سیلاب


پاکستان تاریخ کے بدترین قدرتی آفت سے دوچار ہے کم و بیش 30 لاکھ غریبوں کے کچے مکان سیلاب کی نذر ہوچکے ہیں لاہور کے جیالے ( گلریز بلوچ صاحب ) سے بات کرتے ہوئے اس بات پر دکھ کا اظہار کیا کہ مال مویشی جانی اور مالی نقصان کا اندازہ لگانا ممکن ہی نہیں پانی پر بچوں کی لاشیں تیر رہی ہیں متاثرین بے سر و سامانی کی حالت میں امداد کے منتظر ہیں ضرورت پڑنے پر ایک اسپرین کی گولی بھی انسانی جان بچا لیتی ہے دیار غیر میں مقیم اور صاحب ثروت لوگوں مدد کرنی چاہیے

میڈیا والوں کی بے حسی دیکھو معمولی خبر دے کر ہر وقت سیاسی لوگوں کا کوریج دیتے رہتے ہیں حالانکہ ہونا یہ چاہیے تھا میڈیا کو سارے کام چھوڑ کر عوام کو مدد کی اپیل پر زور دینا چاہیے زرداری دور میں اس سے قدرے کم سیلاب آیا تھا میڈیا نے آسمان سر پر اٹھا لیا تھا دن رات زرداری حکومت کو کوسنے میں لگے رہتے تھے دوران سیلاب زرداری انگلینڈ دورے پر چلا گیا (نہیں جانا چاہیے تھا) میڈیا نے طوفان بدتمیزی پیدا کر دیا تھا وزیراعظم شہباز شریف نے قطر کا دورہ کیا کسی نے انگلی تک نہیں اٹھائی (شہباز شریف واپس آ کر ایکٹو ہو چکا ہے )

میرا سوال ہے اپنی ماں کے نام پر چندہ اکٹھا کرنے والا عمران خان مدرسوں کے نام پر ایکٹنگ کر کے پیسے بٹورنے والا ملا رائیونڈ کے اجتماع کے ذریعے لوگوں کو دیوبندی بنانے والے تبلیغی نذر و نیاز مزاروں قوالیوں پر کروڑوں روپے خرچ کرنے والا بریلوی عرب کی امداد پر پلنے والا وہابی ادارہ منہاج القرآن قائم کرنے والے تحریک لبیک کے نعرے لگانے والے درباری ملا طارق جمیل اور سالانہ لاکھوں روپے اپنے ذاکرین کو دینے والے شیعہ کہاں ہیں؟

اپنی جماعتوں کے ورکروں کو اپنے چاہنے والوں کو آفت زدہ علاقوں میں کیوں نہیں بھیج رہے؟

تمام سیاسی پارٹیوں کا نیٹ ورک سارے پاکستان میں دفاتر چلا رہا ہے جماعت اسلامی اور نواز لیگ میں شہباز شریف کے علاوہ کوئی نوازی نظر نہیں آ رہا قاف لیگ والے تو ویسے ہی منحوس ہیں یوتھیوں کو ڈانس سے فرصت نہیں ملتی مگر پیپلز پارٹی پنجاب کے عہدیدار اور سینئر جیالے کہاں ہیں؟

سلام ہے چیئرمین بلاول کو جس نے اپنا طے شدہ سکنڈے نیویا اور جرمنی کا دورہ منسوخ کر کے بی بی شہید کے نقش قدم پر چلتے ہوئے مراد علی شاہ اور اپنی ساری کیبنٹ کے ساتھ اندرون سندھ سیلاب زدگان کے متاثرین کے درمیان موجود ہے غریبوں کے زخموں پر مرہم رکھ رہا ہے

آخر میں میری چیئرمین بلاول سے درخواست ہے کہ بلوچستان سمیت پنجاب کے راجن پور کے علاقے بھی سیلاب کی زد میں ہیں مگر پنجاب کو کوئی عہدیدار نظر نہیں آ رہا۔

Facebook Comments HS