وسیب والوں کو جاندار ہی سمجھ لو


جنوبی پنجاب آج کل طوفانی بارشوں اور دریائے سندھ کی طغیانی کی زد میں ہے۔ ایک طرف کوہ سلیمان سے رودکوہیوں کی صورت میں آنے والی آفت بستیوں کی بستیاں صفحہ ہستی سے مٹا رہی ہے تو دوسری طرف دریائے سندھ کے کٹاو اور سیلابی ریلے باقی بچ جانے والوں کو ڈبو رہے ہیں۔ ایسے میں تباہی، بربادی کی وہ المناک داستانیں رقم ہو رہی ہیں جن سے نہ تو ہمارے حکمرانوں، ہمارے میڈیا اور مراعات یافتہ شہروں کے شہریوں کو سروکار ہے۔ قارئین کرام میں چھٹیوں پر کچھ دن گھر گیا تو ایسے لگتا تھا کہ میرا پورا شہر ہی بیمار ہو کر ہسپتالوں میں پہنچ گیا ہے۔ لوگوں کو ہسپتالوں کے باہر بینچوں اور پھٹوں پر ڈرپس لگے ہوئے پڑے دیکھا تو دل خون کے آنسو رویا۔

اندازہ لگائیں کہ جام پور براہ راست سیلاب سے متاثرہ نہیں ہے بلکہ اس کے اطراف کے علاقے زد میں آئے ہیں تو وبائی امراض کا شکار ہے تو جہاں سیلاب آیا ہے وہاں کی کیا صورتحال ہوگی۔ آج فیس بک پر سماجی رہنما اور عزیز دوست منیر الحسینی کی پوسٹ کی ہوئی لرزا دینے والی تصویر دیکھی جس میں کیچڑ میں سے مدد کے لئے پکارتے ہوئے دو ہاتھ دکھ رہے تھے۔ یہ دو ہاتھ تونسہ کے مشہور زمانہ عثمان بزدار کے علاقے تمن بزدار کے رہائشی میر خان بزدار کے تھے جو کوہ سلیمان سے آنے والے سیلابی ریلے سے اپنے چھ بچوں کو بچاتے ہوئے اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھا۔ اس بدقسمت باپ کی لاش چھ روز کے بعد کیچڑ میں سے ملی۔ میر خان جیسے درجنوں اور بدقسمت ہیں جو بے رحم رودکوہیوں اور سیلاب کی زد میں آ کر جان سے جا چکے ہیں۔ اب تک تو صرف تونسہ شہر میں پچیس سے زائد افراد جان سے گئے ہیں، راجن پور، ڈیرہ غازی خان اور مظفرگڑھ کے کئی علاقوں میں ہونے والی تباہی کی تو داستانیں تک نہیں سامنے آئی ہیں

ایک طرف تونسہ پورا شہر ڈوب گیا ہے تو دوسری طرف ضلع راجن پور کا بڑا شہر فاضل پور بھی ڈوبا ہوا ہے۔ افسوس، الم، دکھ کی بات یہ ہے کہ نہ تونسہ کو ڈوبنے سے بچانے کے لئے کوئی انتظامی مشینری حرکت میں نہیں آئی تھی۔ اسی طرح کی بے حسی فاضل پور کے معاملے پر بھی دیکھنے میں آئی شہر کے مغربی حصے کو بچانے والی ریلوے لائن میں شگاف ہوا تو کوئی انتظامی مشینری اس شگاف کو پر کرنے کے لئے نہ پہنچی یوں ایک دن تک غربی حصے کو ڈبونے کے بعد تین لاکھ کی آبادی کا پورا شہر ڈوب گیا۔

کیا یہ شہر راجن پور یا جنوبی پنجاب کے بجائے اپر پنجاب کا حصہ ہوتا تو کیا ڈوبنا ہی اس شہر کا مقدر بنتا؟ کیا میر خان اسلام آباد یا لاہور کا رہائشی ہوتا تو اس کا ڈوبنا یوں ہی خاموشی اور بے حسی کی زینت بنتا؟ نہیں ایسا نہیں ہوتا، یہاں کے لوگوں پر آسمان سے بارش، زمین پر پانی اور لمپی سکن اور ڈائیریا آفتوں کے پہاڑ توڑ رہا ہے مگر کسی کو کیا فرق پڑے گا

فرق پڑے گا بھی کیوں؟ ہمیں تو ہمارے سرداران، جاگیرداران غلام سمجھتے ہیں، باقی رہی بات انتظامیہ کی تو ان کے نزدیک تو ہماری حیثیت تھرڈ کلاس شہری کی بھی نہیں ہے۔ چلو چھوڑو ہم وسیب والوں کو انسان نہیں سمجھتے تو جاندار سمجھ کر ہی کوئی خیال کرلو۔ دکھ کی بات تو یہ ہے کہ میڈیا خاموش ہے باقی پورا ملک خاموش ہے، بڑے شہروں کے شہری خاموش ہیں۔ ہمارے لئے کچھ کر نہیں سکتے تو آواز ہی اٹھا لو، اے اہل وطن یاد رکھو آج برا وقت ہم پر آیا ہے، وقت تو پھر وقت ہوتا ہے، وقت کا چکر گھوم بھی سکتا ہے، احمد فراز نے کیا خوب کہا تھا کہ

خزاں میں چاک گریباں تھا میں، بہار میں تو
مگر یہ فصل ستم آشنا کسی کی نہیں

میں آج زد پر اگر ہوں تو خوش گماں نہ ہو
چراغ سب کے بجھیں گے خوش گماں نہ ہو

Facebook Comments HS