محبت اور بارش



بارش ہر ایک کے لئے باعث رحمت ثابت نہیں ہوتی، کسی کے لئے زحمت ہوتی ہے تو کوئی اس کو انجوائے کرنے کی کوشش کرتا ہے ہر ایک کے اپنے اپنے طریقے ہوتے ہیں زندگی بھی کچھ اس طرح ہے گزرتی سب کی ایک جیسی ہے مگر ان کا انداز الگ الگ ہوتا ہے وہ کزنز جو بچپن میں ساتھ کھیلے ہوتے ہیں، شادیاں ہو جانے کے بعد کس قدر اجنبی ہو جاتے ہیں، اگر غلطی سے حال پوچھ لو تو کبھی شک کی نگاہ سے بیوی دیکھتی ہے تو دوسری طرف شوہر کی طنزیہ گفتگو سنائی دیتی ہے پتا نہیں یہ کیسے زہریلے رشتے ہوتے ہیں جو ساتھ تو چلتے ہیں مگر دل کی باتیں ایک دوسرے سے چھپاتے ہیں، مگر بات ہو رہی تھی بارش کی۔

ارم اپنے تینوں بچوں کو تیار کر کے اپنے شوہر کے انتظار میں بیٹھی شیشے کی دیوار کے پار گرتی ہوئی بارش کو دیکھ رہی تھی اس کا دل چاہ رہا تھا وہ باہر لان میں جائے اور جھولا جھولے جیسے وہ بچپن میں جھولا کرتی تھی کس قدر مزہ آتا تھا جب بارش میں جھولے کی لمبی لمبی پینگیں لی جاتی تھیں ساتھ ہی چیخ مار کر خوشی کا اظہار کرتے تھے مگر اب یہ سب ایٹیکیٹس کے خلاف تھا اگر اظہر آ جاتے تو انہوں نے مڈل کلاس ہونے کا طعنہ دینا تھا اور پھر بجائے بچوں کی تفریح کے لئے وہ سارا وقت آنکھوں میں آنسو لئے بیٹھی رہتی اور اظہر جیسا نفیس شخص بہت ہی شائستگی کے ساتھ اسے ذلیل کرتا رہتا کہ تم بچوں کو بجائے اعتماد دینے کے کم ہمتی سکھا رہی ہو اور وہ مسکرا مسکرا کر یہ ہی بتاتی۔

” نہیں اظہر ایسا تو نہیں ہے آنکھ میں کچھ گر گیا تھا اب بچوں کو کیا سمجھ میں آئے گا چلیں اپنی پسند کا کھانا آرڈر کریں، ویسے ٹیبل آپ نے بہت اچھی بک کی ہے، بارش کتنی خوبصورت دکھائی دے رہی ہے“ ۔

ایسی مسکا آمیز باتیں کر کے وہ اظہر پر یہ ثابت کرتی وہ دنیا کا بہترین انسان ہے اس میں کوئی کمی نہیں وہ جو چیز پسند کرتا ہے وہ اعلی ہوتی ہے اور نفیس بھی ہوتی ہے ایسی ہی باتیں سن کر کبھی کبھی اظہر اس کے وجود کو چھو بھی لیتا تھا ورنہ تو اسے اس کے وجود سے گھن آتی تھی وہ ہر وقت اپنی ماں کو کوستا رہتا تھا کہ ایک جاہل بیوی اس کے گلے ڈال دی ایسے ہی اگر ہم میاں بیوی کو نچلے طبقے میں دیکھتے ہیں تو ہمیں نگہت نظر آتی ہے جو اپنے چھوٹے سے گھر میں دو بچوں کے ساتھ بنی سنوری بہت ہی خوش دکھائی دیتی تھی اس کا شوہر اس سے صرف جسمانی محبت نہیں کرتا تھا بلکہ اسے محبت سے سنبھال کر رکھتا تھا، اتنا خیال کرتا کہ وہ سوچتی اسے زیادہ حسین تو دنیا میں کوئی بھی نہیں، محلے پڑوس کی عورتیں حیران ہوتی کہ اتنی کم آمدنی میں گزارا کیسے کرتی ہے اور پھر بھی اپنے شوہر کو بے تحاشا چاہتی ہے ارشد کے نام پر وہ ایسا شرماتی جیسے وہ ابھی رخصت کرا کر لایا ہو، یہ رنگ بھی تو بارش کے رنگوں کی طرح ہوئے نا کسی کے لئے خوبصورت تو کسی کے لئے دل کو مار کر ہنسنے کا نام، جبکہ دنیا جہاں کی چیزیں آس پاس بکھری ہوں۔

محبت اور بارش کے رنگ ایک جیسے ہی ہوتے ہیں، اچانک سے ہوتے ہیں جنہیں کوئی روک بھی نہیں پاتا جیسے معلوم ہی نہیں ہوتا کہ بارش ہو جائے گی ایسے ہی پتا ہی نہیں لگتا کہ محبت ہو جائے گی اور محبت کا پتا تب لگتا ہے جب اچانک بارش میں دکانیں بند ہونے لگتی ہیں ٹریفک کا شور سنائی دینے لگتا ہے، لوگ ایک دوسرے کو برا بھلا کہتے ہیں ہر ایک کو گھر جلدی پہنچنے کی ہوتی ہے تاکہ وہ اپنے گھر والوں اور بیوی بچوں کو دیکھ سکیں، اور کچھ ایسے بھی ہوتے ہیں جو موبائل پر ساری ہدایتیں دے کر آدھی رات کو گھر آتے ہیں اور ایسے میں انہیں اپنی بیوی کی بھرپور توجہ بھی چاہیے ہوتی ہے اور اگر ایسے میں یہ بھی کہہ دیا جائے کہ آپ سودا لانا بھول گئے تو بے بھاؤ کی سننی پڑتی ہے کہ پہلے کیوں بتایا اب کچھ نہیں ہو سکتا ۔

یہ بن موسم کی برسات بڑی ظالم لگتی ہے اور دل چاہتا ہے کہ پوچھیں کہ موسم کی تبدیلیاں ہم سے پوچھ کر تو نہیں ہوتیں لیکن کوئی بول ہی نہیں پاتا چاہے وہ مڈل کلاس ہو، چاہے وہ ہائی کلاس سے تعلق رکھتے ہوں ہر ایک کے مختلف مسائل ہوتے ہیں۔

اگر گھومنے جانے کی فرمائش کر دیں تو سڑکوں پر بھرا ہوا پانی بہت خوش نصیب عورتوں کے شوہر ناراض نہیں ہوتے ہوں گے ورنہ اکثریت تو راستے میں بھی بگڑ جاتی ہے پھر کہاں کی بارش، کہاں کی پکنک، کہاں کا گھومنا سب دھرا کا دھرا رہ جاتا ہے، بس معصوم بچے گھوم لیتے ہیں یا آئسکریم کھا کر دل بھلا لیتے ہیں، ایسے میں وہ لوگ بڑا شکر ادا کرتے ہیں جن کے بچے بڑے ہوچکے ہوتے ہیں اور خود ہی گھر میں یا دوستوں کے گھر اپنی انجوائمنٹ کا سامان کر لیتے ہیں جس پر ان کے والدین کو یقین ہوتا ہے تو وہ بھی آرام سے اجازت دے دیتے ہیں۔

ہائے یہ بارش اور محبت کتنے رنگ بدلتی ہے ایسے ہی موسم میں کبھی اچھا ہوتا ہے تو کبھی برا ہوجاتا ہے لیکن پہلے دن کی بارش بڑا رلاتی ہے۔

ہم عورتوں کی تو بات کرتے ہیں مرد بھی کچھ کم نہیں ہوتے وہ بھی محبت کے پیاسے ہوتے ہیں تیزی سے گھر آتے ہیں تو انہیں بیوی کے رونے ہی ملتے ہیں کیونکہ بارش اور واپڈا کا ساتھ سدا کا ہے، بارش کی بوند پڑے گی اور لائیٹ جائے گی تو گھر میں گھستے ہی پہلی آواز لائیٹ نا ہونے کی آئے گی، پھر کوئی بہت ہی فرمائش کرے گی تو جنریٹر کا شکوہ ہو گا۔

بیچارہ مرد یہ بھی نا کہہ پائے گا کہ مجھے چائے پلا دو، چپ کر کے وہ کمرے میں لیٹ جائے گا لیکن کسی ہی ایسے دوسرے گھر میں داخل ہوتے ہی چائے کی خوشبو سے گھر مہک رہا ہو گا بس یہ بارش اور محبت ایسے ہی چلتی رہتی ہے کبھی گرم تو کبھی سرد لیکن یہ یادیں بڑا ستاتی ہیں اور جب یہ بھی شاہی فرمان ہو میکے کی کھڑی کو وہاں کی یادوں کو دفن کردو اب تم بڑی ہو چکی ہو، اب تم بچوں کی طرح جھولا جھولتے ہوئے اچھی لگو گی، اس لئے بہت ہے کہ آرام سے بیٹھ کر چائے پیؤ اور بارش کو یہاں سے ہی دیکھو۔

بس ورکنگ وومن رات کو شوہر کی حاضری دے کر صبح کو اپنی ڈیوٹی پر چلی جاتی ہیں وہ جانا اس کی ذمے داری تھی جیسے بھی جائے کیونکہ شوہر کو بھی جانا ہے اور دنوں کے راستے الگ الگ ہوتے ہیں اور رات بھر کی جاگی ہوئی سرخ آنکھیں لئے ہوئے مختلف معنیٰ خیز جملے سنتی رہتی اور جواب میں صرف خوبصورت سی مسکراہٹ ہوتی یہ ہی زندگی ہے جس میں بارش بھی ہے محبت بھی ہے توانائی بھی ہے آگے بڑھنے کی لگن بھی ہے اور جیون ساتھی کے ساتھ چلنے کی لگن بھی ہے۔

شکایتیں اپنی جگہ ہی کافی ہے کم از کم وہ پیار سے ہی صحیح ڈانٹ کر ہی صحیح گھر آتا ہے اپن سمجھتا ہے اور پھر جو کچھ رہ جاتا ہے اس کو پورا کر دیتا ہے۔

یہ بارش یہ محبت بڑی ظالم ہوتی ہے کبھی جان لیتی ہے تو کبھی جان دیتی ہے نا کوئی اس کو سمجھ پایا ہے اور نا ہی سمجھے گا۔

بارش میں جو محبت کے رنگ سمیٹتا ہے وہ خوش نصیب ہوتا ہے ور پھر اگلے ساون کا انتظار کرتا ہے۔
یہ بارش، یہ محبت بڑا ستاتی ہے سمجھ میں ہی نہیں آتی کب خوش ہوتی ہے کب ناراض۔
بارش کے رنگوں میں محبت رقص کرتی ہے
پازیب کی طرح بجتی ہے جس کو مل جائے
وہ ناچ اٹھتا ہے، پکارنے لگتا ہے کہ بارش دوبارہ آئے
اور میں محبت میں بھیگ جاؤں۔

Facebook Comments HS