میں انتہائی خوفزدہ حالت میں دن تو چھپ کر گزار دیتی، اور رات کو اللہ کا نام لے کر اس راستے پر چل پڑتی۔ جو روانگی سے پہلے ہمارے مرد حضرات آپس میں تذکرہ کرتے رہتے تھے۔ ایک رات دوران سفر میں نے کسی جگہ پہ ایک بچے کے رونے کی آواز سنی۔ آگے جا کر دیکھا تو کئی لا‌شوں کے درمیان ایک شیر خوار بچہ پڑا ہوا تھا۔

میں نے اسے اٹھا لیا، سینے سے لگائے سفر کرتی آخر کار پاکستان پہنچ گئی۔ مہاجر کیمپوں میں کسی جگہ بھی مجھے اپنے خاندان کا کوئی فرد نظر نہ آیا۔ اور یوں میری دنیا صرف میرے اور اس بچے تک محدود رہ گئی۔ میری عمر کم تھی اور ابھی میری شادی بھی نہ ہوئی تھی۔ اپنی باقی زندگی میں نے اس بچے کی خاطر تنہا ہی گزار دی اور آج وہ بچہ میرے سامنے کھڑا ہے۔ اب بتاؤ رات کے اندھیرے میں لا‌شوں کے درمیان سے اٹھائے گئے بچے کا نام مجھے کون بتاتا۔ ؟“

ماں کی بات مکمل ہونے تک ہر آنکھ اشکبار تھی، اور وہ بیٹا جو کچھ دیر پہلے ماں کو جلی کٹی سنا رہا تھا، حیرت اور ممنونیت کا پہاڑ بنا کھڑا تھا۔ پھر شرمندگی کے ساتھ آگے بڑھا اور اس عورت کے احسانات کا بوجھ اٹھائے اس کے قدموں میں گر گیا۔

آج جب میں اپنی نوجوان نسل کو آزادی کی حیرت انگیز خوشیاں مناتے ہوئے دیکھتا ہوں، تو مجھے وہ ماں اور اس جیسی قربان ہونے والی لا‌کھوں جانیں یاد آ جاتی ہیں۔ جو اپنی محنت کی کمائی دیکھے بغیر اس دنیا سے چلی گئیں۔

زیر نظر واقعہ سے جہاں ہمیں اسلامی تشخص کے کیے قربانیوں کا سبق ملتا ہے وہیں اس قدر گراں قربانیاں پیش کر کے حاصل کی گئی ریاست کی تعمیر، تطہیر و ترقی کی بابت تن من دھن کی بازی لگانے کا عندیہ ہے۔ ہمیں اپنے بچوں کو ان قربانیوں سے آشنا رکھ کر تربیت کرنے کی ضرورت ہے اور اس مقدس دن کی یاد میں اپنے بزرگوں کی قربانیوں کا مذاق بنانے اور لہو و لعب میں مبتلا ہونے کے بہ جائے حقیقی معنوں میں صفت شکر اجاگر کرنے کی ضرورت ہے۔