کہے حسین فقیر نمانا
یہ دو ہزار سترہ کا عرصہ تھا جب ٹوٹی پھوٹی نظمیں لکھ کر میں نے ایک حبس زدہ شام میں ملتان آرٹس فورم کے دروازے پر دستک دی۔ ان دنوں ملتان آرٹس فورم کے ہفت روزہ اجلاس علی گڑھ گرلز کالج گول باغ میں منعقد ہوا کرتے تھے۔ مرکزی دروازے پر موجود سیکورٹی گارڈ سے اجازت لے کر جب اندر داخل ہوا تو گھپ اندھیرے میں اپنے پیچھے قدموں کی آہٹ سنائی دی۔ میں پیچھے پلٹنا نہیں چاہتا تھا اس
Read more
