حقیقی آزادی کیا ہے
اللہ تعالیٰ نے انسان کو آزاد پیدا کیا اور انسان کی فلاح کے لئے ہر دور میں پیغمبر اور رسول بھیجے جو انسان کو سیدھا راستہ دکھانے میں مصروف عمل رہے۔
حضرت آدم سے خاتم الانبیاء حضرت محمد ﷺ تک کم و بیش ایک لاکھ جوبیس ہزار پیغمبر اس دنیا میں آئے سب کے سب اللہ کا پیغام انسانیت تک پہنچاتے رہے۔ ہر نبی کوئی نا کوئی معجزہ یا کرامت لے کر آیا۔ کسی نے انسانیت کی بات کی۔ کسی نے طرز حکومت کی۔ کسی نے نفع نقصان کی۔ مگر ہمارے نبی حضرت محمد ﷺ رہتی دنیا تک کے لئے مکمل دین اسلام کی صورت میں۔ مکمل نظام شعریت محمدی کی صورت میں اور مکمل ہدایت قرآن کی صورت میں لے کر آئے۔
مگر افسوس اس بات کا ہے کہ آج مسلمان اغیار کی چال میں آ کر آپس میں ہی ایک دوسرے کے دشمن بنے بیٹھے ہیں۔
قرآن کریم میں ارشاد ہے۔
2:75 Al-Baqara
(اے مسلمانو! ) کیا تم یہ توقع رکھتے ہو کہ وہ (یہودی) تم پر یقین کر لیں گے جبکہ ان میں سے ایک گروہ کے لوگ ایسے (بھی) تھے کہ اللہ کا کلام (تورات) سنتے پھر اسے سمجھنے کے بعد (خود) بدل دیتے حالانکہ وہ خوب جانتے تھے (کہ حقیقت کیا ہے اور وہ کیا کر رہے ہیں ) ،
اسلام وہ دین ہے جس نے مکمل سیاسی اور معاشی آزادی کی بات کی ہے مگر کیسی آزادی ایک نظر کشمیر، فلسطین، یمن، عراق، شام، اور کسی حد تک پاکستان پر بھی ڈال لیں۔ وجہ صرف یہ کہ اغیار جانتے ہیں کے اگر سب مسلمان اکٹھے ہو گئے تو دنیا پر یہ راج کریں گے۔ مگر ہم اکٹھے ہونے کے لئے تیار بھی نہیں۔
اسلام نے ایک جمہوری فلاحی ریاست کا نظام دیا ہے مگر ہم آمریتی نظام میں جی رہے ہیں جس کی وجہ شاید یہ ہے کہ ہم اسلام سے دور ہو گئے اور انسانیت سے بھی۔
اسلام آنے کے بعد یزید نے آمریت قائم کرنے کی کوشش کی مگر حضرت امام حسین نے یزید کے ہاتھ پر بیعت نہیں کی بلکہ اس سے بغاوت کی۔ یزید ایک نام تھا جو آج بھی ظالم جابر آمر کے عنصر سے یزیدیت کے نام پر جانا جاتا ہے۔
آپ حضرت محمد ﷺ کے بعد کوئی نبی نہیں آنے والا مگر دین کی تبلیغ کی ذمہ داری ہم سب پر عائد کی گئی۔ اسلام کی قدروں کو نقصان سے بچانے کے لئے ہم سب نے کلمہ حق بلند کرنا ہے۔
حضرت موسیٰ کو جب اللہ نے نبوت عطا کی تو سب سے پہلے دین، نماز روزے کا حکم نہیں دیا بلکہ ظالم حکمران فرعون کے خلاف آواز حق بلند کرنے کو کہا۔
قرآن پاک میں ارشاد ہے۔
20:47 Taa-Haa
پس تم دونوں (موسیٰ اور ہارون) اس کے پاس جاؤ اور کہو: ہم تیرے رب کے بھیجے ہوئے (رسول) ہیں سو تو بنی اسرائیل کو (اپنی غلامی سے آزاد کر کے ) ہمارے ساتھ بھیج دے اور انہیں (مزید) اذیت نہ پہنچا، بیشک ہم تیرے پاس تیرے رب کی طرف سے نشانی لے کر آئے ہیں، اور اس شخص پر سلامتی ہو جس نے ہدایت کی پیروی کی۔
آزادی ایک ایسا مفہوم ہے جس سے تمام انسان مانوس ہیں۔ اور آزادی سے انسان کی یہ انسیت اور دلچسپی کوئی نئی بات نہیں ہے۔ انسانی تاریخ گواہ ہے کہ آزادی سے یہ لگاؤ، سرمایہ داری یا سوشلزم کے جدید طرز فکر کا بھی نتیجہ نہیں ہے۔ بلکہ انسان کی فطرت میں آزادی سے محبت موجود ہے، اور تاریخ کے ہر دور میں اس بات کا مشاہدہ کیا جا سکتا ہے۔
انسان کی کہانی ہی آزاد رہنے اور خود کو آزاد کروانے کی جنگ معلوم ہوتی ہے۔ البتہ اس جنگ کے طریقہ اور مقاصد میں طرز فکر کے اختلاف کی وجہ سے فرق پایا گیا ہے۔ حتی کہ آزادی کے سلسلے میں بعض نظریات، انسان کو غلامی کی انتہا تک پہنچا دیتے ہیں!
آزادی سے اس لگاؤ کی وجہ انسان میں فطری طور پر موجود ہے۔ جسم اور روح کا مجموعہ یہ انسان ”ارادے“ کا بھی مالک ہوتا ہے۔ اور اسی ارادے کی وجہ سے وہ آزادی کو پسند کرتا ہے اور اس کا طلب گار ہوتا ہے۔
انسان جس طرح اس بات کو ناپسند کرتا ہے کہ اس کے اعضاء کام کرنا چھوڑ دیں، اسی طرح فطرتاً وہ اپنے ارادے پر پابندی بھی ناپسند کرتا ہے۔ البتہ انسان شروع سے اس بات کو تسلیم کرتا چلا آ رہا ہے کہ ایک منظم معاشرے میں زندگی گزارنے والے عام انسان کو مکمل اور بے لگام قسم کی آزادی نہیں ہونی چاہیے۔ کیونکہ معاشرے میں ہر فرد کی مکمل آزادی یا بے لگا می سے دوسرے افراد کی آزادی ختم ہوجاتی ہے۔ اس طرح معاشرے کا نظام درہم برہم ہوجاتا ہے۔ انسان کو اس کی آزادی کا حصہ اسی صورت میں مل سکتا ہے جب کہ ہر ایک انسان دوسرے کی آزادی میں دخل دینے سے پرہیز کرے۔ اس کے لئے اسے اپنی آزادی کو کچھ محدود کر دینا پڑتا ہے، اور اس طرح سے معاشرے میں کچھ ایسے قوانین فروغ پا جاتے ہیں جن سے معاشرے میں نظم و ضبط قائم ہوجاتا ہے۔
آج ہمیں اسلام کی قدروں کا دفاع کرنا ہو گا۔ ظلم کی خلاف آواز اٹھانی ہوگی۔ آمریت کو کچلنا ہو گا۔ اور اس جمہوری نظام کو ختم کرنا ہو گا جس میں غریب امیر برابر نہیں۔


