ایک موضوعاتی شام افسانہ
چودہ اگست کی شام حلقہ6 احباب ذوق کے زیر اہتمام شاہ محی الحق فاروقی اکیڈمی لائبریری واقع گلشن معمار میں پاکستان کے قیام کا جشن الماسی منایا گیا اور اس سلسلے میں ایک تقریب منعقد کی گئی۔ موسم خوش گوار تھا سو اس سے لطف اندوز ہونے کے لیے نشست کا انتظام لائبریری کے صحن میں کیا گیا تھا۔ ویسے تو اس لائبریری میں ہر اتوار کو ادبی نشست منعقد کی جاتی ہے لیکن اس مرتبہ یہ نشست ذرا مختلف تھی نہ صرف یہ کہ یہ نشست جشن آزادی کے حوالے سے تھی بلکہ امریکہ سے آئے ہوئے بہت اچھے افسانہ نگار امین بھایانی کے اعزاز میں بھی تھی۔ یہ بات بہت خوش آئند ہے کہ نثر پر پہلے کے مقابلے میں اب زیادہ توجہ دی جا رہی ہے اور ادب کے گل زار میں نثری تحریروں کے پھول بھی زیادہ مہکتے اور نثر نگاروں کو اپنی تخلیق کے اظہار کے زیادہ مواقع دیتے ہوئے نظر آتے ہیں
تقریب دو حصوں پر مشتمل تھی۔ پہلا حصہ موضوعاتی نشست تھا۔ اس میں پاکستان کی آزادی کے جشن الماسی میں پاکستان کے حوالے سے تحریریں پیش کی گئیں۔ صدر محفل جناب امین بھایانی تھے جب کہ مہمان خصوصی محترم معراج جامی تھے۔ تقریب کا وقت پانچ بجے تھا۔ وقت مقررہ پہ مہمان آنا شروع ہو گئے تھے۔ عصر کی اذان ہوئی۔ نماز باجماعت کے بعد تقریب کا باقاعدہ آغاز تلاوت کلام پاک سے ہوا۔ نظامت کی ذمہ داری تقریب کے مہتمم سلیم بھائی یعنی سلیم فاروقی نے سنبھالی۔
انھوں نے مہمانوں کو خوش آمدید کہا۔ سب سے پہلے گل بانو کو بلایا جنھوں نے ”میں نے پاکستان بگڑتے دیکھا“ کے عنوان سے اپنا مضمون سنایا اس کے مجھے بلایا گیا۔ میں خاص اس تقریب کے لیے لکھا گیا مختصر افسانہ ”ہر چمکتی چیز۔“ سنایا میرے بعد مطربہ شیخ نے افسانہ ”فیضی“ سنایا۔ مطربہ شیخ صاحبہ کے بعد پروفیسر خواجہ قمرالحسن صاحب نے اپنا افسانہ سنایا۔ اگرچہ پروفیسر صاحب کا کہنا تھا یہ ان کی افسانہ لکھنے کی پہلی کاوش ہے لیکن تحریک پاکستان کے تناظر میں لکھا گیا یہ افسانہ اتنا بھرپور تھا کہ کہیں سے پہلی کاوش نظر نہ آتی تھی۔ پھر مہمان خصوصی محترم معراج جامی نے اپنا افسانچہ سنایا۔ آخر میں صدر محفل جناب امین بھایانی کو دعوت دی گئی کہ وہ کچھ پڑھیں تو انھوں نے ایک مختصر افسانہ سنایا۔
تقریب اچھی رہی۔ سلیم بھائی کی نظامت عمدہ تھی۔ وہ جب کسی مہمان کو بلاتے تو اس سے پہلے اپنا ایک افسانچہ پڑھ دیتے۔ ان کے سنائے ہوئے افسانچے بہت جان دار اور بہترین تھے۔ ان افسانچوں نے تقریب کا لطف دوبالا کر دیا۔ کچھ اور نثر نگاروں کو بھی مدعو کیا گیا تھا لیکن شاید وہ موسمی حالات کے پیش نظر نہیں آ پائے تھے۔
مریم تسلیم کیانی کو اپنی مصروفیات کے باعث تقریب میں آنے میں اتنی تاخیر ہوئی کہ وہ تقریباً بالکل آخر میں پہنچیں۔ جیسا کہ اوپر ذکر ہوا کہ یہ تقریب دو حصوں پر مشتمل تھی۔ تقریب کا پہلا حصہ عصر کی نماز کے بعد شروع ہو کر مغرب کی اذان سے کس قدر پہلے تمام ہوا۔ مغرب کا وقت ہوا تو تقریب کے اختتام کا باقاعدہ اعلان ہوا اور مغرب کی نماز باجماعت کے بعد چائے پیش کی گئی جس کے ساتھ دو تین طرح کے بسکٹس، کرنکل چپس اور منی سینڈوچز تھے۔ مغرب کے بعد نشست کا دوسرا حصہ غیر موضوعاتی تھا یعنی جس کو جو تحریر سنانا ہو سنا دے۔ مریم چوں کہ تاخیر سے پہنچی تھی اس لیے اس نے غیر رسمی نشست میں اپنا افسانہ سنایا۔ مریم کے بعد طارق معین، منیر پٹھان، صابر وسیم، خرم امام صدیقی نے اپنی تخلیقات سنائیں۔ سید محمد شاہد نے اپنے خیالات کا اظہار کیا تھا۔
امریکہ میں مقیم افسانہ نگار اور شاعرہ شمسہ نجم نے بطور خاص اس تقریب کے لیے افسانہ بھیجا تھا جو ان کی طرف سے سلیم بھائی نے پڑھ کے سنایا۔ اس کے بعد تصویریں لی گئیں۔ ایک دوسرے کو کتابوں کے تحائف دیے گئے۔ پھر سب نے ایک دوسرے کو الوداع کہا اور واپسی کی راہ لی۔



