اے وارثان منبر و محراب تمہاری دعائیں اور اذانیں بے اثر کیوں؟

سیلاب کی تباہ کاریوں کے بیچ انتہائی بے سروسامانی و بے بسی کے عالم میں ایک چھوٹے سے بچے کی اذان سنی تو دل دہل سا گیا، کیونکہ اس آواز میں درد کی ٹیسیں اور انتہائی بے بسی چھپی تھی۔ سوچنے پر مجبور ہو گیا کہ
”امیروں نے غریبوں کے لئے خدا کے سوا کچھ نہیں چھوڑا“
یہ جملہ جس سے بھی منسوب ہے لیکن تاریخ انسانی میں حکمران طبقہ اور مذہبی طبقہ کے گٹھ جوڑ کی عکاسی کرتا ہے۔ کیونکہ شروع دن سے یہ دونوں طبقات خود کو زمین پر خدا کے نمائندے یا وکیل سمجھتے آئے ہیں، غریبوں پر جب جب آفات کی صورت میں مصیبتوں کے پہاڑ ٹوٹتے ہیں تو یہ بڑی صفائی سے ان آفات کو مشیت ایزدی اور گناہوں کی کثرت کے ساتھ جوڑ دیتے ہیں۔ موجودہ تباہ کن سیلاب کی صورت حال میں بھی خدا کے یہی برگزیدہ نمائندے مصیبتوں میں گھرے ہوئے غرباء کو اسی قسم کے بھاشن دینے میں مصروف ہیں کہ
”یہ سب تباہ کاریاں تمہارے ہی بد اعمالیوں کا نتیجہ ہے حکمرانوں کا اس میں کوئی ہاتھ نہیں ہے“
مذہبی طبقے کے معروف نمائندے سیٹھ طارق جمیل نے اپنی سابقہ روش اور بیان بازیوں سے استفادہ کرتے ہوئے عوام کو ایک بار پھر الرٹ کر دیا ہے۔
”سیلابی تباہ کاریاں تمھارے گندے اعمال کا نتیجہ ہیں، اب بھی وقت ہے ہاتھ پھیلا کر مالک سے اپنے گناہوں کی معافی مانگ لیں“
دنیا بھر کی مساجد میں بھی اسی قسم کی گونج ہے اور مذہبی طبقے کا اس بات پر اتفاق ہے کہ
”یہ سب گناہوں کے نتائج ہیں“ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ یہ کیسی تباہ کاریاں ہیں جو صرف ایسے طبقے کا مقدر بن چکی ہیں جن کی زندگیاں پہلے ہی ابتر اور مایوس کن حالات میں بسر ہو رہی ہوتی ہیں؟ اے وارثان منبر و محراب کیا آپ کا خدا صرف ان لوگوں سے روٹھتا ہے جن کا سہارا صرف ایک چھت اور چند مویشی ہوتے ہیں؟ یہ بڑے بڑے محلات خدائی غیض و غضب سے کیسے محفوظ رہ جاتے ہیں؟ کیا ہم یہ سمجھ لیں کہ گناہ کرنے کی سکت و صلاحیت صرف غریب میں ہوتی ہے اور امرا معصوم ہوتے ہیں؟
اپنی بلند و بالا محلات کی بالکونیوں سے بارش کے مناظر انجوائے کرنے والے یا ہوائی جہازوں کے ذریعے سے خلق خدا کی مصیبتوں کا فضائی جائزہ لینے والے حکمران خدا کے برگزیدہ ہونے کی وجہ سے آفات سے محفوظ رہتے ہیں؟ کیا یہ اچنبھے کی بات نہیں ہے کہ مصائب میں خدائی وکیلوں کا بال بھی بیکا نہیں ہوتا اور جن کا سہارا ہی شروع دن سے خدا ہوتا ہے وہی تباہ و برباد ہوتے رہتے ہیں آ خر کیوں؟ بقول آپ کے اگر ہم خدا کی چنیدہ و برگزیدہ مخلوق ہیں تو ہر بار ہم ہی زیر عتاب کیوں آ جاتے ہیں؟
اگر یہ تباہ کاریاں غرباء کی وجہ ہیں تو پھر آپ کی دعا و مناجات بے اثر کیوں ہیں؟ آپ سراپا رحمت اور خدا کے در کی برگزیدہ ترین ہستیاں ہیں اپنے ٹیلنٹ اور اس خاص استحقاق کے صدقے مخلوق خدا کے لیے کچھ تو راحت کا سامان کیجئے۔ قرب خداوندی کا کچھ فیضان غرباء میں بانٹ دیجئے۔ خدائے بزرگ و برتر سے اپنے ربط سے فائدہ اٹھاتے ہوئے خلق خدا میں کچھ تو آسانیاں تقسیم کریں؟ شیخان طریقت و معرفت جو کہ خدا کے برگزیدہ ہیں اور قرب فطرت کے دعویدار ہوتے ہیں ان سب کے لئے یہ سنہری موقع ہے مخلوق خدا کی خدمت کا فریضہ سرانجام دینے کا۔ تباہ حال بستیوں میں نکل کر دعا و مناجات کے دوران اتنے آنسو بہا دیں کہ مخلوق خدا پر سے عذاب ٹل جائے اور مخلوق خدا پر ثابت کر دیں کہ آپ واقعی قرب خدا میں ڈوبے ہوئے ہیں۔ اگر آپ کی قربت میں اتنا بھی دم خم نہیں ہے تو بقول مرشد جمشید اقبال، ”اپنی غفلت کو خدا کا کام نہ بتائیں“
کتنی عجیب بات ہوگی کہ آپ کا سامنا کسی ایسے باپ سے ہو جائے جس کا پورا خاندان سیلابی تباہ کاریوں کی نذر ہو گیا ہو اور وہ زار و قطار رونے میں مصروف ہو اور آپ اس کے کندھے پر دست شفقت رکھتے ہوئے یہ اطلاع دیں کہ ”مولانا سیٹھ طارق جمیل نے فرمایا ہے کہ یہ سب تیرے گناہوں کا نتیجہ ہے“۔ تو ذرا سوچئے کہ اس کے دل پر کیا گزرے گی؟

