سیلاب
پانی آ رہا ہے۔ پانی آ رہا ہے۔ کہاں جائیں باہر بھی پانی ہے اندر بھی پانی۔ بڑے زمین دار نے بند توڑ دیا ہے اور پانی آبادی کی طرف آ رہا ہے۔ اماں۔ زینب پانی دیکھ کر بے ہوش ہو گئی ہے۔ اکبر کا بھی بلڈ پریشر گر گیا ہے پریشانی سے۔
ہر طرف قیامت صغریٰ کا منظر ہے، آہ و بکا ہے، پریشانی کا عالم ہے۔ صبح صبح کا وقت ہے اور یہ صورتحال ہے نوشہرو فیروز کے ایک دیہی علاقے لاکھا روڈ کی جہاں کئی روز سے مسلسل بارش ہو رہی ہے اور حکومت کی جانب سے ویسے ہی کوئی امداد نہیں مل رہی اس پہ علاقے کے سیاسی رہنما کو انسانوں سے زیادہ اپنی زرعی زمین کی فکر لاحق ہے۔ با اثر فرد نے اپنی زمین بچانے کے لیے عورت کارڈ استعمال کرتے ہوئے بند توڑ دیا، پولیس کی موجودگی کے باوجود عورتوں کے ایک جھنڈ نے آ کر بند توڑا اور پانی تیزی سے آبادی میں داخل ہونے لگا، جو گھر بچے ہوئے تھے وہاں بھی پانی داخل ہو کر سب کچھ بہا لے گیا ہے۔
دھڑام کی آواز آتی ہے اور معلوم ہوتا ہے کسی غریب کی چھت چھن گئی ہے تو کسی کے گھر کی دیوار گر گئی ہے۔ پریشان حال لوگ جائیں تو جائیں کہاں؟ تاحد نگاہ پانی ہی پانی ہے۔ علاقے کا زمیندار اور سیاسی رہنما صرف اپنی زمین بچانے کی فکر میں مبتلا ہے اسے لوگوں کی پریشانی سے کچھ غرض نہیں کہ اپنے وسیع و عریض گھر یا اوطاق میں ہی لوگوں کو پناہ دے دے۔ لوگ پریشانی کے عالم میں بے سرو سامان نقل مکانی کر رہے ہیں کیوں کہ یہاں رہنے کی صورت میں تو شاید بھوکے ہی مر جائیں اور حکومتی امداد کی تو ویسے ہی کوئی امید نہیں ہے۔
یہ تو میں نے آپ کو ایک علاقے کی حالت بتائی ہے لیکن دوسرے علاقوں میں بھی کچھ مختلف صورتحال نہیں ہے۔ پڈ عیدن ٹاؤن، بھریا روڈ، لاکھا روڈ اور دیگر ملحقہ علاقوں میں بھی یہی کھیل کھیلا جا رہا ہے جہاں زرعی زمینیں بچانے کے لیے مقامی آبادیوں کو ڈبویا جا رہا ہے۔ ایک ساتھی نے ویڈیو بھیجی جس میں رات کے وقت شدید بارش جاری ہے اور کھلے آسمان تلے کھڑے لوگ دہائیاں رہے ہیں اور بتا رہے ہیں کہ سندھ کی با اثر سیاسی رہنما کی جانب سے اپنی زرعی زمین بچانے کے لیے پانی کا رخ ان کے علاقے کی جانب موڑ دیا گیا جس کی وجہ سے ٹنڈو آدم اور ٹنڈو الہ یار کی آبادیوں میں پانی داخل ہو رہا ہے۔ دوسری جانب سوشل میڈیا پر ایک اور ویڈیو گردش کرتی رہی جس میں صوبائی وزیر شرجیل انعام میمن نے اپنی کیلے کی فصل بچانے کے لیے اپنی زمین سے پانی نکال کر رہائشی علاقوں کی جانب چھوڑ دیا۔ جس سے بڑے پیمانے پر نقصان ہوا ہے۔ لوگوں کے گھروں میں پانی داخل ہو گیا اور ان کا بہت نقصان ہوا ہے۔
اس سے قبل پاکستان میں کئی قدرتی آفات آ چکی ہیں جن میں سنہ دو ہزار پانچ کا زلزلہ بھی شامل ہے جس نے خیبر پختونخوا کے کئی علاقے صفحہ ہستی سے ہی مٹا ڈالے تھے۔ موجودہ یعنی سنہ دو ہزار بائیس کا سیلاب بھی کچھ کم تباہ کن نہیں ہے جس نے سندھ، بلوچستان اور جنوبی پنجاب کو شدید متاثر کیا ہے۔ اگر سندھ کی بات کی جائے تو کراچی میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ سندھ کا کہنا تھا کہ 23 اضلاع، 101 تحصیلیں، اور 5181 دیہات اس سیلاب سے متاثر ہوئے ہیں جبکہ مویشیوں کے نقصان کا اس وقت اندازہ نہیں لگایا جا سکتا۔ وزیر اعلیٰ سندھ نے حالیہ بارشوں کو سنہ دو ہزار دس کے سیلاب اور دو ہزار گیارہ کی طوفانی بارشوں سے بھی زیادہ خوفناک قرار دیا اور کہا کہ صوبے میں اتنی بڑی ایمرجنسی پہلے کبھی نہیں ہوئی۔ سندھ کے 23 اضلاع کو صوبائی حکومت نے آفت زدہ قرار دیا ہے۔
سیلاب سے نا صرف انسان متاثر ہوئے ہیں بلکہ جانوروں کی بھی بہت زیادہ اموات ہوئی ہیں۔ کہیں مویشی پانی میں بہہ گئے تو کہیں وہ گندے پانی کی وجہ سے بیماریوں کا شکار ہو کر ہلاک ہوئے یا شدید بیمار پڑ چکے ہیں، میرے خود کے اندرون سندھ میں مقیم کئی رشتے داروں کے مویشی نیچے پانی اور اوپر سے مسلسل برستی بارش کی وجہ سے بے حال ہیں، انسانوں کے بیٹھنے کی جگہ نہیں تو مویشیوں کو کہاں کھڑا کیا جائے؟ اسی طرح اگر بات کریں فصلوں کی تو سندھ میں اس وقت بڑے پیمانے پر کپاس، کیلا، جوار، چاول، گنا، پیاز کی فصل بڑے پیمانے پر بوئی جا چکی تھی جسے شدید نقصان پہنچا ہے، وزیر اعلیٰ سندھ خود پریس کانفرنس میں یہ اعتراف کرچکے ہیں کہ نوے فی صد فصلیں بارشوں اور سیلاب سے تباہ ہو چکی ہیں۔
یعنی صرف دس فی صد فصلیں بچی ہیں جو ظاہر ہے کہ ملک کی غذائی ضروریات سمیت دوسری ضروریات پوری کرنے کے لیے ناکافی ہیں۔ یہ کہنا کچھ غلط نہ ہو گا کہ آنے والا وقت ملک کی مشکلات میں شدید اضافہ کرنے والا ہے۔ شدید قسم کا غذائی بحران پیدا ہونے والا ہے اور یقینی طور پر یہ سب چیزیں ملک کو در آمد کرنا پڑیں گی اور ملک جو پہلے ہی معاشی بحران کا شکار ہے مزید پریشانی میں مبتلا ہو جائے گا۔
اس وقت اگر دیکھا جائے تو کئی مواصلاتی راستے بھی کٹے ہوئے ہیں، نوابشاہ میں ریلوے ٹریک ڈوبا ہوا ہے جس کی وجہ سے ریلوے سروس معطل ہو گئی ہے۔ نوابشاہ کا ائرپورٹ بھی دریا کا منظر پیش کر رہا ہے وہاں بھی جہاز نہیں اتر پائیں گے صرف ایک سڑک کا راستہ تھا وہ بھی نوشہرو فیروز کے قریب بند ہے اب اس طرف آنے کا راستہ صرف انڈس ہائی وے ہے جو بھی کسی وقت زیر آب آ سکتا ہے کیونکہ بلوچستان سے آنے والا سیلابی ریلا اس وقت منچھر جھیل میں آ چکا ہے اور پانی دریا سے باہر آ رہا ہے اور حفاظتی بندوں پر دباؤ ہے۔
دن بدن صورتحال سنگین ہوتی جا رہی ہے 2010 کے سیلاب میں تو صرف کچے کا علاقہ اور آس پاس کے چند چھوٹے قصبے ڈوبے تھے لیکن حالیہ سیلاب نے تو شہر اور گاؤں کا فرق ہی مٹا دیا ہے کیونکہ سکھر ہو یا شکارپور پانی اس قدر تھا کہ کشتیاں چلائی گئیں، وہ پانی اب تک نکل نہیں پا رہا لیکن لوگوں کو فکر اپنی فصلوں کی ہے۔ ایک پریشانی اور بھی ہے کہ کراچی یا بڑے شہروں میں تو کسی نہ کسی طریقے پانی نکال لیا جاتا ہے لیکن بارشیں رکنے کے بعد اندرون سندھ کے دیہی علاقوں میں جہاں مشینری کی رسائی ہی نہیں نہ ہی ارباب اختیار کو اس سے کچھ غرض ہے وہاں سے پانی کی نکاسی کس طرح سے ممکن ہو پائے گی؟ پانی کھڑا رہا تو طرح طرح کی بیماریاں پھوٹ پڑیں گی۔ اس وقت بھی متعدد لوگ ڈائیریا اور دیگر امراض کا شکار ہوچکے ہیں لیکن حکومت کے پاس شاید اس حوالے سے کوئی پلان موجود نہیں ہے۔

