کتیا کے مظلوم بچے اور حاجی صاحب


حاجی صاحب بڑے نیک آدمی ہیں۔ ایک بڑی تعلیمی درسگاہ کے ساتھ ان کا گھر ہے۔ مسجد کمیٹی کے ممبر بھی ہیں۔ باریش، دودھیا رنگ۔ گلی کی نکڑ کا اسٹور انہی کا ہے۔ اپنی نئی موٹر سائیکل پر آتے ہیں۔ کریانہ بھی بیچتے ہیں اور ایک کیفے پیزا، برگر بنانے کے لیے بھی اٹھا رکھا ہے۔

حاجی صاحب کا بڑا لڑکا اب اسکول سے چھوٹنے والا ہی ہے تو اس کے مستقبل کو لے کر پریشان رہتے ہیں۔ گھر آئے تو خاتون خانہ کہنے لگیں لڑکوں کے لئے کوئی جگہ لے کر گھر ہی بنا چھوڑیں۔ مستقبل کی پلاننگ کریں خدا معلوم آنے والا کل اپنے ساتھ کیا لائے۔ اس شام حاجی صاحب نماز مغرب پڑھ کر اپنی کھیتوں کی زمین دیکھنے نکل لیے۔ آبادی بڑھ رہی ہے۔ زمینوں کا کاروبار زوروں پر ہے کیا دیکھتے ہیں کہ ہر طرف سر کنڈے سر نکال رہے ہیں۔

سارہ قطع اراضی گڈمڈ ہو رہا ہے۔ دو پلے گول گول آنکھوں والے سر کنڈوں کے پاس کھیل رہے ہیں۔ اپنی ننھی آوازوں سے چیاؤں کی اور ماں کی طرف دوڑ کر گئے جو پاس ہی بیٹھی تھی۔ ’نجس جانور، ہر جگہ گندگی کرتے ہیں‘ ، آج صبح ہی نماز کے لیے جاتے ان کے کپڑے برباد کر دیے۔ ان کی آنکھوں میں بیزاری ابھر آئی۔ گھر لوٹ آئے، دکان پر ایک گاہک سے بھی منہ ماری ہو گئی۔ کتنے حالات خراب ہیں، کیا ہم اپنا جائز منافع بھی نہ کمائیں۔ وہ سٹ پٹا گئے۔

حاجی صاحب ان لڑکوں کا کچھ کرو، محلے کی مسجد میں غل غپاڑہ کرتے ہیں۔ آخر پڑھنا ہے تو اپنے گھروں میں پڑھیں۔ رات کو مسجد میں یہ اے سی کی عیاشی لوٹنے آتے ہیں۔ ان کو چلتا کرو۔ مسجد انگریزی پڑھنے کی جگہ نہیں۔ میں آج ہی تالا ڈالے دیتا ہوں۔

اگلے دن حاجی صاحب اٹھے تیار ہوئے، داڑھی درست کی اور دکان کا شٹر اٹھا دیا۔ دکان داری چل نکلی۔ انڈے لیمونیڈ کی بوتلیں۔ اخبار لیا اور پڑھنے لگے۔ فلاں شہر میں سور اور کتے کے گوشت کا ٹرک پکڑا گیا۔ یہ غالباً ہوٹلوں پر استعمال ہونا تھا۔ انہیں کچھ یاد آیا اور وہ کرسی پر دراز ہو گئے اور موبائل پر بیان ڈاؤنلوڈ کرنے لگے۔

شام کا دھندلکا ہے۔ حاجی صاحب اپنی زمین پر آ موجود ہیں۔ آج زمین کی پیمائش کی گئی۔ بنیادیں اٹھائی جائیں گی، مگر یہ سرکنڈے۔ آج وہ ان کا علاج ساتھ لائے ہیں۔ تیل چھڑکا اور آج لگا دی۔ تا حد نگاہ شعلے۔ دور سے دیکھو تو پھول دہکتا ہوا۔ موٹر سائیکل چالو کی مگر وہ آواز کیسی تھی۔ چیاؤں چیاؤں گویا کوئی رو رہا ہو پھر گھر آ گئے۔ آج ان کے ذہن میں کچھ رہ رہ کر دستک دے رہا تھا۔ وہ کتیا اور اس کے بچے۔ اوئے جانے دو۔ آتے جاتے لوگوں پر بھونکتے ہیں، نجس جانور۔ کچھ عرصہ قبل انہوں نے نیم کا درخت بھی صحن سے اکھاڑ پھینکنا تھا کہ بکریاں چھتوں پر آتی ہیں اور چھت خراب کرتی ہیں۔ اس شام ان سرکنڈوں کے ساتھ وہ کتیا کے بچے بھی جل مرے۔ دھرتی پاک ہو گئی۔

اہل زمین سکون کی نیند سوئے اور آسمان والا رات گئے روتا رہا۔ گلیوں میں جھاڑیوں میں دوڑتا رہا۔
صبح گھٹا آ گئی۔ اور ٹوٹ کے برسی۔ اس نے انہیں کاٹ کر رکھ دیا۔ لاکھوں۔ کے بچے بہ گئے، بے گھر ہو گئے۔
’ نا خدا جن کا نہیں ان کا خدا ہوتا ہے‘

نوالہ نہ شیئر کرنا، ننگے کو کپڑے نہ دینا، تقریریں کرنا، بیان کرنا۔ رحم دلی نہ کرنا۔ آخر کھانی تو دو روٹیاں ہی ہیں اور راس بھی وہی آئیں گی۔ پھر اتنا لالچ کیوں۔

تعلیمی ادارے، انڈسٹری، سارا انتظامی ڈھانچہ نیلام ہو گیا۔ گریبان میں جھانک لیں جواب صاف ملے گا۔

Facebook Comments HS