پاکستان میں بڑے ڈیمز کی تعمیر

محترمی حاشر ارشاد صاحب کی وال پر بڑے ڈیمز کی تعمیر کے خلاف ان کی رائے پر مبنی تحاریر میں آج ایک ”ڈاکٹر صاحب کی تربیلا ڈیم بیسن کے کسی خشک مقام سے ایک وڈیو اپ لوڈ کی گئی ہے، جس میں موصوف کسی بھی قسم کے آبی ذخیرے یا ڈیم بقول ان کے“ ریور پلگ ”کی تعمیر کے خلاف اپنا موقف پیش فرما رہے ہیں، راقم کسی نہ کسی طرح سے چونکہ انجینئیرنگ کی فیلڈ سے وابستہ ہے، لہذا اس موضوع پر اپنی گزارشات بھی قارئین کے سامنے رکھنا ضروری سمجھا۔
” ڈاکٹر“ صاحب کو جتنا سننا ممکن ہو سکا اس سے ان کی موضوع کے بارے میں محدود بلکہ بے بنیاد معلومات پر مبنی رائے سے آگاہی ہوئی، ایک عام شخص بھی یہی باتیں کرے گا۔ کسی دریا کنارے یا ڈیم کے کنارے کھڑے کسی شخص سے بات کر کے دیکھ لیجئیے۔ یہ صاحب تو شاید ماہر معاشیات ہیں۔ پاکستان کے آبی نظام پر رائے زنی کے لیے ان ٹیک ایریاز سے لے کر ڈاؤن سٹریم سارے سسٹم پر موسمی ریکارڈ کی روشنی میں مفصل اور بگ پکچر میں رائے قائم کی جانی چاہیے۔
یہ صاحب تو فرما رہے ہیں کہ تربیلا مختصر عرصے کے لیے پانی کو روکتا ہے اور کچھ ہی عرصے بعد یہ پھر خالی ہو جاتا ہے، پانی نہ جانے کہاں چلا جاتا ہے، اتنی مضحکہ خیز دوسری کوئی بات نہیں ہو سکتی، ان بھائی صاحب کو اتنا معلوم نہیں کہ پانی مختلف نہروں کے ذریعے زرعی نظام تک پہنچتا ہے اور کچھ پانی برقی توانائی کے حصول کے لیے ڈاؤن فال کے علاقوں کی طرف چھوڑا جاتا ہے ڈاکٹر صاحب نے یہ بھی فرمایا کہ دریا تو بہہ ہی رہا ہے اس پر ”غیر ضروری“ پلگز تعمیر کر دیے جاتے ہیں محترم ڈاکٹر صاحب سے کوئی یہ پوچھے کہ دریا تو قدرتی طور پر کسی بھی علاقے کے پست ترین مقام سے گزرتا ہے، لہذا دریا کے قدرتی بہاؤ سے اطراف اور دور دراز کی بلند سطح کی زرعی زمینوں تک آپ پانی کس طرح دریا کے قدرتی بہاؤ میں مداخلت کئیے بغیر پہنچائیں گے؟
جدید ایریگیشن سسٹم، ڈیم، بیراج، ہیڈ ریگولیٹر، کینال اور واٹر کورسز کے ایک مربوط نظام پر مشتمل ہوتا ہے، تب دریا سے زرخیز سلٹ ملا پانی ہمارے کھیتوں تک پہنچتا ہے، زرعی آبپاشی دریا کے قدرتی بہاؤ سے بالٹیوں کے ذریعے ممکن نہیں ہوا کرتی، ساتھ ہی ڈاکٹر صاحب کا یہ فرمانا کہ ڈیم صرف پیسے کھانے کے لیے بنائے جاتے ہیں، ورنہ ان کی کوئی افادیت نہیں، یہ موقف حیرت انگیز ہے۔ حیرت ہوئی ڈاکٹر صاحب کا موقف سن کر جو معلومات شاید انھیں یہاں کہیں مچھلی کے شکار کرتے ہوئے کسی مقامی شخص سے حاصل ہوئی تھیں کیونکہ دیکھا یہ گیا ہے کہ مقامی اشخاص آبی ذخائر کے خلاف ہی بولتے ہیں، اس مخالفت کی وجہ زیادہ تر نفسیاتی ہی ہوتی ہے، دراصل جب غیر تکنیکی اور موضوع سے غیر متعلق رائے اس خالصتاً تکنیکی معاملے پر اظہار خیال کرے گی، تو وہ ایسی ہی ہو گی۔
مجھے یاد ہے کہ کئی سال قبل مرحوم عمر اصغر کی سنگی فاونڈیشن کے زیر انتظام ایک چھ روزہ ورکشاپ کا انعقاد کیا گیا تھا، جس میں صحافیوں کے ایک گروپ کو ایبٹ آباد بلا کر ان کو پانی ذخیرہ کرنے کے ماحولیات بلکہ جنگلی حیات اور حشرات الارض تک پر پڑنے والے ”منفی اثرات“ کے بارے میں لیکچر دیے جاتے تھے۔ ہم اگر اکنامکس اور معاشیات و اکاؤنٹنگ پر رائے دیں گے تو وہ ویسے ہی اندازہً سی رائے ہو گی جیسی ڈیم کی افادیت اور فوائد کے بارے میں ان حضرات کی ہے۔
دراصل پانی وہ سب سے کارگر مسئلہ ہے جس پر پاکستان میں موجود مختلف علاقوں کے عوام کو آپس میں لڑانا اور ان میں تفرقہ ڈالنا سب سے آسان ہے، اور اس کے لیے اگر موثر واٹر منیجمنٹ ہو گی اور ایسے سیلابوں کا پانی ذخیرہ کر لینے کی موثر صلاحیت ہو گی تو سندھ میں بھی ڈاؤن سٹریم پر سارا سال مناسب بہاؤ کو موثر طور پر مینیج کیا جا سکتا ہے، ہمیں نہ صرف کالا باغ ڈیم کی ضرورت ہے، بلکہ نیچے ڈاؤن سٹریم تک بغلی ریزر وائرز اور اسکیپ تعمیر کرنے کی ضرورت ہے، بلکہ زیریں سندھ میں ایک کوسٹل ڈیم یا ریزر وائر تعمیر کرنے کی بھی ضرورت ہے تاکہ ساحلی علاقوں کے نزدیک سمندر کا آگے کو بڑھنا روکا جا سکے اور ساتھ ہی زیر زمین میٹھے پانی کی لوڈنگ سے کھارے پانی کا مسئلہ بھی حل کیا جا سکے، اسی طرح بلوچستان میں بھی موقع کی مناسبت سے چھوٹے اور بڑے آبی ذخائر کی تعمیر اور ان کے ساتھ منسلک ایک چھوٹے نہری نظام کی معیاری تعمیر کی ضرورت ہے، تاکہ خشک اور پانی کی کمی کے مہینوں میں یہ ذخیرہ شدہ پانی کام میں آ سکے، اور ایسی موسمی بارشوں کے پانی کو بھی سمندر میں گر کر ضائع ہونے سے روک کر سارا سال استعمال میں لایا جا سکے۔
اس طرح ”موثر ریور ٹریننگ ورکس“ تعمیر کر کے دستیاب پانی کی متغیر فراہمی سے زیادہ سے زیادہ فوائد حاصل کئیے جا سکیں۔ بلکہ ہمیں چولستان کے قدیم دریائے ہاکڑا اور سندھ طاس معاہدے کے تحت بھارت کو دے دیے گئے، ستلج کی خشک گزر گاہوں تک کو ریزر وائر کی شکل دے دینی چاہیے۔ عالمی درجہ حرارت میں اضافے کے پیش نظر ہمیں سخت واٹر منیجمنٹ کی ضرورت ہے۔ کسی بڑے آبی ذخیرے کے اگر ایک ہزار فوائد ہوتے ہیں تو ان کے نقصانات چند ایک ہی ہوتے ہیں، جن میں سے اکثر کے تدارک کے اقدامات منصوبے کی منصوبہ بندی کا لازمی حصہ ہوا کرتے ہیں۔
حتی کے بڑے ڈیمز میں زیریں طرف سے اوپر کو جانے والی مچھلیوں تک کے لیے ”فش لیڈرز“ تک تعمیر کئیے جاتے ہیں، تاکہ مچھلیاں اپنا زیریں سے بالائی سمت کا قدرتی سفر جاری رکھ سکیں۔ دنیا میں ہمیں کامیاب اور موثر ترین بڑے آبی ذخائر سے پورے طور پر استفادہ کرتے بڑے ممالک دکھائی دیتے ہیں جن میں امریکہ، چین، بھارت، اور دیگر ممالک شامل ہیں، دنیا میں کوئی ایسی چیز نہیں، جس کے فوائد اور نقصانات دونوں نہ ہوں، لیکن ہمیں یہ دیکھنا ہوتا ہے کہ فوائد زیادہ ہیں یا نقصانات۔
اور اگر فوائد زیادہ ہوں تو چند نقصانات کو باآسانی موثر منصوبہ بندی سے کنٹرول کیا جا سکتا ہے۔ دراصل ہمارے بارے میں دنیا کی ترجیحات ”بوجوہ“ کچھ مختلف ہوتی ہیں، جرمنی، فرانس اور امریکہ جیسے ممالک حتیٰ کہ جاپان تک اپنی برقی توانائی کی تقریباً چالیس فی صد ضرورت ایٹمی توانائی سے پورا کرتے ہیں اور روز بروز اس ٹیکنالوجی کو بہتر اور محفوظ تر بناتے چلے جاتے ہیں اور ہمارے لیے گوبر گیس کا انتخاب کرتے ہیں، جہاں کبھی کبھار ہی تیز ہوا چلتی ہے وہاں اربوں روپے ونڈ ٹیکنالوجی پر خرچ کروا دیے جاتے ہیں کراچی سے حیدر آباد جاتے ہوئے راستے میں ونڈ انرجی کا بہت بڑا پراجیکٹ دکھائی دیتا ہے جن میں سے پچانوے فی صد پنکھے یا تو رکے ہوئے ہوتے ہیں، یا اس قدر کم رفتار سے چل رہے ہوتے ہیں کہ ان سے بجلی پیدا ہونا ممکن نہیں ہوتا، اسی طرح یہاں شمسی توانائی کے متروک اور مہنگے طریقے استعمال کئیے جاتے ہیں جن کی اوسط قیمت تیل سے بنائی جانے والی بجلی سے بھی زیادہ پڑتی ہے۔
پاکستان کا بنیادی المیہ ہی یہی ہے کہ یہاں انجینئیرنگ کے معاملات پر ماہرین اقتصادیات اور اکاؤنٹنگ، اور سماجیات کے ماہرین رائے زنی کرتے ہیں، اور اقتصادی معاملات پر فیصلے نیم خواندہ سیاست دان اور دیگر شعبوں سے تعلق رکھنے والے کیا کرتے ہیں۔ میٹلرجی والے گوجرانوالہ کے مستریوں اور خرادیوں کی مدد سے ایٹم بم بناتے ہیں اور قوم واہ واہ کرتی ہے۔

