اللہ کی مرضی یا پھر انسانی نا اہلی کی بنا پر ذمہ داریوں سے فرار؟
حالیہ سیلاب کی وجہ سے وسیب، سندھ اور بلوچستان میں بڑے پیمانے پر ہونے والے جانی و مالی نقصانات کے بعد مختلف مشہور سوشل میڈیائی، سیاسی اور مذہبی شخصیات کی جانب سے عجیب و غریب تحریریں اور بیانات پڑھنے و سننے میں آ رہے ہیں۔
ایک سوشل میڈیائی شخصیت لکھتے ہیں کہ سیلاب سے قبل ہی متاثرین کو آگاہ کر دیا گیا تھا۔ انہوں نے بروقت نقل مکانی نہیں کی جس کی وجہ سے انہیں تباہی اور نقصانات کا سامنا کرنا پڑا۔ اب ان ڈیڑھ سیانوں کو کون سمجھائے کہ رود کوہی سیلاب میں اور گلیشئر پگھلنے کی وجہ سے دریاؤں میں آنے والی طغیانی میں زمین و آسمان کا فرق ہوتا ہے۔
اول الذکر سیلاب پہاڑوں پر سے آنے والے بارشی پانی کا نام ہے جس کی طاقت و شدت کا اندازہ لگانا قریب قریب ناممکن ہوتا ہے کجا کہ قبل از وقت انتباہی ہدایات جاری کی جا سکیں یا احتیاطی تدابیر اپنائی جا سکیں۔ یہ رودکوہی سیلاب اتنا تیز اور شدید ہوتا ہے کہ چارپائی سے اٹھنے اور سنبھلنے کا وقت اور موقع بھی نہیں دیتا۔ اور موخر الذکر سیلاب کے ریلے روانہ ہوتے ہوئے جب دریاؤں میں آتے ہیں تو اندازہ لگا لیا جاتا ہے۔ اور قبل از وقت نہ صرف انتباہی ہدایات جاری کی جا سکتی ہیں بلکہ احتیاطی تدابیر بھی اپنائی جا سکتی ہیں۔
وسیب کی ایک سیاسی اور پاکستان کی ایک مذہبی شخصیت فرماتے ہیں کہ یہ سیلاب اور اس سے ہونے والی تباہی اور نقصانات ہمارے اعمال کا نتیجہ ہیں۔ ہمیں اپنے گناہوں پر معافی مانگنی چاہیے اور توبہ استغفار کر کے اللہ سے پناہ مانگنی چاہیے۔
وسیب کی جس سیاسی شخصیت نے یہ بیان داغا ہے میں ان کی عقلی استعداد اور فکر و عمل سے اچھی طرح واقف ہوں اس لیے اس شخصیت پر زیادہ بات نہیں کروں گا۔ موصوف نے تعلیمی قابلیت اور کتاب کے نام پر صرف نصابی کتب پڑھ رکھی ہیں وہ بھی اتنی ہی پڑھ رکھی ہیں کہ جن سے پاسنگ مارکس مل سکیں۔ پھر بھی مضمون میں درج سوالات ان سے بھی پوچھ رہا ہوں۔
جس مذہبی شخصیت نے توبہ و استغفار کا بیان پیلا ہے ان کی فین فالونگ شاید کسی پاکستانی فلم ایکٹر یا سیاستدان سے زیادہ ہے۔ موصوف بڑے بڑے علما میں گیان بانٹتے رہتے ہیں اور ملکی دوروں کے ساتھ ساتھ غیر ملکی دوروں میں بھی دعوت و تبلیغ کا فریضہ سر انجام دیتے رہتے ہیں۔ موصوف ہر حکومت میں حکمرانوں کے لیے رو رو کر، گڑگڑا کر دعائیں مانگ رہے ہوتے ہیں اور حکمرانوں سے دعاؤں کے عوض حج کوٹہ لے کر مہنگے ترین ایلیٹ کلاس کے حج کے فرائض انجام دلواتے ہیں۔
سوال یہ ہے کہ سیلاب آئے یا کوئی اور آفت آئے، نقصانات ہوں یا تباہیاں ہوں، ہر بار متاثرین کو ہی مورد الزام کیوں ٹھہرایا جاتا ہے۔ کیوں ہر بار کہا جاتا ہے کہ اللہ کی یہی مرضی ہے یا پھر یہ کہ یہ آفات، تباہیاں اور نقصانات ہمارے اعمال کے نتائج ہیں۔
ہر بار عام اور غریب لوگ ہی اعمال کی شامت کیوں بھگتتے ہیں؟ وہ جن کے ٹیکس کے پیسوں سے بڑی بڑی رہائشی کالونیاں بنائی جاتی ہیں وہی ہر بار کیوں اللہ کے عذاب کی پکڑ میں آ جاتے ہیں؟ جو ٹیکس کے پیسوں سے، ڈیم فنڈ کے نام پر بٹوری ہوئی رقموں سے پلازے اور بڑی بڑی عمارات کھڑی کر لیتے ہیں ان پر اللہ کا عذاب کیوں نہیں آتا؟
اگر گناہ و ثواب جیسے اعمال کے نتائج پر دنیا کا نظام چل رہا ہوتا تو اس وقت بقول شدید مذہبیوں اور کند ذہن سیاسی نام نہاد نمائندوں کے شامت اعمال کی بنا پر یورپ سمیت آدھی دنیا تباہ ہو چکی ہوتی۔ وہ ممالک جہاں جسم فروشی، شراب فروشی، شراب نوشی، بغیر کسی قانونی یا مذہبی رضامندی کے لیو ان ریلیشن شپ میں رہنا قانونی حیثیت رکھتے ہیں۔ وہ ممالک اب تک صفحہ ہستی سے کسی حرف غلط کی طرح مٹ چکے ہوتے۔
اپنے جھوٹ، بد نما کرتوت اور نا اہلی چھپانے کے لیے ہر بار عام متاثرین کے ساتھ ساتھ خدا کو کیوں مورد الزام ٹھہرایا جاتا ہے؟ وہ جواب دینے نہیں آتا اسی لیے؟ یا وہ جواب دے نہیں سکتا اس لیے؟
آخر میں میرا آنکھوں دیکھا ایک واقعہ سن لیجیے۔ ایک پرائیویٹ ہسپتال میں ایک خاتون کی پری میچور ڈیلیوری کرنے کی وجہ سے نومولود بچی کی وفات ہو گئی۔ ہسپتال کے مالک سینئر ڈاکٹر صاحب کو بلایا گیا۔ ڈاکٹر صاحب نے آتے ہی کہہ دیا کہ اب اس کو ”اللہ کی مرضی“ ہی کہہ سکتے ہیں۔
جب ان ڈاکٹر صاحب سے سوال کیا گیا کہ اللہ کی مرضی ان ترقی یافتہ ممالک میں کیوں نہیں چلتی جہاں صحت کا نظام انتہائی اعلی ہے؟ یا اللہ کی مرضی اس وقت کیوں نہیں چلی جب تک پری میچور ڈیلیوری نہیں ہوئی؟ واضح رہے کہ ڈیلیوری سے پہلے اسی ہسپتال میں الٹرا ساؤنڈ کیا گیا تھا تو بچی ماں کے پیٹ میں بالکل ٹھیک ٹھاک حرکت کر رہی تھی۔ سوال پر ڈاکٹر موصوف کفر کا فتویٰ دے کر چلتے بنے اور ان کے حواریوں نے سوال کرنے والے کی کردار کشی شروع کر دی۔
ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ پبلک فگرز اور ذمہ دار افراد ایسے مواقع پر متاثرین کے زخموں پر مرہم رکھتے مگر اس وقت بجائے زخموں پر مرہم رکھنے کے نمک رگڑا جا رہا ہے۔ اگر آپ مرہم نہیں رکھ سکتے تو نمک بھی مت رگڑیں، یہی آپ کا سب سے بڑا احسان ہو گا۔
ہر بات کو اللہ کی مرضی سے جوڑنا اور ہر آفت میں ہونے والے نقصانات کا ذمہ دار متاثرین کو یا اللہ کو ٹھہرانا مند بدھی ہونے کی اور نا اہلیوں کی بنا پر اپنی ذمہ داریوں سے بھونڈا فرار پانے کی دلیل ہے۔ اور یہ حرکات بجائے خود خدا کی طاقت کی توہین ہیں۔


