آزادی کا خواب: ٹویٹر سپیس میں کشمیریوں کی بحث


ٹویٹر کی دنیا میں داخل ہوتے ہی سپیس نوٹیفکیشن ملا ’احمد وانی صاحب کی یاد اور مغفرت کی دعا‘ ۔ میں نے جلدی سے احمد وانی صاحب کا اکاؤنٹ ڈھونڈا۔ پن ٹویٹ میری نظر سے گزری

Have I lost the battle of hearts & minds?
Is it hard to live in a world so unkind?
Once upon a time, was I brave,
Now searching for a peaceful grave?
#EndIndianOccupationofKashmir

یہ 5 اگست کو 370 کے خاتمہ کی تین سال مکمل ہونے پر کی گئی تھی۔ احمد صاحب کی عمر 69 سال تھی اور صحت بھی ٹھیک نہیں رہتی تھی۔ آج 14 اور 15 اگست کی درمیانی شب ہے، جب انڈیا اور پاکستان اپنا یوم آزادی منا رہے ہیں اور آج کی رات احمد صاحب پاکستان سے محبت لیے اس دنیا سے چلے گئے۔ میرے دماغ میں احمد صاحب کی آواز گونج رہی ہے۔ ٹویٹر اسپیس سوشل میڈیا کی ایک جدید اختراع ہے۔ جہاں آپ بہت سے اجنبی لوگوں سے آواز کے رشتے میں جڑ جاتے ہیں۔ سپیس ایک ایسی دنیا ہوتی ہے، جہاں کوئی بھی داخل ہو سکتا ہے۔ میں نے کشمیر کے نام سے سپیس دیکھ کر جوائن کی، پھر احمد صاحب کی سپیس میں جانا معمول سا بن گیا۔

احمد صاحب اکثر لوگوں سے کشمیر کے لیے بحث کرتے دکھائی دیتے تھے۔ پہلی سپیس میں احمد صاحب کسی ہندوستانی سے محو گفتگو تھے اور شکوہ کناں تھے کہ تم لوگ ہم سے ہر زیادتی روا رکھتے ہو، ہماری عورتوں کے ساتھ ناروا سلوک کرتے ہو، تمہاری فوج ہمارے گھروں پر چھاپے مارتی ہے، گھروں سے باہر تلاشی ہوتی ہے، ہم لوگ تمہارے ساتھ نہیں چل سکتے۔ احمد صاحب کافی جذبات میں گفتگو کر رہے تھے۔

میں نے احمد صاحب کو اسی دن فالو کر لیا۔ یوں احمد صاحب کی سپیس میں جانا معمول بن گیا۔ احمد صاحب روزانہ کشمیر پر سپیس کرتے اور اپنے ساتھ ہونے والے تشدد اور زیادتیوں کی کہانی سناتے۔ روزانہ چالیس سے پچاس لوگ احمد صاحب کی سپیس میں تشریف لاتے تھے اور کشمیر سے منسلک خاص دنوں پر سپیس میں مو جود لوگوں کی تعداد 200 سے 500 کے قریب ہوتی تھی۔

احمد صاحب الحاق پاکستان کے زبردست حامی تھے اور خودمختار کشمیر کے حامیوں اور ہندوستان نواز لوگوں کے سخت مخالف تھے اور ان کو سہولت کار سمجھتے تھے۔ احمد صاحب کی سپیس میں ہندوستان نواز یا خود مختار کشمیر کے حامیوں کو زیادہ بات کرنے کی اجازت کم ہی ملتی تھی۔ احمد صاحب کی سپیس پاکستانیوں سے بھری رہتی تھی، جو کشمیر کو شہ رگ سمجھتے ہیں۔ ایک سپیس میں خودمختار کشمیر کے حامیوں کی شرکت ہوئی۔ احمد صاحب حاضرین کو دیکھ کر اپنی گفتگو کو تبدیل کرنے کا فن رکھتے تھے۔

خودمختار کشمیر کے حامیوں کو دیکھ کر بلند آواز میں کہنے لگے تم لوگ سہولت کاروں کے ساتھ بات کرتے ہو، تم لوگ سمجھتے ہو کبھی یہ پنڈت تمہارا ساتھ دیں گے۔ یہ کبھی تمہارے نہیں ہوں گے۔ تم کیسے اپنی ماؤں بہنوں کے ساتھ ہونے والے سلوک کو بھول سکتے ہو۔ تم لوگ شہیدوں کا خون بیچ سکتے ہو۔ ہمارا پاکستان سے رشتہ کلمے کی بنیاد پر ہے۔ یہ ہندوستانی اور ہندوستان نواز ہم پر ظلم کرتے ہیں۔ تم ظالموں کا ساتھ دیتے ہو، تم ہمیں تکلیف پہنچاتے ہو، مگر ہم اللہ پر یقین کرتے ہیں۔

ہماری آزادی لکھی جا چکی ہے۔ احمد صاحب کے گفتگو مکمل کرنے کے بعد کچھ لوگوں کو سپیکر پر لیا گیا۔ خودمختار کشمیر کے حامی زیادہ تر پاکستان کے زیر انتظام کشمیر سے ہوتے یا وادی سے باہر بیٹھے کشمیری ہوتے۔ کیوں کے وادی کے اندر رہنے والوں کو ریاستی جبر کی وجہ سے بات کرنے کی آزادی کم ہی ملتی ہے۔ اس لیے وادی سے لوگ زیادہ سننا پسند کرتے، مگر ایک بات ظاہر ہے کہ وادی کے مکین زیادہ تر لوگ ہندوستان سے آزادی چاہتے ہیں۔

پاکستان کے زیر انتظام کشمیر سے ایک صاحب نے سپیکر پر آتے ہی احمد صاحب کی بات کو رد کرتے ہوئے، اقوام متحدہ کی قراردادوں کا حوالہ دیا اور پھر بات مذہبی حوالے تک پہنچی۔ ہمارا رشتہ پاکستان سے ویسا ہی ہے جو باقی دنیا سے ہے، ہم باقی مسلم ممالک کے ساتھ کیوں نہیں جاتے؟ افغانستان، ایران اور پاکستان ایک ملک کیوں نہیں بن جاتے؟

احمد صاحب نے سوال کی صورت میں جوابی وار کیا کہ ”پاکستان نے ہمارے لیے جنگیں کی ہیں آزاد کشمیر نے کیا کیا؟“ دوسری طرف سپیکر سے پھر جواب آیا ”ہم نے اپنے بچے قربان کیے، ہم نے اپنے گھر آپ لوگوں کے لیے کھولے اور تو اور ہم نے اپنی شناخت ختم کر کے آپ کی شناخت اپنا لی۔“

جب سپیس کا ماحول زیادہ ناخوشگوار ہونے لگا تو ایک اور سپیکر صفدر لون نے احمد صاحب کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ”دیکھیں سر متنازعہ علاقوں میں کبھی ایک بیانیہ نہیں ہوتا۔ اگر آپ الحاق پاکستان چاہتے ہیں تو ہم آپ کی خواہش کا احترام کرتے ہیں، بالکل اسی طرح ہم خودمختار ریاست چاہتے ہیں۔“ احمد صاحب نے بات کاٹتے ہوئے جذباتی انداز میں کہا کہ ”ہم علی گیلانی صاحب کے فالوور ہیں، ہمارے پاس بس ایک وہی آپشن ہے پاکستان۔“

احمد صاحب کی بات کے جواب میں لون صاحب نے غصے میں کہا کہ ”ہم نہیں مانتے الحاق پاکستان کو آپ کیا کریں گے۔“

احمد صاحب نے دوبارہ بات کاٹتے ہوئے اور جذبات پر قابو نہ رکھتے ہوئے کہا ”یو ول بی کرشڈ۔ کشمیر کا پاکستان سے الحاق ہمارا خواب ہے۔“

لون صاحب نے بھی اسی طرح جذباتی انداز میں کہا کہ ”خودمختار ریاست جموں کشمیر ہمارا بھی خواب ہے۔“

میرے واٹس ایپ پیغام کی آواز میرے خیالوں کی دنیا میں مخیل ہوئی۔ وادی سے سکرین شاٹ اور پیغام تھا کہ سکول میں بچوں کو ہر گھر ترنگا مہم کے لیے مجبور کیا جا رہا ہے۔

میں نے آنکھوں سے نمی صاف کرتے ہوئے سوچا کہ نجانے کتنے احمد صاحب الحاق پاکستان اور خودمختار کشمیر کا خواب لیے، بھارت اور پاکستان کا جبر سہتے اس دنیا سے چلے جائیں گے۔

Facebook Comments HS