راکھی گڑھی میں سندھی تہذیب کے آثار کی دریافت سے ہندو انتہا پسندوں میں بے چینی


آریاؤں کی ہجرت یا ان کی یلغار کے دو نظریات ہندوستان میں ایک عرصہ سے تنازعہ کا شکار ہیں۔ ہندوستان کے کچھ دانشوروں جن میں اکثریت دلت ( اچھوت ) اسکالرز کی ہے۔ ان کا نکتہ نظر ہے کہ آریائی اقوام باہر سے آئیں اور وہ ہی ہندو دھرم باہر سے لے کر آئے نیز انہوں نے ہی سماج کو ذات پات میں تقسیم کیا۔ برہمن اور ہندو نیشنلسٹ سیاستدانوں اور اسکالرز نے دلت دانشوروں کے نظریہ کی ہمیشہ نفی کی ہے۔ اونچی ذات اور دائیں بازو کی سیاست سے منسلک دانشوروں کا نظریہ ہے کہ آریائی ہجرت تو ہوئی ہے مگر ہندوستان سے وسط ایشیا اور یورپ کی طرف۔

مزید یہ کہ سنسکرت تمام زبانوں کی ماں ہے۔ ہندو دھرم نے ہی دنیا کو تہذیب اور زبان عطا کی ہے وغیرہ وغیرہ۔ برہمن دانشوروں اور ہندو نیشنل ازم کے سرخیلوں کو شدید دھچکا اس وقت لگا جب امریکہ کی ہارورڈ یونیورسٹی کے جینیٹکس کے سائنسدان ڈیوڈ ریخ نے پاپولیشن جینیٹکس کے بہت بڑے تحقیقی پروجیکٹ کی رہبری کرتے ہوئے ہجرت سے متعلق کچھ تحقیقی نتائج اخذ کیے جو ہندوتوا کے نظریات کے برعکس نکلے۔ ڈیوڈ ریخ کے پروجیکٹ میں 92 اسکالرز نے حصہ لیا جو انتھروپولوجی، تاریخ، آثار قدیمہ اور جینیٹکس کے اسکالر تھے۔ اس تاریخی اسٹڈی کا نام
The Genomic Formation of South and Central Asia
ہے۔ جینیٹک کے اس مطالعے سے جو نتائج سامنے آئے وہ یہ تھے، (یہ مندرجہ ذیل نتائج بی بی سی اردو کی ویب سائیٹ سے نقل کیے گئے ہیں ) :

گزشتہ دس ہزار برسوں میں ہندوستان کی جانب دو ہجرتوں کے ثبوت ملتے ہیں۔ پہلی ہجرت جنوب مغربی ایران کے زرگروز علاقے سے ہوئی تھی جو کہ بکریاں پالنے والا سب سے ابتدائی علاقہ کہلاتا ہے۔ اس ہجرت کے نتیجہ میں یہ مہاجر اپنے مویشیوں سمیت ہندوستان آئے اور انہوں نے یہاں زراعت بھی شروع کی۔ یہ ہجرت سات ہزار سے تین ہزار قبل مسیح ہوئی تھی۔ یہ لوگ ہندوستان کے قدیم باشندوں میں گھل مل گئے تھے۔ قدیم باشندے 65 ہزار برس قبل افریقہ سے برصغیر میں آئے تھے۔

دوسری آریائی ہجرت قازقستان کے علاقے سے ہوئی تھی، یہی لوگ سنسکرت زبان کی ابتدائی شکل ہندوستان لائے تھے۔ یہ لوگ گھوڑے پالتے تھے قربانی کرتے تھے، انہوں نے ہی ہندو مت کی ابتدائی شکل کی بنیاد رکھی تھی۔

قدیم ایرانی زبان کے لہجے کی سنسکرت سے مماثلت نے مجھے یہ بات سوچنے پر مجبور کیا ہے کہ شاید سنسکرت ایران سے ہجرت کرنے والے مہاجرین کے ساتھ آئی تھی۔ ایران کے شاہ رضا شاہ پہلوی نے اپنا لقب ”آریا مہر“ منتخب کیا تھا، یعنی آریاؤں کا سورج۔

ہندو انتہا پسند اور دائیں بازو کی جماعتیں اس سائنسی تحقیق کے نتائج کو ماننے کو تیار نہیں ہیں کیونکہ اگر باہر سے آنے والے مذہب کو یہاں احترام مل سکتا ہے تو بعد میں ہندوستان میں باہر سے آنے والے مذاہب جیسے اسلام اور عیسائیت کو بھی دل سے قبول کرنا پڑے گا۔ یہ بات دائیں بازو کی سیاست کرنے والوں کے حلق سے نہیں اتر رہی کہ وادیٔ مہران اور ہڑپہ کی تہذیب آریاؤں سے پرانی ہے۔ انتہا پسند برسر اقتدار جماعت کے رہنما سبرامینیم سوامی جو خود بھی ہارورڈ کے سابق پروفیسر ہیں اس تحقیق کے نتائج پر مشتعل ہیں، انہوں نے اپنے ٹویٹ میں اس تحقیق کے نتائج کو جھوٹ کا پلندا قرار دیا ہے۔

اب آتے ہیں راکھی گڑھی کے معاملے کی طرف۔ جیسے ہی معلوم ہوا کہ آثار قدیمہ کی سائیٹ پر کھدائی کے دوران ایک انسانی ڈھانچہ اتنی اچھی حالت میں ملا ہے کہ جس سے ڈی این اے میٹیریل حاصل کرنا ممکن ہے تو ہندوستان کے میڈیا میں ہلچل مچنا شروع ہو گئی۔ ہندوتوا کے مبلغین نے اپنے پرانے راگ الاپنا شروع کر ڈالے۔ پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا میں ڈی این اے ٹیسٹ کے بارے میں مبالغہ آرائی شروع ہو گئی۔ جب آثار قدیمہ سے ملنے والے ڈھانچے کے ڈی این اے کی رپورٹ آئی تو معلوم ہوا کہ سندھو تہذیب سے ملنے والے اس ڈھانچے سے وسط ایشیا کا جین R 1 a 1 نہیں مل سکا ہے۔ اس نتیجہ سے یہ بات ثابت ہوئی کہ وادیٔ سندھ کی تہذیب میں آریائی نسل کا وجود نہیں تھا۔ اس قبل موئن جو دڑو سے نکلنے والی ڈانسنگ گرل کے مجسمے کو ہندوتوا کے حامی پاروتی اور کچھ مہروں کو شیو سے منسوب کرتے رہے تھے۔

حقیقت یہ ہے کہ جب آریائی اپنے دھرم کے ساتھ آئے تو شاید کسی عمیق فکر و فلسفہ کے بنا یہ اک سادہ سا دھرم رہا ہو گا۔ سندھو تہذیب کی سرزمین کا قدیم ترین دھرم جین مت ہے۔ آریائی افراد کا جین مت سے تعارف ہوا تو انہوں نے بہت سے افکار جین مت سے سیکھ کر انہیں ہندو دھرم کا حصہ بنا دیا۔ نروان، جنت، جہنم، تزکیہ نفس، روزہ، تولید یا اعضاء کی تعظیم، عدم تشدد جین مت کی وہ تعلیمات ہیں جو باہر سے آنے والوں اس مقامی دھرم سے سیکھیں۔

چونکہ اقتدار اور اختیارات ہندو دھرم والوں کے ہاتھوں میں تھا تو ریاستی طاقت کی وجہ سے جین تصورات ہندو افکار کے نام سے مشہور ہو گئے۔ ہندؤں نے نہ صرف جین مت کے اثرات قبول کیے بلکہ یونانیوں کی ہندوستان موجودگی میں ان سے مجسمہ سازی کا فن بھی سیکھا اور دیوی اور دیوتاؤں کے خیالی مجسموں کو یونانی انداز میں بنانا شروع کر دیا۔

جب آریائی باشندے اس دھرتی پر آئے تو یہاں کسی ذات پات کے نظام کا وجود نہ تھا البتہ پیشے کے لحاظ سے طبقات ضرور موجود تھے، جیسے اس وقت بھی تاجر طبقہ ہوتا تھا جو کھتری کہلاتا تھا، لوگوں کو تزکیہ نفس کی تعلیم دینے والے جین منی کہلاتے تھے، لوہار، ترکھان، جولاہے، مچھیرے، کشتی کھینے والے اور گھر تعمیر کرنے والے بھی ہوتے تھے۔ جب آریاؤں نے اختیار و اقتدار حاصل کیا تو اپنے مذہبی رہنماؤں کو برہمن نام دے کر سب سے اعلی ذات سے منسلک کیا اور یہ تصور پھیلایا کہ برہمن برہما کے سر سے جنم لیتے ہیں۔ سنسکرت اور علم کا حصول اسی طبقے تک محدود کر دیا گیا۔

سندھ تہذیب کے فرزند، کولہی، بھیل، میگھواڑ، تامل ناڈو کے قبائل اور دیگر کو جو کہ آریائی قبضہ کے خلاف جدوجہد کر رہے تھے ان کو بزور شمشیر کراہت آمیز پیشوں جیسے بیت الخلا کی صفائی، جانوروں کی آلائشیں اٹھانے سے منسلک کر دیا گیا۔ بعد میں ان کو اچھوت قرار دے کر سب سے نچلی ذات قرار دیدیا گیا جو کہ برہما کے پیروں سے پیدا ہوئی تھی اور یہ تا قیامت اس ہی درجہ پر رہیں گے۔ ان اچھوتوں پر لازم تھا کہ وہ ننگے پیر چلیں، پیروں کے پیچھے کیلے یا کسی درخت کے پتے باندھیں تا کہ ان کے پلید قدموں کے نقوش زمین پر قائم نہ رہ سکیں۔ ان پر یہ بھی لازم تھا کہ مٹی کی اک ہانڈی گلے میں لٹکا کر رکھیں مبادا ان کے تھوک سے مقدس زمین ناپاک نہ ہو، وہ اس ہانڈی میں تھوکیں۔

اگر پاکستان کی ریاست عرب کی ثقافت کا پرچم بلند کرنے کے بجائے سندھو تہذیب کا پرچم بلند کر کے ہندوستان کی معتوب اقوام کے حقوق کی آواز اٹھائے تو برہمن سامراج کی ستائی ہوئی ہندوستان بھر کی مظلوم اقوام پاکستان کی حمایت کریں گی۔ مگر یہ جب ہی ممکن ہو گا کہ پہلے پاکستان میں ہر شہری کو برابر کے حقوق دیے جائیں۔ مگر یہ خواہش کیسے پوری ہو سکتی ہے! پاکستان کی اشرافیہ اس ملک کے برہمن ہیں، ان کا شکنجہ عام لوگوں کی گردن پر دن بدن تنگ ہوتے جا رہا ہے۔

Facebook Comments HS