عطا محمد عطا کی نظم: معاشرتی مسائل کی عکاس


”لب آب اباسین“ عطا محمد عطا کا نیا شعری مجموعہ ہے اس سے قبل وہ اپنے آپ کو بطور محقق بھی منوا چکے ہیں ہیں ان کی صلاحیتوں کا معترف پورا لیہ وسیب ہے۔ مہر عبدالحق پر ان کا کیا جانے والا تحقیقی کام ایک صنعت کا درجہ رکھتا ہے اور نئے محققین کے لیے مشعل راہ ہے۔ خوبصورت لب و لہجے کے شاعر اور خاص طور پر اپنی شاعری میں وسیب کے عصری مسائل کے علاوہ وہ روشن خیال پہلو کو اپنی شاعری میں جگہ دیتے ہیں یہی ان کا طرہ امتیاز ہے کہ وہ اپنے آپ کو کنویں کے مینڈک کے طور پر نہیں بلکہ معاشرتی مسائل کو مختلف پہلوؤں سے اپنی شاعری میں جگہ دیتے نظر آتے ہیں ہیں ان کا میدان شاعری ہے غزل ان کی پسندیدہ صنف سخن اور جبکہ ان کا شعری ذوق اور ان کی آزاد نظمیں اپنے قارئین کے سامنے ہیں تو وہ اپنے آپ کو اردو کے ایک خوبصورت لب و لہجے کے شاعر کے طور پر پیش کرتے ہیں اپنے وسیب کے مسائل اور ملک کے طول و عرض میں پھیلے معاشرتی مسائل کا کھل کر اظہار اپنی نظم میں کرتے نظر آتے ہیں۔

حیات کشمکش میں میں زندگی کولہو کے بیل کی مانند کٹ رہی ہے کسی کو کسی دوسرے کے مسائل سے سروکار نہ ہے ایسے میں عطا اپنے معاشرے کے مسائل کو صرف بینائی سے دیکھتے ہیں اور اپنے زور قلم سے الفاظ کا جامہ پہنا کر ثقافتی رنگوں سے مزین کر کے ایک دلکشی کا سامان باندھ دیتے ہیں ان کی نظموں میں ان کا عصری شعور کھل کر سامنے آتا ہے وہ معاشرے کے مسائل کا کھل کر مشاہدہ کرتے ہیں ان مسائل کو اپنے زور قلم سے لفظوں کا جامہ پہناتے ہیں ہیں

ان کی نظم ”قرآن سے شادی“ بھی اسی طرح کے مسائل کی نشاندہی کرتی ہوئی نظر آتی ہے وراثت اور جائیداد سے محروم رکھنے کے لیے لڑکیوں کی قرآن سے شادی کر دی جاتی ہے یہ اسلامی احکامات اور شریعت کے عین منافی ہے مگر اس بے حس معاشرے میں جہاں اسلامی شعار کا درس دیا جاتا ہے ہے وہیں گھر کے اندر ان شعار کی کھلم کھلا خلاف ورزی کی جاتی ہے اندرون سندھ کے حالات آج بھی ایسے ہی ہیں۔ آج بھی یہی صورتحال ہے کہ دیگر علاقوں میں بھی اس کی تقلید کی جاتی ہے لڑکیوں کی رضامندی کے بغیر ان کو باپ کی وراثت اور جاگیر سے محروم کر دیا جاتا ہے عطا نے اس کی خوبصورت عکاسی کی ہے لکھتے ہیں

اس کے باپ نے مرتے مرتے
ایک وصیت یہ کر ڈالی
میری پیاری بیٹی کی کر دینا قرآن سے شادی
اس شادی کا مقصد یہ تھا
حق جاگیر کا بچ جائے گا

قرآن سے شادی کر کے بہت سی لڑکیاں بن بہائے اپنے ارمان سینوں میں چھپائے باپ کے گھر میں بیٹھے بٹھائے اپنے سر کی چاندی ساتھ لیے ہوئے مر جاتی ہیں کسی نہ کسی طور پر آج بھی پاکستان کے دیگر علاقوں کی طرح وسیب میں بھی ایسے ہی اپنی لڑکیوں کا حق جاگیر مارا جاتا ہے انہیں جذباتی انداز میں حیلے بہانے سے واسطہ دے کر دھوکہ دیا جاتا ہے عطا نے اس مسئلے کو اجاگر کرنے کی کوشش کی ہے اس کا واحد حل تعلیم ہے اور جب تک تعلیم نسواں کے برابر مواقع نہیں دیے جائیں گے تب تک ایسے مسائل سر اٹھاتے رہیں گے عطا نے برابر ان مسائل کی نشاندہی کی ہے جو کہ شاعر کا معاشرتی فرض ہے

”مفلس شکاری“ ان کی خوبصورت نظم ہے اس نظم میں انہوں نے فلسفہ حیات کو پیش کیا ہے استعاراتی انداز بیاں میں یہ نظم زندگی کی بے ثباتی اور فلسفہ جبر و قدر کو لیے ہوئے ہے یہ نظم ماضی و حال کا خوبصورت سنگم ہے ماضی پرستی کسی صورت میں اچھی نہ ہے مایوسی ماضی پرستی کا زیور ہے یہ انسان کو بند گلیوں میں دھکیل دیتی ہے جس سے واپسی عطا کا فلسفہ ہے کہ وہ فلسفہ جبر و قدر کو بھی خوبصورت پیرایہ انداز میں بیان کرتے ہیں ہیں شاعر کی جیب میں چند سکے اور ماضی کی خاک ہے اب مفلس بچوں کے پاس بھی خاک اور سوکھی گھاس ہے۔

یہی ان کی زندگی کا حاصل ہے جبکہ شکاری بچوں کے پاس بھی جال میں خاک اور گھاس پھوس کے بوسیدہ تنکے ہیں۔ وہ تنکے اور گھاس پھوس جو کہ کبھی شاعر کی جیب کی زینت تھے اب وہ ان مفلسوں کا مقدر ہیں۔ شاعر خوبصورت منظر نامے کو ایسے پیش کرتا ہے کہ جیسے ماضی اور حال ایک دوسرے سے گتھم گتھا ہوتے ہیں دونوں ایک دوسرے کا پر تو معلوم ہوتے ہیں ہیں شاعر اس صورت حال کو یوں پیش کرتا ہے

شرم سے تھے وہ پانی پانی
سوکھی گھاس کے چند ایک تنکے
خود میں لایا ان کا جال
دل تو ان کا خاک بہلتا
رہا ٹپکتا منہ سے رال
ان کا حال زار جو دیکھا
چھلک پڑے میرے آنسو بھی
دونوں باہم ایک سے ہو گئے
میرا ماضی ان کا حال

عصری مسائل کی بھرپور عکاسی عطا محمد عطا کی نظموں میں نظر آتی ہے وہ اپنے معاشرے کے مسائل کی ترجمانی کرتے نظر آتے ہیں خاص طور پر ایسے مسائل جو کہ وسیب میں زبان زد عام ہوتے ہیں

”وٹہ سٹہ“ بھی اسی طرز کی ایک نظم ہے۔ اس میں لڑکیوں کی مرضی کے بغیر ان کی عمر سے بڑے مردوں کے ساتھ ان کی شادی کردی جاتی ہے یہ رسم بد سرائیکی علاقوں میں کثرت سے ہوتی ہے اس کے علاوہ کالا کالی غیرت کے نام پر قتل بچپن میں شادی بیاہ کی رسومات سے منسلک ہیں۔ عطا صاحب نے اس نازک صورتحال کو خوبصورتی سے قلم بند کیا ہے۔ ان بھولی بھالی لڑکیوں کا کیا قصور ہے؟ جو کہ جنسی و ذہنی تشدد کا شکار ہوتی ہیں ہر روز جیتی مرتی ہیں اس صورت حال کو شاعر ان الفاظ میں پیش کرتے ہیں

ان دونوں بوڑھے باپوں نے
خالی چیک تھا کیش کرایا
وٹہ سٹہ ایک طے پایا
عزت بخشی عزت لایا
یوں وٹے سٹے کی بھینٹ چڑھایا
کر کے بوڑھی عمر میں شادی
غیرت کا ایک جشن منایا

مذہبی ہم آہنگی امن محبت پیار کا درس حساس دل رکھنے والے دیتے ہیں۔ شاعر معاشرے کا حساس ترین طبقہ ہوتے ہیں وہ ہر چیز کا بغور مشاہدہ کرتے ہیں۔ اچھائی اور برائی میں تمیز کر کے امن کا درس دیتے ہیں یہی صورتحال عطا کی نظموں میں نظر آتی ہے وہ بھی معاشرے میں پھیلی مذہبی منافرت سے اکتا جاتے ہیں۔ امن کا درس دیتے ہیں ان کے نظم ”مجھے آگے ہی جانا ہے“ ، اس طرز کی ایک نظم ہے وہ اس نظم میں فرقہ واریت سے پرہیز کا درس دیتے ہیں مسلکی بنیادوں پر کی جانے والی جنگوں کو وہ نقص امن قرار دیتے ہیں

لکھتے ہیں :
جہاں کعبہ کے پہلو میں میں کسی کربل کی ظلمت ہو
وہاں شمعیں جلاؤں گا
وہاں میں محفل میلاد بھی جاکر سجاؤں گا
کرسمس کا کٹے گا کیک تو اس کو بھی دیکھوں گا
جو بوڑھے ملک ہیں ہیں دانش بھی ان کی ہو چکی بوڑھی
جواں جذبات کو میں نے سیاہی سے بچانا ہے مجھے آگے ہی جانا ہے جہاں جیون بلاتا ہے

”حشرات سے ساجھے داری“ ان کی فطرت سے لگاؤ اور محبت کا درس ہے۔ اس مشینی دور میں جہاں انسان نے ٹیکنالوجی میں ترقی کر لی ہے انسان فطرت سے دور چلا گیا ہے۔ بلند و بالا عمارتیں گاڑیاں اسمارٹ فونز کا استعمال کر کے زراعت میں کئی گناہ زیادہ پیداوار حاصل کی ہے۔ حشرات الارض اور پرندوں کی قدرتی مسکن گاہیں بھی ناپید ہو چکی ہیں۔ گاؤں کے کچے مکانات میں چڑیوں کے گھونسلے اور صبح سویرے ان کی چہچہاہٹ کانوں میں رس گھولتی تھی۔

مگر کنکریٹ کے مکانات نے ان چیزوں کو بالکل ناپید کر دیا ہے عطا بھی ان چیزوں کا اظہار کرتے نظر آتے ہیں وہ ان کے لیے بھی وسائل کی منصفانہ تقسیم کا درس دیتے نظر آتے ہیں ان پرندوں اور حشرات کے لئے قدرتی مسکن اور خوراک کی فراہمی کا مطالبہ کرتے ہیں تاکہ اس چیلنج سے نمٹا جا سکے جس کا شکار پوری کرہ ارض ہے۔ فطرت سے چھیڑ چھیڑ خانی حضرت انسان کو نقصان کی طرف لے جا رہی ہے۔ وہ آنے والے سنگین حالات کی نوعیت سے آگاہ ہیں اور گلوبل ویلج بننے کے بعد دنیا کے اندر پیدا ہونی والی سنگینی سے دیگر لوگوں کو بھی آگاہ کر رہے ہیں ایک شاعر اور ادیب اپنے ارد گرد کے مسائل پر گہری نظر رکھتا ہے ان کو مستقبل میں آنے والی تباہی کا ادراک ہوتا ہے یہی وجہ ہے کہ وہ اس خطرے کو بیان کر رہے ہیں دیگر لفظوں میں عطا کا شاعر فطرت کہا جائے تو کوئی اچنبھے کی بات نہ ہو گی۔ اس میں کوئی مضائقہ نہ ہو گا۔ ایک ایسا شاعر جو کہ حشرات الارض کے لیے آواز بلند کر رہا ہے وسائل کی تقسیم کا مطالبہ کر رہا ہے، وہ بھوکے مسکینوں کے لئے مطالبات پیش کر رہا ہے، وہ مسافروں کے حقوق کی بات کر رہا ہے، جو کہ چہار سو حق کے علم کی سربلندی کا تقاضا کر رہا ہے

زمین ان زر پرستوں نے نہیں تخلیق فرمائی
زمین ہو یا وسائل قدرت سب کے لئے ہیں
تو ہر ذی روح کا حق ہے اس میں سے جو چاہے وہ کھائے
ہیں بھوکے پیاسے مسکین و مسافر حصہ دار اس کے
جو ہیں معصوم جانیں ظلم سے ان کو بچانا ہے کرو انصاف دنیا کو اگر جنت بنانا ہے

”کونجوں کے سنگ“ اور ”ڈولفن مچھلی کے ساتھ ایک شام“ بھی ان کی مظاہر فطرت کے ساتھ لگاؤ کی کہانی سناتی نظمیں ہیں۔ ان کے اندر انھوں نے استعاراتی انداز میں اپنے وطن کی محبت کو اجاگر کیا ہے خاص طور پر اپنے وسیب کی تہذیب کو پیش کیا ہے جو کہ اب ناپید ہوتی جا رہی ہے۔ ان کی یہ پیشکش سندھو دریا کی ثقافت و معشرت کو سامنے لانے کی کوشش ہے کیوں کہ ”کونجوں کے سنگ“ میں انہوں نے ایک آزاد منش پرندے کی مانند اپنے وطن کی طرف واپس لوٹنے کی تلقین کی ہے مگر اس سے قبل وہ ان کی آزاد منش پرندوں کی مانند دنیا کی خوبصورتی کو دیکھنا چاہتے ہیں کسی بھی سرحد کی قید کو پرے رکھ کر وہ دنیا کی وسعتوں کو محسوس کرنا چاہتے ہیں۔

سرحدوں سے بالا تر ہو کر خواہشوں کے وہ ہزار دیے جو کہ ان کے دل میں ٹمٹما رہے ہیں ان کو مزید منور کرنا چاہتے ہیں۔ شعر و سخن کی محفلوں کو برپا کر کے تحسین افزاء کلمات سننے کے متمنی ہیں کیونکہ شاعر کے لیے یہی دولت قارون ہے۔ اسی کی کھوج میں وہ ایک جگہ سے دوسری جگہ آزاد منش پرندے کی طرح آزاد فضاؤں میں اڑنا چاہتے ہیں۔ کسی بھی قسم کی پابندی کے بغیر سرحدوں سے بالا تر ہو کر۔ عطا محمد عطا نے اپنی نظم میں روایتی شاعری سے ہٹ کر معاشرتی مسائل کی بھرپور عکاسی کی ہے۔

اپنی مٹی سے جڑے مسائل کی نشاندہی کی ہے جو کہ اس وسیب کو کھوکھلا کر رہے ہیں۔ یہی وہ امکانات ہیں کہ جن سے آنے والی نسلوں نے مستفید ہونا ہے اپنے لیے انہوں نے سمتوں کا تعین کرنا ہے۔ ان سمتوں کا تعین کہ جن سے ایک نسل نو نے بہتر مستقبل کی عمارت کی بنیادوں کو استوار کرنا ہے۔ ان کی نظم کی طرح ان کی غزل میں بھی روایتی عاشق و معشوق کے علاوہ ان کو عصری مسائل کا ادراک ہے۔ ان کو عقل و شعور ہے، وہ فہم و فراست سے بھرپور ہیں کہ کسی بھی چیز کی عکاسی اس خوبصورتی سے کرتے ہیں جیسے ایک بیماری کا تریاق جس خوبصورتی سے ایک طبیب کرتا ہے ویسے ہی وہ اپنے معاشرے سے جڑے مسائل کا تریاق اپنے لفظوں کے نشتر سے کرتے ہیں اور ان زہر آلود حصوں کو معاشرے سے پاک کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ تاکہ یہ زخم زیادہ خراب ہو کر ناسور نہ بن جائے۔ ایک شاعر سے اسی حوصلہ کی توقع ہوتی ہے۔ ان کا اصل مدعا کسی بھی چیز کی پرواہ کیے بغیر اس شادمانی کو حاصل کرنا ہے کہ جس میں پورا ملک خوشحال ہو سکے۔

Facebook Comments HS