سائیکل لے کے گاڑی دے گا
ایک دفعہ مولوی طارق جمیل صاحب اپنے بیان میں ’لاریب‘ کا مطلب سمجھا رہے تھے۔ اتفاقیہ بات ہے ان کا یہ بیان سننے کی سعادت بھی سفر کے دوران ہی حاصل ہوئی۔ تو سننے کے ساتھ ساتھ مشاہدہ بھی ہوتا گیا اور عین الیقین ’حق الیقین کی سب منزلیں پار ہو گئیں۔ انہوں نے فرمایا کہ لاریب کا ترجمہ شک نہیں کیا جا سکتا‘ کیونکہ یہ دونوں ایک ہی زبان کے لفظ ہیں لیکن آخرالذکر ہمارے ہاں عام استعمال میں ہے تو یہ ترجمہ چل جاتا ہے۔
لاریب کو سمجھانے کے لئے ایک روزمرہ کی عمومی مثال بیان فرمائی کہ فرض کریں آپ لاہور شہر تک کے سفر کا ارادہ رکھتے ہیں۔ درمیان میں کہیں سڑک دو حصوں میں تقسیم ہو گئی تو بھلیکھا پڑ جائے گا کہ اللہ جانے لاہور والی سڑک کون سی ہے لیکن جونہی چند قدم آگے آئے اور نظر اوپری بورڈ پہ پڑی تو واضح لکھا مل گیا کہ لاہور کس طرف ہے۔
مولوی صاحب نے بتایا کہ یہ جو بھلیکھا پڑ جانے کا لمحاتی سا وقفہ ہے اسے لاریب کہتے ہیں۔ اللہ کریم نے اپنی کتاب قرآن مجید کے بارے کہا کہ یہ لاریب ہے ’یعنی یہ اس قدر واضح کتاب ہے کہ اس میں ذرا سا بھی بھلیکھا نہیں ہے۔
اللہ کریم نے اپنی اس کتاب میں چند ایک پچھلی امتوں کے واقعات اور کچھ انبیاء و رسل کے حالات بھی بیان کیے ۔ انہی میں حضرت یوسف علیہ السلام کا قصہ بڑی تفصیل سے بیان فرمایا گیا ہے۔ ہشت پہلو یہ قصہ جہاں دلچسپ ہے ’وہیں یہ سبق آموز بھی ہے۔ جہاں یہ کہانی کی صورت آگے بڑھتا ہے‘ وہیں اس میں سمجھنے والوں کے لئے کئی ایک راز پوشیدہ ہیں۔ اس کے علمی ’عقلی‘ فہمی اور منطقی نکتے تو کوئی صاحب علم ہی بتا سکتے ہیں۔ یہاں تو محض حبی نکتے کا بیان مقصود ہے۔
اللہ کریم نے بارہ بیٹے عطا فرمائے لیکن صرف ایک کی محبت شدید کر کے دل میں ڈال دی۔ والد وقت حال میں نبی ہیں اور بیٹا مستقبل کا نبی ہے۔ اس سارے کھیل میں پہلی منزل کنواں ہے کہ یہیں سے مصر کے سفر ’مصر کی امارت اور بادشاہی کا سفر شروع ہونا ہے۔ بھائیوں کو کنویں کی اصل کا علم نہیں ہے ورنہ ہر کوئی دوسرے کی منتیں کرتا کہ مجھے کنویں میں ڈالو۔ کنواں گھر سے چند کلومیٹر کی دوری پہ ہے لیکن وقت کے نبی کو معلوم نہیں ہونے دیا۔
غم جدائی میں بصارت لے لی اور بصیرت ایسی جگائی کہ کرتے کی خوشبو کئی میل دور سے آ جاتی ہے۔ اولاد آنکھوں کی ٹھنڈک ہے تو بیٹے کا کرتا ہی بصارت واپس لانے کا وسیلہ ثابت ہوا۔ یہ سب کہانی ’اس کہانی کا پلاٹ‘ اس کے کردار ’اس کا مرکزی نقطہ سب اللہ کریم کا تیار کردہ ہے۔ سب اسی کے طے کردہ اور وضع کردہ پروگرام کے مطابق کہانی آگے بڑھاتے ہیں۔
سارا جہاں اس مالک کل کے متعین کردہ اصولوں پہ کاربند ہے ’کسی من پسند چیز کی واپسی یا آزمائش کی گھڑی میں ڈالنے کے پیچھے اصل راز سے صرف وہی واقف ہے یا وہ واقف ہے جسے وہ خود واقف کروا دے۔ ہر قسم کی آزمائش‘ تنگی اور سختی کے بعد سہولت ’خوشی اور وسعت ہے جیسا کہ وہ خود فرماتا ہے : فان مع العسر یسراً اور پھر اسی پہ بس نہیں کہ بلکہ مزید زور دیتے کہا کہ : ان مع العسر یسراً
ممکن ہے کہ آزمائش کے لئے مختلف طرح کے حالات کی بھٹی ہو ’کندن بنانے کے لئے مختلف مراحل ہوں‘ لیکن آخر میں وہ ایسی آسانی اور خوشی سے نواز دیتا ہے کہ سب غم اور دکھ بھول جاتے ہیں۔ کم درجے کی چیز واپس لے کر وہ کوئی اعلیٰ درجے کی فضیلت بخش دیتا ہے۔ سب اسی کی قبضہ قدرت میں ہے ’وہی تو کارساز ہے‘ سب کی تاریں اور ڈوریں وہیں سے ہلتی ہیں۔ اسی لئے صرف وہی اس شان کے قابل ہے کہ اسی سے لو لگائی جائے ’اسی سے مانگا جائے اور اسی سے توقع رکھی جائے۔
کیا خوب پنجابی شاعر نے کہا کہ:
آ نی کڑئیے جیون جو گئیے ’درد دلاں نوں چھویا
پہلی نیک کمائی والا میرا سائیکل چوری ہویا
کسے گواچی چیز لئی میں پہلی واری رویا
اک فقیر خدا دا بندہ ’میرے اگے آن کھلویا
کہن لگا ’تم کیا لائے تھے‘ کیا تھا جو اب کھویا
کہا ’بابا جی‘ میرا سائیکل چوری ہویا
مورکھ وہ سائیکل لے کے گاڑی دے گا
تو کیا جانے مویا۔
اردو خلاصہ: میری پہلی کمائی سے کمایا ہوا سائیکل چوری ہو گیا تو اس کے لئے میں بہت رویا۔ ایک خدا کا بندہ کہنے لگا کہ تم کیا لائے تھے اور اب کیا کھویا ہے جو اتنا رو رہے ہو۔ تو میں نے سائیکل کے چوری ہونے کا بتایا وہ کہنے لگا کہ ارے نادان تو اس کی حکمت سے واقف نہیں ’کیا معلوم وہ یہ سائیکل لے کے تجھے گاڑی دینا چاہتا ہو


