یورپ کا دور نشاۃ ثانیہ (Renaissance)


آخری قرون وسطی ( 14 ویں اور 15 ویں صدی ) کے دوران یورپ کی زمانہ وسطی تہذیب کو بحران کا سامنا تھا۔ 14 ویں صدی طویل جنگوں، شدید وباؤں، آبادی میں کمی، زراعت کی بربادی، پیداواری جمود، قحط، بے روزگاری، مہنگائی، دیہاتوں اور قصبات کی ویرانی سے عبارت تھی۔

قصبوں اور دیہات کے غریب کسانوں اور مزدور پیشہ۔ عوام کی بغاوتوں کو امراء طبقے نے بے رحمی سے کچلا تھا
اسی کے ساتھ

چرچ کو بھی چیلنجوں کا سامنا تھا۔ قرون وسطی کے عیسائی مفکرین کا فکری نظام تنقید کی زد میں تھا۔ اس سارے صورت حال کے باعث یورپ کی مجموعی فضا شدید قنوطیت، عدم تخفظ، اور ذہنی انتشار سے دو چار تھی۔

تاہم اگر ایک طرف بیشتر یورپ میں قنوطیت اور جمود کی فضا تھی مگر دوسری طرف جزیرہ نما اٹلی میں صورت حال مختلف تھی۔ یہاں کی شہری ریاستیں بیرونی تجارت کے باعث کافی خوشحال تھیں۔ یہاں کا کلچر زرعی کے بجائے تجارتی تھا۔

14 ویں صدی کے وسط میں شمالی اٹلی کے شہری ریاستوں میں ایک ثقافتی تحریک کا آغاز ہوا۔ جو 15 ویں اور 16 ویں صدی کے دوران شمالی یورپ میں پھیل گئی۔ اور اس کے تحت یورپ بتدریج پرانے روایات اور طرز فکر ترک کر کے نئے رجحانات اپنانے لگا، اور یوں قرون وسطی سے نکال کر دور جدید کی راہ پر گامزن ہو گیا۔ یورپی تاریخ میں اس تحریک اور اس دور کو نشاۃ ثانیہ ”کے نام سے پکارا جاتا ہے۔“

نشاۃ ثانیہ فرانسیسی زبان کے لفظ Renaissance کا ترجمہ ہے جس کا معنی ہے۔ پھر سے یا دوبارہ پیدائش ”۔
اس سے مراد کلاسیکل ورثے ( قدیم یونان اور رومن کے علوم و فنون ) میں نئی دلچسپی اور ان کا احیاء تھا
اس ورثے میں قدیم مسودات اور آرٹس کے نمونے اور یونانی اور لاطینی زبانوں کی فراموش شدہ علوم شامل تھے۔

کلاسیکل علوم و فنون کا احیاء اور پیروی آرٹ اور ادب میں نئے سٹائل لانے کا باعث بنی۔ اس کے علاوہ فرد کی صلاحیتوں پر اعتماد اور دنیا کی زندگی کو اہمیت دینے جیسے نئے اقدار کو پذیرائی ملی۔

اٹلی میں اس کے آغاز ہونے کا ایک سبب تو یہ تھا کہ سمندر پار تجارت کے باعث شمالی اٹلی میں فلورنس، میلان، وینس، لومبارڈے، جنیوا وغیرہ جیسی کئی مال دار شہری ریاستیں فروغ پا گئیں تھیں جو کافی حد تک خودمختار تھیں۔ اپنے رقبے اور مختلف طرز حکومتوں کے باعث قدیم یونان کی شہری ریاستوں سے مشابہ تھیں

بقیہ یورپ کے برعکس ان کی امارت کی اساس زراعت کے بجائے صنعت اور تجارت تھی۔ معاشرتی ساخت دیہاتی کے بجائے شہری تھی

یوں اس کا ماحول علمی و فکری مباحثوں کے لیے زیادہ سازگار تھا۔

دوسرا، یہاں کے تاجر طبقے کو بدلتے حالات میں اپنے تجارتی مفادات کے ساتھ سیاسی اثر و رسوخ اور سماجی حیثیت کے لیے ایک بدلے انداز فکر کی ضرورت تھی۔ اس لیے وہ اس نئے رجحان ( کلاسیکل علوم و فنون کے احیاء )

کے سرپرست بن گئے

تیسرا روم اور اس کے گرد و نواح میں قدیم روم کی یادگاریں ( تعمیرات وغیرہ) جیسے ورثے کی موجودگی کے علاوہ اسپین اور سسلی میں عرب مسلمانوں اور قسطنطنیہ میں بازنیطنیوں کی محفوظ کردہ بیشتر یونانی اور رومی علمی سرمایہ اٹلی کے ہاتھ لگا

کلاسیکل علوم و فنون کے مطالعے سے زندگی اور آرٹ کے بارے نئے نکتہ نظر کی داعی ”انسان دوستی“ (Humanism ) نام کی فکری تحریک تھی

اس تحریک کے بانیوں نے یونانی افکار اور اقدار کو قرون وسطی کے مذہبی نکتہ نظر ( علم الکلامی ) کے برعکس سیکولر انداز میں سمجھنے اور پرکھنے پر دھیان دیا۔

ان کا بنیادی زور فرد کی صلاحیتوں پر اعتماد اور اہمیت دینے اور موجودہ زندگی کو بہتر بنانے پر تھا۔ ان کے زیر اثر آرٹسٹوں اور معماروں نے کلاسیکل طرز کو اپنایا۔ آرٹسٹوں اور معماروں کا کلاسیکل ماڈلز کی پیروی کرنے سے زمانہ وسطی کے پرانے طرز تبدیل ہونے لگے

یہاں آرٹسٹوں نے قرون وسطی کے مخصوص روایات کے برعکس انسان اور فطرت کو منعکس کرنے کی شروعات کیں۔ ”لیونارڈو ڈاؤنچی، مائیکل اینجیلو اور رافیل جیسے نامور فن کاروں نے اپنی مصوری اور مجسمہ سازی میں انسانی جسم کو کلاسیکل اسٹائل کے اطلاق سے زیادہ حقیقت پسندانہ بنایا

نشاۃ ثانیہ معاشرے میں اگرچہ خواتین کا کردار محدود تھا۔ مگر پھر بھی چند اطالوی خواتین نے مصوری میں کافی شہرت حاصل کی۔ جن میں Sofonisba Anguissola اور دوسری Artemisia Gentileachi تھی۔ اٹلی میں اس نئے رجحان کے تحت کلاسیکل آرٹ کو اتنی پذیرائی ملی کہ اہل کلیسا بھی آرٹ پسند ہونے لگے روم اور دوسرے شہریوں کو مزین کرنے کے لیے آرٹس کا استعمال شروع کیا۔ اس دور کے تاجر اور امیر خاندان آرٹس کے سر پرست بن گئے۔ فنون لطیفہ میں دلچسپی اور مہارت تہذیب کا معیار ٹھہر گیا۔

فن تعمیر میں بھی کلاسیکل طرز کی پیروی کی گئی۔ اٹلی اور خصوصاً روم جو قدیم رومن سلطنت کا پایہ تخت رہا تھا، میں رومن طرز تعمیر کے لاتعداد نمونے موجود تھے۔

آرٹ اور آرکیٹیکچر کے علاوہ انسان دوست مفکرین نے کلاسیکل فکر کے تاریخ، ادب اور فلسفہ جیسے مضامین کو مقبول کرایا۔ جس سے تحقیق اور تنقید کے پیمانے زیادہ معیاری اور حقیقت پسندانہ ہو گئے

نشاۃ ثانیہ دور کے ادب میں بھی نئے رجحانات کی ترجمانی کی جانے لگی ادیبوں نے نہ صرف اپنے دور کی بہترین عکاسی کی بلکہ ایسے تیکنیک اور اسلوب متعارف کرائے جن کی زمانہ حال میں بھی پیروی کی جاتی ہے ان میں بعض نے ”دانتے“ کی طرح لاطینی کے بجائے مقامی زبانوں میں لکھنے کی روایت شروع کی۔ جس کے بڑے دوررس اثرات پڑے

فرانسسکو پیٹراک Francesco Petrarch ) جس کو عمومی طور نشاۃ ثانیہ کے انسان دوست تحریک کا بانی کہا جاتا ہے ) اور گیوانی ( Giovanni Boccaccio ) جیسے انسان دوست لکھاریوں نے لاطینی کے ساتھ اطالوی زبان مین کلاسیکل ادبی روایات کی پیروی میں مذہبی کے بجائے سیکولر موضوعات پر لکھا۔ جو ایک نیا رجحان تھا

اٹلی کی شہری ریاستوں کے مخصوص سیاسی ماحول میں میکاولی نے اپنی کتاب ”پرنس“ میں انسانی فطرت اور سیاست کے بارے بے لاگ اور حقیقت پسندانہ مباحث کی طرح ڈالی۔ اور سیاست کو عملی بنیادوں پر وضع کرنے کے تصورات دیے۔

اسی طرح بحری مہمات، تجارت۔ فوج، ڈپلومیسی وغیرہ کے میدانوں میں بھی نئے اختراعات اور تجربات سے کام لیا جانے لگا۔

اگرچہ اس دور میں بیشتر لوگ کیتھولک رہے۔ مگر نشاۃ ثانیہ کا بنیادی اسپرٹ سیکولر تھا۔ نشاۃ ثانیہ نے مذہب کو مسترد تو نہیں کیا تاہم اس کی مطلق بالادستی بھی برقرار نہیں رہ سکی۔

نشاۃ ثانیہ کے انسان دوست مفکرین کی دلچسپی بنیادی طور پر فرد اور اس کی دنیاوی زندگی میں تھی انہوں نے دور وسطی کے اس خیال کی حوصلہ شکنی کی کہ موجودہ زندگی محض مابعد کی زندگی کی تیاری کے لئے ہے۔ اس کی جگہ انہوں نے زندگی کی نعمتوں سے مثبت اور صحت مند انداز میں مستفید ہونے کی حوصلہ افزائی کی۔

ان کے زیر اثر مال دار طبقے کے ساتھ چرچ سے متعلق بہت سے افراد کا طرز زندگی بھی دنیاوی ہو گیا۔

15 ویں صدی کے اخیر میں چھاپہ خانے کی ایجاد سے نشاۃ ثانیہ کے افکار و تصورات اٹلی سے شمالی اور مغربی یورپ ( جرمنی، فرانس، انگلینڈ اور اسپین ) کی طرف پھیلتے گئے۔ جہاں یورپ کے آرٹسٹوں، مفکرین اور ادیبوں نے ان کو اپنے معاشروں کے معروضی حالات کے مطابق اپنے اپنے انداز میں اختیار کیا۔ جو یورپ میں کئی علمی و فکری تحریکوں اور مختلف شعبوں ( فنون لطیفہ، ادب، طرز تعمیر، سیاست، مذہب تعلیم، تجارت، سائنس اور ٹیکنالوجی وغیرہ ) میں بتدریج بڑی اہم تبدیلیاں لانے کا پیشہ خیمہ بنتے ہیں اور اس کو قرون وسطی سے نکال کر جدید دور پر گامزن کرتا ہے۔