پولیو کا چیلنج


میڈیا رپورٹس کے مطابق گزشتہ دنوں خیبرپختونخوا کے دورافتادہ ضلع ٹانک میں مسلح موٹر سائیکل سواروں کی پولیو ٹیم پر فائرنگ کے نتیجے میں دو پولیس اہلکار شہید ہو گئے ہیں البتہ پولیو ٹیم اس حملے میں معجزانہ طور پر محفوظ رہی ہے۔ پولیس ذرائع کے مطابق پولیس اہلکار نثار خان اور پیر رحمان تھانہ گومل کی حدود میں واقع گاؤں کچہ گرہ میں پولیو ٹیم کی حفاظت پر مامور تھے جنہیں اس دوران فائرنگ کا نشانہ بنایا گیا۔ ان دونوں پولیس اہلکاروں کو بعد ازاں ان کے آبائی علاقوں میں پولیس اعزاز کے ساتھ سپرد خاک کر دیا گیا ہے ۔

خیبرپختونخوا میں پولیو ٹیموں پر یہ پہلا حملہ نہیں ہے بلکہ اس سے پہلے بھی نہ صرف پولیو ورکرز بلکہ ان کی سیکیورٹی پر مامور پولیس اہلکار بھی دہشت گردوں کے حملوں کا نشانہ بنتے رہے ہیں حتیٰ کہ ان حملوں میں کئی خواتین ورکرز کو بھی ماضی میں نشانہ بنایا جاتا رہا ہے حالانکہ پختون روایات میں جانی دشمنوں کی خواتین کو بھی قتل کرنے کا رواج نہیں ہے بلکہ ایسی کسی حرکت کو پختون روایات سے صریح انحراف سمجھ کر انتہائی معیوب سمجھا جاتا ہے لیکن چونکہ وطن دشمن قوتوں کا نہ تو کوئی دین ہے اور نہ ہی ان کا کوئی واضح چہرہ معلوم ہے اس لیے وہ پولیو کے عام مرد ورکرز تو کجا خاتون ورکرز کو بھی تشدد اور قتل کا نشانہ بنانے میں نہ تو کوئی عار محسوس کرتے ہیں اور نہ ہی انہیں اپنی ان مکروہ حرکتوں پر کوئی شرمندگی اور پشیمانی ہوتی ہے۔

خیبرپختونخوا میں پولیو کی حالیہ مہم چھ اضلاع بنوں، لکی مروت، شمالی اور جنوبی وزیرستان، ڈیرہ اسماعیل خان اور ٹانک میں شروع کی گئی ہے جس میں پانچ سال سے کم عمر بچوں کو پولیو کے موذی مرض سے بچاؤ کے حفاظتی قطرے پلائے جائیں گے۔ پولیو کے حوالے سے یہ بات لائق توجہ ہے کہ رواں برس کے دوران پاکستان میں اب تک پولیو کے 14 کیس رپورٹ ہو چکے ہیں جن میں سب سے زیادہ متاثر شمالی وزیرستان کا علاقہ ہوا ہے جہاں سے اب تک 13 کیس پورٹ ہو چکے ہیں۔ حالیہ مہم کے دوران 34 ہزار خواتین و مرد عملے پر مشتمل ٹیمیں تقریباً 99 لاکھ بچوں کو پولیو کے قطرے پلائیں گے، اس مہم کے دوران پانچ سال سے کم عمر تمام بچے کو پولیو کے قطرے پلائے جائیں گے جو پولیو ورکرز کے ساتھ ساتھ پوری قوم کے لیے ایک بڑا چیلنج ہے۔

واضح رہے کہ ملک میں تیزی سے بڑھتے ہوئے پولیو کیسز کے سبب اس مہم کی کامیابی انتہائی اہمیت کی حامل ہے۔ پولیو وائرس سے نہ صرف زندگیوں کو خطرات ہیں بلکہ یہ ہمارے بچوں کے مستقبل کے لیے بھی ایک بڑا خطرہ ہے۔ یہ کتنے افسوس کی بات ہے کہ دنیا بھر سے تو پولیو کو ختم ہوئے دہائیاں گزر گئی ہیں لیکن پاکستان کا شمار ان دوچار بدقسمت ممالک میں ہوتا ہے جہاں اب تک پولیو کو ختم نہیں کیا جا سکا ہے۔ طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ بچوں کو پولیو کے سبب اموات یا عمر بھر کی معذوری سے بچانے کے لیے انہیں بار بار پولیو کے قطرے پلانا ضروری ہے تاکہ ان بچوں میں قوت مدافعت پیدا کی جا سکے۔

صحت کے عالمی ادارے کا کہنا ہے کہ پاکستان ان 4 ممالک میں شامل ہے جہاں وائلڈ پولیو وائرس (ڈبلیو پی وی) کے کیسز رپورٹ ہو رہے ہیں، پاکستان کے علاوہ ان ممالک میں افغانستان، موزمبیق اور ملاوی شامل ہیں۔ افسوسناک امر یہ ہے کہ اس سال پاکستان میں سامنے آنے والے تمام پولیو کیسز شمالی وزیرستان سے رپورٹ ہوئے ہیں، رپورٹ ہونے والے 11 کیسز میں سے 8 کا تعلق صرف میر علی کے علاقے سے ہے۔ اطلاعات کے مطابق خیبر پختونخوا میں پولیو وائرس پر قابو پانے میں ناکامی کی بنیادی وجوہات میں سے ایک بڑی وجہ امن و امان کی پیچیدہ صورتحال ہے جس کے نتیجے میں تمام بچوں تک پولیو ٹیموں کی عدم رسائی، تمام بچوں کو قطرے پلانے میں ناکامی اور مہم کے دوران دیگر انتظامات بھی ناقص ہوتے ہیں۔

دریں اثناء عالمی ادارہ صحت کی جاری کردہ ایک رپورٹ میں نشاندہی کی گئی ہے کہ مہم کے دوران والدین کی جانب سے مختلف وجوہات کی بنا پر قطرے پلانے سے انکار کے ساتھ کمیونٹی کی مزاحمت بھی شامل ہے جس میں ویکسینیشن کا بائیکاٹ اور بغیر ویکسین کے جعلی اندراج کیا جاتا ہے جب کہ خواتین فرنٹ لائن ورکرز کی کمی او ناقص و ناکافی ہیلتھ انفرا اسٹرکچر اور خدمات کی فراہمی جیسے چیلنجز بھی درپیش ہیں۔ عالمی ادارہ صحت کے مطابق پاکستان سمیت پابندی والے ممالک سے سفر کے دوران ہر شخص کو پولیو ویکسی نیشن کرانی ہوگی اور سفر کے دوران ویکسی نیشن کارڈ بھی اپنے ساتھ رکھنا ہو گا جو پولیو کی روک تھام کے حوالے سے تو مستحسن اقدام ہے لیکن عالمی سطح پر پاکستان کے لیے جگ ہنسائی کا باعث بن رہا ہے۔

عالمی ادارہ صحت نے ایک بیان میں یہ بھی کہا ہے کہ انسداد پولیو مہمات پوری دنیا میں کامیاب ثابت ہوئی ہیں اور اب 99 فیصد سے زیادہ دنیا پولیو سے پاک ہو چکی ہے البتہ پاکستان اور افغانستان دو ایسے پڑوسی ممالک ہیں جن میں اب بھی پولیو کا ناسور پایا جاتا ہے لیکن یہ بات خوش آئند ہے کہ ان دونوں ممالک نے مئی اور جون میں انسداد پولیو کی دو مہموں کو ہم آہنگ کیا ہے اور بین الاقوامی سرحدوں پر تمام عمر کے بچوں کو قطرے پلانے کے ساتھ ساتھ تمام اہم ٹرانزٹ پوائنٹس پر 10 سال سے کم عمر کے بچوں کی ویکسینیشن کو یقینی بنا یا جا رہا ہے۔

پولیو کے درپیش چیلنج پر گفتگو کرتے ہوئے ہمیں اس بات کو نظر انداز نہیں کرنا چاہیے کہ یہ ایک انتہائی متعدی بیماری ہے جو پولیو وائرس کی وجہ سے ہوتی ہے اور بنیادی طور پر 5 سال سے کم عمر کے بچوں کو متاثر کرتی ہے۔ یہ وائرس اعصابی نظام میں داخل ہو کر فالج اور موت کا سبب بنتا ہے، اگرچہ اس کا کوئی علاج نہیں ہے لیکن بچوں کو معذور کردینے والی اس بیماری سے بچانے کا سب سے موثر طریقہ ویکسینیشن ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق اسلام آباد اور لاہور سے 16 ماہ کے وقفے کے بعد جمع کیے گئے سیوریج کے نمونوں میں بھی پولیو وائرس رپورٹ ہوا ہے حالانکہ مارچ 2021 میں ان دونوں شہروں کو پولیو سے پاک قرار دیا گیا تھا۔

رپورٹس کے مطابق اسلام آباد، لاہور، راولپنڈی، پشاور، بنوں، نوشہرہ اور سوات میں بھی نمونے مثبت پائے گئے ہیں۔ یہ نمونے 18 سے 20 جولائی تک اکٹھے کیے گئے اور ٹیسٹ کے لیے پولیو وائرولوجی لیب میں بھیجے گئے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ چونکہ یہ وائرس دوبارہ اسلام آباد اور لاہور تک پہنچ گیا ہے اس لیے ہمیں ان ساتوں شہروں سے پولیو کیسز کے لیے تیار رہنا چاہیے۔

دوسری جانب وفاقی وزیر برائے صحت عبدالقادر پٹیل نے ایک بیان میں کہا ہے کہ حکومت وائرس کے خاتمے کے لیے پرعزم ہے اور اس نے اپنے مقصد کو حاصل کرنے کے لیے ایک جامع اور موثر حکمت عملی تیار کی ہے۔ ان کا کہنا تھا ہم ان ساتوں شہروں میں وائرس پر قابو پانے کے لیے اقدامات کر رہے ہیں جن کے ماحولیاتی نمونے مثبت آئے ہیں۔ وفاقی وزیر نے وائرس کے خلاف شعور اجاگر کرنے کے لیے سول سوسائٹی، مذہبی اسکالرز اور میڈیا سے بھی تعاون کی درخواست کی ہے۔ معتبر ذرائع کا کہنا ہے کہ شمالی وزیرستان میں پولیو کیسز میں اضافے کے پیش نظر ہی حکومت نے 15 اگست سے خیبرپختونخوا جبکہ 22 اگست سے ملک گیر سطح پر انسداد پولیو مہم شروع کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

Facebook Comments HS