سر راہ چلتے چلتے میں اور وہ


ٹیلی فون بجنے کی آواز کے ساتھ ریسیور اٹھاتے ہی دوسری جانب سے آواز آئی، وہ آئے۔
میں : نہی کیوں سب خیر۔

وہ: نہی، وہ کاغذ دیکھتے ہی چکر کھا کر زمین پہ گر گئے میں نے اٹھا کر بٹھایا پانی لے کر واپس آیا تو وہ وہاں موجود نہیں تھے حالانکہ میں نے کہا بھی تھا کے میں گھر چھوڑ دوں گا سوچا فون کر کے پوچھوں آ جائیں تو بتانا ان کی حالت ٹھیک نہیں فکر ہو رہی ہے۔

فکر! تو ہو رہی ہے آخر اس کاغذ میں ایسا ہے کیا؟

گھر کی گھنٹی بجتے ہی دروازے کی جانب بھاگے اتنی جلدی دروازہ کھولنے کی کبھی نہیں ہوئی جتنی ابھی تھی دروازہ کھولتے ہی سامنے کوئی نہیں، پلٹتے ہوئے زمین کی جانب نظر پڑی تو وہ زمیں پہ حال زبوں میں تھے بڑی مشکل سے جیسے تیسے اٹھا کر اوپر لائے۔ لٹایا حالت غنودگی میں بس ایک ہی جملہ بول رہے تھے وہ میرے ساتھ ایسا کیسے کر سکتے ہیں۔ کیسے؟

ابھی تک معاملہ سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ سٹی کورٹ میں ایسا کون سا کاغذ دیکھا کہ وہ اس حالت تک پہنچ گئے۔ اس کاغذ کے خیال نے سارا دن ستایا اور اس طرح خیالوں کا اک سلسلہ جاری ہو گیا۔ یہ خیالوں کے سلسلے بھی کتنے عجیب ہوتے ہیں کہاں سے کہاں انسان کو پہنچا دیتے ہیں۔

اب ایک ہی راستہ تھا معاملہ جاننے کا وکیل انکل یا وہ کاغذ۔

جب بچے بڑے ہو رہے ہوتے ہیں تو ماں باپ کی اولین ترجیح ہوتی ہے کہ وہ اپنے بچوں کو ایک گھر کر دیں جس کے لئے وہ جتن وان ہوتے ہیں حتٰی کہ ان لوگوں کے پاس بھی جاتے جہاں سے ان کو اپنا حق ملنے کی امید نہیں ہوتی۔

کتنے خود غرض ہوتے ہیں لوگ، مطلب پرست دھوکے باز، کوئی اپنے سگے کے ساتھ بھی ایسا کر سکتا ہے کیا؟

ہاں کر سکتا ہے یہ رسم تو بہت پرانی ہے حسن یوسفؑ کے ساتھ کیا ہوا کس نے کیا یاد تو ہو گا۔ اگر انہوں نے رسم قابیل نبھائی تو کیا غلط کیا؟ نہیں بالکل نہیں۔

احساس کرنے والے کے ساتھ ہونا ہی یہ چاہیے بانٹ کے کھانے والے کے ساتھ ایسا ہی ہونا چاہیے کہ اسے کھا جایا جائے۔ اپنے فراڈ کو چھپانے کا بہترین طریقہ ہی یہ ہے کہ خاندانی لسٹ سے نام نکلوا دیا جائے۔ پھر صرف اتنی سی معمولی بات پہ کوئی کورٹ کچہری تک بھی پہنچتا ہے کیا کہ مجھے کیوں خاندانی لسٹ سے نکال دیا۔ حیرت ہے اس ملک کے نظام عدل پہ کہ جہاں غلط کرنے کے طریقے خود وکیل بتا رہا ہوتا ہے۔ یہاں کالا سفید نہیں، سب کالا ہے سب کا سب کالا سیاہ۔

خیالوں کا سلسلہ کسی نہ کسی یاد سے جڑا ہوتا ہے یہ حقیقت ہے۔ 18 اگست ایک ایسا ہی دن ہے جس دن اک تیری یاد خیالوں کے اس گھنے جنگل میں لے جاتی ہے جہاں میں مر گئی تھی اور وہ آج بھی زندہ ہیں۔

ہاں! آج بھی تازہ ہے وہ لمحہ جب امی نے ریسیور ہاتھ میں پکڑ کر روتے ہوئے کہا تھا تمہارے ابو نہیں رہے۔ کھا گیا وہ کاغذ کا ٹکڑا میرے باپ کو جس میں ان کا نام نہیں تھا۔

Facebook Comments HS