پاکستان کی حقیقی آزادی


پاکستان تحریک انصاف کے بانی رہنما عمران خان کی دو عشروں سے زائد جدوجہد کے نتیجے میں انہیں 2018 ء کے انتخابات میں محدود کامیابی کے بعد چند چھوٹی سیاسی جماعتوں سے مل کر حکومت بنانے کا موقع ملا۔ حکومت ملتے ہی عمران خان کو معلوم ہوا کہ یہاں تو معیشت کا بیڑا ہی غرق ہوا پڑا ہے جسے سنبھالنے میں ذرا وقت لگا اور لڑکھڑاتی معیشت کو ابھی کھڑا ہی کرنے لگے تھے کہ سر منڈواتے ہی اولے پڑنے والا معاملہ کچھ یوں ہوا کہ عالمی وبا کرونا نے پاکستان کو بھی اپنی زد میں لے لیا۔ کرونائی حالات سے تو عمران خان نے کمال حکمت عملی سے نمٹ لیا مگر جب عالمی مالیاتی بحران بڑھا تو مہنگائی کی زد میں پاکستان بھی آ گیا ایسے میں اپوزیشن اور بیشتر میڈیا عناصر کو بھرپور تنقید کا موقع مل گیا اور سازشی عناصر بھی گٹھ جوڑ میں جت گئے۔

عمران خان کی کرپشن کے خلاف جارحانہ سیاست نے اسٹیٹس کو کی تمام جماعتوں کو چاروں شانے چت کر دیا تو ایسے میں بظاہر ہمارے دوست مگر ازل سے دوستی کی آڑ میں اپنا مطلب نکالے والے دشمن نما دوست نے پاکستان کی اسٹیبلشمنٹ اور اسٹیٹس کو کی جماعتوں سے مل کر رجیم چینج کا پلان بنایا اور عمران خان کی حکومت کو چلتا کیا۔ پاکستان میں تمام سیاسی جماعتوں کے گٹھ جوڑ سے ایک نئی حکومت وجود میں آ گئی مگر عمران خان نے اسے تسلیم کرنے سے انکار کیا اور ایک تحریک کا آغاز کر دیا۔ عمران خان کی آواز پر لبیک کہتے ہوئے عوام اٹھ کھڑے ہوئے اور قوم یکجا ہو گئی۔ اس وقت پاکستان کا بچہ بچہ اس رجیم چینج کے خلاف ہے اور تازہ انتخابات چاہتا ہے۔

امریکی سازش، پاکستانی اسٹیبلشمنٹ اور اسٹیٹس کو کی تمام جماعتوں کے گٹھ جوڑ کو جس میں تمام ملکی ادارے بھی ان کی پشت پر کھڑے ہیں کو قوم نے مسترد کر دیا ہے۔ قوم عمران خان کی آواز پر لبیک کہتے ہوئے اٹھ کھڑی ہوئی ہے۔ ایک طرف حکومت کی فسطائیت ہے تو دوسری طرف عوام کی جمہوری جد و جہد، اب دیکھتے ہیں اس چودہ اگست کے بعد پاکستان کا سورج کس طرح کی فضا میں طلوع ہوتا ہے۔ کیا حقیقی آزادی کی سحر پھوٹتی ہے یا وہی پرانی سازشوں کی اندھیروں کا راج برقرار رہتا ہے۔

گو کہ پاکستان چودہ اگست 1947 ء کو آزاد ہوا مگر حقیقت میں آج بھی آزاد نہیں ہے اور عمران خان نے جگہ جگہ جلسے کر کے، ایک تحریک چلا کر عوام میں یہ شعور بیدار کیا ہے کہ پاکستان کو حقیقی آزادی دلانی ہے۔ افسوس پاکستان پچھتر برسوں سے آمریت، آئین شکنی اور لوٹ مار کے کے آسیب سے نجات حاصل نہیں کر پایا۔

ایسے میں آئیے جائزہ لیتے ہیں کہ پاکستان میں کب کب سازشیں یا رجیم چینج کی کوششیں ہوئیں اور ان میں سے کتنی کامیاب اور کتنی ناکام ہوئیں۔

پاکستان کو نقشۂ عالم پر وجود میں آئے پچھتر برس ہو چکے ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ پاکستان ایک نظریاتی ملک ہے جس کی بنیاد نعرۂ لا الہٰ ہے۔ دوقومی نظریے کی بنیاد پر قائم ہونے والا ملک، مملکت خداداد پاکستان شروع سے ہی تضادات کا مظہر بن گیا۔ پاکستان جو بظاہر اسلام کے نام پر حاصل کیا گیا تھا اور جس کے حصول کے لئے جمہوری جدوجہد کا راستہ اپنایا گیا تھا ابتداء ہی سے اپنی پٹری سے اتر گیا۔ اسلام جو ایک نعرہ تھا بس نعرہ ہی بن کر رہ گیا، جمہوریت جس کے ذریعے یہ ملک حاصل کیا گیا سرے سے ہی لپیٹ دی گئی۔

پاکستان، اسلام تو کیا کسی بھی آئین کے بغیر چلنا شروع ہوا اور آئین کے بنتے بنتے بہت سارے اتار چڑھاؤ کا شکار ہو گیا۔ آئین سازی میں بھی لوگوں نے اپنے اپنے مفادات کو ملحوظ خاطر رکھا اور انہی مفادات کے پیش نظر کبھی باسٹھ تو کبھی تہتر کے آئین کو نافذ کیا گیا۔ معروف تاریخ دان فیصل دیوجی کے مطابق پاکستان کی تاریخ ایک دائروں کا سفر ہے۔ یہاں اقتدار فوج اور سیاستدانوں کے بیچ ایک کھلونا ہے جو کبھی ایک کے ہاتھ میں ہوتا ہے تو کبھی دوسرے کے۔

پاکستان کی پچھتر سالہ تاریخ میں تینتیس سال ملکی فوج نے براہ راست اور کئی سال سیاسی چہروں کے پیچھے سے وطن عزیز پر حکمرانی کی ہے۔ کل ملا کر چار فوجی آمر ہیں جو ملک کے لمبے عرصے تک سربراہ رہے جن میں سب سے پہلے جنرل ایوب خان تھے جن کا اقتدار 1958 ء سے 1969 ء تک جاری رہا۔ جنرل ایوب نے گو کہ پاکستان کو بہت سارے ترقیاتی منصوبے دیے مگر جاتے جاتے اپنے ہی بنائے ہوئے آئین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے اقتدار اس وقت کے سپیکر اسمبلی کو منتقل کرنے کی بجائے جنرل یحیٰی خان کو سونپ دیا جس کی ناعاقبت اندیشی کی وجہ سے پاکستان دولخت ہوا اور اندرا گاندھی کو موقع ملا کہ وہ پاکستان سے کہہ سکے کہ اس نے دو قومی نظریے کو خلیج بنگال میں ڈبو دیا ہے۔

سقوط ڈھاکہ اور بنگلہ دیش بنانے میں تین کردار اہم تھے، مجیب بھٹو اور یحیٰی جبکہ ہندو دشمن نے بھرپور فائدہ اٹھایا اور پاکستان کو نہ صرف شکست کا سامنا کرنا پڑا بلکہ بنگال سے ہاتھ بھی دھونے پڑے۔

بچے کچھ پاکستان میں بھٹو نے پہلے سول مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر کی حیثیت سے ملک سنبھالا اور بعد ازاں منتخب وزیر اعظم بن کر ملک کو تہتر کا آئین دیا مگر چند ہی برسوں بعد ایک اور طالع آزما نے ملک کی باگ ڈور سنبھال لی۔ بھٹو کو پھانسی چڑھا دیا گیا اور 1977 ء سے 1988 ء تک جنرل ضیا الحق نے ملک پر حکومت کی۔ جنرل ضیا نے اسلام کے نام پر عوام کو بیوقوف تو بنایا مگر اسلام کی حقیقی روح سے پاکستان محروم رہا۔ جنرل ضیاء کے بعد مسلم لیگ کی قیادت شریف خاندان کے پاس آ گئی جبکہ بھٹو کی جانشینی بے نظیر کو حاصل ہوئی۔

نواز شریف اور بے نظیر نے باری باری ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کی جنگ شروع کر دی اور ایک دوسرے پر کرپشن کے الزامات لگاتے لگاتے میوزیکل چیئر کا کھیل کھیلتے رہے جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ کہ ان دونوں میں کرپشن کے الزامات کی جنگ جاری رہی اور وہ وقت بھی آن پہنچا جب جنرل مشرف کے کارگل میں جنگ چھیڑنے کے معاملے پر نواز شرف اور جنرل پرویز مشرف میں اختلافات گہرے ہو گئے اور مشرف کے طیارہ سازش کیس والا معاملہ سامنے آ گیا ان حالات کا جنرل مشرف نے فائدہ اٹھایا اور اکتوبر 1999 ء میں اقتدار پر قبضہ کر لیا جو کہ اگست 2008 ء تک جاری رہا۔

چار مارشل لاء تو وہ ہیں جن کے بارے میں سب کو علم ہے۔ اس کے علاوہ بھی کم از کم پانچ مرتبہ مختلف ادوار میں ملک پر قبضے کی کوششیں ہوئیں لیکن یہ کامیاب نہ ہو سکیں۔ ان میں سب سے پہلی فوجی بغاوت کی کوشش 1951 ء میں ہوئی۔ جنرل اکبر خان، راولپنڈی سازش کیس۔ اس ناکام کوشش میں جنرل اکبر کو بائیں بازو کے لیڈروں، دانشوروں اور طلباء کا ساتھ حاصل تھا۔

انہی میں فیض احمد فیض، سجاد ظہیر اور ظفر اللہ پوشنی بھی شامل تھے۔ چند برس پہلے اکتوبر میں نیا دور سے بات کرتے ہوئے ظفر اللہ پوشنی نے اس حوالے سے ایک انٹرویو دیا تھا جس میں انہوں نے بتایا کہ بائیں بازو کے سیاستدانوں نے فوج کو آخری اجلاس میں بتا دیا تھا کہ وہ حکومت پر اس فوج کشی کا حصہ بننا نہیں چاہتے۔ بہرحال جنرل اکبر کے ایک ماتحت افسر کی مخبری پر یہ کوشش ناکام ہوئی اور فوجی و سولین کرداروں کو جیل کی ہوا کھانا پڑی۔

اگلی ناکام کوشش کی طرف چلتے ہیں جو کہ ذوالفقار علی بھٹو کے دور میں ہوئی۔

اس سازش کا نام ہے، برگیڈیئر علی Bonapartists کی سازش۔ 1973 ء میں بھٹو کی حکومت کے خلاف ایک سازش ہوئی جو پکڑی گئی اور تمام افسروں کو سزائیں ہوئی اور سزا دینے والا ہی بعد میں اس ملک کا حاکم بن گیا اور حکمران بنتے ہی اس نے ان ملزمان کو رہا بھی کر دیا۔ اس حکمران کا نام تھا جنرل ضیاء الحق۔ اور حالات کی ستم ظریفی دیکھئے کہ جنرل ضیا الحق نے 1976 ء میں تجمل حسین ملک نامی ایک میجر جنرل کو اس بنیاد پر فوج سے جبری ریٹائر کروا دیا تھا کہ یہ بھٹو حکومت کے خلاف تھا۔

لیکن 1977 ء میں خود ہی اقتدار پر قبضہ کر لیا۔ تاہم، 1980 ء میں تجمل حسین ملک نے چند حاضر سروس افسران کی حمایت حاصل کی اور ایک اسلامی انقلاب کے نام پر 23 مارچ کی پریڈ کے موقع پر جنرل ضیا کے قتل کا منصوبہ بنایا تاکہ اس کی جعلی اسلامی حکومت کی جگہ ایک اصلی اسلامی حکومت لائی جا سکے۔ 2001 ء میں ایک انٹرویو کے دوران ریٹائرڈ میجر جنرل تجمل ملک نے کہا کہ وہ خلفائے راشدین جیسی حکومت واپس لانا چاہتا تھا، لیکن اس منصوبے کا علم حکومت کو ہو گیا اور ان تمام افسران اور تجمل ملک کو گرفتار کر لیا گیا۔ 1988 ء میں بینظیر بھٹو حکومت نے اقتدار میں آنے کے بعد انہیں رہا کر دیا۔

جنرل ضیاء دور میں ہی ایک اور سازش ہوتی ہے رضا کاظم اور غلام مصطفی کھر کے مارکسی انقلاب، 1984 کی سازش۔ جنرل تجمل ملک کی اقتدار پر قبضے کی کوشش تو ناکام ہو گئی لیکن اس کے چار سال بعد ایک مرتبہ پھر جنرل ضیا ء کا تختہ الٹنے کی ایک کوشش ہوئی۔ اس مرتبہ یہ کوشش بائیں بازو کی طرف سے ہوئی۔ رضا کاظم کے مطابق منصوبہ یہ تھا کہ حکومت کا تخت الٹ کر میجر آفتاب اقتدار پر قبضہ کر لے گا لیکن پھر اچانک انہوں نے رضا کاظم سے رابطے ختم کر دیے۔ انہیں کافی عرصے بعد پتہ چلا کہ اس منصوبے سے متعلق جنرل ضیا کو پتہ چل گیا تھا۔ ان تمام افسران کو گرفتار کر لیا گیا اور پانچ، پانچ سال کی سزائیں سنا دی گئیں۔

پاکستان میں سازشوں کا سلسلہ تھما نہیں اور بے نظیر دور میں بریگیڈیئر مستنصر با اللہ، ایک اور اسلامی انقلاب، 1995 ء کی سازش سامنے آ گئی۔ یہ واقعہ بینظیر بھٹو کے دوسرے دور اقتدار میں پیش آیا۔ فوج کے اندر حزب التحریر سے متاثر فوجی افسران کی ایک تعداد موجود تھی۔ حزب التحریر کا دنیا بھر میں اسلامی خلافت قائم کرنے کا منصوبہ ہی یہ ہے کہ مسلمان ممالک کی افواج کے اندر سے اچھے اور سچے مسلمان، فوج کے سینیئر افسران کے خلاف بغاوت کر کے حکومتوں پر قبضے کریں۔

انہی میں سے ایک بریگیڈیئر مستنصر با اللہ بھی تھا جس نے 1995 ء میں برگیڈیئر ظہیر عباسی اور مذہبی عالم دین قاری سیف اللہ کی مدد سے بینظیر بھٹو حکومت الٹنے کا منصوبہ بنایا۔ ان کا منصوبہ یہ تھا کہ آرمی چیف عبدالوحید کاکڑ کو نکال کر وہ فوج کی کمان سنبھالیں گے اور پھر حکومت پر قبضہ کر لیں گے۔ لیکن فوجی انٹیلی جنس نے جنرل کاکڑ کو اس منصوبے سے آگاہ کر دیا اور یہ تمام افراد گرفتار ہو گئے۔ ان کو رقم اسامہ بن لادن کی جانب سے دی جا رہی تھی۔ ان کا ارادہ یہ تھا کہ بینظیر بھٹو کو قتل کیا جائے گا اور آرمی چیف کو ان کے عہدے سے علیحدہ کر دیا جائے گا۔

اب ذرا آگے بڑھتے ہیں اور عمران خان کی حکومت کے خلاف کی گئی تازہ سازش سے پہلے غالباً پاکستانی تاریخ کی آخری سازش کا ذکر کرتے ہیں یہ سازش در اصل بریگیڈیئر علی خان، حزب التحریر کا ایک اور ناکام وار تھی جو 2012 ء میں تیار ہوئی۔ مبینہ طور پر مارشل لا کی آخری ناکام کوشش جس کے بارے میں تاحال علم ہو سکا ہے وہ 2012 ء میں کی گئی۔ جنرل اشفاق پرویز کیانی اس وقت فوج کے سربراہ تھے اور جنرل احمد شجاع پاشا آئی ایس آئی کے سربراہ۔ حزب التحریر سے تعلق رکھنے والے چند افسران کو ایک بار پھر ایک اسلامی انقلاب سوجھا۔ ان میں بریگیڈیئر علی خان اور چار دیگر فوجی افسران کو ملوث پایا گیا اور ایک فوجی عدالت نے بریگیڈیئر علی خان، میجر سہیل اکبر، میجر جواد بصیر، میجر عنایت عزیز اور میجر افتخار کو قید و بند کی سزائیں سنائیں۔

اوپر بیان کردہ تمام کامیاب و ناکام رجیم چینج واقعات کو دیکھیں تو معلوم ہوتا ہے کہ پاکستان آج بھی تذبذب کا شکار ہے۔ یہاں جمہوریت کبھی پنپ ہی نہیں سکی، سازشیں مسلسل ہوتی رہیں، تجربات ہوتے رہے، آئین کو اپنے اپنے مفادات کے لئے استعمال کیا جاتا رہا۔

آج پاکستان میں بظاہر جمہوری حکومت ہے مگر اس کے تانے بانے امریکہ میں بنے جاتے ہیں، پاکستانی اسٹیبلشمنٹ امریکی سازش کا حصہ بنتی ہے، منتخب نمائندوں کی خرید و فروخت ہوتی ہے، کثیر الجماعتی گٹھ جوڑ ہوتا ہے اور ایک چلتی حکومت کو چلتا کیا جاتا ہے۔ قوم آج کے مقبول لیڈر عمران خان کی قیادت میں سڑکوں پر ہے اور ایک ہی مطالبہ ہے کہ ملک میں صاف اور شفاف انتخابات کرائے جائیں تاکہ ملک حقیقی معنوں میں جمہوری رستے پر رواں ہو سکے اور آئین قانون کی بالادستی قائم ہو سکے۔

آج سے پچھتر برس پہلے کوشش تھی ایک آزاد ملک کے حصول کی جس کا خواب دیکھا تھا اقبال نے اور تعبیر دی تھی قائد اعظم نے۔ پاکستان مل تو گیا مگر اپنی نا عاقبت اندیشیوں سے ہم آدھا تو گنوا چکے اب باقی آدھے کی آزادی پر بھی کمپرومائز کیا جا رہا ہے۔

آج ایک مرد حر پاکستان کی حقیقی آزادی کے لئے کوشاں ہے، اس مرد حر کا نام ہے عمران خان۔ عمران خان ایک ایسا پاکستان چاہتا ہے جہاں فیصلے قوم کے اپنے ہاتھ میں ہوں، داخلی معاملات میں کوئی مداخلت نہ کرے اور خارجہ پالیسی آزاد ہو۔ کرپشن لوٹ مار اور مفاد پرستی سے پاک پاکستان۔ ایک ایسا آزاد پاکستان جہاں تعلیم، صحت اور روزگار سب کا یکساں نصیب ہوں۔

آئیے آج پاکستان کے پچھہترویں یوم آزادی پر عہد کریں کہ اس ملک کی حقیقی آزادی کے لئے سب یکجان ہو کر جہاد کریں گے اور پاکستان کو اندرونی و بیرونی استبداد سے آزاد کروا کے چھوڑیں گے۔

Facebook Comments HS