کہے حسین فقیر نمانا

یہ دو ہزار سترہ کا عرصہ تھا جب ٹوٹی پھوٹی نظمیں لکھ کر میں نے ایک حبس زدہ شام میں ملتان آرٹس فورم کے دروازے پر دستک دی۔ ان دنوں ملتان آرٹس فورم کے ہفت روزہ اجلاس علی گڑھ گرلز کالج گول باغ میں منعقد ہوا کرتے تھے۔ مرکزی دروازے پر موجود سیکورٹی گارڈ سے اجازت لے کر جب اندر داخل ہوا تو گھپ اندھیرے میں اپنے پیچھے قدموں کی آہٹ سنائی دی۔ میں پیچھے پلٹنا نہیں چاہتا تھا اس

Read more

کائنات کے بیک یارڈ سے

نئی نظم مختلف مدارج طے کرنے کے بعد اب اپنی مخصوص پہچان قائم کر چکی ہے۔ گزشتہ دو عشروں میں نئی نظم میں فکری اور فنی سطح پر کئی تجربات ہوئے اور بطور صنف اپنی شعریات بھی متعین کی ہیں۔ ناقدین نے بھی نئی نظم کی تخلیقی بوطیقا کو نئے انداز میں دیکھنے کی سعی کی ہے۔ نئی نظم پر لکھی جانے والی تنقید یہ گواہی دیتی ہے کہ نظم تیزی سے اپنا سفر طے کر رہی ہے۔ حال ہی

Read more

ٹوٹے پھوٹے لوگوں کے افسانے

افسانہ بنیادی طور پر پانچ ستونوں (پلاٹ، کردار، کہانی اور زبان و بیان) پر استوار ہوتا ہے۔ اگر ان میں سے کوئی ایک ستون بھی کمزور رہے تو افسانہ دھڑام سے نیچے آ گرتا ہے۔ اسی لئے تو ہم اکثر ادبی محافل میں سنتے ہیں کہ فلاں افسانہ نگار کے ہاں پلاٹ، کردار، کہانی یا زبان و بیان کمزور تھا اس لئے افسانہ نہ بن سکا، وغیرہ۔ ایسے سوالات تو ہر صنف پر اٹھتے رہے ہیں اور اٹھنے بھی چاہئیں

Read more