شادی شدہ لڑکی
نگہت کی شادی کے ڈنر سے واپسی پر راستے میں میرے میاں نے تشویش سے کہا ”تمہاری دوست نے سوچ سمجھ کر فیصلہ کیا ہے یا بس یونہی“ ۔ اندیشے تو مجھے بھی تھے۔
سلطان تین مہینے گزار کر روانہ ہو گیا اور نگہت نے خوشخبری سنائی کہ وہ پریگنینٹ ہے۔ جتنی جلدی اسے شادی کی تھی اتنی ہے ماں بننے کی۔ اب وہ سلطان کے پرمانینٹ ویزا کے لیے پریشان تھی۔ مشورے میں دینا نہیں چاہتی تھی اس لیے یہی کہا کہ ”پرمانینٹ ویزا ناممکن نہیں، ملنے میں کچھ وقت لگ جائے گا“
”جانتی ہوں۔ بھگت چکی ہوں“ وہ تلخ ہو گئی۔
ڈیلیوری کے دن نزدیک تھے سلطان بھی آ گیا۔ اور ایک روز صبح صبح نگہت کا مسیج آیا۔ ”میں اسپتال میں ہوں جلدی آئیں آپ کو کسی سے ملوانا ہے۔“
میں پہلی فرصت میں اسپتال پہنچی۔ نگہت بیٹے کو گود میں لیے بیٹھی تھی اور بہت خوش تھی۔ خوشی تو مجھے بھی بہت ہوئی۔ ”باجی یہ سالار ہے“ پیارا سا گول مٹول بچہ۔ میں نے پیار کیا۔ مبارکباد دی۔
میں اس چھوٹی سی فیملی کو پرائیویسی دینا چاہتی تھی اس لیے ذرا کم کم ہی ملی۔ کچھ ماہ بعد سلطان واپس چلا گیا۔ اس کے جاتے ہی نگہت کا فون آیا۔
” باجی مجھ سے ملیں۔ بہت ضروری بات کرنی ہے“ ایک تو نگہت کی ضروری باتیں ختم ہی نہیں ہوتیں کچھ نہ کچھ چلتا ہی رہتا ہے۔ خیر میں وقت نکال کر ملنے پہنچ گئی۔
”میں نے بہت بڑی غلطی کی سلطان سے شادی کر کے۔ اسے ٹھیک سے جانے بغیر اس پر اعتبار کر لیا۔ اور اب آپ یہ کہیں گی میں تو پہلے ہی کہہ دیا تھا۔“
کہنا تو میں یہی چاہ رہی لیکن یہ اس کے زخموں پر نمک چھڑکنا ہو گا۔
” میں سلطان کو چھوڑ رہی ہوں۔ بس بہت ہو گیا۔ بالکل نکما ہے وہ۔ میں پیسے بھیج بھیج کر تنگ آ گئی ہوں۔ اسپین میں کام نہیں بنا۔ بے کار بیٹھا ہے مہینوں سے۔ بے غیرت بھی ہے۔ بار بار بہانے بہانے سے پیسے مانگتا ہے۔ کبھی بہن کی شادی کبھی ابا کا آپریشن۔ اسپین بھی پیسے بھیجتی ہوں۔ یہاں آنے جانے کا ٹکٹ بھی اور ڈھیروں شاپنگ بھی۔ وعدہ وہ یہ کرتا کہ اس کی زمین ہے وہ بیچ کر سارا قرض اتار دے گا۔ سب جھوٹ تھا۔ ایک ٹکے کی چیز نہ کبھی میرے لیے لایا نہ سالار کے لیے۔“
میرے دماغ میں ایک کروڑ روپے اور بیس تولے سونے کا حق مہر کلبلایا لیکن جلتی پر تیل کیا چھڑکنا۔
”سلطان کے پاس نہ تعلیم ہے نہ کوئی ہنر۔ یہاں اگر آ بھی گیا تو کرے گا کیا؟ مجھے ہی پالنا پڑے گا۔ اسپین میں زندگی سنوارنے کا خواب پورا نہ ہوا۔ اب وہ واپس پاکستان جا رہا ہے۔ کہتا ہے کہ یا تو جلدی مجھے بلاؤ یا گھر بیچ کر پاکستان آ جاؤ۔ وہاں ایک گھر خرید لیں اور باقی پیسوں سے کوئی کاروبار کر لیں۔ یہ تو نہیں ہو سکتا نا؟“
”اب یہ بھی بتا ہی دو کہ تم جو اتنی سمجھدار تھیں اتنی جلدبازی میں اتنا غلط فیصلہ کیوں کیا؟“
وہ ذرا ہچکچائی۔
” ندیم بہت تنگ کر رہا تھا۔ مجھے کوئی سہارا چاہیے تھا۔ یہ بھی لگا کہ مجھے سلطان سے محبت ہو گئی۔ اچھا اب چھوڑیں نا ہو گئی مجھ سے غلطی“
نگہت نے سلطان سے طلاق حاصل کر لی اور بچے کی فل کسٹڈی بھی۔ طلاق کی سلطان نے بھاری قیمت لگائی جو نگہت کو دینی پڑی۔
” سزا یافتہ کے ساتھ ایک اور ٹھپا لگ گیا مجھ پر طلاق یافتہ“ اس نے اداسی سے کہا۔
یہ قصہ تمام ہوا۔ نگہت اپنے کام اور سالار کو پالنے میں مشغول ہو گئی۔ لگا کہ اس کی زندگی پرسکون ہو گئی۔
اور چند ماہ بعد ایک بار پھر نگہت کو مجھ سے بہت ضروری بات کرنی تھی۔ سالار کو گود میں اٹھائے وہ میرے گھر آئی۔ بہت پریشان لگ رہی تھی۔
”کیا ہوا؟ اتنی پریشان کیوں ہو؟“ ۔
” ندیم مجھے بلیک میل کر رہا ہے“ وہ روہانسی سی ہو گئی۔
”کیا؟ بلیک میل کر رہا ہے؟ کس بات پر؟“
مجھے لگتا تھا کہ نگہت مجھ سے جھوٹ نہیں بولتی لیکن پورا سچ بھی نہیں بتاتی۔
” وہ باجی۔ میرے کچھ میسیج ہیں اس کے فون پر“ اس نے سر جھکا لیا۔ مجھے جھٹکا سا لگا۔
”ندیم کا رویہ شروع میں تو میرے ساتھ ٹھیک تھا لیکن پھر آہستہ آہستہ وہ فری ہونے لگا۔ میرے ساتھ فلرٹ کرتا۔ باجی اب آپ کو کیا بتاؤں۔ شرم آتی ہے مجھے۔ فضل بہت اچھا تھا لیکن پورا مرد نہیں تھا۔ ندیم کی توجہ مجھے اچھی لگنے لگی۔ آتے جاتے میرا ہاتھ چھو لیتا۔ مرد کا لمس مجھے تازگی دے رہا تھا لیکن بات کبھی بھی اس سے آگے نہیں بڑھی۔ ایک رات اس نے میسج کیا کہ کیا میں اپنے خاوند کے ساتھ ہوں؟ میں لکھا ہاں۔ اس نے کہا بہت جیلس ہوتا ہوں۔ اس پر میں نے میسج کیا محنت کر حسد نہ کر۔ بس اس بات کو لے کروہ کہتا ہے کہ میں نے اسے ترغیب دی۔ یعنی کچھ کرو۔ باجی میرا یہ مطلب ہرگز نہیں تھا۔ میں محبت اور توجہ کی بھوکی تھی متاثر ہو گئی۔“
حیرت نے مجھے کچھ کہنے بھی نہیں دیا۔ اس نے بات جاری رکھی۔
”جس دن وہ واقعہ ہوا ندیم ہمارے گھر آیا ہوا تھا۔ فضل کوئی چیز لینے بیسمنٹ جا رہا تھا ندیم اور میں وہیں کھڑے تھے۔ فضل کا پیر پھسلا دھکا کسی نے نہیں دیا تھا۔ فضل نے ندیم کا سہارا لینا چاہا لیکن ندیم نے اس کا ہاتھ جھٹک دیا۔ فضل گرا، وہ درد سے کراہ رہا تھا۔ میں چیخ رہی تھی، ندیم کی منتیں کیں کہ ایمبولنس کو فون کرے۔ اسے پھر کرنا ہی پڑا۔ فضل کی جان بچ گئی۔ ندیم پر کوئی الزام نہیں آیا بس میری زندگی برباد ہو گئی۔“ وہ رو رہی تھی۔
میں ساری بات ہضم کرنے کی کوشش کر رہی تھی۔
” فضل کو ایمبولنس اسپتال لے گئی وہ کچھ دن وہاں رہا۔ اس دوران بھی ندیم نے مسیج کیا کہ اچھا بھلا وہ مرنے والا تھا۔ تم نے اسے بچا لیا۔“
”باجی کچھ تو بولیں۔ بتائیں میں کیا کروں؟ میرا قصور کیا اتنا بڑا ہے جس کی مجھے عمر بھر سزا ملے؟“
” مشورہ مانگ رہی ہو؟“
”جی باجی۔ مجھے کچھ سمجھ نہیں آ رہا ہے کہ میں اس مشکل سے کیسے نکلوں۔ ندیم کہتا ہے وہ یہ میسج فضل کے رشتے داروں کو دکھا دے گا۔ وہ اس بات پر بھی ناراض تھا کہ فضل نے اپنا سب کچھ میرے نام کر دیا تھا۔ فضل یہ بات جان گیا تھا کہ ندیم نے اسے بچانے یا مدد کرنے کی کوئی کوشش نہیں۔“
”تم نے عدالت میں یہ سب کیوں نہیں بتایا؟“ ۔ مجھے غصہ آنے لگا۔
” میں ڈر گئی تھی۔ جب میری گرفتاری ہوئی تو ندیم نے دھمکی دی تھی کہ اگر میں نے کچھ کہا تو وہ میرے میسج سب کو دکھا دے گا۔ اور میری بات پر یقین کون کرتا۔ پہلے ہی وہ نقلی چوٹوں کا مجھ پر الزام تھا۔ ندیم پیسے مانگتا رہا ہے۔ میں دیتی رہی ہوں۔ اب میسج بھیجا ہے کہ گھر اس کے نام کردوں ورنہ مجھے بدنام کردے گا“ ۔
” وکیل سے مشورہ کرو۔ ساری بات بتاؤ۔ کچھ مت چھپانا۔ یہ ٹیکسٹ مسیج خطرناک نہیں ہیں لیکن تمہیں اذیت دینے کے لیے استعمال ہو سکتے ہیں۔“
”آپ میرے ساتھ چلیں۔ پلیز“
دو دن بعد ہم وکیل کے دفتر بیٹھے تھے۔ وکیل کو سارا قصہ بتایا۔ فون مسیجیز کی وکیل نے کاپی نکلوائی۔ ایک ایک کو غور سے پڑھا۔ مسیج اردو میں تھے وکیل نے ترجمہ کروایا۔
” یہ شخص نہایت احمق ہے جو تمہیں ان مسیجز پر بلیک میل کر رہا ہے۔ یہ تو خود پھنس رہا ہے۔“
”اب کرنا کیا ہے؟“ میں نے پوچھا۔
وکیل نے ندیم کو نوٹس بھیجا کہ میری موکلہ کو ہراس کرنا بند کرے ورنہ اس کے خلاف پولیس میں رپورٹ درج کردی جائے گی۔ وکیل نے اس سے کافی سختی سے بات کی کہ اس کے یہ ٹیکسٹ مسیجز پولیس میں دے دیے جایں گے اور وہ مشکل میں پھنس سکتا ہے۔ نگہت تو شاید صرف بدنام ہوگی لیکن وہ گرفتار بھی ہو سکتا ہے۔ کسی کو جان بوجھ کر مرتے چھوڑ دینا بھی جرم ہے اور بلیک میلنگ بھی۔
بلیک میلر بزدل بھی ہوتے ہیں ندیم صلح کی بات کرنے لگا۔ وکیل نے کاغذات تیار کیے ان پر ندیم کے دستخط لیے۔ ایک معافی نامہ بھی سائن کیا۔ سارے میسجیز ڈیلیٹ کیے۔ یہ مسئلہ حل ہو گیا۔
نگہت نے ایک لمبا سانس لیا۔ ایک بار پھر لگا کہ نگہت کی زندگی کے طوفان اب آ کر گزر گئے ہیں۔
اور ایک دن پھر اس نے کہا ”باجی آپ سے ضروری بات کرنی ہے“
مجھے اب اس کی ضروری باتوں سے خوف سا آنے لگا تھا کہ جانے اب کون سی مشکل میں مبتلا ہے۔
”میں اب اس شہر میں نہیں رہنا چاہتی۔ یہاں فضل کے اتنے رشتے دار ہیں۔ ندیم بھی یہیں ہے۔ کبھی آمنا سامنا ہو سکتا ہے۔ میری ایک دوست ہے برمنگھم میں، اس کا بیوٹی پارلر ہے۔ مجھے کام مل رہا ہے میں جا رہی ہوں۔ پلیز کسی کو مت بتائیں کہ میں کہاں ہوں۔ آپ کو مس کروں گی“ میں بھی اداس ہو گئی۔
اسے گئے سال سے اوپر ہو گیا۔ ایک بار تین دن کے اپنے گھر کے کچھ کام نبٹانے آئی، مجھ سے بھی ملی۔ سالار اب اور بھی پیارا ہو گیا تھا۔ ہمارا فون پر رابطہ ہے لیکن گفتگو مختصر سی ہوتی۔
یہاں نگہت کی کہانی میں میرا رول ختم ہوا لیکن اس کی زندگی آگے بڑھتی رہے گی۔ اتار چڑھاؤ بھی آئیں گے اور وہ اپنے طور پر ان سے ڈیل بھی کرے گی۔ اگر اس کی زندگی میں کوئی نیا موڑ آیا اور اس نے مجھ سے شیئر کیا تو آپ کو ضرور بتاؤں گی۔


