ہیڈماسٹر: ہوشنگ مرادی کرمانی کی کہانی ( 2 )
”آپ نے پٹائی کر لی ہے۔ اب مزید کس لیے کھڑا رہوں؟“
”تم لکھاری بننا چاہتے ہو۔ بتاؤ تاکہ مجھے بھی پتا چلے کہ کس موقع پر گالی لکھ کر لوگوں تک پہنچاتے ہیں؟“
”جہاں تک میں جانتا ہوں۔ کہانیوں میں گالی لکھتے ہیں۔ وہ بھی ہر طرح کی نہیں۔
”مثلاً؟“
”مثلاً۔ بعض گالیاں نازیبا نہیں ہوتیں۔ اسے کہانی کے کردار کی زبانی لکھا جاتا ہے۔ جو اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ اس کی گھریلو تربیت نہیں ہوئی اور وہ اپنی زبان کو قابو نہیں رکھتا۔“
”کوئی مثال دے سکتے ہو؟ وہ گالی بتاؤ جسے لکھا جا سکے؟“
میری دم بہت بری طرح اٹک چکی تھی۔ مجھے کوئی بھی مثال یاد نہ آئی جو بتائی جا سکتی۔ وہ بھی کلاس میں۔ جو بھی گالی زبان پر آتی وہ نامناسب ہوتی۔ دنیا جہان کی نامناسب گالیاں میرے ذہن میں آ رہی تھیں۔ لیکن کون سختی کا مارا، ہیڈ ماسٹر آغا کے سامنے منہ کھول کر ان میں سے ایک عدد باہر نکالے۔ آغا نے میری آنکھوں میں آنکھیں ڈالی ہوئی تھیں۔ اپنی مونچھوں کی نوکوں کو موڑ رہے تھے۔ میں ان کی آنکھوں سے نظریں ہٹا کر نیچے فرش پر دیکھنے لگا۔ وہ اٹھ گئے تھے۔ چھڑی، جو کہ ان کے ہاتھ میں تھی، کسی سانپ کے بچے کی مانند ہل رہی تھی۔ آغا چاہتے تھے کہ میں گالی بتاؤں اور وہ میرے سر اور گردن کی تربیت کریں۔
میں نے کہا، ”آغا بیٹھ جاؤں؟“
”گالی بتاؤ اور بیٹھ جاؤ۔“
”مجھے نہیں معلوم۔“
”تم نے کہا اور میں نے مان لیا۔ اب لازماً گالی بتاؤ۔ اگر گھنٹی بج گئی تو میں اسی طرح تمھاری طرف دیکھتا رہوں گا۔ تم نے کیا سمجھ رکھا تھا کہ یہاں کوئی نہیں ہے جو تمھیں بندہ بنائے۔“
کلاس یوں خاموش تھی کہ اگر چیونٹی بھی دیوار پر چل رہی ہو تو اس کے پاؤں کی آواز بھی سنائی دے۔
بچے میری طرف دیکھ رہے تھے۔ چالیس پچاس جوڑا آنکھیں، یقیناً اس انتظار میں تھیں کہ میں کوئی گالی کہوں اور وہ دیکھیں کہ ہیڈ ماسٹر آغا کس طرح میری جان کے درپے ہوتے ہیں۔ شاید ان سب کا دل گالیوں دینے کو چاہ رہا تھا۔ لیکن اس کی جرات نہیں کر رہے تھے اور چاہتے تھے کہ ان کے دل کی بات میں ہی کروں، تاکہ ان کلیجہ ٹھنڈا ہو اور وہ خود امن امان میں رہیں۔ میری خاموشی سے آغا کا غصہ اور بھی زیادہ ہو گیا۔
”گالی بتاؤ۔ گوسالے!“
اچانک میرے ذہن میں ایک چیز ابھری۔ میں خوش ہو گیا۔ بنا کوئی لمحہ ضائع کیے فوراً کہا:
”گوسالہ“
آغا نے ایک آہ بھری، ”گوسالہ؟“
”جی آغا۔ ’گوسالہ‘ ۔ ایک اچھی گالی ہے۔ آبرو مند ہے۔ زیادہ بری بھی نہیں ہے اور کہانی کے کردار کی شخصیت کی طرف بھی اشارہ کرتی ہے۔ کہانی میں بھی لکھی جا سکتی ہے۔“
آغا کے لئے انکار کرنا ممکن نہ تھا۔ وہ بہت رنجیدہ ہو گئے تھے۔ میں نہیں چاہتا تھا کہ اسی طرح ہو۔ کافی خراب ہو گیا تھا۔ کاش کوئی گندی سی گالی ہی کہی ہوتی اور گوسالہ نہ کہا ہوتا۔ آغا نے بھی پست ہمتی نہ دکھائی۔ چھڑی کے بچائے اپنا پاؤں بلند کیا۔ ایک زور دار لات میرے پیٹ میں رسید کی۔ میں زمین پر گرنے ہی والا تھا۔ خود کو مشکل سے کھڑا رکھا۔ میرے پہلو میں درد ہونے لگا۔ آغا میرا سر کاٹ ڈالنا چاہتے تھے۔
آغا نے کہا، ”میں۔ میں بے تربیت انسان ہوں۔ گو۔ گو۔ گو۔ سا۔“
باقی حرف نہ کہے۔ میں نے اپنے پہلو پر ہاتھ رکھا۔
”آغا۔ آغا۔ بی بی کی جان کی قسم۔ میرا یہ مقصد نہیں تھا۔ کوئی دوسری گالی میرے ذہن میں نہیں آئی جو آپ کے سامنے کہی جا سکتی۔ میں نہیں جانتا تھا کہ کام اور زیادہ خراب ہو جائے گا۔“
کلاس میں آواز آئی۔ مش رضا، ہمارے سکول کا فراش، سر اندر کر کے بولا:
”آغا۔ گھنٹی بجا دوں؟“
آغا نے دانت پیستے ہوئے کہا، ”بجا دو۔“
مش رضا چلا گیا۔ آغا نے میری انشا کی کاپی مجھ سے لی۔
”کل صبح تم نے سکول نہیں انا۔ اپنے ماں باپ سے کہو کہ آ کر تمھارا سرٹیفیکیٹ لے کر تمھیں جس قبر میں لے جانا چاہتے ہیں تمھیں لے جائیں۔“
ٹن ٹن ٹن ٹن ٹن۔ گھنٹی بچی۔ بچوں نے کلاس برخاست کر دی۔ آغا باہر چلے گئے۔ میری انشا کی کاپی ان کے ہاتھ میں تھی۔ میں ان کے پیچھے دوڑا۔
”آغا۔ آغا۔ مجھے معاف کر دیں۔ آئندہ اس طرح کی چیزیں نہیں لکھوں گا۔ اب میں کیا کروں آغا؟“
”کہا تو ہے۔ اپنے ماں باپ سے کہو سکول آئیں۔“
”میرے ماں باپ نہیں ہیں آغا۔ دادی ہے۔ اس کی ٹانگیں درد کرتی ہیں۔ وہ نہیں آ سکتی ہے۔“
”اگر وہ نہیں آ سکتی تو خود اپنا سرٹیفیکیٹ لو اور جاؤ جس قبر میں بھی جانا ہے۔“
بچے میرے ارد گرد جمع ہو چکے تھے۔ آغا، بچوں کے درمیان سے رستہ بناتے ہوئے دفتر میں چلے گئے۔ میں نے ان کے پیچھے پیچھے جا کر بہت منتیں کیں لیکن کوئی فائدہ نہ ہوا۔
میں دفتر کے سامنے کھڑا تھا۔ کھڑکی کے شیشے کے ساتھ چہرہ لگا کر دفتر کے اندر دیکھا۔ میں نے دیکھا کہ آغا نے کاپی میز پر، پرنسپل آغا کے سامنے رکھی ہے اور انھیں مضمون دکھا رہے ہیں۔ آغا نے تھوڑا پڑھا اور مسکرائے۔ بچے جو میرے ارد گرد جمع ہو گئے تھے وہ بھی مجھے ہی مورد الزام ٹھہرا رہے تھے۔ کچھ کا دل میری حالت دیکھ کر پسیجا۔
میں شیشے میں سے دفتر کے اندر دیکھ رہا تھا۔ میں نے دیکھا کہ مضمون ایک سے دوسرے معلم اور دوسرے سے تیسرے معلم کے ہاتھ میں گردش کر رہا ہے۔ ان میں سے ایک نے اونچا اونچا پڑھنا شروع کیا اور باقی ہنسنے لگے۔
مش رضا نے ان کے سامنے چائے رکھی۔ وہ چائے پینے لگے اور ہنسنے لگے۔
آخری پیریڈ کے بعد شام کو اور رات کو میں بہت غمگین، شکست خوردہ اور پریشان کمرے کے ایک کونے میں سکڑ کر بیٹھ گیا اور زیر لب خود سے باتیں کرنے لگا۔ ”ہمت نہیں ہو رہی بی بی کو بتاؤں کہ مجھے سکول سے نکال دیا ہے۔ کیسے کہہ سکتا ہوں؟ بیچاری غم سے مر جائے گی۔ اگر بلڈ پریشر بڑھ گیا تو اس کی ٹانگوں کا درد اور بھی بڑھ جائے گا۔ وہ غش کھا کر گر پڑے گی۔ کیا کہوں کہ کیوں نکالا ہے؟ مضمون لکھنے کی وجہ سے یہ درد سر نازل ہوا ہے۔
بی بی کے سامنے میری عزت باقی نہ رہے گی۔ بیچاری تو بہت خوش تھی کہ میں یقیناً عمدہ قسم کے مضمون لکھتا ہوں۔ ادھر ادھر لوگوں کو یہی بتاتی رہتی ہے۔ اگر ریاضی، الجبرا یا جیومیٹری اس کا سبب ہوتے تب بھی ایک بات تھی۔ اگر یہ کہا ہوتا کہ سبق نہیں پڑھتا ہے، مشقیں حل نہیں کی تھیں۔ دھکے دے کر باہر نکال دیا ہے۔ ایک بات اور، وہ یہ کہ انشا کے پیریڈ میں مضمون نویسی سے متعلق کبھی نہیں ڈانٹا گیا۔ آغا حسینی نے میری کتنی بار تعریف کی تھی۔
بچوں نے میرے لیے کتنی بار تالیاں بجائیں ہیں۔ میں ہمیشہ خدا خدا کر کے ہفتے کا دن آنے کا انتظار کرتا تھا کہ کلاس میں مضمون پڑھوں۔ اب یہ کہتے ہیں کہ تم نے مزخرفات لکھا ہے۔ اپنا سرٹیفیکیٹ لے جاؤ اور اپنی راہ لو۔ میں نے کوئی بری چیز نہیں لکھی ہے۔ میں اب نہیں لکھوں گا۔ کچھ بھی نہیں لکھوں گا۔ بلکہ میں لکھاری ہی نہیں بننا چاہتا۔ یہ بڑا درد سر ہے۔ کتابیں بھی نہیں پڑھوں گا۔ لیکن کیا ہو جائے گا؟ لیکن مجھے کچھ بھی نہیں لکھنا۔
کچھ بھی نہیں پڑھنا۔ نہیں لکھوں گا تو پھر کیا ہو گا؟ انشا میں فیل ہو جاؤں گا۔ کلاس دوبارہ پڑھنی پڑھے گی۔ کتاب سے دیکھ کر لکھوں گا دوسروں کی طرح۔ نہیں۔ میں لکھوں گا۔ خود سے لکھوں گا۔ اچھا۔ اگر نکالنا ہے تو نکال دیں۔ ماریں گے تو مر جاؤں گا۔ انھوں نے کیا خیال کیا ہے کہ ان کے سامنے ہمیشہ اپنا سر جھکائے رکھوں اور جی حضوری کرتا رہوں۔ کاش میری ریاضی ٹھیک ہوتی۔ کاش فٹبال کھیلنا جانتا ہوتا۔“
بی بی کے سامنے رکھا سماور ابل رہا تھا۔ بی بی نے ایک پیالی چائے ڈالی اور میرے سامنے رکھی۔ میری طرف دیکھا۔ اس کی چھٹی حس خبردار ہو گئی کہ میرا حال اچھا نہیں ہے۔ سمجھ گئی کہ ضرور کوئی پوشیدہ بات ہے کہ آج خود میں اتنا سمٹا ہوا ہوں۔
”کیا ہے مجید؟“
”کچھ نہیں بی بی۔“
”مجھ سے نہ چھپاؤ۔“
”کچھ بھی نہیں ہے بی بی۔“
”تمھارا امتحان صحیح نہیں ہوا؟“
”نہیں۔“
”نہیں اور سانپ کا سر۔ پھر کون سی اس طرح کی موت آئی ہے کہ بھنویں اتنی سکیڑی ہوئی ہیں؟“
”بندے کی حالت ہر وقت ایک جیسی نہیں ہوتی۔ تمھاری بھی بعض اوقات بھنویں سکڑی ہوئی ہوتیں ہیں۔“
”تب مجھے نہیں بتاؤ گے کہ کیا ہوا ہے۔ موضوع نہ بدلو۔“
”کچھ نہیں ہوا۔“
”تمھارے سکول میں آج کیا ہوا ہے؟“
میں کھڑا ہو گیا اور کمرے سے باہر نکل گیا۔ صحن میں پہنچا۔ حوض کے کنارے بیٹھ گیا۔ بی بی اٹھی اور آ کر میرے سر پر کھڑی ہو گئی۔
”ٹھیک ہے۔ اٹھو اندر کمرے میں چلو۔ اگر مجھے نہیں بتانا چاہتے کہ کیا ہوا ہے تو نہ بتاؤ۔ میں بالآخر خود ہی سمجھ جاؤں گی۔“
میں کمرے میں آیا۔ اپنا بستر بچھایا۔ لحاف اوڑھ کر لیٹ گیا۔ لحاف کو سر کے اوپر اوڑھ لیا تاکہ میری نگاہیں بی بی کی نگاہوں سے نہ ٹکرائیں۔ میں نے کان بند کر لیے تاکہ اس کی آواز نہ سنوں۔ مجھ پر یہ بات روز روشن کی طرح واضح تھی کہ میری آنکھیں اس کی آنکھوں سے دوچار ہوتے ہی ساری بات میرے منہ سے خود بخود نکلنے لگ پڑے گی اور اس وقت وہ سر و صدا ہو گی جس کا دوسرا سرا ناپید ہو گا۔
بی بی نے بہت کہا، ”آؤ کھانا کھاؤ۔ چائے پی لو۔“ میں نے کوئی جواب دیا۔ کچھ بھی میرے گلے سے نیچے اترنے والا نہیں تھا۔
”پھر اٹھو۔ اپنا کام لکھو۔ کتاب پڑھو۔“
بیٹھنے کی نہ ہی میری حالت تھی اور نہ ہی ہمت۔ میرے پہلو میں درد اٹھا۔ دھک دھک ہو رہی تھی۔ وہیں پر جہاں آغا نے لات ماری تھی۔ میں نے اپنا سرٹیفیکیٹ دیکھا کہ بی بی کے بغل میں ہے اور وہ سکول سے باہر نکل رہی ہے اور اس کے پیچھے پیچھے آ رہا ہوں۔ بی بی کی کمر، شرمندگی اور غم سے جھکی ہوئی ہے۔
لحاف کے نیچے سے بی بی کے رونے کی آواز سنی۔ سسکیاں بھر رہی تھی۔ میں نے لحاف سے سر باہر نکالا۔
”کیا ہے بی بی؟ کیوں رو رہی ہو؟“
”تمھیں اس سے کیا۔“
”بی بی کچھ نہیں ہوا ہے۔ صرف تھوڑی سردی لگ رہی ہے۔ سر میں درد ہو رہا ہے۔“
بی بی کچھ نہ بولی۔ اسی طرح سسکیاں بھر رہی تھی اور ناک سے اوپر کھینچ رہی تھی۔ دوبارہ لحاف کو سر کے اوپر اوڑھ لیا۔ بی بی اٹھی۔ اپنی چلم تیار کر کے میرے قریب آ کر بیٹھ گئی اور چلم کی گڑ گڑ کرنے لگی۔ میں رونے لگا تھا۔ میری آنکھیں آنسوؤں سے لبریز ہو گئیں۔ آنسو آنکھوں کے کونوں سے نکل کر نیچے کی طرف بہہ کر میرے کانوں میں آنے لگے۔
میں نے کہا، ”بی بی۔ یقین کرو کچھ نہیں ہوا ہے۔“
بی بی نے چلم کی نلی سے اپنے ہونٹ ہٹائے۔ گڑ گڑ کی آواز تھم گئی۔ آرام کے ساتھ التماس کرتے ہوئے بولی، ”اللہ نہ کرے تمھارے۔ تمھارے ماموں کے سر پہ کوئی مشکل آن پڑی ہے۔ تمھیں خبر ہو گئی ہے اور مجھے نہیں بتا رہے۔ بتاؤ تاکہ خود کو پرسکون کر سکو۔“
میں اٹھ کر بیٹھ گیا۔
”بی بی۔ تیری جان کی قسم۔ ماموں کو کچھ نہیں ہوا ہے۔“
بولی، ”تم پتا نہیں اپنے کاموں سے، مجھ پر کیسا دن لاؤ گے۔ میرے دل میں ہزار طرح کے خیال آ رہے ہیں۔ یہ خیال ہٹ ہی نہیں رہے۔“
میں نے اندازہ لگایا کہ اسی طرح اگر اپنے ہونٹ نہ کھولے، ہر چیز صاف صاف نہ بتائی، تو خدا کی بندی صبح تک سوئے گی نہیں اور غم سے مر جائے گی۔ میرا دل اس کے لیے کباب ہو گیا۔ میں بالکل بے بس تھا کہ کیا کہوں۔ اگر یہ بتا دیا کہ مجھے سکول سے نکال دیا گیا ہے تو واویلا۔ بی بی رات کے اس وقت شور شرابا شروع کر دے گی کہ سب محلے والوں کو پتا چل جائے گا۔ اگر چپ سادھ لوں اور الف سے لے کر ے تک ساری بات نہ بتائی تو ڈھیر سارے نامناسب خیالات اس کے ذہن میں آتے رہیں گے۔
بی بی چلم پی رہی تھی۔ آنسو بہا رہی تھی۔ سر کو جھٹکا دے رہے تھی۔ خدا ہی جانتا ہے کہ وہ کیا سوچ رہی تھی۔
میں نے سر لحاف کے اندر کر لیا۔ صبر کیا کہ اس کے چلم پینے کی آواز بند ہو۔ آرام کے ساتھ بھرے ہوئے من کے ساتھ کہا:
”بی بی، میرے لیے فٹبال والے بوٹ خریدو۔“
میری آواز کسی کنویں کی تہہ سے آتی ہوئی محسوس ہوئی۔ یقین سے نہیں کہہ سکتا کہ بی بی نے سن لی تھی یا نہیں سنی تھی۔
میں نے کہا، ”میں فٹبال کھیلنا چاہتا ہوں۔ میرے لیے ایک ٹریک سوٹ خریدو گی؟“
میری بات کا جواب نہ دیا۔ اسی طرح تیزی کے ساتھ چلم پیتی رہی۔ میں نے اونچی آواز میں کہا، ”میں اب مزید غبی نہیں رہنا چاہتا۔ حقارت محسوس کی ہے۔ اب مزید کتابیں نہیں پڑھوں گا۔ کتابیں انسان کو خیالوں میں رہنے والا بنا دیتی ہیں۔ غبی بنا دیتی ہیں۔“
میں نے لحاف کا ایک کونا اٹھایا۔ بی بی کے چہرے کی طرف دیکھا۔ ویسی ہی چلم پیتے ہوئی بولی، ”سکول میں کہا گیا کہ تم غبی ہو؟“
میں نے جواب نہ دیا۔ معلوم ہو رہا تھا کہ کسی نامناسب فکر و خیال میں ڈوبی ہوئی ہے۔ دوبارہ اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہا، ”خود خواہش کی ہے کہ فٹبال والے بوٹ لوں یا سکول والوں نے کہا ہے؟“
میں نے کہا، ”تمھیں سکول آنا ہو گا۔“
میں مزید کچھ نہ بولا۔ وہ بولتی گئی اور بولتی گئی۔ غم گساری کرتی گئی۔ نصیحت کی اور کہا، ”بندے کو ان چیزوں کے بارے میں اتنی اہمیت نہیں دینی چاہیے۔ میں نے سمجھا پتا نہیں کیا ہو گیا ہے۔“
میں نے لحاف اوڑھ لیا۔ رونے سے میرا گلا بھر آیا۔ میں اونچا اونچا رونے سے ڈرا۔ ڈر تھا کہ بی بی اس قضیے کی تہہ جاننا چاہے گی اور میں ہر چیز بتا ڈالوں گا اور اس وقت بی بی کے حال سے خدا کی پناہ۔
اس رات سحر تک، میں نے پلکیں نہ جھپکیں۔ میری آنکھیں اسی طرح کھلی کی کھلی تھیں۔ کسی گناہ گار مردے کی طرح کروٹیں بدلتا رہا اور عذاب سہتا رہا۔ میں سوچ رہا تھا اور سوچے جا رہا تھا۔ پاگل ہونے والا تھا۔ اچانک آدھی رات کو بستر میں اٹھ کر بیٹھ گیا۔
”بی بی! میں لکھاری نہیں بننا چاہتا اور نہ ہی کتاب لکھنا چاہتا ہوں۔ وہ مجھے لکھنے نہیں دیتے جو میں لکھنا چاہتا ہوں۔“
لیکن بی بی سوئی ہوئی تھی۔ اس نے میری آواز نہ سنی۔ کمرے میں اندھیرا تھا۔ بی بی کے سانس لینے کی آواز آ رہی تھی۔
*****
صبح، ابھی اندھیرا روشنی سے پوری طرح جدا نہیں ہوا تھا۔ بی بی، حوض کے قریب نماز پڑھ رہی تھی۔ میں نیند سے بیدار ہوا۔ میں اٹھا، اپنے کام کیے۔ بی بی ابھی تک جائے نماز پر تھی۔ سائیکل نکالا اور گھر کے دروازے سے، بنا کچھ کھائے پیئے باہر نکلا۔ بی بی کے آنے اور یہ کہنے کہ ”کہاں جا رہے ہو؟ ’تک میں گلی کا موڑ مڑ چکا تھا۔ میں سیدھا انشا کے معلم آغا حسینی کے گھر پہنچا۔ دروازے کی درز سے دیکھا کہ ان کے گھر میں بالکل سکوت ہے۔ میں کھڑا رہا۔ فضا کافی روشن ہو چکی تھی کہ آغا کی ہیولہ، دور گلی میں دکھائی دیا۔ انھوں نے واسکٹ پہن رکھی تھی۔ نان خرید کر آ رہے تھے۔ میں خوش ہوا اور ان کی طرف بڑھا۔
”سلام آغا حسینی صبح بخیر!“
”سلام مجید کیسے ہو؟ کیا بات ہے کہ آج اس طرف آ نکلے؟“
”کچھ نہیں۔ ایسے ہی۔ میں آپ کو سلام کرنے آیا ہوں۔“
”اتنی صبح صبح؟“
”بس مجھے آپ کی یاد آ رہی تھی کیونکہ آپ تو اب سکول آتے نہیں ہیں۔“
”بہت شکریہ تمھیں میرا خیال آیا۔“
میں چاہتا تھا کہ فوراً انھیں ساری بات بتا دوں۔ لیکن سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ کس طرح۔ ان کے پیچھے پیچھے چلتا ہوا ان کے گھر تک آیا۔
”اندر آؤ۔ ناشتہ کرتے ہیں۔“
”نہیں میرا دل نہیں،“
”میرے خیال میں کسی پریشانی میں مبتلا ہو۔ کوئی مشکل ہیش آئی ہے؟“
میں نے بے اختیار ان کی آستین کو پکڑا۔
”آغا۔ میں بالکل بے چارہ ہو گیا ہوں۔ مجھے سکول سے نکال دیا ہے۔“
”کیوں؟ تم نے ایسا کیا کیا ہے کہ نکال دیا؟“
”مضمون لکھا۔ ہیڈ ماسٹر آغا کو پسند نہیں آیا۔ مجھے مارا اور بعد میں کہا، ’کل صبح سکول نہیں آنا۔‘ لازمی بی بی جا کر سرٹیفیکیٹ لے لے گی۔“
”عجیب بات ہے۔ تم نے لکھا کیا تھا؟“
مردہ شور اور ’گوسالے‘ کا ماجرا انھیں سنایا۔ ہنسے اور کہا، ”تم نے اچھا نہیں کیا۔“
میں نے کہا، ”اگر آپ کو پسند نہ آیا ہوتا تو درگزر کرتے یا سمجھاتے۔“
انھوں نے مہربانی کے ساتھ کہا، ”اب پریشان نہ ہو۔ جو ہونا تھا ہو گیا۔ زندگی میں اس طرح کی بہت سی چیزیں پیش آتی ہیں۔ تم لکھاری بننا چاہتے ہو۔ اس لیے ضروری ہے کہ ان چیزوں کے بارے میں معلوم ہو اور تحمل و برداشت سے کام لو۔ مت ڈرو۔ وہ تمھیں ڈرانا چاہتے ہیں۔ اندر آؤ۔ ناشتہ کرتے ہیں۔ مجھے دیر ہو رہی ہے۔
”آغا! ناشتہ نہیں کرنا چاہتا۔ میری حالت کے بارے میں سوچیں۔ کچھ ایسا کریں کہ بی بی سکول نہ پہنچے۔ میری عزت نہ رہے گی۔“
”میں تمھارے پرنسپل آغا کو فون کروں گا۔ غمگین نہ ہو۔ انشاءاللہ ہر چیز ٹھیک ہو جائے گی۔“
”آغا، ہیڈماسٹر آغا کو کسی طرح راضی کریں۔ میں تو بالکل مرنے والا ہو گیا ہوں۔“
”دنیا تو ختم نہیں ہو گئی۔ پرنسپل آغا کو تمھارے بارے میں معلوم ہے۔ ہیڈماسٹر نئے ہیں۔ وہ ہیڈ ماسٹر سے بات کر لیں گے۔“
”میں کب تک سکول پہنچوں؟“
”دو گھنٹے بعد ۔ میں پرنسپل آغا سے بات کروں گا۔ پھر تم ان کے سامنے جانا۔ وہ اچھے اور رحم دل انسان ہیں۔“
”خدا آپ کو لمبی عمر دے آغا۔ اگر لکھاری بن گیا تو کہانی لکھوں گا۔ اس میں لکھوں گا کہ آپ ایک اچھے انسان ہیں۔“
”تمھارے ہیڈماسٹر بھی اچھے انسان ہیں۔ اگر سخت گیر نہ ہوں تو سکول کا نظام کس طرح چلائیں۔“
”آغا! دراصل وہ اہل ادبیات نہیں ہیں۔“
”ٹھیک ہے۔ کوئی بات نہیں۔ ہر کوئی تمھاری طرح خیال پرداز نہیں ہوتا اور نہ ہی ہر کوئی شاعری اور کہانیوں سے شغف رکھتا ہے۔“
میرے کندھوں پر تھپکی دی۔ نان کھانے کی دعوت دی۔ میں نے تازہ نان کا ٹکڑا توڑا اور منہ میں ڈالا۔ آغا اندر چلے گئے۔
میں بہت خوش تھا۔ نان کھا رہا تھا اور سائیکل کے پیڈل مارتا ہوا گلی میں چلا جا رہا تھا۔
*****
’دو گھنٹے بعد‘ ۔ میں نے کچھ لوگوں سے پوچھا، ”کیا ٹائم ہو گیا ہے؟“ سائیکل پر سوار جا رہا تھا۔ میں وقت کاٹ رہا تھا تاکہ ٹھیک موقع پر پرنسپل آغا کے سامنے پہنچوں۔
مجھے معلوم تھا کہ آغا حسینی سے بات ہو چکی ہے اور وہ پرنسپل آغا کو فون کریں گے۔ لیکن میں ڈرا ہوا تھا۔ مجھے ڈر یہ تھا کہ کہیں وہ بھول ہی نہ جائیں۔ بچے سکول کی طرف جا رہے تھے جبکہ میں گلیوں اور سڑکوں پر پھر رہا تھا۔ میں سکول جانا چاہتا تھا اور وہاں کھڑا انتظار کر رہا تھا۔ مجھے ڈر تھا کہ اگر بچوں کی نظر مجھ پر پڑھ گئی تو میری عزت نہ رہے گی۔ مجھے سکول اور کلاس کا خیال آ رہا تھا۔ کتابیں اور کاپیاں سائیکل کے ہینڈل سے لٹکائی ہوئی تھیں۔
دوسرے بچوں نے بھی بستے، کاپیاں اور کتابیں سائیکل کے ہینڈل سے لٹکائی ہوئی تھیں۔ میں کچھ سکولوں کے آگے سے گزرا۔ بچے اکیلے اکیلے اور ٹولیوں کی شکل میں اندر جا رہے تھے۔ ہیڈ ماسٹر آغا نے کہا تھا، ’سکول نہیں آنا۔‘ میں بے خودی میں سڑکوں پر پھر رہا تھا اور پیڈل مار رہا تھا۔ دکاندار دکانیں کھول رہے تھے۔ سامان پر سے گرد جھاڑ رہے تھے۔ چیزیں دیواروں پر آویزاں کر رہے تھے۔ ایک بوڑھا آدمی، جس نے کالے رنگ کا لباس پہن رکھا تھا اور فٹ پاتھ پر تیز تیز چل رہا تھا۔ چہرے سے کوئی معلم معلوم ہو رہا تھا۔
میں نے پوچھا، ”آغا! کیا ٹائم ہو گیا ہے؟“
وہ جلدی میں تھا۔ جواب نہ دیا۔
میں نے پھر پوچھا، ”آغا! کیا ٹائم ہو گیا ہے؟“
وہ مڑا۔ کتاب اور کاپی کو میرے سائیکل کے سامنے دیکھا اور کہا، ”ابھی گھنٹی بجنے والی ہے جلدی پہنچو۔“
یہ نہیں کہا ٹائم اتنا ہو گیا ہے۔ بلکہ کہا جلد پہنچو۔ وقت بہت آہستہ گزر رہا تھا۔ میرا دل چاہا۔ اس بوڑھے آدمی سے کہوں، ”مجھے سکول سے نکال دیا گیا ہے۔“ لیکن وہ جا چکا تھا اور موڑ مڑ چکا تھا۔
بازار ٹھیک تھا۔ وقت گزارنے کے لئے اچھا تھا۔ کچھ دکانوں اور ان کے باہر سامان کی طرف دیکھنے لگا۔ وقت تیزی سے گزارنے کے لئے لوہاروں والے بازار کی طرف چلا۔ ایک بچہ، میرے جتنا قد، جس کے کپڑے گرد آلود اور ہاتھ اور چہرہ میلے کچیلے تھے اور پلاسٹک کی چپلیں اس کے پیروں میں تھیں، زور لگا رہا تھا اور تانبے کی ایک بڑی دیگ کو دکان سے باہر لا رہا تھا اور دکان کے دروازے کے قریب رکھا۔ میں کھڑا ہو کر اس کی طرف دیکھنے لگا۔
اچانک میرا دل بیٹھنے لگا۔ میں نے اپنے آپ سے کہا، ”مجید تجھے تو سکول سے نکال دیا ہے۔ بالکل اسی کی مانند ہو جاؤ گے۔ کل پرسوں یا پھر اس سے اگلے دن، بی بی تیرا ہاتھ پکڑ کر اس جیسی دکانوں میں سے کسی دکان پر چھوڑ جائے گی۔“ اور پھر دل میں کہا، ”مجید! تم تو ایک خطا کار انسان ہو۔ اس وجہ سے تمھارے ساتھ یہ حادثہ ہوا ہے۔ لیکن اس بچے نے ایسا کیا کیا ہے کہ اسے اس طرح دیکھ رہے ہو۔“
سائیکل سے نیچے اترا۔ سائیکل کی دیوار کے ساتھ ٹیک لگائی اور اپنے آپ سے کہا، ”برا نہیں تھوڑی پریکٹس کر لوں۔“ آگے بڑھا۔
”سلام! کیا میں تمھاری مدد کروں؟“
بولا، ”تم کون ہو؟“
”تمھاری طرح کا ایک انسان۔“
میں تانبے کو بڑے تھال کو اٹھا کر باہر لایا اور کہا، ”کیا یہاں کام کے لیے کسی لڑکے کی ضرورت ہے؟“
وہ طنزیہ مسکرایا۔ جواب نہ دیا۔ میں نے اس کے پیروں کی طرف دیکھا۔ سردی کی شدت سے سرخ ہو رہے تھے۔ اس کا استاد آ گیا۔ بد مزاج تھا۔
گرج کر بولا، ”یہ کون ہے؟“ اور میری طرف اشارہ کیا۔
لڑکے نے جواب دیا، ”میں نہیں جانتا۔“
استاد نے لڑکے کے چہرے پر ایک زور دار تھپڑ مارا، ”کتنی بار کہا ہے کہ جب میں موجود نہ ہوں تو ہر ایرے غیرے کو دکان کے اندر نہ آنے دیا کرو۔“
میں نے دیکھا کہ ماحول کافی خراب ہو چکا ہے۔ سائیکل پر چڑھا اور تیزی سے چلانے لگا۔ اس لڑکے کی آواز پیچھے سے سنی۔ رو رہا تھا اور نامناسب گالیاں مجھ پر نچھاور کر رہا تھا۔ میں چورستے کی طرف بڑھا۔ بازار کے راستے کے اندر مڑا۔ سورج کافی بلند ہو چکا تھا۔ بازار کی چھت میں بنی درزیوں سے اس کی کرنیں نیچے آ رہی تھیں اور دیوار پر پڑھ رہی تھیں۔ بازار میں نمی کی بو تھی۔ دکان کے باہر دکانداروں نے پانی کا چھڑکاؤ کیا تھا۔ ابھی بازار میں رش نہیں ہوا تھا۔
ایک دکاندار سے جو ایک شرٹ کو دکان کے باہر لٹکا رہا تھا۔ میں نے پوچھا، ”آغا! کیا ٹائم ہو گیا ہے؟“
”نو بجنے میں بیس منٹ ہیں۔“ بازار کے آخر تک پہنچنے میں وہ بیس منٹ بھی پورے ہو گئے۔ لیکن میں نے سوچا کہ آہستہ آہستہ جاؤں۔ سائیکل پر نہ چڑھوں۔ میں نے اندازہ لگایا کہ بچے کلاس میں ہوں گے اور میں اسی طرح بے کار۔ لوہار کے اس شاگرد لڑکے کا خیال آیا۔ اپنے آپ سے کہا، ”اس کے لیے عجیب آش تیار کیا ہے اور وہ بھی بالکل صبح صبح۔ اللہ کرے اس کا استاد اس کی زیادہ پٹائی نہ کرے۔“
میں کتب فروش کی دکان کے پاس پہنچا جو بازار کے آخری سرے پر تھی۔ میں ہمیشہ اسی سے کتابیں خریدتا تھا یا کرائے پر لیتا تھا۔ میں نے دیکھا کہ اس کی دکان کے باہر کافی رش ہے۔ دکاندار اور راہگیر جمع ہیں۔ میں نے آگے ہو کر دیکھنے کی کوشش کی۔ ایک عورت کی آواز آ رہی تھی۔ چیخ و پکار کر رہی تھی۔ پشت میری طرف تھی۔ آواز جانی پہچانی لگی۔ بی بی تھی۔ میں اچانک، مجسمے کی مانند، مبہوت ہو کر رہ گیا، بی بی کہاں اور یہ جگہ کہاں۔
بی بی نالہ و نفرین کر رہی تھی اور بوڑھے کتب فروش کو برا بھلا کہہ رہی تھی۔
”خدا تجھے ذلیل کرے۔ تو نے میرے بچے کو بے راہ کر دیا ہے۔ تمھاری ان منحوس کتابوں کی وجہ سے۔“
وہ بوڑھے کی دکان کے سامنے رکھی کتابوں کو بکھیر رہی تھی اور لگاتار چیخ اور چلا رہی تھی۔ کسی کی مجال نہیں تھی کہ اس کے سامنے بولے۔
”کیوں ان کتابوں کو دیا میرے بچے کو کہ اس کا مغز خراب ہو جائے۔ تم نے سمجھا کہ اس بچے کا باپ نہیں ہے؟“
ایک موٹی کتاب اٹھائی اور اس بوڑھے آدمی کے سر پر مارنے کا دل چاہا کہ جو اس کے سامنے رکھی ہوئی تھی۔
”تم اس بربادی کا سبب ہو کہ میرے بچے کو سکول سے نکال دیا گیا ہے۔ خدا تیری غلطی کبھی معاف نہیں کرے گا۔“
بوڑھا آدمی بالکل مبہوت کھڑا تھا۔
”میں۔ میں بربادی کا باعث ہوا ہوں؟ معلوم بھی ہے کہ معاملہ ہے کیا؟ کیوں اتنا شور مچا رہی ہو؟“
”وجہ تم ہی ہو۔ بات دوسری طرف نہ لے جاؤ۔ تمھارا نام صادق۔ پتا نہیں کون سا صادق؟“
”صادق کون؟“
”میں نے خود دیکھا ہے کہ میرا بچہ ایک ایک کر کے پیسے جمع کرتا ہے اور لا کر تمھیں دیتا ہے اور ایک کتاب خریدتا ہے۔ تم نے اسے بے چارہ کر دیا ہے۔ دیوانہ کر دیا ہے۔ آوارہ کر دیا ہے۔ خدا تمھارے ٹکڑے ٹکڑے کرے۔ اپنی عمر کی طرف دیکھو۔ کچھ شرم کرو۔ وہ کتابیں میرے بچے کو دی کہ پڑھ کر پتا نہیں کیا بنے۔“
میں چاہتا تھا کہ اس کے سامنے جاؤں۔ لیکن ہمت نہ ہوئی۔ بی بی سے ڈر لگ رہا تھا۔ میرا من چاہتا تھا کہ دیکھوں آخر کیا ہوتا ہے۔
بوڑھا آدمی حیران و پریشان کھڑا تھا کہ کیا کہے۔ بی بی کتابوں سے ہاتھ اٹھا کر رونے لگ پڑی۔ ایک پارچہ فروش جو کھڑا تماشا دیکھ رہا تھا، بی بی کی طرف آگے بڑھا۔
”ماں جی! اس بے چارے کا نام صادق نہیں ہے۔“
بی بی نے روتے روتے کہا، ”صادق ہدایت ہے۔ ابھی یاد آیا۔ یہ خود ہے۔ ایسی ہی کتابیں پڑھ کر بے چارہ ہو گیا ہے۔ اس کے سر پر مارا ہے۔ اس کے معلم نے کہا ہے کہ بہت عجیب و غریب چیزیں لکھتا ہے۔ لیلی مردہ شور کی زندگی کی داستان لکھ کر کلاس میں پڑھی۔ وہ کہتے ہیں کہ اسی کے زیر اثر ہے۔ بچوں کو راہ سے بے راہ کرتا ہے۔“
پارچہ فروش نے کہا، ”ایک کتب فروش بازار کی دوسری طرف ہے۔ نمائش گھر کی دیوار کے قریب۔ کتابیں دیوار کے ساتھ لگا کر رکھی ہوتی ہیں۔ جا کر اس سے جھگڑو۔ شاید وہی صادق ہدایت ہے۔“
بوڑھے کتب فروش کو اب سمجھ آیا کہ اس قضیے کی بنیاد کیا ہے۔ اس کی تلخی ختم ہو گئی۔ مسکرایا اور ہتھیلی کی پشت سے آنکھوں کو ملا اور کہا:
”کربلایی۔ جس کو تم ڈھونڈ رہی ہو، وہ ایک لکھاری تھا اور کچھ سال پہلے مر چکا ہے۔ ہم نے اس کی کتابیں بیچنے کے لیے ابھی نہیں رکھی ہیں۔ جا کر اس سے پوچھو کہ کس کتب فروش نے اسے تمھارے بچے کو پڑھنے کے لئے دی ہے۔ اس کا گریبان جا کر پکڑو۔“
بی بی بیٹھ گئی۔ رو رہی تھی۔ پشیمان ہو گئی تھی۔
”اب مجھے نہیں معلوم کہ میرا بچہ کہاں گیا ہے؟ کیا کر رہا ہے؟ اصلا، غائب ہو گیا ہے۔“
بالآخر میں نے ہمت کی اور بھیڑ سے گزر کے آگے ہوا۔ بی بی کا بازو پکڑا۔
”اٹھو بی بی۔ کھڑی ہو۔ میں کہیں نہیں گیا۔ بازار میں صادق ہدایت کو تلاش نہ کرو۔ بے آبرو بھی نہ کرو۔“
بی بی نے جب مجھے دیکھا تو گرجی، ”کس قبر میں تھے؟ سکول کیوں نہیں گئے؟“ اور پھر میرا بازو پکڑا اور کھینچا: چلو سکول۔ ”
ہم چل پڑے۔ لوگ ہماری طرف دیکھ رہے تھے۔ سر کے اشارے سے بوڑھے کتب فروش سے معذرت کی۔
بی بی، صبح میرے بعد کہ میں اس حالت میں گھر سے باہر نکلا تھا، اس کی چھٹی حس خبردار ہو گئی کہ لازما سکول میں کچھ ہوا ہے۔ وہ چلتی ہوئی صبح صبح سکول پہنچی۔ ہیڈ ماسٹر کے پاس۔ انھوں نے گراؤنڈ میں کھڑے کھڑے، مردہ شور والا ماجرا سنایا۔ کہا تھا، ”صادق ہدایت کی کتابیں پڑھی ہیں اور آج یہ حال ہوا ہے۔“ بی بی نے سمجھا کہ صادق ہدایت وہی کتب فروش ہے۔ جس کا میں گاہک ہوں اور بازار میں وہ قیامت کھڑی کی۔
بہرحال، سکول کے باہر پہنچے۔ میں اندر جانے سے ڈر رہا تھا۔ لیکن بی بی نے میری آستین پکڑ کر کھینچا۔ ہم سیدھا دفتر میں گئے، پرنسپل آغا کے سامنے۔ ہیڈ ماسٹر سکول کے گراؤنڈ میں تھے اور اپنی اسی چھڑی کے ساتھ بچوں کے درمیان پھر رہے تھے۔
دفتر کے اندر، میں کرسی پر بیٹھا تھا۔ پرنسپل آغا ٹیلی فون پر بات کر رہے تھے۔ میں خدا خدا کرنے لگا کہ دوسری طرف ٹیلی فون پر آغا حسینی ہی ہوں۔ بالآخر، کچھ سمجھ نہ پایا کہ کس کے ساتھ بات کر رہے ہیں۔ میری انشا کی کاپی میز پر پرنسپل آغا کے سامنے رکھی تھی۔ میں نے انتظار کیا یہاں تک کہ فون پر بات مکمل ہوئی اور پرنسپل آغا نے ریسیور رکھ دیا۔ ابھی بی بی نے بولنے کے لیے ہونٹ نہیں کھولے تھے کہ میں کرسی سے اٹھ کر کھڑا ہو گیا اور بولا:
”آغا آپ کی جان کی قسم میں نامناسب کتابیں ۔“
آغا بیچ میں ہی بولے، ”جب تک تمھیں اجازت نہ ملے نہ بولو۔ تربیت ہونی چاہیے۔“
”چشم آغا۔“
سر نیچے جھکا کر بیٹھ گیا۔ بی بی نے بولنا شروع کیا:
”آپ نے جو مشق دی تھی۔ اس نے غلط کیا ہے کہ اس کے علاوہ کچھ اور لکھا ہے۔ اگر پھر لکھے تو میں ضامن ہوں۔“
آغا نے سگریٹ سلگایا اور کہا، ”اسے خود ہی لکھنا چاہیے۔ ماں جی۔ لیکن اسی بارے میں لکھے جو لکھنے کے لئے ہم کلاس کو دیتے ہیں۔“
”اگر خود ہی لکھے تو اس طرح کا ہی لکھ لائے گا۔ اسے بتائیں کہ کس طرح لکھے کہ آپ اس سے خوش ہوں۔ یہ ابھی بچہ ہے۔ اس ابھی زمانے کے سرد گرم سے واسطہ نہیں پڑا ہے۔ دنیا کا اچھا برا ابھی اسے معلوم نہیں ہے۔ یہ سمجھتا ہے کہ جو بھی لکھے اچھا ہے۔ خدا آپ کی خیر کرے، اس کی مدد کریں اس کا کوئی نہیں ہے۔ اسے اپنے بیٹے جیسا سمجھیں۔“
”ہمارے کہنے سے کچھ فرق پڑنے والا نہیں ہے۔ آپ خود ہی اس کو سمجھائیں کہ ہر مزخرفاتی کتابیں نہ پڑھا کرے اور نہ ہی ہر فضول چیز لکھ کر کلاس میں لایا کرے۔“
”ان کتابوں سے خدا کی امان۔ خدا کی قسم، آپ اس بات سے بے خبر نہیں ہیں، جب بھی مجھ سے کچھ پیسے لیتا ہے یا اس کا ماموں، محض خدا کی رضا کے لئے، اس کی ہتھیلی پر رکھ جاتا ہے کہ اس سے کچھ کپڑے خریدے یا کوئی چیز خرید کر کھائے۔ یہ سیدھا کتب فروش کے پاس جاتا ہے۔ انھیں بھی پتا ہے کہ اس کا باپ نہیں ہے، جو بھی ان کے ہاتھ آئے لا کر اس پکڑا دیتے ہیں کہ یہ پڑھے اور اپنا مغز خراب کرے۔ میں بھی، بالکل ان پڑھ ہوں۔ کیسے پتا چلے کہ کیا پڑھ رہا ہے اور کیا لکھا رہا ہے؟“
میں کھڑا ہو گیا اور اجازت لیے بغیر ہی بولا، ”آغا! میں نے سنا ہے کہ ہر کتاب کو ایک بار لازمی پڑھنا چاہیے۔“
آغا نے سگریٹ کی راکھ، ایش ٹرے میں جھاڑی اور کہا، ”دوبارہ بولنے لگے ہو۔ جس نے بھی یہ بات کہی ہے درست نہیں ہے۔ بہت سے کتابوں پر ایک نظر ڈالنا بھی ٹھیک نہیں ہے بجائے انھیں پڑھنے کے۔ وہ بھی تمھاری عمر میں کہ ابھی خوب اور بد کو نہیں سمجھ سکتے۔“
بی بی اپنے چہرے پر چادر کی اور روہانسی ہو کر بولی، ”ہر قسمت اور اقبال کی کوشش سے، آغا یہ چاہتا ہے کہ شاعر بنے، میں کیا جانوں، لکھاری بنے۔ خدا کی قسم ہمارے خاندان میں ہر طرح کے لوگ ہیں سوائے شاعروں اور لکھاریوں کے۔ آپ سے کیا چھپانا، ایک عمر تک زحمتیں اور سختیاں سہ کر، بدبختی اور ناداری کے ساتھ اسے یہاں تک پہنچایا ہے۔ خدا کی بارگاہ میں آرزو ہے کہ یہ کمانے کے قابل ہو جائے اور دوستوں اور دشمنوں میں سر بلند ہو جائے۔
اب یہ دیکھیں کہ جو بھی میری محنت تھی، ضائع جا رہی ہے۔ لوگوں کی اپنی اپنی قسمت کی بات ہے۔ اس کی خالہ کا بیٹا اس سے کچھ ہی سال بڑا ہے۔ ایک ادارے میں ملازم ہے اور مہینے کے مہینے تنخواہ لیتا ہے۔ سال میں دو جوڑے نئے کپڑے اور دو جوڑے جوتے ملتے ہیں۔ اس کی زندگی، خدا کا شکر ہے، پٹڑی پر چل پڑی ہے۔ اب آپ ہی اسے بتائیں، شاعر بن کر لکھاری بن کر کیا ملے گا؟ اسے پیسے ملیں گے؟ کپڑے اور جوتے ملیں گے؟ جب بڑا ہو جائے گا تو کیا کوئی اپنی لڑکی اس دے گا؟ واللہ مجھے نہیں معلوم کہ اس کا دل کس چیز سے خوش ہے۔“
میں نے تیزی سے بی بی کو کہا، ”بی بی! تم تو ہمیشہ میرے لکھے ہوئے سے خوش ہوتی تھی۔ اب کیا ہوا ہے کہ۔“
اللہ بخشے، چادر کے نیچے سے اپنی کہنی میرے پہلو میں ماری کہ میرے سانس رک گیا۔
پرنسپل آغا نے دیکھا کہ بی بی اپنے درد دل بیان کرنے لگی ہے اور بے ربط باتوں سے ان کا وقت ضائع کر رہی ہے۔ وہ اٹھے اور دفتر کے دروازے سے باہر ہیڈ ماسٹر کو آواز دی۔
بیڈ ماسٹر آغا آئے۔ وہ بھرے بیٹھے تھے اور ان کے ہاتھ میں موجود چھڑی اوپر نیچے حرکت کر رہی تھی۔ کرسی پر بیٹھ گئے۔ بی بی اور میرے رو بہ رو۔ بی بی نے آنکھوں اور ابرو سے اشارہ کیا یعنی ہیڈ ماسٹر آغا کے ہاتھ چوموں۔ میں چاہتا بھی تھا اور ہمت بھی نہیں ہو رہی تھی۔ میں نے دھیان دوسری طرف کرنے کی کوشش کی اور چھت کے کونے کی طرف دیکھنے لگا۔ چونا اتر کر مکڑی کے جالے میں اٹکا ہوا تھا۔
پرنسپل آغا نے ہیڈ ماسٹر کی طرف رخ کر کے کہا:
”اس دفعہ معاف کر دیں۔ اجازت دیں کلاس میں چلا جائے۔“
”یہ لکھ کر دے کہ کلاس میں ہر مزخرفاتی چیز نہیں پڑھے گا اور نہ کلاس کا نظم و ضبط درہم برہم کرے گا۔“
”آپ جو چاہیں گے وہی لکھے گا۔ چاہے تو پٹائی کر دیں۔ لیکن سکول سے باہر نہ کریں۔“
ہیڈ ماسٹر آغا اٹھے۔ ایک کاغذ میز پر سے اٹھا کر مجھے دیا اور اشارہ کیا یعنی لکھو۔ میں نے جیب سے قلم نکالا۔ ہیڈ ماسٹر بولتے گئے اور میں لکھتا گیا:
”اپنی ماں کی موجودگی میں، میں یہ قول دیتا ہوں کہ آئندہ ایسا کچھ نہیں لکھوں گا جو کلاس کے نظم و ضبط کے خلاف ہو اور کلاس کو ڈسٹرب کرنے سے بچوں گا۔ معلموں کے ساتھ بے ادبی نہیں کروں گا۔ اگر ان چیزوں کا لحاظ نہ رکھا تو انھیں یہ حق حاصل ہے کہ مجھے سکول سے باہر نکال دیں۔“
ہیڈماسٹر آغا نے کہا، ”اب نیچے اپنے دستخط کرو۔“
مجھے دستخطوں کا نہیں پتا تھا۔ میں نے اپنا نام لکھا اور اس کے گرد ایک دائرہ لگایا۔ پھر ہیڈ ماسٹر آغا نے بی بی کی طرف رخ کر کے کہا، ”آپ بھی اس کے نیچے انگوٹھا لگائیں۔“
بی بی کے انگوٹھے پر اپنی قلم کی نب سے سیاہی لگائی۔ بی بی نے اپنا انگوٹھا اس ’اقرار نامہ‘ کے نیچے لگایا۔ ہیڈ ماسٹر آغا نے اقرار نامہ اٹھا لیا اور کہا، ”ہم اسے تمھاری فائل میں لگائیں گے۔ تم پر افسوس اگر اس کی خلاف ورزی کی۔“
بی بی نے کہا، ”غلط کرے گا اگر اس کے خلاف کچھ کیا۔ اس کا قیمہ قیمہ کر دینا۔“
بی بی، سکول کے گراؤنڈ میں، چادر کو اپنے چہرے پر کر لیا۔ بچوں کے درمیان سے گزرتی ہوئی سکول سے باہر نکل گئی۔ میں ہاتھ میں اپنی انشا کی کاپی اٹھائے کلاس کی طرف دوڑا۔


