انسانی ترقی کی تباہ کاریاں
شیخ چلی کی کہانی تو سب نے سنی ہو گی کہ جس میں اس کی ماں اسے ہر وقت گھر میں گھسے رہنے اور کوئی کام کاج نہ کرنے پر ڈانٹتی ہے۔ شیخ چلی کو یہ تحقیر شدید ناگوار گزری اور کچھ کما کر لانے کا فیصلہ کر کے گھر سے نکل گیا۔ لیکن باہر آ کر وہ اس سوچ میں پڑ گیا کہ آخر میں کماؤں گا کیسے۔ قصہ مختصر یہ کہ وہ لکڑیاں کاٹ کر شہر میں بیچنے کا فیصلہ کرتا ہے۔ لکڑیاں کاٹنے کے لئے جنگل میں جاتا ہے اور جس ٹہنی کو کاٹ رہا ہوتا ہے اسی پہ بیٹھ جاتا ہے۔ نیچے سے گزرتے کافی لوگوں کے ٹوکنے کے باوجود وہ بدرجہ اتم اپنے فیصلے پہ قائم رہتا ہے۔ اور آخر کر جب ٹہنی کٹتی ہے تو خود بھی ساتھ زمین پر آن گرتا ہے۔
ہم پاکستان میں جنگلی حیات کے ساتھ بھی یہی کر رہے ہیں۔ باوجود علوم حیاتیات میں مہارت حاصل کر لینے کے اور گلوبل وارمنگ کے اثرات کا اندازہ لگا لینے کہ ہم اسی طرح درخت کاٹنے، زرخیز زمینوں پر فیکٹریاں اور رہائشی کالونیاں بنانے، سمندری زندگی کو تباہ کرنے پر تلے ہوئے ہیں۔
حال یہ ہے کہ جس کا دل چاہتا ہے وہ زمین زرعی زمین کے حساب سے خرید کر اس پر رہائشی کالونیاں کاٹ کر کئی گنا زیادہ منافع کما کر اپنی راہ لیتے ہیں۔ ان میں سے ستر فیصد کالونیاں غیر قانونی اور کسی بھی سرکاری طور پر منظور شدہ نہیں ہوتیں اور یہ زیادہ تر وہاں کسی ایم پی اے یا ایم این کے زیر سرپرستی چل رہی ہوتی ہیں۔
پچھلے دنوں میں ساہیوال کے مضافات میں موجود ایک گاؤں 66 GD جس کی زمین انتہائی زرخیز ہے۔ کسی بڑے نے وہاں گاؤں کے اردگرد تقریباً 150 ایکڑ پر مشتمل زمین خرید کر رہائشی منصوبہ بنا ڈالا ہے۔ دوسری طرف زراعت میں ہمارا حال یہ ہے کہ کسی دور میں ہم چاول، گندم اور کپاس میں خود مختار تھے اور اب کہیں مہنگے داموں باہر سے خریدنی پڑتی ہیں۔
ایسے ہی ملتان میں ایک آم کے باغ کو تباہ کر کے ایک مشہور رہائشی سکیم بنائی گئی۔ جس پہ سوشل میڈیا پر کافی ردعمل بھی دیکھنے میں آیا لیکن کچھ دنوں ٹی وی اور اخبارات کے ذریعے امیج بلڈنگ کی بہترین کیمپین کر کے معاملہ دبا دیا گیا اور اب شاید وہ کسی کو یاد بھی نہ ہو۔
چھانگا مانگا کا جنگل جو کہ اپنے آپ میں ایک عجوبہ ہے اور انسانی ہاتھ سے لگائے گئے دنیا کے سب سے بڑے جنگلات میں شمار ہوتا ہے۔ انسانی غفلت اور سستی کی وجہ سے آہستہ آہستہ سکڑتا جا رہا ہے۔ نئے درختوں کے لگنے کی رفتار کچھوے کی اور کاٹنے کی رفتار خرگوش کی۔ شاید کہ وہ اسے کچھوے اور خرگوش کی کہانی سمجھ بیٹھے ہیں۔
ہمارے حکمرانوں کو آپسی جنگ سے فرصت نہیں ملتی، ہماری عوام کو ان کی لڑائی سے لطف اندوز ہونے سے فرصت نہیں ملتی، ہمارے افسران کو رشوت کھانے سے فرصت نہیں ملتی اور چند بڑے کاروباری افراد کو عوام کو لوٹنے سے فرصت نہیں ملتی۔ تو پھر آخر اس ملک کو سنبھالے گا کون۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ سب اپنے حصے کا کام دیانتداری سے سر انجام دیں اور ان مسائل کو ترجیحی بنیادوں پر حل کریں ورنہ پچھلے سال کی طرح ہمارے اپنے ملک میں آم پورے نہ ہو پائیں گے تو ہم باہر کیسے بھیج سکیں گے۔


