گُلدستہ چہارم (حُب الوطنی)


استاد الاساتید جناب حیدر خان حیدر ؔ کی شعری تصنیف ”جمال فرش و فلک“ کا بہ نظر غائر جائزہ لینے سے وہ ایک آفاقی شاعر کی حیثیت سے ابھر کر سامنے آ جاتے ہیں اور ان کے کلام کے ہر مصرعے میں برق تجلی کی کیفیت طاری ہے۔ حیدر خان حیدر ؔ جب قلم تھام کر تخیلات کے سمندر کو بذریعہ قلم قرطاس پر اتارنے بیٹھ جاتا ہے ’تو کمال کرشمے دکھانا شروع کرتا ہے۔ ان کی شعری تخیل کی تند و تیز موجیں قاری کو مکمل طور پر اپنی حصار میں لے لیتی ہیں اور قاری کی دنیاوی پریشانیاں خس و خاشاک کے مانند بکھر کر اپنی وجود کھو دیتی ہیں اور وہ دنیا و مافیہا سے آزاد ہو کر کتاب کے سمندر میں غوطہ زن ہوتا ہے۔ یہ محض جملہ بندی یا لفظوں کا جادو نہیں بلکہ اس حقیقت پر ادبا نے بھی مہر تصدیق ثبت کی ہے۔ اسی کیفیت کو خدائے سخن میر تقی میر نے کچھ اس انداز میں بیان فرمایا ہے۔

سارے عالم پر ہوں چھایا ہوا
مستند ہے میرا فرمایا ہوا

حیدر خان حیدر ؔ کی شاعری کا دائرہ انتہائی وسیع ہے۔ موضوعات کی کثرت اور قدرتی رعنائیوں کی بوقلمونی ”جمال فرش و فلک“ کی پہچان ہے۔ ان گوناگوں اور متنوع پہلوؤں میں ایک تابناک پہلو حب الوطنی ہے۔ انھوں نے ”جمال فرش و فلک“ میں بہت ہی متاثرکن اور جذبہ حب الوطنی سے لبریز نظمیں لکھی ہیں ’جو ایک سچے اور محب وطن پاکستانی ہونے کا منھ بولتا ثبوت ہے۔ گلدستہ چہارم میں صرف چھے ہی شاہکار نظمیں شامل ہیں۔ ان میں سے پانچ نظمیں حب الوطنی سے متعلق ہیں‘ جن میں حب وطن کے متعلق پراثر اشعار کہے گئے ہیں۔ باقی ایک نظم میں اسکول کی تاریخی پس منظر کا ذکر ملتا ہے۔ جب آپ گلدستہ چہارم (حب الوطنی) میں داخل ہو جاتے ہیں تو جگر مراد آبادی کا یہ شہرہ آفاق شعر ہاتھ جوڑ کر اپنے قارئین کا استقبال کرتا دکھائی دیتا ہے۔

گلشن پرست ہوں مجھے گل ہی نہیں عزیز
کانٹوں سے بھی نباہ کیے جا رہا ہوں میں

سکاٹ لینڈ کے ایک ماہر تعلیم نے بجا طور پر کہا تھا کہ ”جس شخص میں الفت وطن نہیں وہ مردہ دل ہے۔“ چونکہ حب الوطنی ایک فطری جذبہ ہے جو نہ صرف انسان بلکہ چرند پرند غرض ہر ذی روح میں پایا جاتا ہے۔ حیوانات کے مقابلے میں یہ جذبہ انسان میں شدت سے ہے۔ اسی طرح انسان خواہ افریقہ کی تپتی صحراؤں میں پلا ہو یا پیرس کی آراستہ و پیراستہ محلات میں، اس کی پیدائش افغانستان کی گن گرج توپوں میں ہوئی یا ٹوکیو کی باغوں میں، وہ چین کے شہر بیجنگ سے تعلق رکھتا ہو یا گلگت بلتستان کے فلک بوس پہاڑوں سے ’اسے اپنے وطن سے بے پناہ محبت ہوتی ہے۔ وہ اپنے ملک کے ذرے ذرے سے پیار کرتا ہے۔ اس کے گل و سمن میں ماہتاب کی رنگینیاں پاتا ہے۔ اس کی محبت میں مال و متاع لٹانے کو تیار رہتا ہے۔ حیدر ؔ فرماتے ہیں۔

کریں گے اس کی حفاظت ہم اپنی جاں دے کر
کبھی نہ ہو گا کہن لا الہ الا اللہ

انسان جوں جوں شعور کی منازل طے کرتا ہے اس کی سوچ میں وسعت پیدا ہوتی جاتی ہے۔ وسیع النظری اور کشادہ دلی کا مظاہرہ کرتا ہے۔ وہ اپنے گھر، محلہ، گاؤں سے نکل کر ملک و قوم کے متعلق سوچنے لگتا ہے۔ اگر ہم حب الوطنی کو وسیع معنوں میں دیکھیں تو باقی ادیان کے مقابلے میں ہمارا تصور وطن مختلف ہے۔ اسلام کے مطابق ہر وہ جگہ جہاں اسلامی طریقے پر زندگی گزاری جا سکے وہ مسلمانوں کا وطن ہے اگر ایسا نہ ہو سکے تو وہاں سے ہجرت کرنے کا حکم ہے۔ شاید وطن کا یہی تصور تھا کہ طارق بن زیاد نے اندلس کے ساحل پر پہنچ کر کشتیوں کو جلا دینے کا حکم دیا اور تلوار کے دستے پر ہاتھ رکھ کر یہ کہا تھا کہ ہر ملک ملک ماست، کہ ملک خدائے ماست

ہجرت مدینہ کے وقت سرور کائنات مکہ مکرمہ کی سر زمین سے مخاطب ہو کر فرمایا کہ اے مکہ کی سرزمین تو مجھے بے حد عزیز ہے مگر تیرے باشندے مجھے یہاں رہنے نہیں دیتے ہیں۔ بیان کیا جاتا ہے کہ حضرت یوسف علیہ السلام جو مصر کے تخت پر جلوہ گر تھے اس حکومت و سلطنت کے مقابلے میں کنعان کا بھکاری بننا بہتر سمجھتے تھے۔ تاریخ کی کتابوں میں یہ واقعہ درج ہے کہ مغلیہ سلطنت کے آخری تاج دار بہادر شاہ ظفر کے استاد محمد ابراییم ذوق ؔ کو حیدر آباد دکن سے دعوت کے ساتھ گراں قدر تحائف اور وظیفے کی پیش کش ہوئی۔ انھوں نے حب وطن کو اس سارے مال و زر اور عزت و احترام پر ترجیح دیتے ہوئے یہ تاریخی شعر لکھ کر معذرت کر لی کہ۔

گرچہ دکن میں بہت ہے آج کل قدر سخن
کون جائے ذوق ؔ پر دلی کی گلیاں چھوڑ کر

شاید یہی وجہ ہے کہ اللہ کے پیارے حبیب سرور کائنات حضرت محمد ﷺ نے وطن سے محبت کو ایمان کا حصہ قرار دیا ہے۔ استاد محترم نے حدیث مبارکہ کی ترجمانی کچھ اس انداز میں بیان کی ہے۔

وطن ہے میرا پاکستان، کروں گا اس پہ جاں قربان
رسول پاک ﷺ کا فرمان، ”حب الوطن من الا ایمان“

حب الوطنی کے حوالے سے ”بچوں کا ترانہ“ ان کی انتہائی معروف اور موثر ترین نظم ہے۔ جس میں حب وطن کے جذبہ کا اظہار بہت ہی پرتاثیر انداز میں ہوا ہے۔ اس نظم میں جہاں طفلان وطن کو جاں نثاری، فداکاری، اخلاق، ہنر جیسے خصوصیات اپنانے کی تاکید کی گئی ہے وہی عزیز بھٹی، حسن خان، احسان خان اور بابر خان کی مانند قوی و جری بننے کا درس دیا ہے۔ انھوں نے پاکستان کی پاک سر زمین، قائداعظم محمد علی جناحؒ، علامہ ڈاکٹر محمد اقبالؒ اور ارض شمال کے قابل فخر سپوتوں کی عظمت رفتہ کا گن گایا ہے۔

عزیز بھٹی بنوں گا میں، قومی جری بنوں گا میں
رگوں میں خوں ہے لالک جاں، حسن، احسان، بابر خان
وطن ہے میرا پاکستان، کروں گا اس پہ جاں قربان

پاکستان اور بابائے قوم قائداعظم محمد علی جناحؒ کی شخصیت لازم و ملزوم ہیں۔ یہ دونوں ایک دوسرے سے ہرگز جدا نہیں۔ انہی کی قیادت میں مسلمانان ہند نے غلامی کے زنجیروں کو اپنے گلوں سے توڑ ڈالا۔ بلاشبہ قائد کی لازوال قربانیوں اور انتھک کاوشوں کی بنا پر پاکستان دنیا کے نقشے پر ایک آزاد مملکت کی حیثیت سے ابھرا ہے۔ استاد حیدر خان حیدر ؔ نظم ”قائداعظم محمد علی جناحؒ“ میں ان سے محبت کا اظہار یوں کرتے ہیں۔

تنظیم و اتحاد و یقیں کا دیا پیام
تو دیں کا ترجماں ہے محمد علی جناحؒ
چودہ نکات، چودہ اگست، چودہ ہستیاں
معنی کا اک جہاں ہے محمد علی جناحؒ
حیدر ؔ کرے گا بزم میں توصیف بار بار
ملت کی روح و جاں ہے محمد علی جناحؒ

”گلگت بلتستان کا ماحولیاتی ترانہ“ کے عنوان سے ایک منفرد اور شاہکار نظم جو کہ علامہ اقبالؒ کی مشہور نظم ”چین و عرب ہمارا“ کی پیروی میں تخلیق پائی ہے۔ حیدر ؔ صاحب کا یہ ترانہ اہل وطن کے لئے ”ہمالہ“ کی حیثیت رکھتا ہے۔ اس نظم میں وطن پرستی کے جذبات نمایاں ہیں اور منظر کشی کا عروج نظر آتا ہے۔ مزید برآں ان اشعار میں گرمی اور حبس کے ستائے، قدرتی رعنائیوں کے متلاشی سیاحوں کی ٹولیوں کو شمالی علاقہ جات کی سحر انگیز اور مبہوت کرنے والی مقامات کی جانب کھینچنے کی پوری صلاحیت موجود ہے۔ اس نظم میں کل سولہ اشعار ہیں ’جن میں سے چند ایک کو قارئین کی دل چسپی کے لیے پیش کیا جاتا ہے۔

ہنزہ نگر ہمارا، ہے بلتستان ہمارا
کتنا حسین ہے مسکن یہ بوستاں ہمارا
اہل دیامر، استور، اضلاع غذر و گلگت
جب متحد ہوں باہم تب ہے اماں ہمارا
کے ٹو اور نانگا پربت، دیران و راکا پوشی
دکھلائیں گے جہاں کو نام و نشاں ہمارا
دنیا کے اونچے گلیشیئر ساچن، بیافو، ہسپر
تازہ ہے ان سے ہر دم عزم جواں ہمارا
سیاحتی مقامات نلتر، سکردو، استور
ہنزہ، نگر اور پھنڈر بام جہاں ہمارا
دیوسائی، راما، شندور، سدپارہ، شفری جھیل
جاتا ہے دیکھنے کو ہر کارواں ہمارا
ہے شاہراہ ریشم، سی پیک کا وسیلہ
پاک چیں یہ راہداری، آرام جاں ہمارا
حیدر ؔ کرو ہمیشہ رب سے یہی دعا تم
زندہ رہے ابد تک یہ پاکستان ہمارا

نظم ”پاکستان کا ماحولیاتی ترانہ“ حیدر خان حیدر ؔ کی ایسی نظم ہے جس میں ملک عزیز میں بہتے دریاؤں، بندرگاہوں، ندی نالوں، کوہساروں، مرغزاروں، سبزہ زار وادیوں، گلیشیئر اور متعدد سیاحتی مقامات کا دلآویز انداز میں ذکر کیا ہے۔ ساتھ ہی اس ملک عزیز سے باہمی افتراق، خلفشار، نفاق اور نفرت کے برج توڑ کر وحدت اور یکجہتی پیدا کرنے کی تلقین کی گئی ہے۔

تمھارا فرض ہے حیدر ؔ گرانا برج نفرت کا
دیا میرے نبی ﷺ نے درس الفت اور محبت کا
مٹیں گی نفرتیں جب ہم سبق دیں گے اخوت کا
کھلے گا پھر ترقی کا نیا اک باب پاکستان
مرا سر سبز پاکستان، مرا شاداب پاکستان

الحاصل ”جمال فرش و فلک“ کے گہرے سمندر سے در نایاب سمیٹ کر مبسوط تبصرے لکھنے، انھیں ادبی حلقوں اور ذوق مطالعہ کی حلاوت سے سرشار ادبا تک پہنچانے کی طالب العلمانہ کوشش کی ہے ’مگر میں نہیں جانتا کہ اس تصنیف کا حق ادا کر پایا ہوں یا نہیں۔ دعا ہے خداوند متعال استاد محترم کا سایہ تادیر سلامت رکھے۔

Facebook Comments HS