ٹوٹے پھوٹے لوگوں کے افسانے



افسانہ بنیادی طور پر پانچ ستونوں (پلاٹ، کردار، کہانی اور زبان و بیان) پر استوار ہوتا ہے۔ اگر ان میں سے کوئی ایک ستون بھی کمزور رہے تو افسانہ دھڑام سے نیچے آ گرتا ہے۔ اسی لئے تو ہم اکثر ادبی محافل میں سنتے ہیں کہ فلاں افسانہ نگار کے ہاں پلاٹ، کردار، کہانی یا زبان و بیان کمزور تھا اس لئے افسانہ نہ بن سکا، وغیرہ۔ ایسے سوالات تو ہر صنف پر اٹھتے رہے ہیں اور اٹھنے بھی چاہئیں لیکن اب خیال آتا ہے کہ اکیسویں صدی میں افسانے پر ایسے سوالات اٹھنا کم کیوں ہو گئے ہیں اور خال خال ہی ایسا کوئی نقاد نظر آتا ہے جو افسانے کے معائب و محاسن پر بات کرتا ہو۔

اس کی ایک ہی وجہ ذہن میں آتی ہے اور وہ یہ کہ افسانے کا کم لکھا جانا۔ بیسویں صدی میں اچھا اور برا دونوں طرح کا افسانہ لکھا گیا۔ گزشتہ صدی میں افسانے کے کئی تجربات بھی ہوئے اور کون سا ایسا موضوع ہے جس پر نہ لکھا گیا ہو۔ لیکن آج ناول اتنی برق رفتاری سے لکھا جا رہا ہے کہ ادب کا قاری افسانہ پڑھنے کی بجائے ناول کو فوقیت دیتا ہے۔ ایسی صورت میں افسانہ بیچارا کسی تنکے کی مانند ادھر ادھر پھدکتا دکھائی دیتا ہے اور خالی پن کو اپنی موجودگی سے بھرنے میں ناکام رہتا ہے۔

اس گہما گہمی میں اگر نیر مصطفی جیسے افسانہ نگار کی کتاب منظر عام پر آتی ہے تو ہمیں ان کی حوصلہ افزائی کرنی چاہیے۔ معلومہ اطلاعات کے مطابق نیر مصطفی گزشتہ پندرہ سال سے افسانہ لکھ رہے ہیں مگر ان کا اصل رنگ اب ”ٹوٹے پھوٹے لوگوں کی فیکٹری“ کی شکل میں جما ہے۔ یاد رہے کہ حال ہی میں ان کی یکایک چار کتابیں شائع ہوئی ہیں جن کو سٹی بک پوائنٹ، کراچی نے شائع کیا ہے۔ جبکہ مذکورہ کتاب میں کل چوبیس افسانے ہیں جو تین یونٹس میں منقسم ہیں۔

پہلا یونٹ:

اس یونٹ کا پہلا افسانہ ”افسر حسین ولد سکینہ مائی“ ہے۔ افسانے کے مرکزی کردار ”افسر حسین“ کا خوشی اور دکھ سے کوئی تعلق نہیں بلکہ اس پر یہ کیفیت خواب میں طاری ہوتی ہے۔ حقیقی زندگی میں اس کے ساتھ کئی حادثات رونما ہوتے ہیں مگر وہ خاموش رہتا ہے اور اپنی اس بے بسی کے ساتھ ایک روڈ ایکسیڈنٹ میں وفات پا جاتا ہے۔ یہ افسانہ دو حصوں میں تقسیم ہے۔ دوسرے حصے میں موت کے بعد کا منظر دکھایا گیا ہے۔ وہ یہاں بھی خاموش ہی رہتا ہے اور جب بولنے کی جسارت کرتا ہے تو ایک مکوڑا اس کی ناک میں گھس جاتا ہے۔ ”افسر حسین“ کبھی بھی یہ سمجھ نہیں پاتا کہ وہ بولے گا نہیں تو پہچانا کیسے جائے گا۔

یہ افسانہ ہماری سماجی صورت حال کو واضح کرتا ہے کہ جس میں ہم نے کئی خطرات کو بلاوجہ خود پر حاوی کیا ہوا ہے۔ ہم چاہیں تو ان کو ختم کر سکتے ”ڈوبتے ہوئے سورج کا لمس“ بھی اسی یونٹ میں شامل ہے۔ یہ افسانہ کیمپس کی پہلی محبت کی جذباتی اور نفسیاتی کیفیت کو آشکار کرتا ہوا اپنے اختتام کو پہنچتا ہے۔ محبت کرنے والے لوگ ایک دوسرے کی قربت حاصل کرنے کے بعد خود کو خاص محسوس کرنے لگتے ہیں اور یہ فطری احساس ہے جو محبت جیسے لطیف جذبے سے ہم آغوش ہو کر متشکل ہوتا ہے۔

”بوڑھا چارلی اور ریمبراں“ ایک مختلف اور منفرد افسانہ ہے۔ افسانہ پڑھ کر مجھے معروف مصور وین گاگ (Van Gogh) کی یاد آئی۔ اس افسانے کا مرکزی کردار ایک مصور ہے جسے زندگی میں شہرت حاصل نہیں ہوتی اور وہ اسی کامپلیکس کا شکار ہو کر خود کشی کر لیتا ہے۔ مرنے سے پہلے وہ اپنے ہم زاد کو دریافت کرتا ہے جو اسے زندہ رکھنے اور امید دلانے کی بھر پور کوشش کرتا ہے۔

”مسئلہ یہ ہے آقا! دنیا میں بیوقوف اس سے بھی کہیں زیادہ پائے جاتے ہیں جتنا انہیں خیال کیا جاتا ہے۔ شاید اسی لئے آپ کے فن کی ساحری لوگوں کی نظروں سے اوجھل رہی۔“ (ص 72)

فن کار کی ہمیشہ یہ خواہش ہوتی ہے کہ اسے زندگی میں وہ شہرت نصیب ہو جس کا وہ حق دار ہے۔ افسانے میں ہمزاد کا قصہ دراصل اس دنیا سے مکتی حاصل کرنے کی خواہش ہے اور پھر ایسا ہی ہوتا ہے۔

پہلے یونٹ کا پانچواں افسانہ ”بولنے والے طوطے اور ظالم بادشاہ کی کہانی“ ہے۔ یہ افسانہ کتاب میں شامل بقیہ تمام افسانوں سے مختلف ہے۔ افسانے میں نیر کے اسلوب کی کایا پلٹ ہوئی ہے۔ ان کا یہ اسلوب میکانکی نہیں بلکہ پوری طرح سے اپنے موضوع کے ساتھ ہم آہنگ ہے۔ راقم کی رائے میں نیر کو ایسے تجربات مزید کرنے چاہئیں تا کہ ان پر یک رخے اسلوب کی چھاپ محسوس نہ ہو۔ افسانے کا موضوع تو اچھوتا نہیں ہے لیکن افسانہ نگار کی تاریخی اسلوب پر گرفت اسے انفرادیت عطا کر رہی ہے۔

”رنگوں میں سوچنے والی لڑکی“ پہلے یونٹ کا ساتواں افسانہ ہے۔ اس میں ایک حساس لڑکی کی کہانی بیان کی گئی ہے جو رنگوں میں اپنی بات کہنے کا ہنر جانتی ہے۔ وہ اپنے محبوب (جس کا رنگ اورنج ہے ) سے یوں گویا ہوتی ہے :

”ویسے یہ اورنج کلر والے لوگ عام طور پر بڑے بے وفا ہوتے ہیں، سویرا کی آنکھیں ایک دم شرارتی ہو گئیں۔“ (ص 93)

لیکن کتنی حیرت کی بات ہے کہ رنگوں میں سوچنے والی اس لڑکی کا اپنا تو کوئی رنگ نہیں البتہ یہ رنگ اسے یقیناً حاصل ہو جاتا اگر قسمت تمام فیصلے اس کی منشاء کے مطابق کرتی۔ نیر نے مشترکہ المیوں کو ایک نئے ڈھنگ سے پیش کیا ہے جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ افسانہ نگار بھی رنگوں میں سوچنے کا عادی ہے۔

”چاچا ممدو VS گاما تیلی“ ایک ایسا افسانہ ہے جس میں ہماری روزمرہ کی زندگی کا عکس پیش کیا گیا ہے۔ نیر کی ایک خاص بات یہ بھی ہے کہ وہ موضوع کے مطابق اپنا اسلوب اختراع کرتے ہیں اور نچلے طبقے کے افراد اگر کسی ڈھابے پر گپ شپ لگا رہے ہیں تو اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ یہ کون سا طبقہ محو گفتگو ہے۔ چند مثالیں دیکھئے :

”اوئے چھا گیا چاچے! ۔ اس بار تو مجا ہی آ گیا۔“ (ص 64)
”یہ سارے تو ہیں ای چوتیا۔ آپ کے ساتھ بھی ہاتھ ہو گیا ساب!“ (ص64)
”ابے پہلے پوری بات تو سن لے ککڑ!“ (ص 54)

افسانے میں چچا ممدو دیوانگی سے بھرا کردار ہے اور صورتحال کو اپنے مطابق ڈھال کر سنانے کا رسیا معلوم ہوتا ہے۔ ڈھابوں کی میلی کچیلی میزوں پر ایسے طبقات کے لوگوں کی سرد جنگ تو ضرور ہوتی ہے مگر جیت سرمایہ دار طبقے کی ہوتی ہے۔

”نو انٹری“ طوائف کی ایسی کہانی ہے کہ جب وہ اپنے پیشے کے ساتھ منسلک ہوتی ہے تو اس سے پہلے وہ ایک عورت بھی ہے۔ اس کی کئی خواہشات ہوتی ہیں جن کو وہ پورا کرنا چاہتی ہے مگر ہر بار ناکام ٹھہرتی ہے۔ یہ افسانہ پڑھ کر آپ کو ممتاز مفتی کا افسانہ ”اندر والی“ ضرور یاد آئے گا، جسے پڑھنے کے بعد اندازہ ہوتا ہے کہ طوائف کے اندر تو اس کا اصل چھپا ہوتا ہے، یعنی وہی چہرہ جو اسے عورت بناتا ہے اور نسوانیت کے جذبات سے لبریز کرتا ہے لیکن ایک گاہک کو تو صرف اس کے ظاہر سے سروکار ہوتا ہے۔

”رقیب سے“ پہلے یونٹ کا کامیاب افسانہ ہے۔ اس میں غزالہ عارف کا کردار (جو ظاہر تو نہیں ہوتا) قاری کے لئے حقیقت کی نئی سطحیں آشکار کرتا ہے۔ نیر نے ایک سیدھی سادی کہانی کو غیر موجود کردار یعنی غزالہ عارف کے ذریعے افسانوی رنگ دینے کی کامیاب سعی کی ہے۔

پہلے یونٹ کے تقریباً تمام افسانے حقیقت نگاری کے قریب ہیں۔ اس یونٹ کے کردار پڑھنے والے کی حیرت میں اضافے کا باعث بن سکتے ہیں۔ نیر نے جو اسلوب اپنایا ہے وہ ان کے دیگر افسانوں کی طرح فینتاسی یا تخیل کے قریب نہیں بلکہ کرداروں کی حرکیات کے باعث رئیلٹی پر مبنی ہے۔

دوسرا یونٹ:

”خرم اینڈ کمپنی“ مذکورہ یونٹ کا پہلا افسانہ ہے۔ اس افسانے میں نیر نے کہانی کے روایتی تصورات کو تہہ و بالا کر دیا ہے۔ انہوں نے افسانے کے طے شدہ اصولوں سے انحراف کرتے ہوئے ایک مختلف تجربے کی جانب نقب لگائی ہے۔ ”خرم افتخار“ کے موبائل پر مختلف لوگوں کے میسجز آ رہے ہیں۔ ان میں مختلف طبقات سے تعلق رکھنے والے لوگ شامل ہیں۔ یہ موبائل کسی کردار میں ڈھلتا ہوا محسوس ہوتا ہے جو دراصل ہماری روزمرہ کی زندگی کا عکاس ہے جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ہم ایک زندگی جینے کے باوجود کئی زندگیاں جی رہے ہوتے ہیں۔

”عبدالغنی جیکسن“ اور ”(نا) مردانگی کے لئے ایک فینٹسی“ کو اس لئے بھی ایک ساتھ زیر بحث لایا جا سکتا ہے کہ دونوں افسانوں میں ایک جیسی تکنیک برتی گئی ہے۔ یہ سلالکی (Soliloquy) کی تکنیک ہے جس میں کسی ایک کردار کے ساتھ کوئی دوسرا کردار موجود ہو سکتا ہے جو اس کے مکالموں سے ظاہر ہو رہا ہے لیکن افسانے کے اختتام تک دوسرے کردار کی موجودگی کا کوئی ثبوت نہیں ملتا۔ یعنی ذہن میں چلنے والے خیالات بنے بنائے طریقے سے کردار کے ذہن میں نمود پائیں۔ مذکورہ بالا دونوں افسانوں میں یہی تکنیک بڑی خوبصورتی اور سلیقے سے برتی گئی ہے۔

”اور کٹ ڈاٹ کام کی ایک پروفائل“ میں فرہاد اور شیریں کی محبت کو مابعد جدید تناظر میں دکھایا گیا ہے۔ یہ افسانہ سوشل میڈیا کی زبان میں لکھا گیا ہے جو آج کل ہر نوجوان برت رہا ہے۔ اس میں دو سرحدوں کے نوجوان (لڑکا، لڑکی) اپنے لیپ ٹاپ کے ذریعے محبت کا اظہار کرتے ہیں۔ یعنی وہ پاس ہوتے ہوئے بھی ایک دوسرے سے میلوں دور ہیں۔ اس تناظر میں استاد محترم ڈاکٹر محمد آصف کا شعر یاد آتا ہے کہ:

درمیاں کانچ کی دیوار اٹھا دی اس نے
بزم کی بزم ہے، تنہائی کی تنہائی ہے

یہ افسانہ گلوبلائزیشن کے تصور کو بھی واضح کرتا ہے۔ افسانے کے ذریعے شدت پسندی، رجعت پسندی اور ان ٹیبوز کو دکھایا گیا ہے جو ہمارے سماج میں پیوست ہو چکے ہیں۔ ”گاؤ ماتا“ اور ”مولوی عبد الحق“ دراصل دو بڑے شدت پسند نظریات ہیں جو ہمارے تہذیبی ورثے کو ختم کر رہے ہیں۔ افسانہ سے اقتباس دیکھئے :

”ہاں، اسی لئے تم نے راتوں کو چھپ چھپ کر حملے کیے۔ کشمیر میں بچوں، بوڑھوں اور عورتوں کا خون بہایا۔ ہم نے تو ہمیشہ امن کی بات کی مگر یہ بھول گئے کہ ہندو بنیا کبھی مسلمان کا دوست ہو ہی نہیں سکتا۔ ٹھیک ہی تو کہتا تھا ماسٹر عبدالحق!“ فرہاد ایک دم برس پڑا۔ ”(ص۔ 103 )

اس سے بڑا المیہ اور کیا ہو سکتا ہے کہ پاکستان اور ہندوستان کی جدید نسل سائنس اور ٹیکنالوجی پر یقین رکھنے کے باوجود فرسودہ نظریات سے اپنا دامن نہیں بچا پائی۔

”عمران مینگو، بہشتی زیور اور مادام بواری“ کی کہانی ایک دلچسپ افسانہ ہے۔ جس کے تمام کردار اپنی ڈارک ڈیزائر کے ساتھ نمایاں ہیں۔ عمران مینگو منفرد کردار ہے۔ ہماری دوستانہ زندگی میں بھی کئی عمران مینگو پائے جاتے ہیں جو بات بات پر ڈینگیں مارتے ہیں۔ یہ افسانہ کیمپس کی محبت پر مبنی ہے جو جسم سے شروع ہو کر وہیں ختم ہو جاتی ہے۔ افسانے میں دو لڑکیوں مسکان اور ریحانہ کنول کا ذکر ہے جن کو یہ تینوں دوست کسی پورن سٹار سے تشبیہ دیتے ہیں۔

اس یونٹ کے تمام افسانے جدید موضوعات کے ساتھ ہم آہنگ ہیں مگر ان کو بیان کرنے کا طریقہ بھی خاصا مختلف ہے۔ جس سے یہ یونٹ حقیقت اور فینتاسی کے درمیان کی کوئی چیز محسوس ہوتا ہے۔

تیسرا یونٹ:

اس یونٹ کا پہلا افسانہ ”جہنمی“ ہے۔ یہ افسانہ انسان کے اندر پیدا ہونے والی کیفیات کا نمائندہ ہے جس کو مدنظر رکھتے ہوئے وہ خارجی دنیا کے متعلق اپنا تصور پیش کرتا ہے۔ انسان ہر لمحہ آگہی کے عمل سے گزرتا ہے اور تغیر کو قبول کرتے ہوئے داخلی جذبات و احساسات کو بھی مدنظر رکھتا ہے۔ یعنی اس کا داخل اور خارج ایک دوسرے کے ارتباط سے کوئی حتمی فیصلہ خلق کرتا ہے۔

”سینٹرل چوک“ اس یونٹ کا چوتھا افسانہ ہے۔ اس یونٹ کے افسانے فینتاسی، علامتیت اور تجریدیت پر مبنی ہیں جس کی گواہی افسانے کی اس سطر میں ہے :

”پھر آسمان سے چھپکلیوں کی بارش ہوئی اور مطلع صاف ہو گیا۔“ (ص 241)

یہ افسانہ ایک عجیب و غریب صورت حال کو منکشف کرتا ہے۔ یعنی ہمیں ظاہری طور پر جو ترتیب دکھائی دیتی ہے اس میں خوفناک حد تک بکھراؤ اور انتشار چھپا ہوتا ہے۔ افسانہ نگار ان حالات کو اپنے پرکھوں کے ساتھ جوڑتا ہے کہ جن کی غلطیوں اور من مانے فیصلوں کے باعث آج ہم ایک خطرناک موڑ پر کھڑے کسی مسیحا کے منتظر ہیں۔

”ٹوٹے پھوٹے لوگوں کی فیکٹری“ ایک ایسا افسانہ ہے جس میں تمام کردار ڈس آرڈر کا شکار ہیں۔ اس افسانے کا اختتام کچھ یوں ہوتا ہے :

”کچھ دیر تک وہ خاموش کھڑا رہا، پھر ایک دم سے اس کا دل بھر آیا اور وہ ایک محبت کرنے والے آدمی کے سوگ میں دھاڑیں مار مار کر رونے لگا جو کہ دیکھنے سے پہلے ہی مر چکا تھا کہ لڑکے کے کان نہیں ہیں“ ۔ (ص 251)

افسانے کے ذریعے ان لوگوں کی نمائندگی کی گئی ہے جن کو زندگی نے قبول ہی نہیں کیا اور جب لوگوں نے ایک دوسرے کو سمجھنے کی کوشش کی تو معلوم ہوا کہ ان میں سے ہر کوئی ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہے۔ ٹوٹے پھوٹے سماج میں اگر لوگ خود کو فراموش کر رہے ہیں تو اس میں حیران ہونے کی بات نہیں۔

اس یونٹ کے تمام افسانے میری کم علمی کے باعث مجھ پر کھل نہ سکے۔ جب ضرورت سے زیادہ موضوع کو پیچیدہ بنا دیا جائے تو تفہیم میں رکاوٹیں پیدا ہو سکتی ہیں۔ علامت ایک حد تک معنویت کے دائرے میں سفر کرتی ہے اور آخر کار بے معنویت کے خلا میں بھٹکتی رہتی ہے۔ میرا خیال ہے تیسرے یونٹ کے افسانوں کے ساتھ بھی یہی مسئلہ درپیش ہے۔ مگر یہ میرا ذاتی نکتہ نظر ہے۔ آپ یہ افسانے ضرور پڑھیے اور محسوس کیجئے کہ یہ آپ کے ساتھ کس انداز میں ہم کلام ہوتے ہیں۔

نیر مصطفی نے ان تمام افسانوں میں تکنیک، اسلوب اور موضوع کے حوالے سے منفرد تجربات کیے ہیں جن میں وہ کامیاب دکھائی دیتے ہیں۔ وہ جرات مند افسانہ نگار ثابت ہوئے ہیں۔ شاید اسی لئے وہ کوئی نیا تجربہ کرنے سے خوفزدہ دکھائی نہیں دیتے۔ انہوں نے اپنے افسانوں میں ٹوٹے پھوٹے کرداروں کو منتخب کیا ہے۔ وہ پہلے تو ان کی حرکیات سے ان کو ننگا کر دیتے ہیں لیکن افسانے کا اختتام کچھ اس انداز میں ہوتا ہے کہ سب کچھ سمٹ کر اپنی ترتیب میں آ جاتا ہے اور کردار اپنی اصلیت کا چولا پہنے نظر آتا ہے۔ ان کے کردار زندگی کے دائروں میں مسلسل سفر کرنے کی وجہ سے تھک چکے ہیں اور اب وہ آسودگی حاصل کرنے کے لئے کسی پر سکون جہاں کی تلاش میں ہیں۔ میں اپنی بات ”جہنمی“ افسانے کی ان سطروں پر ختم کرتا ہوں :

”اول تو کامیابی ملتی ہی نہیں اور اگر مل بھی جائے تو اس وقت تک ہم اس قابل نہیں رہتے کہ اس کے سرور سے لطف اندوز ہو سکیں۔“ (ص 153)

Facebook Comments HS