بارشیں تو ہوتی ہیں


بارشیں تو ہوتی ہیں
بارشوں کا کیا رونا
چند مکاں گرتے ہیں، چند لوگ مرتے ہیں، چند گھر اجڑتے ہیں
ہجرتیں بھی ہوتی ہیں، نقل مکانی کرتے لوگ نوحہ کرتے ہیں
لیکن
بارشیں تو ہوتی ہیں
بارشوں کا کیا رونا
حلقے کے ایک بچے کو، جس کے ماں اور باپ گئے
اپنے پیارے بچے سے، اک کھلونا دلوا کے
بوسہ دے کے بیٹے کو، وہ وزیر پوچھتا ہے
”گھومنے چلیں ڈزنی؟“
بارشیں تو ہوتی ہیں
بارشوں کا کیا رونا
ایک مالدار تاجر
آسماں تلے بیٹھے، بھوکے بے گھر لوگوں کو
چند نوٹ پکڑا کے، یہ تسلی دیتا ہے
”ایسی بارشوں میں تو سب کی چھت ٹپکتی ہے“
پھر زمیں کے تاجر سے، فون کر کے پوچھتا ہے
”بارشوں میں زمیں کی قیمتیں گری ہوں گی،
اچھی ہو تو بتلانا، کچھ رقم لگا دوں میں ”
بارشیں تو ہوتی ہے
بارشوں کا کیا رونا
”اللہ کرے بارش ہو، چھت پے جا کے کھیلیں گے“
ہم عمر ملازمہ سے، ایک بچی کہتی ہے
رب یہ دعا نہ سننا ”
جھگی گرنے والی ہے
بھیگنے کی خیر ہے بس
لوگوں سے چھپاتی ہے
”اس کو سلامت رکھنا
بچی دعا کرتی ہے
یوں ہی دعا کرنے سے، بارشیں نہیں رکتیں
بارشیں تو ہوتی ہیں
بارشوں کا کیا رونا
بھیڑ جمع ہوتی ہے، کھانا جب وہ بانٹتا ہے
لڑ چھپٹ کے چھینتے ہیں، گھٹنوں گھٹنوں پانی میں
ایک رحم دل افسر، چیر کے اس مجمع کو، ”توبہ توبہ“ کہتا ہے
پھر اسے غم کھاتا ہے، کار کہاں تک ڈوبی
بارشیں تو ہوتی ہیں
بارشوں کا کیا رونا
درمیانے طبقے کا ایک فکر مند شہری
تجزیوں اور تبصروں کا، وہ بڑا ہی ماہر ہے
ہر طرح کے فورم پے اپنی رائے دیتا ہے
بارشوں کے بعد پھر، اپنی روش پہ آ کے وہ
نظم کوئی لکھتا ہے
بارشیں تو ہوتی ہیں
بارشوں کا کیا رونا
Facebook Comments HS

One thought on “بارشیں تو ہوتی ہیں

  • 29/08/2022 at 9:14 صبح
    Permalink

    Mashallah in
    deed

Comments are closed.